۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۳)

ضمیمے

ضمیمہ اول

فہرست اول:

اس فہرست میں حسبِ ذیل مضامین کا اضافہ کیا جائے:

(۱) ’’مملکت کے رہنما اصول کے مطابق تعلیمی پالیسی کا تعین، توافق اور رہنمائی اور علمی و تعلیمی اداروں کا قیام۔‘‘
(۲) ’’رہنما اصول کے مطابق مملکت کی بنیادی آئیڈیالوجی اور نصب العین کا تحفظ۔‘‘

فہرست اول و سوم:

ان دونوں فہرستوں میں نمبر ۳ اپنی موجودہ صورت میں سخت قابلِ اعتراض ہے۔ احتیاطی نظربندی کے اختیارات اب تک جس طریقے سے استعمال کیے جاتے رہے ہیں وہ سیفٹی ایکٹ اور اس قسم کے دوسرے قوانین کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔ اور یہ قوانین نہ صرف شریعت کے خلاف ہیں بلکہ عقلِ عام اور انصاف کے عالمگیر تصورات کے بھی خلاف ہیں۔ حتیٰ کہ خود وہ لوگ جنہیں آج ان اختیارات پر اصرار ہے، اپنی بے اختیاری کے زمانے میں دوسروں پر شدت کے ساتھ یہ اعتراض کرتے تھے کہ وہ ان کے خلاف سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین استعمال کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمارے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ان دونوں فہرستوں کے نمبر ۳ میں ’’احتیاطی نظربندی‘‘ کے بعد حسبِ ذیل عبارت کا اضافہ کیا جائے:

’’بشرطیکہ جس شخص کو اس غرض کے لیے نظربند کیا جائے اسے پندرہ دن کے اندر اندر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اس کو صفائی کا پورا موقعہ دیا جائے۔ اور مدتِ نظربندی کی تعیین کا اختیار عدالت کو حاصل ہو گا۔‘‘

ضمیمہ دوم

اس ضمیمہ میں مسلم نشستوں کے عنوان کے کالم میں پنجاب کے بالمقابل ۸۸ کی جگہ ۸۷ کا عدد درج کیا جائے اور ایک نئے کالم کا اضافہ کیا جائے جس کا عنوان ’’قادیانیوں کے لیے مخصوص نشستیں‘‘ ہو۔ اس کالم میں پنجاب کے بالمقابل ایک کا عدد درج کیا جائے۔

نیز ضمیمہ دوم کی تشریحات میں حسبِ ذیل پانچویں دفعہ کا اضافہ کیا جائے:

’’پنجاب میں قادیانیوں کی ایک نشست پُر کرنے کے لیے پاکستان کے دیگر علاقوں کے قادیانی بھی ووٹ دینے اور مذکورہ نشست پر رکن منتخب ہو سکنے کے مستحق ہوں گے۔‘‘

قادیانی کی تشریح یوں کی جائے:

’’قادیانی سے مراد وہ شخص ہو گا جو مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مذہبی پیشوا مانتا ہو۔‘‘

یہ ایک انتہائی ضروری ترمیم ہے جسے ہم پورے اصرار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ملک کے دستور سازوں کے لیے یہ بات کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور مخصوص اجتماعی مسائل سے بے پرواہ ہو کر محض اپنے ذاتی نظریات کی بنا پر دستور بنائے۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے جن علاقوں میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے ساتھ ملی جلی ہے وہاں اس قادیانی مسئلہ نے کس قدر نازک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ان کو پچھلے دور کے بیرونی حکمرانوں کی طرح نہ ہونا چاہیے جنہوں نے ہندو مسلم مسئلہ کی نزاکت کو اس وقت تک محسوس کر کے ہی نہ دیا جب تک متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات سے خون آلود نہ ہو گیا۔

جو دستور ساز حضرات خود اس ملک کے رہنے والے ہیں ان کی یہ غلطی بڑی افسوسناک ہو گی کہ وہ جب [تک] پاکستان میں قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے نہ دیکھ لیں اس وقت تک انہیں اس بات کا یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ بھی موجود ہے جسے حل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

