8 اگست 2026ء کو الاحسان ٹی وی کے پروگرام الاحسان اسپیشل میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے ’’معاہدۂ مکہ‘‘ کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا۔ سینئر صحافی جناب مجیب الرحمٰن شامی، پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے صدر جناب اعجاز الحق، الاحسان ٹی وی کے صدر ڈاکٹر حماد لکھوی، الاحسان ٹی وی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد رفیق، اور سعودی صحافی ڈاکٹر منصور نظام الدین قریشی نے گفتگو میں حصہ لیا، جبکہ میزبانی کے فرائض حافظ شفیق کاشف نے سرانجام دیے۔
شرکائے نشست نے مذکورہ دفاعی معاہدہ کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کرتے ہوئے اس پر اپنے خیالات و تبصرات پیش کیے، مثلاً: کیا یہ محض ایک دفاعی معاہدہ ہے یا عالمِ اسلام کے ایک نئے وسیع تر سیاسی اتحاد کی ابتدا بن سکتا ہے؟ کیا معاہدۂ مکہ عالمِ اسلام کو مشترکہ دفاع اور ایک نئی اسٹریٹجک قوت کی طرف لے جا سکتا ہے؟ کیا اس معاہدہ کو سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے یا اس سے مشرقی وسطیٰ کی روایتی مسلکی کشمکش اجاگر ہو گی؟ بالخصوص مکہ مکرمہ میں طے پانے والے اس تاریخی معاہدے کے پس منظر میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، اسرائیلی جارحیت، مسلم ممالک کی دفاعی خود انحصاری، اور مستقبل میں دیگر اسلامی ممالک کی ممکنہ شمولیت جیسے اہم سوالات زیرِ بحث آئے۔ ذیل میں ہم شرکائے نشست کی گفتگو کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔
جناب مجیب الرحمٰن شامی:
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار جناب مجیب الرحمٰن شامی نے اسے ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا عالمِ اسلام میں بالعموم اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں بالخصوص خیرمقدم کیا گیا ہے۔
مجیب الرحمٰن شامی کے نزدیک خطے میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کے باعث اس معاہدے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں اور پورے خطے کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے والے اقدامات نے مسلم ممالک کے مشترکہ دفاع کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت ایک اہم پیشرفت ہے اور اس نے اس تعاون کو ایک وسیع تر جہت دے دی ہے۔ مستقبل میں دوسرے مسلم ممالک بھی اس نظام کا حصہ بن سکتے ہیں اور بعید نہیں کہ رفتہ رفتہ یہ تعاون عالمِ اسلام کے ایک وسیع دفاعی اتحاد کی شکل اختیار کر لے۔ تاہم فی الوقت اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو حرمین شریفین کا دفاع ہے، جس میں اب پاکستان کے ساتھ ترکیہ بھی شریکِ ذمہ داری ہو گیا ہے۔
شامی صاحب نے پاکستان کی دفاعی اور سفارتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کر کے اپنی عسکری صلاحیت ثابت کی ہے۔ اسی طرح ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات میں پاکستان کے کردار، نیز سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوششوں نے یہ واضح کیا ہے کہ خطے کے امن و استحکام میں پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول پاکستان اس خطے کی ایک بڑی فوجی طاقت ہے، ترکیہ اپنی مضبوط فوج اور جدید دفاعی پیداوار کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب کے پاس وسائل، مالی قوت اور عالمِ اسلام میں ایک منفرد مقام موجود ہے۔ ان تینوں ممالک کی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے شامی صاحب نے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمِ اسلام کے اتحاد اور مشترکہ دفاع کے جو خواب مدت سے دیکھے جا رہے تھے، یہ معاہدہ ان خوابوں کی تعبیر کی جانب ایک اہم قدم بن سکتا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا مستقبل میں مسلم ممالک نیٹو کی طرز پر کسی دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں، مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ اس حوالے سے دروازے کھلے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ خطے کے دیگر مسلمان ممالک بھی اگر چاہیں تو اس تعاون میں شریک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ اقدام نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور امن کے تحفظ کے لیے ہے۔ البتہ جو قوتیں جارحانہ عزائم رکھتی ہیں، ان کے لیے یہ معاہدہ ایک واضح پیغام اور تنبیہ ضرور ہے۔ مصر، ملائیشیا، قطر اور دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان ممالک کا اپنا فیصلہ ہوگا، تاہم اگر وہ اس اتحاد کا حصہ بنتے ہیں تو انہیں ایک بڑی مشترکہ دفاعی چھتری میسر آ سکتی ہے۔ انہوں نے نیٹو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح یورپ میں کسی ایک رکن پر حملہ پورے اتحاد کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے، اسی طرح عالمِ اسلام میں بھی ایسا نظام ایک نئی قوت پیدا کر سکتا ہے۔
