نگار خانہ دل میں آویزاں ایک تصویر
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کا علمی مرتبہ اور مقام کچھ اس سطح کا ہے کہ محض ایک ادارے کے حوالے سے ان کا تعارف نہ صرف ان کی شان سے کہیں فروتر ہے بلکہ صرف اس ایک انفرادی حوالے کی نسبت سے ان کا کچھ زیادہ تعارف کرانا ممکن بھی نہیں ہو گا۔ لیکن زیر نظر سطور میں قارئین کو افادیت کا عنصر دو وجوہ سے یقیناً مل سکتا ہے: اولاً یہ کہ ہر احسن تقویم کی طرح ڈاکٹر صاحب کی حیات مستعار بھی رنگوں کی وہ دھنک تھی جس کا ہر رنگ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے رنگ کا بیان مل کر ہی ان کی کتابِ زندگی پر مفصل روشنی ڈال سکتا ہے۔ دھنک کے رنگوں میں سے کوئی رنگ چھوٹ دیا جائے تو رنگوں کی ترتیب و تنظیم متاثر ہو جاتی ہے۔ ثانیاً یہ کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کی زندگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی اہلِ علم اپنے اپنے انداز میں روشنی ڈال رہے ہیں جس کے باعث امیدِ واثق ہے کہ اگر ان کی زندگی کے سارے نہیں تو زیادہ سے زیادہ گوشوں کو محفوظ کر لیا جائے گا۔ نقد و جرح تاریخ کا حصہ بنے گی اور یوں آپ رحمہ اللہ کی زندگی پر کام کرنے والوں کو مستقبل میں سہولت حاصل رہے گی۔
ممکن ہے، راقم کی طرف سے شریعہ اکیڈمی کا یہ تعارف بعد میں آنے والوں کے لیے قدرے موثر شہادت ثابت ہو کیونکہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی تاسیس ہی سے راقم اس سے کسی نہ کسی حیثیت سے وابستہ رہا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ راقم شریعہ اکیڈمی کے تحقیقی اور تدریسی عملے کا سب سے پرانا رکن تھا۔ اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جن لوگوں نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کام کیا، ان میں سے راقم کا عرصہ رفاقت بڑے فرق کے ساتھ طویل ترین ہے۔ اس لیے جو معلومات راقم کے پاس ہیں، خوشگوار دعوے کے ساتھ انہیں قارئین کے سامنے پیش کرنے کا اعزاز راقم ہی کو حاصل ہے۔ لیکن نفسِ مضمون پر گفتگو سے قبل دو تمہیدی گزارشات پیش کرنا بڑا ضروری ہے۔
تقسیم سے قبل کے متحدہ ہندوستان کے ایک برطانوی افسر ای ایم فاسٹر نے اپنی ایک کتاب میں ہندوستانی لوگوں کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہاں کے لوگوں کے نزدیک سب انسان فرشتے ہیں یا شیطان۔ کوئی درمیانی شکل ان لوگوں کی لغت میں نہیں ہے۔ اسی بات کو تاریخِ اسلام کے تناظر میں لیا جائے تو تراجم میں ہم بے حد غلو کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ یہ غلو عام رجال کے تذکروں تک محدود نہیں بلکہ اس کی حدیں رسول اللہ کی ذات تک جا ملتی ہیں جن کی سیرت کے باب میں لوگ اتنا آگے چلے گئے کہ موضوع احادیث تراشنے سے بھی باز نہیں آئے۔ دیگر اکابر کا حال تو اس سے بھی اگلی منزل پر پڑاؤ ڈالتا نظر آتا ہے۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ساتھ راقم کی عقیدت اگر جنون کی حد تک نہیں تو وارفتگی کی حدود میں ضرور داخل ہے اور یہ حقیقت میرے معاصرین سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس لیے راقم یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی خاکہ نگاری کرتے ہوئے وہ نہ تو ای ایم فاسٹر کا ہندوستانی تسلسل کہلانا چاہتا ہے اور نہ توازن کا دامن چھوڑ کر اس عقیدت کا اظہار کرنا چاہتا ہے کہ موضوع احادیث تراشتا چلا جائے۔