اس مسئلہ کو جس چیز نے نزاکت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے وہ یہ ہے کہ قادیانی ایک طرف مسلمان بن کر مسلمانوں میں گھستے بھی ہیں اور دوسری طرف عقائد و عبادات اور اجتماعی شیرازہ بندی میں مسلمانوں سے نہ صرف الگ بلکہ ان کے خلاف صف آراء بھی ہیں اور مذہبی طور پر تمام مسلمانوں کو علانیہ کافر قرار دیتے ہیں۔ اس خرابی کا علاج آج بھی یہی ہے اور پہلے بھی یہی تھا (جیسا کہ علامہ اقبال مرحوم نے اب سے بیس برس پہلے فرمایا تھا) کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے دیا جائے۔

علاوہ بریں بنیادی حقوق کی جو رپورٹ ۱۹۵۰ء میں پیش کی گئی تھی اور بسرعت منظور بھی کر لی گئی تھی اس کے پیراگراف ۳ کا یہ حصہ بھی حذف ہونا چاہیے:

’’ماسوا اس صورت کے جب کہ ریاست کی سلامتی کو کوئی بیرونی یا اندرونی خطرہ لاحق ہو یا کوئی نازک ہنگامی حالت رونما ہو جائے۔‘‘

مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ استثنائی فقرہ ہیبئس کارپس (Habeas Corpus) کے حق کو بعض صورتوں میں معطل کر دیتا ہے، در آں حالیکہ اسلامی شریعت کسی حالت میں بھی اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ کسی مسلم یا ذمی شہری کو ملک کی سب سے اونچی عدالتِ انصاف کے پاس حبسِ بے جا کے خلاف دادرسی کے لیے جانے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔

اسمائے گرامی حضرات شرکائے مجلس

(۱) حضرت العلامہ مولانا سید سلیمان ندوی — صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و صدر تعلیماتِ اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان

(۲) حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب — نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور

(۳) حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد صاحب — صدر مرکزی جمعیۃ علماء پاکستان

(۴) حضرت مولانا داؤد غزنوی — صدر جمعیت اہلِ حدیث مغربی پاکستان

(۵) حضرت مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی — نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام

(۶) حضرت مولانا احمد علی صاحب — امیر انجمن خدام الدین لاہور

(۷) حضرت مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی — امیر جماعت اسلامی پاکستان

(۸) حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب — نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان و سرپرست دارالعلوم کراچی ۱

(۹) حضرت مولانا شمس الحق صاحب افغانی — وزیر معارف ریاست قلات

(۱۰) حضرت مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی — صدر جمعیۃ علماء پاکستان سندھ

(۱۱) حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی — شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور

(۱۲) حضرت مولانا خیر محمد صاحب — مہتمم مدرسہ خیر المدارس ملتان

(۱۳) حضرت مولانا حاجی محمد امین صاحب — خلیفہ حاجی ترنگ زئی پشاور (سرحد)

(۱۴) حضرت مولانا اطہر علی صاحب — صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان

(۱۵) حضرت مولانا ابو جعفر محمد صالح صاحب — پیر سیرسینہ شریف و نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و امیر جمعیت حزب اللہ مشرقی پاکستان۔

(۱۶) حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب — ناظم جمعیۃ اہلِ حدیث پاکستان

(۱۷) حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب — جامعہ دینیہ دارالہدیٰ ٹھیٹھری خیر پور میرس سندھ

(۱۸) حضرت مولانا محمد صادق صاحب — مہتمم مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی

(۱۹) حضرت مولانا شمس الحق صاحب فرید پوری — پرنسپل جامعہ قرآنیہ ڈھاکہ

(۲۰) حضرت مولانا مفتی محمد صاحبداد صاحب — کراچی

(۲۱) حضرت مولانا پیر محمد ہاشم جان صاحب مجددی سرہندی — ٹنڈو سائن داد حیدر آباد

(۲۲) حضرت مولانا راغب احسن صاحب ایم اے — نائب صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان

(۲۳) حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب — نائب صدر جمعیۃ المدرسین سرسینہ شریف مشرقی پاکستان

(۲۴) حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی — نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و صدر جمعیت اہلِ حدیث پاکستان

(۲۵) حضرت مولانا حافظ کفایت حسین صاحب مجتہد — ادارہ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان

(۲۶) حضرت مولانا مفتی جعفر حسین صاحب مجتہد — رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان

(۲۷) حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری — شیخ التفسیر دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار سندھ

(۲۸) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری — صدر مجلس احرار اسلام پاکستان

(۲۹) حضرت مولانا امین الحسنات صاحب — پیر مانکی شریف، نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام

(۳۰) جناب قاضی عبد الصمد صاحب سربازی — قاضی قلات بلوچستان

(۳۱) جناب مولانا احتشام الحق صاحب — مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار و خطیب جامعہ مسجد جیکب لائن کراچی

(۳۲) جناب مولانا ظفر احمد صاحب انصاری — سیکرٹری تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان

(۳۳) جناب مولانا دین محمد صاحب — نائب صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان

(نوٹ): اس اجتماع میں حضرت مولانا حماد اللہ صاحب بوجہ علالت، حضرت مولانا بدر عالم صاحب بوجہہ ہجرت مدینہ منورہ، اور پروفیسر مولانا عبد الخالق صاحب رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان بعض نجی مصروفیات کے باعث شرکت نہ فرما سکے۔




ضمیمہ: ’’قرآن پاک اور سنت کے خلاف قانون سازی کا سدباب‘‘

ہمارے نزدیک دفعہ نمبر ۴ کے الفاظ حسبِ ذیل ہوں:

’’ایسی صورت میں جب کہ مجلس مقننہ میں کتاب و سنت کی تعبیر و تعریف پر اعتراض ہو تو ضروری ہوگا کہ یہ سوال ماہرینِ قوانینِ اسلامی (علماء پاکستان) کے بورڈ کے پاس بھیجا جائے۔ یہ بورڈ اپنا جو فیصلہ صادر کرے مجلس مقننہ اس کی پابند ہو گی۔‘‘

اسی طرح دفعہ نمبر ۵ کی شق (۱) میں تشکیلِ بورڈ کے متعلق ہماری ترمیم یہ ہے:

’’حکومتِ پاکستان علماء کی ان مذہبی جماعتوں سے — جو مرکزی اور صوبہ جاتی حیثیت سے قیامِ پاکستان کے بعد سے کام کر رہی ہیں اور جن کا نظام اس وقت تک باقاعدہ قائم ہے — ان سے علماء پاکستان کے نام طلب کرے اور امیر مملکت ان کا اعلان کر دے۔ ماہرینِ قوانینِ اسلامی سے مراد علماء دین ہی ہوں تو انہیں ایسا باوقار و با اختیار ہونا چاہیے کہ ان کا فیصلہ ناطق ہو۔ ہمیں علماء کے اجتماع کی اس تجویز سے کہ — کتاب و سنت کی تعبیر کا فیصلہ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ساتھ علماء منسلک ہوں — بحالتِ موجودہ اختلاف ہے۔ اس لیے علماء کا محض کتاب و سنت کی تعبیر و معانی بتانے کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں کے ساتھ منسلک ہونا بے کار و بے معنی ہے۔ البتہ مسلمانوں کے اہم مسائلِ دینی کے تصفیہ کے لیے اگر علماء بحیثیت جج یعنی ’’قاضی‘‘ مقرر کیے جائیں (جن کی ضرورت نزاکتِ حالات کے باعث لازمی ہے) تو موزوں ہو سکتا ہے۔‘‘

مولانا ابوالحسنات قادری

مولانا محمد عبد الحامد القادری البدایونی

مفتی محمد صاحب داد

https://iili.io/CzlUADG.jpg

(مکمل)

دستور و قانون

اقساط

(الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۹

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۵)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

ابولہب کے لیے تخفیفِ عذاب کی روایت : تنقیدی جائزہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۲)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۴)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۵)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۹)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۷)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

ہبہ، وصیت اور میراث کے شرعی احکام و ضوابط
مولانا مفتی عبد الرحمٰن منیر

غیر مسلموں کو سلام کہنے کا شرعی و فقہی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

افواجِ پاکستان کا ترانہ
سید امین گیلانیؒ

6 ستمبر 1965ء  —    وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اسلام اور شخصی آزادی (۱)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

ریاست کی ناکامی پرکھنے کے اصول اور کامیاب بنانے کے اقدامات
اسرار ایوب

پاکستان اور افغانستان کا ایک مستقبل
مولانا فضل الرحمٰن

سیمینار: امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات
تنظیمِ اسلامی

سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ
الاحسان ٹی وی

کتبۂ مرقدِ محمودؒ کے مندرجات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازی اور شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

Protection of Muslim Family Laws
Mufti Taqi Usmani

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۳)
حافظ مجددی

The Qadiani Question in State Appointments
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات