الشریعہ اکادمی کا سالانہ نقشبندی اجتماع

آج کا معاشرہ جس اخلاقی بگاڑ اور فتنہ و فساد کی زد میں ہے، اس میں ایک مومن کے لیے اپنے دین پر قائم رہنا ایک مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ اس ماحول میں صرف نظریاتی علم کافی نہیں ہوتا بلکہ صالح عناصر کی اجتماعیت اور اہل اللہ کی صحبت کی ضرورت ہے جو انسان میں دینی حُرمت اور بیداری پیدا کرے۔ انبیاء کرامؑ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد انسانوں کی تزکیہ اور کردار سازی تھا، اور یہی فریضہ آج کے علماء و مشائخ پر عائد ہوتا ہے۔

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں سالانہ نقشبندی اجتماع کا انعقاد اسی روایت اور منہج کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ امت کا تعلق اپنے اسلاف اور اہل اللہ کے ساتھ مضبوط رہے۔ الشریعہ کے سالانہ اجتماع کے مہمان خصوصی حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب ہوتے ہیں۔ اس سال یہ دینی، فکری اور اصلاحی نقشبندی اجتماع 16 اگست بروز اتوار الشریعہ اکادمی کوروٹانہ کیمپس گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ اجتماع میں حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب سمیت جلیل القدر علماء کرام اور مشائخ عظام، جن میں مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا عبدالواحد رسول نگری، مولانا فضل الہادی، قاری سعید احمد اور قاری ارشد محمود صفدر شامل تھے، نے بالخصوص شرکت کی۔

تقریب کا آغاز حافظ عبدالحنان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ حافظ ابوذر فاروقی، قاری ارشد محمود صفدر نے اپنے مخصوص انداز میں نعتیہ کلام پیش کر کے محفل کو ایمانی جلا بخشی۔ اس دوران اسٹیج کو مولانا پیر ریاض چشتی صاحب، مولانا امجد محمود معاویہ، مفتی نعمان، مولانا رضوان عامر اور پیر احسان اللہ قاسمی صاحب جیسی معزز شخصیات نے زینت بخشی۔ نعتیہ کلام کے بعد مولانا حبیب اللہ فاروقی کی گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے 'عظمتِ قرآن' کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

اجتماع میں علماء، مشائخ، طلبہ، دینی و سیاسی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مختلف مقررین نے اپنے اپنے انداز میں اجتماع کے مقاصد، دینی مدارس اور خانقاہوں کی ضرورت، اولیاء اللہ کی صفات، فتنوں سے حفاظت اور اصلاحِ باطن کے موضوعات پر گفتگو فرمائی۔

حضرت مولانا شاہ نواز فاروقی کا خطاب

اجتماع میں معروف خطیب مولانا شاہنواز فاروقی صاحب کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے دین کے تین بنیادی دائروں شریعت، طریقت اور جہاد و سیاست کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ شریعت سے مراد علومِ نبوت، طریقت سے تہذیب و اخلاقِ نبوت، جبکہ جہاد و سیاست سے نظامِ نبوت کی حفاظت اور اقامت کا میدان مراد ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ امت میں مختلف طبقات نے ان شعبوں کی حفاظت اور ترویج میں اپنا کردار ادا کیا۔ علماء نے علومِ نبوت یعنی شریعت کی حفاظت کی، مشائخ و صوفیاء نے تہذیب و اخلاق اور تزکیۂ نفس کے میدان کو سنبھالا، جبکہ مجاہدین اور سیاسی زعمائے امت نے نظامِ نبوت، جہاد اور اجتماعی زندگی کے میدان اور ملک کے ایوانوں میں خدمات انجام دیں۔

مولانا فاروقی نے اس تقسیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مدارسِ دینیہ علومِ نبوت کی چھاؤنیاں ہیں، خانقاہیں تہذیب و اخلاق اور تصوف کے مراکز ہیں، جبکہ معسکرات، اجتماعات اور ایوانِ اقتدار و سیاست وہ میدان ہیں جہاں مجاہدین اور سیاسی زعمائے امت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بعض شخصیات اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان تینوں جہتوں میں نمایاں خدمات انجام دیتی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے گوجرانوالہ کے امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مثال پیش کی کہ انہوں نے علم، اصلاح اور اجتماعی رہنمائی تینوں میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔

اسی تسلسل میں انہوں نے حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی دامت برکاتہم العالیہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایک طرف شریعت کے محافظ اور جامعہ نصرت العلوم کے مدرس و مربی ہیں، دوسری طرف متعدد دینی مدارس کی سرپرستی اور نگرانی سے وابستہ ہیں، خانقاہی اور اصلاحی حلقوں میں بھی ان کی تاثیر مسلم ہے اور سیاست و اجتماعی میدان میں بھی عالمی اہلِ سیاست ان کی رہنمائی اور تربیت سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض شخصیات کو ایسی جامعیت عطا فرمائی ہوتی ہے کہ وہ مختلف دینی جہتوں کو ایک مرکز پر جمع کر دیتی ہیں۔

مولانا شاہنواز فاروقی نے دینی مدارس اور خانقاہوں کے مزاج کا فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مدارس میں علم مقصودی حیثیت رکھتا ہے جبکہ تربیت ضمنی طور پر جاری رہتی ہے۔ وہاں امتحان علم کا ہوتا ہے، تاہم علم کے ساتھ عمل کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس خانقاہوں میں عمل اور اصلاحِ باطن کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور علم اس عمل کی رہنمائی کے لیے تابع حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امت کی دینی تشکیل کے لیے علم اور عمل دونوں ناگزیر ہیں اور مدارس و خانقاہیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

مولانا شاہنواز فاروقی نے قرآنِ کریم کی روشنی میں اولیاء اللہ کا تعارف کراتے ہوئے ان کی صفات اور ان کے روحانی مقام پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ انہوں نے خوف اور حزن کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ خوف مستقبل کے اندیشوں کو کہتے ہیں، جبکہ حزن ماضی کی پریشانیوں اور غموں سے متعلق ہے۔ اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی قلبی اطمینان اور اعتماد کی کیفیت حاصل ہوتی ہے کہ وہ مستقبل کے اندیشوں اور ماضی کے غموں سے محفوظ رہتے ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کو تقدیر پر اعتماد اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا میں لوگ جن چیزوں سے خوف زدہ ہوتے ہیں، اولیاء اللہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد کی وجہ سے ان سے بے خوف رہتے ہیں، جبکہ آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں امن و اطمینان عطا فرمائے گا۔ ان کی اس گفتگو کو حاضرین نے نہایت غور اور توجہ سے سنا۔

کلامِ سلمانؒ بزبان قاری ارشد محمود صفدر

ان کے بعد جناب حضرت قاری ارشد محمود صفدر صاحب کو دعوت دی گئی، جو شاعری، نظم اور نعتیہ ادب کی دنیا میں ایک معروف نام ہیں۔ انہوں نے حضرت سید سلمان گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا کلام پیش کیا جس پر مجمع کی کیفیت رقت آمیز ہوگئی اور متعدد حاضرین اشکبار نظر آئے۔

حضرت مولانا عبدالواحد رسول نگری کا خطاب

ان کے بعد حضرت مولانا عبدالواحد رسول نگری دامت برکاتہم العالیہ نے گزشتہ سال کے نقشبندی اجتماع کے دوران کیے گئے اپنے خطاب کے تسلسل میں ان روحانی محافل کے مقاصد اور فوائد بیان فرمائے۔ انہوں نے فرمایا کہ ان اجتماعات کے اہم ترین اور عام فوائد میں سے ایک فتنوں سے حفاظت ہے۔ انسان جب اہلِ اللہ کی صحبت، ذکر اور اصلاحی ماحول سے وابستہ ہوتا ہے تو بہت سے فتنوں اور گمراہیوں سے محفوظ رہتا ہے۔

انہوں نے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور حضرت گنگوہیؒ کے تعلقِ بیعت کا ایک ایمان افروز واقعہ بھی بیان کیا۔ واقعے کے مطابق حضرت گنگوہیؒ نے بیعت کے بعد ایک طویل عرصے تک حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو خط نہیں لکھا۔ حضرت حاجی صاحبؒ نے دریافت فرمایا کہ بیعت کے بعد آپ نے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ حضرت گنگوہیؒ نے جواب میں بیعت کے تین اثرات بیان کیے۔ پہلا یہ کہ نصوص میں تعارض محسوس نہیں ہوتا، دوسرا یہ کہ شریعت طبیعت بن گئی ہے، اور تیسرا یہ کہ مدح کرنے والے کی تعریف اور مذمت کرنے والے کی مذمت دونوں بے اثر ہو گئی ہیں۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے پہلے جواب کے بارے میں فرمایا: الحمدللہ، علم مکمل ہوگیا۔ دوسرے کے بارے میں فرمایا: الحمدللہ، عمل مکمل ہوگیا۔ اور تیسرے کے بارے میں فرمایا: اخلاص مکمل ہوگیا۔

یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے مولانا عبدالواحد رسول نگری نے واضح کیا کہ حقیقی روحانی تربیت علم، عمل اور اخلاص تینوں کی تکمیل کا نام ہے۔

مولانا عبدالواحد رسول نگری نے جامعہ نصرت العلوم کو اہلِ حق کے علمی ترجمان کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی علمی خدمات کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایک علمی مسئلے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے گزشتہ سال ایک استفتاء کیا تھا عبارات اکابر کے حوالے سے دارالعلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہور اور خیر المدارس سے جوابات حاصل ہوئے۔ تینوں جوابات میں قدرِ مشترک یہ تھا کہ متعلقہ مسئلے میں صحیح رہنمائی کے لیے حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی کتاب «عباراتِ اکابر» کی طرف رجوع کیا جائے۔

انہوں نے اس موقع پر اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ بعض لوگ اپنے علمی و روحانی مرکز سے کٹ جاتے ہیں اور پھر یہی مرکز سے دوری فتنوں کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے ایک ایسے عالم کا واقعہ بھی بیان کیا جو جامعہ نصرت العلوم کے فاضل تھے اور انہوں نے ایک بڑی علمی شخصیت کی ایک عبارت کو غیر اسلامی قرار دے کر لوگوں سے اس کے خلاف کفر کے فتوے لگوانے کی کوشش کی۔ اس واقعے سے انہوں نے سامعین کو متنبہ کیا کہ اکابر کی علمی روایت، اصولی منہج اور مستند اہلِ علم کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر رائے قائم کرنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔

حافظ علی حمزہ کا پیش کردہ نعتیہ کلام

اس کے بعد سرگودھا سے تشریف لائے ہوئے نوجوان حافظ علی حمزہ نے نعتیہ کلام پیش کیا، جس سے حاضرین بہت محظوظ ہوئے اور محفل کا روحانی ماحول مزید پُرکیف ہوگیا۔

حضرت مولانا حافظ محمد یوسف کا خطاب

بعد ازاں جامعہ نصرت العلوم کے فاضل، مدرسہ ابو ایوب انصاری کے مہتمم حضرت مولانا حافظ محمد یوسف دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت دلنشین خطاب فرمایا۔ انہوں نے حضرت شیخ سے متعلق بعض خوابوں کا ذکر کیا اور انہیں مبشرات کے ضمن میں بیان کرتے ہوئے خوابوں کی شرعی حیثیت، ان کے آداب اور ان سے متعلق درست طرزِ فکر پر جامع رہنمائی فرمائی۔ انہوں نے اس امر کی وضاحت کی کہ خواب خوش خبری یا بشارت کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، تاہم دینی احکام اور عقائد کی بنیاد محض خوابوں پر نہیں رکھی جا سکتی۔

حضرت خواجہ خلیل احمد کی آمد

اسی دوران اجتماع کے مہمانِ خصوصی حضرت خواجہ خلیل احمد دامت برکاتہم العالیہ، سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف اور مرکزی نائب امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان، تشریف لے آئے۔ ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔

بعد ازاں حضرت مولانا مفتی طاہر مسعود صاحب، مہتمم جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا، کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ وہ حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب کے خلیفہ بھی ہیں۔ مفتی طاہر مسعود صاحب نے سلسلۂ نقشبندیہ کی اہمیت اور اس کے تربیتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ساتھ اپنے تعلقات اور ان کی علمی و تربیتی خصوصیات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے تربیتِ باطن، تعلق باللہ، صحبتِ صالحین اور شیخ و مربی کے ساتھ تعلق کی اہمیت کو نہایت جامع اور دلنشین انداز میں بیان کیا۔

حضرت مولانا زاہد الراشدی کا اظہارِ تشکر

اس کے بعد حضرت استاد محترم مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم العالیہ نے تمام مہمانانِ گرامی، علماء، مشائخ، مقررین، نعت خواں حضرات اور شرکائے اجتماع کا شکریہ ادا کیا اور اجتماع کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے۔

مولانا عزیز الرحمٰن شاہد کی اقتداء میں نماز

اس دوران نمازِ عصر کا اعلان ہوا، اذان دی گئی اور نمازِ عصر مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد کی اقتداء میں ادا کی گئی۔