لہٰذا قارئین یہ سطور پڑھتے وقت یہ ذہن میں رکھیں کہ جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ پوری صحت کے ساتھ ہے اور اگر بظاہر کہیں اعتدال نہ نظر آئے تو اسے عقیدت پر محمول نہ کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ موصوف کی شخصیت اس قدر ناقابلِ حصول رفعتوں پر ہے کہ ان کے مثل راقم کو سردست کوئی اور شخص دیکھنے کو نہیں ملا۔ پس قارئین کو اگر کہیں اعتدال سے ماوراء عبارت پڑھنے کو ملے تو اس کی وجہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا اعجاز ہو گا، اسے راقم کی بے اعتدالی نہ سمجھا جائے۔
اس سلسلے کی دوسری قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس مضمون کی حیثیت تاریخی نوعیت کی ہے۔ اسے تحقیق میں استعمال تو کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بجائے خود کوئی تحقیق نہیں، شہادت ہے۔ یوں یہ بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ضرورت کے حسبِ حال صیغہ واحد متکلم استعمال کر لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ قارئین ازخود ملاحظہ کر سکیں گے کہ اس عمل میں اپنی شخصیت کا اظہار نہیں ہو گا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تاثراتی کوششوں میں اگر یہ صیغہ بے دریغ استعمال نہ کیا جائے تو بقدرِ اشکِ بلبل اس کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف ہی کی شخصیت کو اجاگر کیا جائے۔ اس کوشش میں اگر راقم کی شخصیت غیر شعوری طور پر کسی قدر نمایاں ہو گئی ہو تو قارئین یہ ذہن میں رکھیں کہ لوہے کو سنگِ پارس سے مس کر کے سونا بنانے کا خواب تاریخ میں ہر شخص نے دیکھا ہے۔ راقم کوئی فوق البشر مخلوق نہیں ہے کہ وہ سونا بننے کی خواہش نہ کرے بالخصوص کہ جب سنگِ پارس دل کے آئینے میں آویزاں ہو۔
مجھے یہ اجازت اور سہولت حاصل رہی کہ رات کو دو بجے بھی چاہوں تو انہیں فون کر کے، اک ذرا گردن جھکا کر نہاں خانہ دل میں جھانک کر صحبتِ لطف و کرم سے محظوظ ہو سکتا تھا۔ اس اختیار کو میں نے سارے عرصہ رفاقت میں صرف ایک دفعہ استعمال کیا۔ یہ نکتہ بالوضاحت سمجھنے کے لیے ایک واقعہ کافی ہو گا۔
۲۰۰۹ء کے گرما میں آپ قطر سے پاکستان تشریف لائے۔ عین انہی دنوں کراچی سے میرے ایک وکیل دوست ملنے آئے جنہیں اہلِ علم سے ملنے کا ہمیشہ سے اشتیاق رہا۔ اس ملاقات میں انہوں نے فرمائش کی کہ ڈاکٹر غازی صاحب سے ملواؤ۔ فرمائش سنتے ہی میں نے گاڑی کا رخ ڈاکٹر صاحب کے گھر کی طرف کر دیا۔ تپاک سے ملے اور صرف اتنا کہا: "بھئی معاف کیجیے، آنے سے پہلے فون کر لیتے تو آپ ہی کو سہولت ہوتی، مثلاً میں گھر پر نہ ہوتا تو آپ کو زحمت اٹھانا پڑتی"۔ میں نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر جو جواب دیا، وہ یوں تھا: "ڈاکٹر صاحب! آپ سے میرا عرصہ رفاقت تین عشروں پر پھیلا ہوا ہے۔ آپ اس سے انکار نہیں کریں گے کہ آپ کے اہل خانہ کے بعد اگر کوئی شخص آپ کا مزاج شناس ہے تو وہ شام صاحب ہے۔ لہٰذا ان دو حقائق کے پیش نظر آپ یہ بات مجھ پر چھوڑ دیں کہ میں آپ کو فون کر کے آؤں یا اس کے بغیر! آپ نہ ملتے تو ہم واپس چلے جاتے"۔ مسکرا کر چپ ہو گئے۔