معاہدے کے لیے مکہ مکرمہ کے انتخاب کو بھی شامی صاحب نے غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ان کے مطابق مکہ مکرمہ مسلمانوں کا مرکز ہے، ہر مسلمان کا دل مکہ سے وابستہ ہے اور مکہ ہر مسلمان کے دل میں بستا ہے۔ اس لیے مکہ میں اس نوعیت کے اہم معاہدے کا انعقاد محض ایک انتظامی انتخاب نہیں بلکہ اس کی روحانی، اخلاقی اور سیاسی معنویت بھی ہے۔ جناب مجیب الرحمٰن شامی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر مسلم ممالک مشترکہ دفاع اور باہمی تعاون کے اصول پر آگے بڑھتے رہے تو ایک نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے، جہاں مسلمان ممالک اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے ایک دوسرے پر اعتماد کر سکیں گے۔
جناب اعجاز الحق:
پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ جناب اعجاز الحق نے پاک سعودی ترک دفاعی معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے اسے مسلم دنیا کے لیے ایک اہم اور دور رس پیشرفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے پس منظر میں ماضی کے دفاعی تعاون، خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات، اور مسلم ممالک کی جانب سے اپنے دفاع کے لیے زیادہ خود انحصار ہونے کی ضرورت کو سمجھنا بہت اہم ہے۔
اعجاز الحق نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کا باقاعدہ آغاز جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں ہوا تھا جب سعودی عرب کی درخواست پر پاکستان کے سپیشل سروسز گروپ نے وہاں جا کر کارروائی میں حصہ لیا تھا اور اس کے بعد پاکستانی فوج کی ایک بریگیڈ وہاں تعینات کی گئی تھی۔ پھر وقت کے ساتھ سعودی عرب کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا تو وہاں پاکستانی فوج کی موجودگی بھی بڑھتی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل عاصم منیر سمیت متعدد پاکستانی فوجی افسران سعودی عرب میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک مرحلے پر سعودی عرب کی جانب سے تقریباً چالیس اسلامی ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ فوج تشکیل دینے کا تصور بھی سامنے آیا تھا، جس کے لیے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب بلایا گیا۔ اگرچہ یہ منصوبہ اس وقت عملی شکل اختیار نہ کر سکا، تاہم حالیہ علاقائی حالات نے مسلم ممالک کو ایک بار پھر مشترکہ دفاع کی ضرورت پر غور کرنے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ کے تناظر میں خلیجی ممالک کی مشکلات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق جب یہ صورتحال سامنے آئی کہ بعض عرب ممالک میں موجود امریکی اڈے خود اُن ممالک کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، تو عرب ریاستوں میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ محض کسی بیرونی طاقت پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے دفاع کے لیے خود بھی مؤثر انتظامات کیے جانے چاہئیں۔
اعجاز الحق کے مطابق اس خطے میں پاکستان اور ترکیہ دو ایسی بڑی مسلم عسکری طاقتیں ہیں جو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پہلے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا اور اب ترکیہ کی شمولیت نے اس تعاون کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک ڈیٹرنس یعنی ایسا دفاعی بندوبست ہے جو ممکنہ جارح کو حملے سے پہلے ہی باز رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں مصر، اردن اور خلیج تعاون کونسل (GCC) کی دیگر ریاستیں بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بن سکتی ہیں۔ ان کے خیال میں خطے کے بدلتے ہوئے حالات اور مشترکہ خطرات بالآخر مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے پر آمادہ کریں گے۔
اعجاز الحق نے اس اتحاد کے ممکنہ اثرات کو غزہ کے مسئلے سے بھی جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم ممالک میں اتنی سیاسی اور دفاعی یکجہتی پیدا ہو جائے کہ وہ غزہ میں ہونے والی نسل کشی اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف مؤثر آواز بلند کر سکیں، تو یہ مسلم دنیا کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہو گی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں ایسی شق بھی سامنے آئے جس کے تحت کسی ایک مسلم ملک خصوصاً غزہ پر حملے کو تمام شریک ممالک پر حملہ تصور کیا جائے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ’’ابراہام اکارڈز‘‘ میں شامل مسلم ممالک اس معاہدے کے بعد اس سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں، تو اعجاز الحق نے اسے مشکل قرار دیا کہ امریکہ کی جانب سے بعض مسلم ممالک پر اس حوالے سے دباؤ موجود ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ امریکی مذاکرات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری تعاون کے معاملات میں بھی ابراہام اکارڈز سے متعلق شرائط سامنے آتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دباؤ کا مؤثر جواب یہی ہے کہ مسلم ممالک باہمی اتحاد کو مضبوط کریں اور ایک دوسرے پر اعتماد پیدا کریں، کیونکہ اگر اسلامی ممالک ایک مشترکہ دفاعی اور سیاسی قوت بننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بیرونی دباؤ کا مقابلہ زیادہ مؤثر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
اعجاز الحق نے دفاعی اتحاد کو صرف عسکری میدان تک محدود رکھنے کی بجائے اسے معاشی اور تجارتی تعاون کی بنیاد بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کے ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور تجارت کے فروغ سے ان تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت ان ممالک کی تعمیر و ترقی میں پاکستانی محنت کشوں کا اہم حصہ رہا ہے۔ اگر خلیجی ریاستیں امریکہ کے ساتھ کیے جانے والے بڑے دفاعی معاہدوں کے مقابلے میں اپنے دفاعی وسائل کا ایک محدود حصہ بھی پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ تعاون میں صَرف کریں تو اس کے زیادہ مفید نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ دفاعی تعاون کے ساتھ افرادی قوت، تجارت اور وسائل کے باہمی تبادلے کا نظام قائم کیا جائے تو اس سے دونوں جانب فائدہ ہوگا۔ خلیجی ممالک کو افرادی قوت کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کے پاس انسانی وسائل کی فراوانی ہے، اس لیے یہ تعاون ایک وسیع تر معاشی شراکت داری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اعجاز الحق نے پاکستان کو درپیش ممکنہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری رہتی ہے اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر جوابی کارروائیوں کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو پاکستان ایک نہایت نازک صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان صلح یا کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس لیے پاکستان کو اس پورے معاملے میں انتہائی احتیاط اور دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے اس صورتحال کو ’’ٹائٹ روپ‘‘ یعنی ایک انتہائی باریک اور حساس توازن پر چلنے سے تعبیر کیا۔
معاہدے کے ناقدین کی جانب سے اسے محض کاغذی معاہدہ قرار دیے جانے کے بارے میں اعجاز الحق نے کہا کہ ناقدین ہر اہم پیشرفت پر سوالات اٹھاتے ہیں، تاہم ان کے نزدیک اس معاہدے کی اصل اہمیت اس پیغام میں ہے جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دنیا کو دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تعاون اگر آگے بڑھتا ہے تو او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کے دیگر رکن ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور یوں دفاعی تعاون کے بعد تجارت، افرادی قوت اور دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اعجاز الحق کے نزدیک اس معاہدے کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہوگا کہ آیا یہ صرف ایک دفاعی سمجھوتے تک محدود رہتا ہے؟ یا اس کے نتیجے میں مسلم ممالک کے درمیان ایک وسیع تر تعاون کا ڈھانچہ وجود میں آتا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی:
پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی نے کہا کہ اس معاہدے کی معنویت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ جمعہ کے دن مکہ مکرمہ میں طے پایا؛ چنانچہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے اس معاہدہ کے لیے یہ انتخاب اپنے اندر دفاعی کے ساتھ ساتھ روحانی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کو سمجھنے کے لیے اس کے شرکاء کی دفاعی اور معاشی صلاحیتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے:
- ترکیہ دفاعی پیداوار خصوصاً ڈرون ٹیکنالوجی، میزائلوں، اور جدید عسکری صنعت کے اعتبار سے ایک اہم طاقت بن چکا ہے، اور دنیا کی ایک سو بڑی دفاعی کمپنیوں میں ترکیہ کی پانچ کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ حالیہ جنگوں میں ترک ڈرونز نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
- دوسری طرف پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ مضبوط فوج، میزائل ٹیکنالوجی، اور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے۔
- جبکہ سعودی عرب مالی وسائل، جغرافیائی اہمیت، اور حرمین شریفین کی نسبت سے منفرد مقام رکھتا ہے۔
چنانچہ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک ان تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
ڈاکٹر حماد لکھوی نے اس معاہدے کو خطے کے بدلتے ہوئے حالات بالخصوص ایران، امریکہ، اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا۔ ان کے خیال میں عرب ممالک نے طویل عرصے تک اپنے دفاع کے لیے امریکہ پر انحصار کیا مگر حالیہ حالات نے اس انحصار کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ جب کسی ملک کی سلامتی کسی بیرونی طاقت پر منحصر ہو تو بحران کے وقت اس کی مدد کرنا یا نہ کرنا اسی طاقت کی صوابدید بن جاتا ہے۔ اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ مرحلہ عالمِ اسلام کے لیے خود انحصاری کی طرف بڑھنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔
انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ماضی میں موجود نظریاتی اور سیاسی فاصلے کے کم ہونے کو بھی ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کا بڑھنا، ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں تبدیلی، اور پاکستان کا ایران و سعودی عرب کے درمیان توازن پیدا کرنے میں کردار اس بات کی علامت ہے کہ مسلم ممالک باہمی اختلافات کو کم کر کے مشترکہ مفادات کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بالخصوص سعودی قیادت کی سفارتی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف اور بعض اوقات باہم متضاد عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش قابلِ تحسین ہے۔
ڈاکٹر حماد لکھوی کی گفتگو کا ایک مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو اپنی مادی قوت ضرور حاصل کرنی چاہیے لیکن اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی آیت ’’واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ‘‘ (الانفال ۶۰) کو اسی اصول کی بنیاد قرار دیا کہ مسلمان اپنی دفاعی قوت تیار رکھیں تاکہ دشمن جارحیت سے باز رہے۔ تاہم ان کے نزدیک مادی وسائل اس وقت تک کافی نہیں جب تک ایمانی قوت اور اللہ تعالیٰ پر توکل موجود نہ ہو۔ انہوں نے ’’ان ینصرکم اللہ فلا غالب لکم‘‘ (اٰل عمران ۱۶۰) کے مفہوم کی روشنی میں کہا کہ حقیقی کامیابی اللہ کی مدد سے وابستہ ہے۔
ڈاکٹر حماد لکھوی نے اس معاہدے کے سب سے مثبت پہلو کے طور پر اسے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں مسلم ممالک کے باہمی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث بھی سامنے آئی تھی، لیکن موجودہ صورتحال میں پاکستان کا ایسے دفاعی اتحاد کا حصہ بننا نہایت اہم تبدیلی ہے جو اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط اجتماعی موقف کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس اتحاد کی اصل برکت اس وقت مزید نمایاں ہو گی جب دیگر مسلم ممالک بھی اس میں شامل ہوں اور مظلوم مسلمانوں بالخصوص اہلِ غزہ کے دفاع کو بھی اجتماعی ذمہ داری سمجھا جائے۔
جب ڈاکٹر صاحب کی توجہ ہندوستانی میڈیا کے منفی ردِعمل کی طرف دلائی گئی تو انہوں نے قرآنِ کریم کے ایک اصول کی طرف توجہ دلائی کہ کسی کی خوشی پر تکلیف اور تکلیف پر خوشی کے رویے سے اس کی دوستی یا دشمنی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط دفاعی صلاحیت صرف معلوم دشمنوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ اُن قوتوں کے خلاف بھی ایک ڈیٹرنس پیدا کرتی ہے جن کے عزائم واضح نہیں ہوتے۔ انہوں نے قرآن کریم کے الفاظ ’’ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم‘‘ (الانفال ۶۰) کے حوالے سے کہا کہ مضبوط قوت دشمن کو جارحیت سے روکتی ہے۔