حضرت خواجہ خلیل احمد کا حلقۂ ذکر

نماز کے بعد حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب نے حلقۂ ذکر قائم فرمایا، جس میں ختمِ خواجگان کا اہتمام ہوا۔ ذکر و دعا کی اس روح پرور مجلس کے بعد متعدد حضرات نے حضرت سے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آخر میں دعا فرمائی گئی اور اس کے ساتھ یہ بابرکت پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

سالانہ نقشبندی اجتماع کے شرکاء

انتظامیہ کی طرف سے ان تمام حضرات کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا گیا جو اجتماع میں شریک ہوئے، لیکن وقت کی قلت اور پروگرام کی مصروفیات کے باعث ان سے تفصیلی ملاقات یا استفادہ ممکن نہ ہو سکا۔ اجتماع میں گوجرانوالہ اور گرد و نواح کی متعدد معروف علمی، دینی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں خطیب آلِ محمد حضرت مولانا ریاض انور گجراتی، مولانا انظر صاحب، قاری سمیع الحق (ناظمِ مالیات جمعیت علماء اسلام)، مولانا عارف شامی (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)، قاضی مراد اللہ خان (جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام گوجرانوالہ)، جناب بابر رضوان باجوہ (امیر جمعیت علماء اسلام گوجرانوالہ)، مولانا جواد محمود قاسمی، پیر محمد ریاض چشتی، پروفیسر ضیاء اللہ، حضرت مفتی جمیل احمد گجر، مولانا یحییٰ طاہر، مولانا عثمان رمضان، مولانا مفتی جمیل خان صاحب، مولانا مفتی عبید اللہ انور، مولانا خرم شہزاد، مولانا نصر الدین خان عمر اور دیگر متعدد علماء و زعماء شامل تھے۔

اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام، شبان ختم نبوت، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، جمعیت علماء اسلام، مرکزی علماء کونسل پاکستان، پاکستان شریعت کونسل، جمعیت اہل سنت حنفی دیوبندی گوجرانوالہ، اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان اور دیگر دینی و سماجی حلقوں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔

شہر کے مختلف متحرک دینی و علمی کرداروں کے ساتھ الشریعہ اکیڈمی کے نمائندگان، ادارۃ النعمان کے مفتی نعمان احمد، امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے جگر گوشہ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد، جامعہ نصرت العلوم کے استاد مولانا نعمت اللّٰہ بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ دور دور سے کثیر تعداد میں طلبہ، علماء اور عام مسلمانوں نے شرکت کی۔

یہ نقشبندی اجتماع محض ایک رسمی مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ علم و عمل، شریعت و طریقت، ذکر و فکر، اصلاحِ باطن اور اجتماعی ذمہ داریوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے والی ایک جامع مجلس تھی۔ مقررین نے مختلف زاویوں سے یہ پیغام دیا کہ امت کی دینی و روحانی زندگی کے لیے علم بھی ضروری ہے، عمل بھی؛ شریعت بھی ضروری ہے، تزکیہ و تربیت بھی؛ اور فرد کی اصلاح کے ساتھ اجتماعی زندگی کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ ذکر، فکر، بیانات، نعتیہ کلام، حلقۂ ذکر، ختمِ خواجگان اور بیعت کے روحانی ماحول نے اجتماع کو ایک یادگار کیفیت عطا کی۔ اختتامی دعا کے بعد شرکاء علم و عمل کے موتی سمیٹتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔

الشریعہ اکادمی

(الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۹

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۵)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

ابولہب کے لیے تخفیفِ عذاب کی روایت : تنقیدی جائزہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۲)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۴)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۵)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۹)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۷)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

ہبہ، وصیت اور میراث کے شرعی احکام و ضوابط
مولانا مفتی عبد الرحمٰن منیر

غیر مسلموں کو سلام کہنے کا شرعی و فقہی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

افواجِ پاکستان کا ترانہ
سید امین گیلانیؒ

6 ستمبر 1965ء  —    وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اسلام اور شخصی آزادی (۱)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

ریاست کی ناکامی پرکھنے کے اصول اور کامیاب بنانے کے اقدامات
اسرار ایوب

پاکستان اور افغانستان کا ایک مستقبل
مولانا فضل الرحمٰن

سیمینار: امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات
تنظیمِ اسلامی

سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ
الاحسان ٹی وی

کتبۂ مرقدِ محمودؒ کے مندرجات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازی اور شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

Protection of Muslim Family Laws
Mufti Taqi Usmani

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۳)
حافظ مجددی

The Qadiani Question in State Appointments
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

الشریعہ اکادمی کا سالانہ نقشبندی اجتماع
مولانا حافظ فضل الہادی سواتی

تلاش

شماریات