ذیشان ہاشم:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ دوستو! پبلک چوائس کے اگلے پروگرام کے ساتھ میں حاضر ہوں۔ آج کا جو ہمارا موضوع ہے وہ اسلام اور شخصی آزادیوں سے متعلق ہے۔ تقریباً دو ہفتے پہلے ایک پروگرام کے اندر ہم نے لبرل ازم کو ڈسکس کیا تھا اور یہ بھی کہ لبرل ازم سے کیا مراد ہے اور اس کی کیا تشریح ہے؟ اور پاکستان میں ایک لبرل سوسائٹی کیسے قائم ہو سکتی ہے؟ تو اس پر بہت سارے دستوں کے مثبت ریسپانس آئے۔ اور کچھ دوستوں کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان کیونکہ ایک اسلامی ملک ہے، یہاں مسلمانوں کی اکثریت رہتی ہے، تو لبرل ازم یہاں نہیں چل سکتا، اس پر بات نہیں ہو سکتی۔ تو اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ ہم اس ٹاپک پر بات کریں کہ کیا واقعی جو اسلام ہے وہ شخصی آزادیوں کی نفی کرتا ہے؟ یا اسلام بھی شخصی آزادیوں کو سپورٹ کرتا ہے؟
اس سلسلہ میں جو آج میرے مہمان ہیں، کسی تعارف کے محتاج نہیں، عمار خان ناصر صاحب، اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اسلامک اسٹڈیز میں گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں، ایک رسالہ نکالتے ہیں الشریعہ کے نام سے، پاکستان کے مذہبی حلقوں میں کافی معروف نام ہیں، اور آٹھ کتابوں کے مصنف ہیں۔
سب سے پہلے تو میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے ٹائم دیا۔
عمار خان ناصر:
جی، السلام علیکم، میں آپ کا ممنون ہوں کہ مجھے آپ نے دعوت دی، میری عزت افزائی ہے، اب یہ جو ایک سلسلہ آپ نے شروع کیا ہے فکری موضوعات پہ گفتگو کا، اس کا میں بہت قدردان ہوں، اللہ آپ کو بھی، اور جس ادارے سے آپ کر رہے ہیں، اس کو بھی جزائے خیر دے، ایک ضرورت آپ پوری کر رہے ہیں۔
ذیشان ہاشم:
آمین۔ عمار بھائی! میرا سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام شخصی آزادیوں کو سپورٹ کرتا ہے یا اس کی نفی کرتا ہے؟
عمار خان ناصر:
اسلام میں جب کوئی بھی موضوع لیں گے تو دو تین بنیادی چیزیں ہیں جن کے تحت اس کو ہم ڈیفائن کر سکیں گے۔
- سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام کہتا ہے کہ انسان ایک ذمہ دار اور جواب دہ مخلوق ہے۔ یعنی اس کو دنیا میں اللہ نے پیدا کیا ہے، اس کو ایک ذمہ داری دی ہے اور اس کے لیے وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔
- اچھا، یہ جوابدہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کے پاس اختیار اور آزادی ہو۔ آزادی اور اختیار کے بغیر، اور کوئی ایک راستہ چننے کے لیے جو اس کو ایک space ملنی چاہیے، اس کے بغیر وہ جواب دہ نہیں ہو سکتا، اس کو ذمہ داری نہیں دی جا سکتی۔
- اور اس کے ساتھ اللہ نے — چونکہ وہ خالق ہے، اس نے انسان کو بنایا ہے — تو اس نے انسان کے لیے ایک صحیح راستہ اپنے نبیوں کے ذریعے سے بتایا ہے، جس میں حدود و قیود بھی شامل ہیں، اس میں پابندیاں بھی اس کو بتائی گئی ہیں کہ ان اخلاقی حدود کی، ان ضابطوں کی اس نے پابندیاں کرنی ہیں۔