یہ خالی خولی الفاظ میرے دل کی کیفیت آپ تک نہیں پہنچا سکیں گے۔ ان الفاظ کے اندر تیس سالہ رفاقت کا طنطنہ، لگاوٹ، اپنائیت، احساسِ ملکیت (Possiveness) اور سپردگی (Submission) یہ سب کچھ موجود تھا۔ ان میٹر بینڈ کی نشریات صرف اسی ایک لا سلکی آلے کو موصول ہوتی ہیں جس کے لیے نشر کی گئی ہوں۔ دیگر سامعین اس لذت آشنائی سے محروم رہتے ہیں۔
تمہید
قیامِ پاکستان کے وقت ملک کا قانونی ڈھانچہ مطلقاً برطانوی نظامِ قانون پر استوار تھا۔ یہ درست ہے کہ مسلمانوں کے احوالِ شخصیہ اسی انگریزی قانون کے سائے تلے ایک حد تک محفوظ تھے تاہم نظامِ قانون اور قانون کی تعلیم لادینی بنیادوں پر قائم تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد دینی حلقے اس امر کی طرف توجہ دلاتے رہے لیکن دیگر اہم ریاستی ترجیحات کے باوصف اس طرف توجہ نہ دی جا سکی۔ برصغیر میں انتقالِ اقتدار پُرامن قانونی طریقے پر ہوا تھا۔ اس لیے لا دینی نظام کو کسی انقلابی انداز میں بدلنا ممکن نہ تھا، لہٰذا اس کام کے لیے بہترین اصلاحی انداز اختیار کیا گیا۔ دیگر طریقے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ شریعہ اکیڈمی بھی اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی۔
شریعہ اکیڈمی ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پیش نظر انگریزی قانون کے ہر شعبے کو اس طرح متاثر کرنا ہے کہ اس سے نہ تو افراتفری کا تاثر ملے اور نہ کسی انقلابی تبدیلی کے نام پر لادین حلقوں کو چوکنا کیا جائے۔ اب تک شریعہ اکیڈمی نے اپنے محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ملکی نظام قانون کے ہر شعبے کو بڑی حکمت کے ساتھ اس طرح سہولیات بہم پہنچائی ہیں کہ اسلامی قانون لوگوں کی زندگی میں سرایت کرتا نظر آتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس حکمت کے پیچھے ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کی فکر کام کرتی ہے۔
انگریزی نظامِ قانون کے رجال کار (Personnel) کی ذہنی ساخت میں تبدیلی لانے کے حوالے سے کام دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
موجودہ عدالتی منصفین اور ان کے معاونین کی تربیت اور وکلاء کی تربیت۔ یہ وہ دو زمرے ہیں جن کی مناسب انداز میں تربیت سے پورا معاشرہ عدل و انصاف نعمتوں سے بہرہ مند ہو سکتا ہے۔ اسلامی نظامِ قانون کی ایک ندرت یہ بھی ہے کہ اس کا بڑا حصہ لوگ اپنی زندگی میں بغیر کسی تقنین (Codification) کے اپنے اوپر خود نافذ کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ دینی رہنماؤں سے رجوع کرتے ہیں جو بدقسمتی سے معاصر تقنین سے واقف نہیں ہوتے۔ مفتیان کرام کی تربیت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سلسلے میں شریعہ اکیڈمی نے ڈاکٹر صاحب موصوف کی نگرانی میں جو کچھ کیا وہ آپ آئیندہ سطور میں پڑھیں گے۔