تاہم ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی واضح کیا کہ معاہدے کی اصل آزمائش اس کے بعد شروع ہو گی، کیونکہ محض معاہدہ کر لینا کافی نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ عملی طور پر خود انحصاری کی طرف بڑھیں گے یا مستقبل کے حالات میں بھی بیرونی طاقتوں کی طرف دیکھنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے؟ اگر یہ معاہدہ واقعی مسلم ممالک کو غیر ضروری بیرونی انحصار سے نکال کر اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی طرف لے جاتا ہے تو یہ تاریخ کا ایک انتہائی مبارک موڑ ہوگا، لیکن اگر پرانی انحصاری پالیسیاں برقرار رہیں تو معاہدے کی تاریخی اہمیت محدود ہو جائے گی۔
انہوں نے سعودی عرب کی سفارتکاری کو بھی خصوصی طور پر سراہا۔ ان کے مطابق ایک کامیاب سفارتکار وہ ہے جو مختلف اور حتٰی کہ مخالف فریقوں کے ساتھ بھی معاملات چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے امریکہ، روس، چین، ترکیہ اور ایران سمیت مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو وہ اسی سفارتی بصیرت کی مثال سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر سعودی عرب اور ترکیہ ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں تو مستقبل میں ایران سمیت دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی اسی مشترکہ دفاعی پلیٹ فارم کا حصہ بننے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ یوں موجودہ کشیدگی سے بھی ایک مثبت نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے کہ مسلمان باہمی اختلافات سے نکل کر اجتماعی قوت پیدا کریں۔
عوامی سطح پر اس معاہدے کے فوائد کے سوال پر ڈاکٹر حماد لکھوی نے کہا کہ دفاعی معاہدہ صرف حکمرانوں یا اشرافیہ کا معاملہ نہیں ہوتا۔ جب کسی ملک کی سرحدیں اور دفاع محفوظ ہوتے ہیں تو اس کے اندر رہنے والی پوری قوم اس کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ البتہ اگر دفاعی تعاون کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے تبادلے جیسے شعبوں کو بھی وسعت دی جائے تو اس کے براہِ راست معاشی فوائد بھی عام لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
سعودی عرب کو نرم ہدف سمجھنے کے تصور کو انہوں نے رد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ مزید یہ کہ حجازِ مقدس کی وجہ سے سعودی عرب کا دفاع محض ایک ریاست کا دفاع نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے جذبات سے وابستہ معاملہ ہے۔ جبکہ سعودی قیادت نے مختلف بحرانوں میں تحمل، حکمتِ عملی اور سفارتکاری سے کام لے کر نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمِ اسلام کو بھی کئی بڑے بحرانوں سے بچانے کی کوشش کی ہے۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے کردار کے بارے میں ڈاکٹر حماد لکھوی نے کہا کہ ہر شخصیت میں خوبیاں اور خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن موجودہ بحران میں پاکستان، سعودی عرب، اور ایران کے حوالے سے جو مثبت سفارتی اور دفاعی کردار ادا کیا گیا ہے، اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی قیادت اور سیکیورٹی فورسز کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان کی قیادت اور ادارے ملک سے باہر اپنے وطن کی نمائندگی کرتے ہیں تو دراصل وہ پاکستان کی عزت اور وقار کی نمائندگی کرتے ہیں، اور اس معاہدے سے پاکستانی قوم کی قوت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔
گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر حماد لکھوی نے معاہدۂ مکہ کو مسلمانوں کے اتحاد اور امن کے احساس کے حوالے سے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا۔ کتاب و سنت کی روشنی میں مسلمانوں کا باہم متحد ہونا اور ظلم کے خلاف اجتماعی موقف اختیار کرنا ایک بڑی نعمت ہے۔ انہوں نے امن کو ایک بنیادی نعمت قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ صرف تین ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ دیگر مسلم ممالک بھی اس میں شامل ہوں، یہاں تک کہ ایک ایسا مضبوط مسلم دفاعی اتحاد وجود میں آئے جو مظلوموں کے تحفظ اور دنیا میں ظلم کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب مسلمان صرف ظلم پر افسوس اور آنسو بہانے تک محدود نہ رہیں بلکہ اجتماعی قوت کے ذریعے مظلوموں کے دفاع کے قابل ہو جائیں۔ اسی امید کے ساتھ انہوں نے اس معاہدے کو ایک بڑے تاریخی سفر کی طرف اہم اور مضبوط قدم قرار دیا۔
ڈاکٹر منصور نظام الدین قریشی:
مکہ مکرمہ سے معروف صحافی و تجزیہ نگار ڈاکٹر منصور نظام الدین قریشی نے گفتگو کے دوران عالمِ اسلام، پاکستان اور مسلم اُمہ کے باہمی تعلقات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز سلام اور خیرسگالی کے جذبات سے کیا اور مکہ مکرمہ کی عظمت و حرمت، اسلام اور مسلم اُمہ کے باہمی رشتے کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ مسلمانوں کے درمیان اتفاق و اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو بھی سراہا۔ گفتگو میں سعودی قیادت بالخصوص ولی عہد محمد بن سلمان کا ذکر بھی آیا، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔
ڈاکٹر منصور قریشی نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم ممالک اور مسلم اُمہ کو باہمی اتحاد، اتفاق اور اخوت کو فروغ دینا چاہیے۔ اسلم کی تعلیمات مسلمانوں کو باہمی محبت، یکجہتی اور بھائی چارے کا درس دیتی ہیں، اس لیے مسلم دنیا کو اپنے مشترکہ مفادات اور دینی رشتے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے۔ انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، اور دیگر اسلامی ممالک کو ترقی و استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے۔
مجموعی طور پر ڈاکٹر منصور نظام الدین قریشی کی گفتگو میں اسلامی اخوت اور مسلم اُمہ کے اتحاد کے ساتھ ساتھ پاک ترک سعودی تعلقات اور عالمِ اسلام کی ترقی و استحکام کے لیے نیک خواہشات نمایاں رہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مسلم ممالک اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفاق نصیب ہو اور بالخصوص پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک امن، سلامتی اور خوشحالی سے ہمکنار ہوں۔
ڈاکٹر محمد رفیق:
ڈاکٹر محمد رفیق کے نزدیک اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلم دنیا کے تین اہم اور بااثر ممالک اپنے اپنے امتیازات اور قوتوں کو یکجا کر کے ایک مشترکہ قوت بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیشرفت دشمن قوتوں کے لیے تشویش کا باعث، جبکہ مسلمانوں اور دینِ اسلام کے لیے خوشخبری ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پوری امتِ مسلمہ کو بھی اسی طرح ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
ڈاکٹر محمد رفیق نے کہا کہ بعض اوقات تاریخ میں ایسے حالات و واقعات پیش آتے ہیں جو بظاہر ناپسندیدہ محسوس ہوتے ہیں لیکن بعد میں ان کے نتائج مثبت اور دور رس ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے خیال میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ اور اس سے پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال اگر مسلم ممالک کے باہمی اتحاد کا ذریعہ بن رہی ہے تو یہ ایک مثبت نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پیشرفت کا دائرہ بتدریج وسیع ہوگا اور مزید مسلم ممالک بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کو اس اہم اقدام پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور مسلمانوں کو ’’کالجسد الواحد‘‘ ایک جسم کی مانند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امت کے مختلف ممالک کا باہمی اتفاق ایک بڑی نعمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض معاہدہ کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب اس اتفاق کے عملی ثمرات بھی سامنے آئیں اور یہ اتحاد مستقبل میں مزید مضبوط ہو۔
ڈاکٹر محمد رفیق نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس معاہدے کے بعد بعض حلقوں خصوصاً بھارت میں تشویش اور بے چینی نمایاں ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اس کے باوجود معاہدے کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک مبارک قدم قرار دیا۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ اس اتحاد کو استقامت، وسعت اور عملی کامیابی نصیب ہو اور مسلم ممالک باہمی اختلافات سے بلند ہو کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔
آخر میں انہوں نے ذرائع ابلاغ اور دینی و فکری حلقوں کی اس ذمہ داری کی طرف بھی اشارہ کیا کہ وہ ایسے مواقع پر عوام تک مثبت، اتحاد پر مبنی، اور امید افزا پیغام پہنچائیں، اور یہ دعا کی جائے کہ یہ پیشرفت مستقبل میں پوری امتِ مسلمہ کے باہمی اتحاد اور قوت کا ذریعہ بنے۔





