تو ان تین چیزوں سے مل کر ایک مجموعی تصور بنے گا۔ اور اصل میں خدا نے انسان کو جو راہنمائی دی ہے شریعت کی صورت میں، اس سے یہ طے ہو گا کہ اللہ کے سامنے انسان کن چیزوں کے لیے جواب دہ ہے؟ اس کے لیے اس کو جو ضروری آزادیاں ملنی چاہئیں، وہ کیا ہیں؟ اور ان آزادیوں پر دنیا میں دوسرے انسان، یا کمیونٹی، یا ریاست، وہ کس حد تک اور کہاں قدغن لگا سکتی ہے؟
تو شخصی آزادی تو بہت اہم تصور ہے، اس لیے کہ دنیا میں انسان ایک کمیونٹی میں، ایک ریاست میں، ایک معاشرے میں جیتا ہے، لیکن یہ اس کے لیے عمل کرنے کا ایک میدان ہے۔ اللہ کے سامنے تو وہ شخصی طور پر جواب دہ ہے، ہر انسان اپنے اپنے لیے جوابدہ ہو گا۔ اس لیے شخصی آزادی انسان کو ملنا، اور شخصی آزادی میں غلطی اور نیک عمل دونوں کی گنجائش اس کو ملنا، یہ بہت ضروری ہے۔ اور اس میں ایک توازن ہو گا کہ کہاں اس کو آپ روک سکتے ہیں، کہاں اس کو قدغن لگا سکتے ہیں۔ اور شریعت میں اور اسلام میں جو قانون بتایا گیا ہے، اس سے اس کا جواز لینا پڑے گا کہ کہاں آپ انسان کو پابند کر سکتے ہیں۔
ذیشان ہاشم:
ٹھیک ہے، عمار بھائی! ہم مغرب میں لبرل ازم کی جو ہسٹری دیکھتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جو کلاسیکل لبرل ازم کے لوگ تھے، انہوں نے اپنے مقدمے کا، یا اپنے تھیسس کا بنیادی نکتہ یہ رکھا کہ خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے، اور یہ جو آزادی کا تعلق ہے یہ خدا اور بندے کے درمیان ہے، اور اس میں یہ جو آزادی ہے یہ کسی ریاست نے یا کسی مذہبی ادارے نے یا کسی اور اتھارٹی نے انسان کو نہیں دی، یہ خدا نے دی ہوئی ہے، اور انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کو مل جاتی ہے یہ آزادی۔ تو اس طرح اس تصور کے ساتھ انہوں نے ریاست کی اس اتھارٹی کی نفی کی کہ وہ شخصی آزادیوں پر کوئی قید لگا سکتی ہے، بشرطیکہ کسی ایک شخص کی شخصی آزادی کسی دوسرے شخص کی شخصی آزادی کو چیلنج نہ کرے۔ ورنہ یہ کہا گیا کہ کوئی بھی اتھارٹی دنیا میں موجود نہیں ہے جو خدا کی طرف سے دی گئی اس شخصی آزادی کو چیلنج کر سکے۔ تو اس طرح انہوں نے ایک minimum ریاست، ایک ایسی ریاست کا تصور قائم کیا کہ جو شخصی آزادیوں کا تحفظ کرے گی، نہ کہ شخصی آزادیوں پر قدغن لگائے گی۔
تو اسلام جس ریاست کا تصور پیش کرتا ہے، یا جس ریاست کے تصور کو سپورٹ کرتا ہے، اس کے اندر کیا ایک خلیفہ یا ایک حکمران شخصی آزادیوں پر قید لگا سکتا ہے، اپنی اتھارٹی کے ساتھ؟
عمار خان ناصر:
