تیسری خصوصیت فقہ اسلامی میں ’’جامعیت‘‘ ہے۔ جامعیت سے دو چیزیں مراد ہیں۔ جامعیت سے ایک مراد تو یہ ہے کہ انسانوں کی جتنی ضروریات ہیں، انسانوں کی زندگی میں جتنے پہلو ہیں، ان سب پہلوؤں کو منظم کرنے اور ان سب کے بارے میں رہنمائی کا سامان موجود ہو۔ اگر کوئی نظام کسی ایک پہلو میں رہنمائی دیتا ہے اور بقیہ پہلوؤں کے بارے میں خاموش ہے تو وہ مکمل اور جامع نظام نہیں ہے؛ وہ نہ مکمل ہے نہ جامع ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے انسان کو ایک متکامل اور جامع شخصیت بنایا ہے، اس پوری شخصیت اور اس کے پہلوؤں کے درمیان ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اگر ہم آہنگی ختم ہو جائے تو انسان پاگل ہو جائے گا۔ انسان اسی وقت تک ایک عاقل اور Sane انسان ہے جب تک اس کی پوری زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ہم آہنگی موجود ہے۔ اگر جذبات کہیں جا رہے ہوں اور عقل کہیں جا رہی ہو تو انسان متوازن انسان نہیں رہتا۔ ایک لمحے کے لیے جذباتی سٹیبیلیٹی ختم ہو جائے، تو انسان ایک عقل مند انسان نہیں رہتا۔
اس لیے نظام وہ کامیاب ہو سکتا ہے جو انسانی زندگی کے سارے پہلوؤں کو بیک وقت محیط ہو۔ اگر ایک پہلو سے ڈیل کرنے والا نظام ہو، کسی ایک پہلو کے بارے میں بحث کرتا ہو، تو وہ انسانی زندگی کو متکامل کامیابی نہیں دے سکتا، وہ حقیقت سے آشنا ہی نہیں ہو سکتا۔ وہ حقیقت سے جزوی طور پر واقف ہو گا، کلی طور پر واقف نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کسی سو منزلہ عمارت کی چھت پر کھڑے ہو کر دیکھیں، تو اسلام آباد کا پورا لینڈ سکیپ آپ کو کھلا اور صاف نظر آئے گا، پورے حسن سے آپ متمتع ہوں گے، اس لیے کہ بیک وقت پورا لینڈ سکیپ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن اگر آپ کو کوئی پچاس میٹر لمبا پائپ دے دے کہ اس پائپ میں آپ جھانک کے دیکھیں، تو آپ کو بڑا تھوڑا حصہ نظر آئے گا اور بقیہ پہلو — وہ خوبصورت ہوں یا جو بھی ہوں — آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے اور وہ اتنا حصہ آپ کے سامنے رہے گا۔ یہی کیفیت ہے ان نظاموں میں جو شریعت کی رہنمائی سے ہٹ کر لوگوں نے دیے ہیں۔
شریعت نے انسان کو متکامل طور پر سامنے رکھا۔ انسان کی ٹوٹیلٹی، کلیت کو سامنے رکھ کر اس کا حل دیا۔ اس لیے اس کے سارے پہلو ایک دوسرے کے ساتھ متکامل ہیں، کوئی پہلو ایک دوسرے سے متعارض نہیں ہے۔ جب آپ تمام پہلوؤں کو الگ الگ ڈیل کریں گے اور ہر پہلو کے بارے میں ایک الگ انداز سے رہنمائی آئے گی تو یہ رہنمائیاں آپس میں ٹکرائیں گی۔ جب ٹکرائیں گی تو کبھی ایک پہلو کو کوئی آدمی ترجیح دے گا، دوسرا آدمی دوسرے پہلو کو ترجیح دے گا۔
عقل اور نقل (روایت) کی مثال میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ کچھ مذاہب نے عقل کو ترجیح دی اور نقل کا دامن چھوٹ گیا، اور کچھ مذاہب نے نقل کا ساتھ دیا اور عقل کا دامن چھوٹ گیا۔ اس پر اجتہاد کے ضمن میں مزید بات ہو گی۔ اس لیے شریعت کی جامعیت کا پہلا مظہر تو یہ ہے۔
