وزیرِ داخلہ صاحب نے فرمایا ہے کہ ’’پاکستان کا سسٹم کولیپس کر گیا ہے، تو اب ہمیں ایک نئے سسٹم کی ضرورت ہے۔‘‘
ناکامی پرکھنے کے اصول
مجھے نہیں معلوم کہ یہ بات انہوں نے کس بنیاد پر کہی، لیکن اگر بین الاقوامی سطح پر کسی کو یہ دیکھنا ہو کہ کوئی ریاست ناکام ہے یا نہیں، تو اس کا جو کرائٹیریا بنایا گیا ہے، وہ بارہ اصولوں کو مدِنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ میں وہ بارہ اصول ایک ایک کر کے آپ کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں اور پھر اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جو وزیرِ داخلہ صاحب نے بات کہی، تو اس کا مطلب کیا ہے اور اس سے کس نتیجے پر پہنچنے کی ضرورت ہے؟
پہلا اصول
کسی ملک کے لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کس حد تک مؤثر تھے اور کس حد تک جواب دہ تھے؟ اب اس اصول کا سب سے اچھا جواب وزیرِ داخلہ صاحب خود دے سکتے ہیں۔
دوسرا اصول
کسی ملک کی جو سیاسی، سماجی، مذہبی یا کوئی بھی اور قیادت تھی، تو وہ کتنی زیادہ تقسیم تھی؟ یعنی کسی ملک کے قائدین جو تھے، وہ اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر کتنی ترجیح دیتے تھے؟
تیسرا اصول
کسی ملک میں جتنے بھی گروہ تھے — چاہے وہ ذاتیں تھیں، برادریاں تھیں، یا مذہبی فرقے تھے — تو وہ کیا سمجھتے تھے کہ اس ملک میں ان کے ساتھ انصاف ہو رہا تھا یا ظلم؟
چوتھا اصول
کسی ملک میں معاشی زوال کتنا ہوا؟ اس کا بالکل سیدھا اور آسان سا اصول یہ ہے کہ وہاں کتنی انفلیشن تھی، کتنی مہنگائی تھی اور کتنی بے روزگاری تھی؟
پانچواں اصول
کسی ملک میں کتنی غیر مساوی ترقی ہوئی؟ کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ ایک طرف دس ارب روپے ایک ہی شہر کی ترقی پر لگائے گئے اور دوسری طرف ایک ارب روپیہ دس شہروں کی ترقی پر لگایا گیا؟
چھٹا اصول
کسی ملک میں ہیومن فلائٹ اور برین ڈرین کتنی ہوئی؟ یعنی کتنے انٹیلی جنسیا اور پروفیشنلز اس ملک کو چھوڑ کر بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہوئے؟ اب ہمارے حکمران تو یہ کہتے ہیں نہ کہ ’’جی اچھا ہوا ہے، باہر گئے ہیں، وہاں سے پیسے کما کر بھیجیں گے‘‘، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جتنے پیسے کما کر یہاں بھیجیں گے، اس سے کہیں زیادہ کما کر اُس ملک کو دیں گے۔ وہ ملک بیوقوف تو نہیں ہیں جو اُن کو وہاں پر بلا رہے ہیں۔
ساتواں اصول
کسی ملک کے لوگ کیا سمجھتے تھے کہ ان کی جو حکومت تھی، وہ کتنی قانونی تھی؟ کیا وہ کسی اصول کے مطابق بنی تھی، کیا وہ حق رکھتے تھے حکومت بنانے کا، یا کسی دو نمبر طریقے سے اقتدار انہوں نے لے لیا تھا؟
آٹھواں اصول