میں نے پہلے سوال کے جواب میں جو بات عرض کی، وہ ایک بنیاد ہمیں دیتی ہے کہ اس سے ہم اِس سوال کو بھی اور اس کے جواب کو سمجھ سکیں۔ انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے ایک شخصی ذمہ داری کے ساتھ، اور ہر آدمی اپنی شخصی حیثیت میں خدا کو جواب دے گا۔ لیکن اللہ نے انسان کو دنیا میں پیدا کیا ہے ایک معاشرے میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آزادی بالکل مطلق نہیں ہو گی، اس کے ساتھ دوسرے لوگ رہ رہے ہیں، ان کے حقوق بھی وابستہ ہوں گے، ان کی آزادیاں ہیں، ان کو بھی تحفظ دینا پڑے گا۔ اور معاشرے ہی کی تنظیم کو آگے چل کر سیاسی طاقت اور ریاست کی شکل حاصل ہوتی ہے، وہ بھی اسی کے تحت ہو گی۔ یعنی فرد کو آزادی دی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ایک کمیونٹی میں رہنا ہے، ایک معاشرے میں رہنا ہے، اور مل جل کر ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کرنی ہے، ایک دوسرے کی آزادیوں کا خیال رکھنا ہے، اور اسی مقصد کے لیے ریاست بھی قائم کی جاتی ہے، اسی مقصد کے لیے سیاسی طاقت کا جو ادارہ ہے وہ بھی قائم کیا جاتا ہے۔
تو سیاسی طاقت کا ادارہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جو قانون، جو اخلاقی اصول، جو تصورات فرد کو govern کر رہے ہیں، اس کو گائیڈ کر رہے ہیں، اور افراد کے باہمی تعلقات کو اور معاشرے کو govern کر رہے ہیں، وہی ریاست کو اور اس کے اختیار کو بھی govern کر رہے ہیں۔ یعنی خدا کی دی ہوئی رہنمائی کے تحت اور شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں کے تحت، افراد کے جب آپس کے تعلقات بنتے ہیں تو ان کو بھی ایک دوسرے پر moral authority حاصل ہو جاتی ہے، اور وہ ایک دوسرے کو restrict کر سکتے ہیں، کمیونیٹیز کر سکتی ہیں۔ تو اسی اصول کے تحت ریاست بھی کر سکتی ہے لیکن وہ ازخود کوئی حیثیت نہیں رکھتی کہ کسی اخلاقی یا قانونی یا شرعی جواز کے بغیر محض طاقت کے زور پر یہ طے کرے کہ اِس کو یہ آزادی دینی ہے اور اُس کو نہیں دینی۔ ایسا نہیں ہے کہ مثلاً فرعون کے بارے میں قرآن نے بیان کیا — چونکہ وہ طاقتور تھا، دیوتا مانا جاتا تھا، اس کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا تھا، تو اس کو یہ اتھارٹی حاصل تھی کہ وہ بنی اسرائیل کے بارے میں یہ طے کر دے کہ ہم ان کے بچوں کو قتل کر دیا کریں گے تاکہ کل کو ان کی آبادی بڑھ کر کہیں ہمارے لیے خطرہ نہ بنے۔ تو اس طرح کی سیاسی طاقت کا جو تصور ہے وہ محض انسان کو خدائی اختیار میں شریک کرنے سے ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے شاید مغربی فکر میں بھی بادشاہت کے متعلق بات کی جاتی تھی کہ اس کو absolute authority حاصل ہے تو اس کے لیے divine right کا حوالہ دینا پڑتا تھا۔
اسلام اس طرح کی کسی سیاسی طاقت کو خدا کی نمائندہ یا خدا کی طرف سے دی ہوئی اتھارٹی کے طور پر نہیں دیکھتا۔ یہ معاشرے کی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، اس کو انجام دینے کے لیے اس میں کچھ اتھارٹیز آپ کو تقسیم کرنی پڑتے ہیں، انہی میں سے ایک دائرے میں ایک درجے میں اتھارٹی آپ سیاسی طاقت کو بھی دے دیتے ہیں، لیکن وہ سوسائٹی کی دی ہوئی ہوتی ہے، اور (وہ سیاسی طاقت) اس کو جوابدہ ہوتی ہے، انہی حدود کے اندر وہ مقید ہوتی ہے، اس سے باہر کوئی اختیار یا اتھارٹی ریاست کو حاصل نہیں ہوتی۔
ذیشان ہاشم:
اچھا، دوسری چیز ہم یہ دیکھتے ہیں، جیسا کہ آپ نے کہا کہ مغرب کے اندر جو بادشاہ ہے، یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کی طاقت خدا کی طرف سے عطا شدہ ہے، تو وہ ڈیوائن رائٹس اختیار کرتا تھا۔ ساتھ میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایک چرچ کا ادارہ موجود تھا کہ جو سمجھتا تھا کہ خدا اور بندے کے درمیان وہ بھی ایک تعلق ہے۔ تو جو ویسٹرن لبرل ازم ہے، جو کلاسیکل لبرل ازم ہے، اس نے اس ادارے کی نفی کی کہ خدا اور بندے کے درمیان چرچ نہیں آ سکتا، اور چرچ کوئی ایسی اتھارٹی نہیں رکھ سکتا کہ جو شخصی آزادیوں پر قید لگائے۔
اسی طرح پاکستان کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے اندر ایک مذہبی طبقہ موجود ہے کہ جو فتوے کو ایک قانون کا درجہ دیتا ہے۔ اور ایک ریاست کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مقننہ یا قانون ساز اسمبلی ہوتی ہے اور وہ کسی اصول کی بنیاد پر قانون طے کرتی ہے۔ جیسا کہ ۱۹۷۳ء کے اندر مذہب کو بھی ایک اصول کا درجہ دیا گیا ہے اور انسانی حقوق کو بھی ایک اصول کا درجہ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ گلی محلوں کے اندر فتوے کے ذریعے سے قانون ساز جو ادارے موجود ہیں، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ اتھارٹی، قانون بنانے کی اتھارٹی، کسی مذہبی عالم کے پاس موجود ہے؟ اور وہ جو اتھارٹی موجود ہے، وہ شخصی آزادیوں پر کوئی قید لگا سکتی ہے؟ اگر اس سوال کا میں خلاصہ کروں تو، جو مذہبی طبقہ ہے، جو علماء کا طبقہ ہے، کیا وہ بھی ایک اتھارٹی رکھتا ہے کہ وہ شخصی آزادیوں پر قید لگا سکے شریعت کی بنیاد پہ؟
عمار خان ناصر:
ہمارے کانٹیکسٹ میں یہ ایک بہت ہی اہم اور بنیادی سوال ہے۔ دیکھیں، اسلام میں کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں ہے جو بطور طبقے کے اتھارٹی رکھتا ہو۔ اتھارٹی اگر کسی فرد کو یا کسی ادارے کو یا کسی ایک منصب کو ملتی ہے تو وہ معاشرے کی جو مجموعی ذمہ داریاں ہیں، اور اس کی تنظیم کی ذمہ داریاں ہیں، تو ان کے تحت اخلاقی اور انتظامی اصولوں پر ملتی ہے۔ اب جو دین کا علم ہے، یعنی شریعت کا علم، یہ بنیادی چیز ہے۔ اور علم جس کے پاس ہو اور جس نے وہ علم حاصل کیا ہو، شریعت میں مہارت حاصل کی ہو، اس سے ایک moral authority ایک عالم کو سوسائٹی میں خودبخود ملتی ہے۔ اور اس کی بنیاد پر لوگ اس سے رجوع کرتے ہیں، اس سے رائے لیتے ہیں، اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ حکومتیں بھی علماء سے رائے لے سکتی ہیں، لیتی رہی ہیں اور عمل کرتی ہیں۔ لیکن اس میں کوئی جبر نہیں ہوتا، اس آدمی (عالم) کی کوئی شخصی اتھارٹی نہیں ہوتی، اس کا علم اور مہارت ہوتی ہے جو اصل میں اس کو ایک اخلاقی اور علمی رتبہ دیتی ہے اور اس سے پھر لوگ استفادہ کرتے ہیں۔