دوسرا مظہر یہ ہے کہ انسانوں کے مزاج مختلف ہیں۔ آپ کا مزاج اور ہے، میرا مزاج اور ہے۔ اگر قانون آپ کے مزاج کو سامنے رکھ کر بنایا گیا، تو میرے مزاج سے جو مسائل پیدا ہوں گے اس کا جواب کہاں سے آئے گا؟ اگر میرے مزاج کو سامنے رکھ کر بنایا گیا، تو آپ کے مسائل کا جواب کہاں سے آئے گا؟ اگر کسی جاہل قوم کو سامنے رکھ کر بنایا گیا، تو پڑھی لکھی قوم کے مسائل کہاں سے آئیں گے؟ اس طرح سے آپ غور کریں تو آپ کو بیسیوں مثالیں ملیں گی۔
جب تک آسمانی شریعتیں مختلف علاقوں کے لیے الگ الگ تھیں، اس وقت تک اللہ کی مشیت اور حکمت اس بات کی متقاضی رہی کہ اس خاص قوم کے مزاج، انداز طبیعت اور افتاد طبع کو پیش نظر رکھ کر قانون بنایا جائے۔ تورات کو آپ دیکھیں، جو بنی اسرائیل کو منظم کرنے کے لیے دی گئی، بنی اسرائیل کو رہنمائی فراہم کرنے کے لیے اتاری گئی۔ بنی اسرائیل کی تاریخ پڑھیں — قرآن سے بھی تائید ہوتی ہے، تورات سے بھی اور ان کی کتابوں سے بھی تائید ہوتی ہے — کہ انتہائی سرکش قوم تھی۔ قانون کو توڑنا، احکام الہی کی نافرمانی کرنا، انحراف کے راستے ڈھونڈنا، یہ یہودیوں پر ختم تھا۔ اس انحراف کی اتنی مثالیں ان کے اپنے ادب میں اور لٹریچر میں موجود ہیں کہ قرآن پاک سے حوالے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ خود ان کے اپنے اعتراف کے بموجب انہوں نے پوری زندگی، ہزارہا سال انحراف میں گزارے اور انبیاء علیہم السلام کو تنگ کیا۔ جو قوم یہ فخر کرتی ہو کہ ’’انا قتلنا المسیح عیسی ابن مریم‘‘ ہم نے قتل کیا ہے مسیح علیہ السلام کو۔ جو پیغمبروں کے قتل پر — نعوذ باللہ — اظہار فخر کرتی ہو، اس کی سرکشی کا کیا کہنا!
ایسی سرکش قوم کے لیے جب اللہ تعالی نے قوانین نازل فرمائے، تو وہ سخت قوانین تھے۔ تورات کے قوانین سخت تھے۔ آپ دیکھیں، تورات میں آج بھی بعض احکام میں بڑی سختی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کپڑا ناپاک ہو جائے تو اس کپڑے کو کاٹ دو، گندگی لگ جائے تو اتنے حصے کو کاٹ کر پھینک دو، دھونے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ جسم کے کسی حصے پر لگ جائے تو اتنا رگڑو کہ خون نکل آئے، اس وقت تک پاک نہیں ہو گا۔ اس طرح کی اور بہت سی مثالیں ہیں جو ایک نافرمان اور سرکش قوم کو منضبط کرنے کے لیے ناگزیر تھیں، یہ احکام ضروری تھے، اس لیے سخت احکام دیے گئے۔
تورات کے احکام پر عمل کرتے ہوئے یہودیوں کو جب ایک زمانہ گزر گیا، تو یہودیوں میں ایک حرفیت پسندی پیدا ہو گئی، ایک Literal انداز پیدا ہو گیا، ایک ظاہر پرستی پیدا ہو گئی کہ قانون کے اصل مقاصد کو نظرانداز کر دیا جائے، قانون کی سپرٹ کو مجروح کر دیا جائے، لیکن اس کی ظاہری ہیئت پر عمل ہوتا رہے، آپ دنیا کو دھوکہ دے سکیں کہ آپ قانون پر عمل کر رہے ہیں۔
اللہ نے حکم دیا تھا کہ ہفتے میں ایک دن صرف عبادت میں گزارو اور کوئی دنیاوی کام نہ کرو۔ یہ بھی اس تربیت کا ایک حصہ تھا جو اللہ تعالی ان کو دینا چاہتے تھے۔ خاص طور پر چونکہ ایسے علاقے میں آباد تھے جہاں سمندر اور دریا بہت کثرت سے ہیں، تو مچھلیوں کا بڑا شوق تھا۔ تو حکم دیا کہ ساتویں دن کچھ کام نہ کرو، شکار بھی نہ کرو۔ اب انہوں نے کیا کیا کہ تمام دریاؤں سے، تالابوں سے چھوٹی چھوٹی نہریں کھودیں، اپنے ہر گھر میں چھوٹے چھوٹے تالاب بنائے اور یہ کوشش کی کہ مچھلی ازخود چلتی ہوئی ان کے تالاب میں آ جائے۔ جب تالاب میں آ جائے تو اس کو بند کر دیا جائے، اور گویا اللہ تعالی کو — نعوذ باللہ — دھوکہ دیا جائے کہ سرکار! ہم نے تو شکار نہیں کیا تھا، مچھلی خود ہی چل کر آ گئی تھی۔ قرآن پاک میں اس کی تفصیل ہے۔ جو قوم اللہ تعالی کو — نعوذ باللہ — دھوکہ دینے کے لیے آمادہ رہتی ہو، اس کی ظاہر پسندی کا کیا ٹھکانا ہو سکتا ہے!
جب سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے، تو آپ نے سب سے زیادہ اس ظاہر پرستی کی تردید فرمائی اور شریعت کے احکام کی اصل روح پر زور دیا۔ عیسائیوں نے یہ کیا کہ جی ٹھیک ہے، آپ فرماتے ہیں کہ روح پر زور دو! ہم ظاہر کو لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے دنیا سے جاتے ہی یہ فیصلہ کیا کہ احکام تورات آج سے منسوخ، قانون شریعت منسوخ، صرف قانون کی روح کافی ہے۔ روح کیا ہے؟ وہ جو پادری قرار دیں، وہ روح ہے بس! آپ انسانوں سے محبت کریں، یہ روح ہے۔
بھئی، انسانوں سے محبت کیسے کرو؟ اس کے دوست سے محبت اور طرح کی ہو گی، دشمن سے اور طرح کی ہو گی، بے گناہ انسان سے محبت اور طرح کی ہو گی، مجرم سے اور طرح کی ہو گی، قاتل سے اور طرح کی ہو گی، مقتول سے اور طرح کی ہو گی۔ جب تک یہ تفصیلات قانون میں طے نہیں ہوں گی ’’محبت‘‘ تو ایک فضول اور بے معنی سا لفظ ہے۔
آج عیسائی دنیا بھر میں دوہراتے رہتے ہیں کہ ہم انسانیت سے محبت کرتے ہیں۔ بھئی، انسانیت سے آپ محبت کرتے ہیں تو کیسے کرتے ہیں، اس کا طریقہ کیا ہوتا ہے؟ ایک قاتل لایا جائے جس نے دس قتل کیے ہوں — کئی سال پہلے لاہور میں سو بچے قتل کیے تھے ایک آدمی نے، وہ بھی انسانیت کا حصہ تھا — اس سے محبت کریں گے کہ نہیں کریں گے؟ کریں گے تو کیسے کریں گے؟ کیا اس سے، اور ان بچوں سے جو مارے گئے ہیں، یا ان کے ماں باپ سے یکساں طور پر محبت کریں گے؟ دونوں کو گلے لگا کے، چوم کے چھوڑ دیں گے؟ یا ایک کے ساتھ کچھ رویہ ہو گا اور دوسرے کے ساتھ کچھ اور ہو گا؟ یہ بات عیسائیوں نے بھلا دی کہ یہ بھی ضرورت ہے۔
آج سے کچھ سال پہلے مجھے ایک مغربی ملک میں جانے کا اتفاق ہوا، تو کچھ لوگوں نے کہا کہ عیسائیوں کے ایک اجتماع سے آپ خطاب کریں اور اسلام پر بات کریں۔ میں نے ان سے گفتگو کے دوران یہ کہا کہ آپ دنیا بھر میں جب عیسائیت کا پروپیگنڈا کرتے ہیں، تبلیغ کرتے ہیں — وہ سب پادری تھے جن سے گفتگو ہو رہی تھی — تو آپ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ السلام کی تعلیم یہ ہے کہ کوئی تمہارے دائیں گال پر چانٹا مارے تو تم بایاں گال بھی اس کے سامنے کر دو۔ کہا، ہاں بالکل! سب نے بڑے فخریہ انداز میں کہا کہ یہ ہماری تعلیم ہے۔
میں نے کہا، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جب سے یہ تعلیم آپ نے حضرت مسیحؑ سے منسوب کی ہے — پتا نہیں ان کی ہے کہ نہیں ہے — لیکن جب سے منسوب ہوئی ہے، اس وقت سے لے کر آج تک کوئی ایسا عیسائی آپ مجھے دکھا سکتے ہیں جس کو ایک چانٹا مارا گیا ہو اور اس نے دوسرا گال بھی آگے کر دیا ہو؟ میں آپ کے سامنے ابھی آزما کر دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ عیسائی کون ہے؟ کیا ایسا ہوا ہے کہ دشمن نے ایک شہر پر قبضہ کیا ہو اور آپ نے دوسرا شہر بھی خالی کر دیا ہو کہ سرکار! دوسرا شہر بھی لے لیں؟ چور نے ایک کمرے میں ڈاکہ ڈالا ہو اور آپ نے دوسرا کمرہ بھی کھول دیا ہو؟ جیب کترے نے ایک جیب کاٹی ہو، آپ نے دوسری بھی آگے کر دی ہو کہ یہ بھی کاٹ لو؟‘‘
جب ایسا کبھی نہیں ہوا، عملاً نہیں ہوتا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ تمام تر دعووں کے باوجود عمل کرتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر، کہ انسانیت سے محبت بھی کرو، جو بے گناہ ہو اس سے محبت کرو، جو بیمار ہے اس سے محبت کرو، جو مظلوم ہے اس سے محبت کرو۔ اور جو ظالم ہے اس سے محبت کرو، لیکن اس سے محبت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا ہاتھ روک لو۔ آپؐ نے فرمایا ’’انصر اخاک ظالماً او مظلوما‘‘ کہ تمہارا بھائی ظالم ہو یا مظلوم ہو، دونوں صورتوں میں اس کی مدد کرو۔ صحابہؓ نے فرمایا کہ ’’ہذا المظلوم‘‘ یہ مظلوم تو سمجھ میں آتا ہے، ظالم کی مدد کیسے کریں؟ آپؐ نے فرمایا، اس کا ہاتھ پکڑ لو، اس کو ظلم مت کرنے دو۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ عملاً اس تعلیم پر عمل نہیں کر رہے جو آپ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منسوب کر رہے ہیں، آپ اس تعلیم پر عمل کر رہے ہیں جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دی۔
گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت جامع ہے اُن احکام کی جو سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شریعت میں ہیں۔ اس میں سخت احکام بھی ہیں، آپؐ کی شریعت میں بھی سخت احکام ہیں۔ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بعض شدید احکام بھی دیے تھے، ان میں سے جن شدید احکام کی ضرورت ختم ہو گئی وہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان نہیں فرمائے۔ جن شدید احکام کی ضرورت تھی — اس لیے کہ ایسے منحرف مزاج لوگ ہر زمانے میں ہو سکتے ہیں جیسے یہودی تھے، یہ سرکشی بعد میں بھی کسی قوم میں پیدا ہو سکتی ہے، تو جہاں جہاں ایسی سرکشی کی مثالیں آئیں گی، وہ افراد کی طرف سے آئیں یا گروہوں کی طرف سے — تو سخت احکام قرآن پاک میں موجود ہیں اور وہ دیے جائیں گے۔ جہاں سخت احکام کی ضرورت نہیں رہی تھی وہ اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ، جو قانونِ الٰہی یا قانونِ شریعت کا ایک روحانی اور اخلاقی پہلو ہے، جہاں اس کی روح یا اس کے بنیادی اصولوں کا سوال ہے، وہ قرآن پاک نے ہر جگہ بیان کیا ہے۔ آپ قرآن مجید پڑھیں، جہاں کوئی فقہی حکم بیان ہوا ہے، جہاں کوئی قانون بیان ہوا ہے، جہاں کوئی سزا یا جرم بیان ہوا ہے، وہاں یہ کہا گیا ہے کہ یہ اس لیے ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو، یہ اس لیے ہے کہ تمہارے دل نرم ہو جائیں، یہ اس لیے ہے کہ تم یاد رکھو کہ تمہیں کہاں جانا ہے۔ یعنی وہ چیزیں جو تورات اور انجیل میں الگ الگ بیان ہوئی تھیں، وہ قرآن پاک کے ہر سلسلۂ مضامین میں یکجا کر دی گئی ہیں۔ یہ قرآن پاک کی جامعیت کی ایک اور مثال ہے۔
اخلاق اور قانون آج کی دنیا میں الگ الگ سمجھے جاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں اخلاق اور قانون کو دو چیزیں سمجھا جاتا ہے۔ آج کل کے مغربی علمائے قانون کا اصرار ہے کہ قانون کو Value-Neutral ہونا چاہیے، یعنی کسی اخلاقی قدر کے بارے میں کوئی موقف قانون کو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی قانون یہ نہ کہے کہ شراب پینا اچھا ہے کہ برا ہے، یہ قانون کا کام نہیں ہے۔ قانون یہ نہ طے کرے کہ کیا چیز اخلاقی طور پر اچھی ہے اور کیا چیز بری ہے۔ اخلاق اور روحانیات کے بارے میں قانون غیر جانبدار رہے۔ وہ اس کو Amoral concept of law کہتے ہیں کہ لاء کو پازیٹو ہونا چاہیے؛ وہ یہ دیکھے کہ اس وقت حقائق کیا ہیں اور کیا ہو رہا ہے، اس سے آگے قانون کو نہیں جانا چاہیے، قانون کو مفتی یا مذہبی مرشد بن کے نہیں بیٹھنا چاہیے۔
اس لیے انہوں نے قانون کی دنیا سے اخلاق کو نکال باہر کیا، اخلاق کو دیس نکالا دے دیا، روحانیات کو بھی دیس نکالا دے دیا۔ اب قانون کے نام سے جو چیز دنیائے مغرب میں مروج ہے، نہ اس کا اخلاق سے کوئی تعلق ہے، نہ روحانی اقدار سے کوئی تعلق ہے۔ جہاں کسی روحانیت کی بو بھی نظر آتی ہے، وہاں سے وہ آپریشن کر کے اس حصے کو نکال دیتے ہیں، جہاں اخلاق کا جرثومہ کہیں پیدا ہوتا نظر آتا ہے، آپریشن کر کے اس کو دور کر دیتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قانون کی دنیا ایک غیر اخلاقی دنیا بن گئی، ایک لا اخلاقی دنیا بن گئی، ایک غیر روحانی دنیا بن گئی۔ قانون پر عملدرآمد کے جو داخلی محرکات تھے، قانون پر عملدرآمد کے بارے میں اللہ کے حضور یا آخرت میں جواب دہی کا جو احساس تھا، وہ سارا کا سارا ختم ہوتا جا رہا ہے۔ صرف ظاہری اور سرکاری یا سیاسی مؤیدات جو ہیں، Sanctions جو ہیں، صرف ان پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب تک سینکشنز موجود رہتی ہیں، جب تک پولیس کا ڈنڈا، قانون، عدالت، پولیس، فوج سامنے ہے، اس وقت تک لوگ قانون پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ مؤیدات ایک لمحے کے لیے نظروں سے ہٹ جائیں — دو گھنٹے کے لیے بجلی اگر فیل ہو جائے — تو پچھلے سالہا سال کی کسر پوری ہو جاتی ہے اور بیک وقت ہزاروں، لاکھوں واقعات قتل، جرم اور بڑے بڑے تباہ کن جرائم کے پیش آ جاتے ہیں، دو گھنٹے کے لیے بجلی اگر چلی جائے تو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قانون کا تعلق اخلاق اور روحانیات سے توڑ دیا گیا ہے۔
اس کے برعکس آپ دیکھیں — میں زیادہ پرانی مثال نہیں دوں گا، اس طرح کی مثالوں سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید صدرِ اسلام میں کوئی فرشتہ قسم کے انسان تھے، ان کی مثالیں آج کل کے گنہگار انسانوں کے لیے کیسے کارآمد ہو سکتی ہیں! (حالانکہ) یہ مثالیں ہر دور میں مسلمانوں میں موجود ہوتی ہیں۔ یہ 1947ء کی مثال ہے، پاکستان بننے کے بعد کی، جن حضرات نے دیکھا، انہوں نے مجھے بتایا، میں نے ان سے سنا ہے براہ راست۔ جب ہندوستان کے بارے میں یہ اطلاع ملی، پاکستان بننے کے بعد، کہ بعض علاقوں میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو لوٹا ہے اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا ہے، تو کراچی کے بعض علاقوں میں بعض پرجوش مسلمانوں نے ہندوؤں کی بستی لوٹی اور لوٹ کر ان کے گھر کا سامان اپنے گھر میں اٹھا کر لے آئے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ وہاں تشریف لائے۔ وہ جگہ میں نے دیکھی ہے جہاں وہ آ کر کھڑے ہوئے تھے — جو صاحبان وہاں موجود تھے، ان میں سے بعض کو میں نے دیکھا اور انہوں نے مجھے بتایا — انہوں نے یہ کہا کہ میں چوبیس گھنٹے کا وقت دیتا ہوں، چوبیس گھنٹے کے اندر اندر جس شخص نے یہ سامان لیا ہے، وہ لا کر یہاں مسجد میں رکھ دے۔ اور کل شام کو میں ہندوؤں کو بھیجوں گا کہ اپنا اپنا سامان واپس لے جاؤ۔ اگر کسی کی کوئی چیز رہ گئی ہو تو میں ہندوؤں کا بیان قبول کر لوں گا بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے، اور میں اس سب علاقے کے لوگوں کو نکال کے پاکستان سے بھگا دوں گا؛ میں ہر شخص کو جو اس بستی میں رہتا ہے، گرفتار کر کے پاکستان سے نکال دوں گا۔ قائد اعظم یہ کہہ کر چلے گئے۔
مولانا احتشام الحق تھانویؒ کی مسجد قریب تھی۔ مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے لوگوں کا ایک اجتماع بلایا۔ اجتماع بلانے کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ نے جو سنا ہے وہ آپ کے سامنے ہے، یہ شرعاً بھی جائز نہیں ہے، یہ لوگ ہماری امان میں ہیں، ایک اسلامی مملکت کے طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کا جان و مال ہم محفوظ رکھیں۔ اسلام کا حکم ہے، سیدنا علی ابن ابی طالبؓ کا ارشاد ہے کہ ’’لہم ما لنا وعلیہم ما علینا‘‘ کہ جو ہمارے حقوق و فرائض ہیں وہ ان کے حقوق و فرائض ہیں، جو ہماری ذمہ داریاں ہیں وہ ان کی ذمہ داریاں ہیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک معاہدہ کیا تھا ایک عیسائی قوم سے، جس میں انہوں نے لکھا تھا ’’لہم ما للمسلمین وعلیہم ما علی المسلمین‘‘ کہ جو مسلمانوں کے حقوق ہیں وہ ان کے حقوق ہوں گے، جو مسلمانوں کے فرائض ہیں وہ ان کے فرائض ہوں گے۔ اور اس معاہدے کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپروو کیا تھا۔
چنانچہ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ سے میں نے سنا اور کئی لوگوں سے سنا، کہ جس شخص نے جو چیز کسی ہندو کے گھر سے اٹھائی تھی، وہ ایک ایک چیز لا کر رکھ دی۔ اور اگلی صبح دس بجے جب ہندو آئے، یا پارسی، جو بھی ہوں گے، انہوں نے اپنی ایک ایک چیز اٹھا کر سرٹیفکیٹ لکھ کر دیا کہ ہماری ہر چیز مل گئی، اب ہمیں کوئی شکایت نہیں ہے۔ چنانچہ یہ سرٹیفکیٹ قائد اعظم کو پہنچایا گیا تو وہ مطمئن ہو گئے۔
میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر دل میں خوفِ خدا ہو، اگر دل میں یہ احساس ہو کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری کیا ہے، دل میں یہ جذبہ جاگزین ہو کہ اسلام کے اخلاقی اور روحانی تقاضے کیا ہیں، تو پھر انسان ہر دور میں اس پر عمل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اس کی مثالیں ملتی ہیں، آپ کی اور ہماری زندگی میں ملتی ہیں، ہزاروں مثالیں آپ نے بھی دیکھی ہوں گی، میں نے بھی دیکھی ہیں۔ کسی کی چیز چوری ہوئی، کسی کو ملی، اس نے پہنچا دی۔ لاکھوں روپے کروڑوں روپے کی چیزیں لوگوں نے اصل مالکان کو پہنچا دیں، حالانکہ کوئی دیکھنے والا نہیں تھا، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ اس طرح کی مثالیں مسلم معاشروں میں موجود ہیں اور ملتی ہیں۔ یہ جامعیت ہے قانون اور اخلاق کی، قانون اور روحانیات کی، ضمیر اور ظاہری قوتوں کے آپس میں ارتباط اور ہم آہنگی کی۔ یہ شریعتِ اسلامیہ کی وہ بنیادی خصوصیت ہے جس سے دنیا کے اکثر و بیشتر قوانین عاری ہیں۔
اسلامی شریعت کی چوتھی خصوصیت ہے اس کی حرکیت، یعنی Mobility، کہ وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل وسعت پذیر ہے، نئے نئے حقائق نئے نئے واقعات کو اپنے اندر سموتی ہے اور ہر نئے آنے والے مسئلے کا جواب اس کے پاس موجود ہے۔ اس پر زیادہ تفصیلی گفتگو اجتہاد کے باب میں ہو گی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسلامی قانون اور شریعت دنیا کا واحد قانون ہے جو چودہ سو پچیس سال سے آج تک ایک تسلسل کے ساتھ انسانوں کی زندگی کے بڑے حصے کو منظم کر رہا ہے۔ جس حصے کو مسلمانوں نے اپنی کوتاہیوں سے چھوڑ دیا، اس پر ہم اللہ کے حضور معافی کے خواستگار ہیں۔ ہمیں کوشاں ہونا چاہیے کہ اس حصے میں بھی ہم جلد سے جلد شریعت پر عملدرآمد کرنے لگیں، لیکن ہر مسلمان کسی نہ کسی حصے پر عملدرآمد ضرور کرتا ہے۔
یہ تسلسل کسی اور نظامِ قانون کو حاصل نہیں ہے۔ اس تسلسل کی وجہ شریعت کی وہ حرکیت ہے، اسلامی نظامِ قانون کی وہ موبیلیٹی ہے، جس کی وجہ سے یہ ہر حالت میں اور ہر نئی پیش آمدہ صورتحال میں، اُس مسئلے کے بارے میں رہنمائی دے سکتا ہے۔