کسی ملک کے جو لوگ تھے، ان کے اندر اویئرنس کتنی تھی؟ یعنی ان کے اندر سیاسی شعور کتنا تھا؟ کیا ان کو پتہ تھا کہ انسان کے بنیادی حقوق کیا ہوتے ہیں اور وہ انہیں مل رہے ہیں یا نہیں؟ کیا انہیں پتہ تھا کہ جب کوئی کہتا ہے کہ ناکام ریاست ہو گئی ہے، تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کیا انہیں سوال پوچھنے کی اجازت تھی؟
نواں اصول
کسی ملک کے لوگوں کو بنیادی حقوق کتنے ملے؟
دسواں اصول
آبادی میں اضافے کی وجہ سے کسی ملک کے وسائل اور اس کی سروسز کتنے زیادہ دباؤ کا شکار ہوئیں؟
گیارہواں اصول
پہلے تو ہم نے برین ڈرین کی بات کی کہ ملک کو چھوڑ کر باہر کتنے لوگ گئے؟ اب یہاں پر یہ ہے کہ کسی ملک کے اندر کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے والوں کی تعداد کتنی تھی؟ چاہے وہ ہجرت وار آن ٹیرر کی وجہ سے کی گئی، بے روزگاری کی وجہ سے ہو گئی، یا کسی اور ظلم کی وجہ سے ہوئی۔
بارہواں اصول
لاسٹ بٹ ناٹ دی لیسٹ، کسی ملک کے جو اندرونی معاملات تھے، ان میں جو بیرونی طاقتیں تھیں ان کی انوالومنٹ (دخل اندازی) کتنی زیادہ تھی؟
تو یہ بنیادی طور پر وہ بارہ اصول ہیں۔ اب وہ سیدھی سی بات کہتے ہیں نا کہ ’’ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا‘‘۔ اگر مجھے گاڑی صحیح چلانی نہ آتی ہو تو میں یہ کہوں کہ گاڑی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ خود گاڑی کو صحیح طریقے سے چلانا سیکھوں!
کامیاب بنانے کے اقدامات
اگر ہم گاڑی صحیح طریقے سے چلانا سیکھنا چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سے یہ بارہ انڈیکیٹرز ختم ہو جائیں، اور ہم یہ نہ کہیں کہ ہمارا سسٹم کولیپس کر گیا ہے، تو اس کا آسان سا طریقہ ہے کہ تین کام کرنے کے ہیں:
پہلا اقدام
آپ ملک کے اندر پولیٹیکل اسٹیبلٹی لائیں — سیاسی استحکام — یعنی جو الیکشن ہو وہ بالکل فری، فیئر اور ٹرانسپیرنٹ ہو۔ لوگوں کو اپنا ووٹ دینے کی آزادی ہو، جس کو انہوں نے ووٹ دیا ہو اسی کی حکومت بنے، اور حکومت جتنے عرصے کے لیے بنی ہے اسے وہ عرصہ پورا کرنے کی مکمل طور پر آزادی ہو۔ اگر آپ سیاسی استحکام لائیں گے تو آٹومیٹکلی آپ کے ملک میں معاشی استحکام بھی آ جائے گا، بصورتِ دیگر کسی صورت میں نہیں آ سکے گا۔
دوسرا اقدام
رُول آف لا (قانون کی بالادستی) جو براہِ راست اُن سے متعلق ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ ایک طرف دشمن کے ساتھ بھی ناانصافی نہ ہو اور دوسری طرف یہ کہ دوست کے ساتھ بھی انصاف ہو۔
تیسرا اقدام
میرٹ، یعنی جو جس چیز کا حق رکھتا ہے، اس کو وہی ملے۔
تو سیدھی سی بات میں نے آپ کو بتا دی کہ سیاسی استحکام، جس کے ساتھ لازم و ملزوم ہے معاشی استحکام، قانون کی بالادستی، اور میرٹ کی پاسداری۔ اگر یہ تین کام ہم کریں گے تو یہ جو ہمارا سسٹم ہے، اس سسٹم کے ساتھ بھی ہم ایک کامیاب ریاست بن سکتے ہیں۔ اور اگر یہ تین کام ہم نہیں کریں گے، تو دنیا کا جو مرضی سسٹم ہم لے آئیں، وہ سسٹم کامیاب نہیں ہو سکتا۔





