یہ تو ہو گئی فطری طور پر پیدا ہونے والی ایک اخلاقی یا علمی اتھارٹی جو لوگوں کو حاصل ہوتی ہے، جیسے مثلاً طب کے معاملے میں کوئی اچھے ڈاکٹرز ہوں گے تو ان کی رائے کو ایک وزن حاصل ہو گا، کوئی انٹرنیشنل لاء کا ادارہ ہے تو اس کے ماہرین کو حاصل ہو گا، تو اسی طرح دین کے اور شریعت کے علماء کو بھی یہ اخلاقی اتھارٹی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن سوسائٹی نے کسی مذہبی طبقے کو یہ اتھارٹی نہیں دی کہ وہ ایک طبقے کی حیثیت سے باقی طبقوں پر حاکم بنے اور ان کے بارے میں فیصلے کرے۔ خاص طور پر جن کی قانونی implications ہوں، قانونی مضمرات ہوں۔ نہ کسی طبقے کو سوسائٹی نے دیا ہے، نہ کسی عالم کو دیا ہے۔ سوسائٹی نے یہ اختیار ریاست کو اور ریاستی ادارے کو دیا ہے۔
اصل میں ہمارے ہاں جو رویہ ہے اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے، جس کو لوگ محسوس نہیں کرتے یا نظرانداز کر دیتے ہیں، اور بگڑ کر اس نے یہ شکل اختیار کر لی ہے۔ اصل میں ہمارے جو pre-modern مسلمان معاشرے ہیں، ان میں ہمارا جو عدالتی نظام ہے قضا کا، وہ علماء کے سپرد ہوتا تھا، اور علماء لوگوں کے کیسز کے فیصلے کرتے تھے، عدالتی فیصلے کرتے تھے۔ اور اسی طرح سوسائٹی میں کوئی عمومی بڑا مسئلہ آ گیا ہے تو حکمران بھی ان سے رائے لیتے تھے، اور عالم کے شخصی وزن کے لحاظ سے یا ان کے رتبے کے لحاظ سے حکمران بھی بڑی اہمیت دیتے تھے ان کی آراء کو، اور اس سے ہٹ کر عموماً فیصلے دینی معاملات میں وہ نہیں کرتے تھے۔
تو اصل میں تاریخ میں ہمیں مثالیں ملتی ہیں کہ بعض بڑے علماء، جن کو قضا کا منصب حاصل ہوتا تھا، اور جن کو ایک طرح سے سوسائٹی نے بھی اور ریاست نے بھی ایک اتھارٹی دی ہوئی تھی کہ وہ قانونی معاملات میں رائے دیں، تو وہ رائے دیا کرتے تھے۔ اب جدید دور میں وہ ختم ہو گیا ہے۔ جدید دور میں قضا کا، عدالت کا، قانون کی تعبیر و تشریح کا ایک الگ میکنزم بن گیا ہے۔ تو جو سمجھدار علماء ہیں، جو معاملہ فہم علماء ہیں، وہ پھر اس طرح کی چیزوں میں دخل نہیں دیتے، وہ ملحوظ رکھتے ہیں کہ اب سوسائٹی نے کیا نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے ہاں صرف مذہبی علماء نہیں ہیں، ہمارے ہاں مذہب کے عنوان پر بولنے والے زیادہ لوگ ریلیجئس ایکٹرز ہوتے ہیں، جو اصل میں مذہب کے عنوان سے معاشرے میں اپنی کوئی شناخت بنانا چاہتے ہیں، یا کوئی طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ اس طرح کے کام کرتے ہیں جس کو نہ تو مذہب اور مذہبی علم کوئی جواز دیتا ہے، نہ ہماری سوسائٹی نے دیا ہوا ہے، اور نہ ریاست نے۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے لیکن میں عرض یہ کر رہا ہوں کہ دینی لحاظ سے، شرعی لحاظ سے اس کا کوئی جواز نہیں۔
(جاری)





