دنیا کا جو نظامِ قانون بھی ماضی میں انسانوں نے برتا ہے، یا آج برت رہے ہیں، وہ کسی خاص علاقے میں ظاہر ہوا، اس کی پیدائش کسی خاص علاقے یا قوم میں ہوئی۔ جب اپنے علاقے اور قوم تک وہ محدود رہا، اس وقت تک اس میں کچھ نہ کچھ کامیابی نظر آتی رہی۔ جب اس کو اپنے علاقے اور ماحول سے نکل کر دوسروں کے علاقے اور ماحول میں جانے کا موقع ملا، فورًا اس کے اساسات اور کلیات میں تبدیلی آ گئی اور وہ کچھ کا کچھ ہو گیا۔ وہ اپنی اصل سے اتنا مختلف ہو گیا، اپنی اصل سے اتنا بدل گیا کہ بعد والوں کو یہ پہچاننے میں مشکل پیش آئی کہ یہ قانون آیا کہاں سے تھا۔
اس کی مثالیں رومن لاء میں، اس کی مثالیں جدید مغربی قوانین میں، فرانس اور انگلستان کے سول لاء اور کامن لاء میں، آپ کو ہر جگہ ملیں گی۔ جب کوئی نظام قانون اپنے مرکز سے، اپنی جنم بھومی سے نکل کر کہیں اور گیا، وہاں کے رنگ میں اتنا رنگ گیا کہ پھر اپنے ماضی سے تعلق چھوڑنے پر مجبور ہو گیا، یا تو ختم ہو گیا، یا اپنی ماہیت اتنی بدل لی کہ اصل سے تعلق نہیں رہا۔
اسلامی شریعت جزیرۂ عرب سے نکلی، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اس کا اصل مرکز اور مصدر ہے، وہیں سے نکلی، صحابہ کرامؓ اس کو دنیا کے ہر گوشے میں لے گئے، تابعینؒ نے اس کو روئے زمین کے چپے چپے پر پھیلا دیا۔ اس پر عملدرآمد دنیا کے ہر علاقے میں ہو رہا ہے، چین اور جاپان میں بھی ہو رہا ہے اور برازیل اور ارجنٹائن میں بھی ہو رہا ہے۔ لیکن برازیل اور ارجنٹائن میں رہنے والے کسی مسلمان سے، جو رمضان میں روزہ رکھتا ہو، آپ پوچھ کے دیکھیں، تو وہ روزہ اور نماز کے انہی احکام پر عمل پیرا ہے جن پر آپ عمل پیرا ہیں؛ نکاح و طلاق کے انہی احکام پر عمل پیرا ہے جن پر آپ عمل پیرا ہے؛ وہ محرمات اور منہیات سے اسی طرح مجتنب ہے جیسے ہم اور آپ مجتنب ہیں؛ وہ شریعت کے فرائض اور واجبات پر اسی طرح عمل پیرا ہے جیسے آپ اور میں عمل پیرا ہیں۔
جزیرۂ عرب کے ریگستانی اور صحرائی ماحول سے نکل کر شام کے انتہائی متمدن ماحول میں اور سپین کے انتہائی متمدن اور مہذب ماحول میں جانے سے اس شریعت کے مزاج اور افتاد اور انداز میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اس لیے کہ اس میں اتنا سمو لینے کی صلاحیت موجود تھی کہ وہ ان ساری تبدیلیوں کو اپنے اندر سمو سکتی تھی — اپنے خصائص میں کسی تبدیلی کو راستہ دیے بغیر، اپنے بنیادی اوصاف میں کوئی مصالحت یا کمپرومائز کیے بغیر — وہ لامتناہی حالات اور لامتناہی مسائل کو اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ صلاحیت دنیا کی کسی اور قوم کے دیے ہوئے نظام میں نہیں پائی جاتی۔ یہ کیسے ممکن ہوا، اس کا میکنزم کیا ہے، اس کا طریقہ کیا ہے؟ اس پر اجتہاد کے باب میں تفصیل سے بات ہو گی۔
(جاری)





