قانونی نظام کے رجال کار نظامِ تعلیم کی پیداوار ہوا کرتے ہیں۔ نظامِ تعلیم جن فکری بنیادی پر قائم ہوتا ہے اس کے لیے ہر عہد میں وہ نت نئے تحریری وسائل پر انحصار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے مختصر عرصہ حیات میں اکیڈمی اتنی مطبوعات شائع کر چکی ہے کہ ملک کا کوئی دوسرا سرکاری ادارہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ان مطبوعات میں تراث کے تراجم سے لے کر جدید قانونی موضوعات تک کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اکیڈمی کی بیشتر کتب قانون کی تعلیم دینے والے اداروں کی ہر سطح کی نہ صرف ضرورت پوری کرتی ہیں بلکہ وہ بتدریج ان کتب کی جگہ بھی لے رہی ہیں جو تقسیم سے قبل تحریر کی گئی تھیں۔
تر بیت کا کام لوگوں کو کیمپس میں بلا کر ہو سکتا ہے، یا لوگوں کی دہلیز پر انہیں ان کی ضرورت کے حسبِ حال تربیت دی جا سکتی ہے۔ اکیڈمی کی کتابیں نظامِ تعلیم کو بہتر بنا رہی ہیں اور بتدریج ایک نئے نظامِ تعلیم کی داغ بیل ڈال رہی ہیں۔ پھر بھی اکیڈمی کو اطمینان نہیں ہے۔ ایک موقع پر سوچا گیا کہ قانون سے متعلق ہزاروں لاکھوں لوگ نہ تو اکیڈمی میں آ کر کچھ سیکھ سکتے ہیں، نہ اکیڈمی ان کے پاس جا سکتی ہے۔ ادھر یہ لوگ کسی نہ کسی انداز میں معاشرے کا وہ قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں لوگوں کے امور ہوا کرتے ہیں۔ ایسے افراد جو تعلیمی اداروں میں پڑھنے کی عمر سے ماوراء ہو چکے ہوں، اکیڈمی میں آ کر مختصر المیعاد کورسوں میں شریک ہونے سے قاصر ہوں، اپنے شہروں میں وسائل ہونے کے باوجود وہ وقت نہ نکال سکتے ہوں، ایسے افراد میں اسلامی قانون عام کرنے کے لیے اکیڈمی نے مختصر حجم کے چھوٹے چھوٹے کتابچے شائع کر رکھے ہیں جنہیں وہ رات کو ایک نشست میں پڑھ کر کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ انہی کتابچوں کی مدد سے اکیڈمی نے مراسلاتی کورس شروع کر رکھے ہیں۔
اپنی رنگا رنگ مصروفیات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر غازی صاحب نے شریعہ اکیڈمی کو جس طرح اپنا خونِ جگر دیا، اس کا ثمرہ تین شکلوں میں ہمارے سامنے ہے۔ آئیندہ سطور میں آپ اکیڈمی کی ان کوششوں کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے جو درج ذیل شعبوں میں منقسم ہیں: شعبہ تربیت؛ شعبہ مراسلاتی کورس؛ اور شعبہ مطبوعات۔
شریعہ اکیڈمی کی تاسیس
بین الاقوامی یونیورسٹی ۱۹۸۰ء میں قائم ہوئی تو اس وقت اس کے سامنے بنیادی مقصد اسلامی قانون سے متعلق ماہرین تیار کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹی میں تدریس کے لیے شریعہ فیکلٹی قائم ہوئی۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال سامنے آیا کہ شریعت سے نابلد موجودہ عدالتی افسران اور ان کے متعلقین کی علمی سطح کیسے بلند کی جائے۔ اس کا جواب اسی اسلامی یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف ٹریننگ اِن شریعہ اینڈ لیگل پروفیشن قائم کرنے کی صورت میں آیا۔ یہ ادارہ ۱۹۸۱ء میں قائم ہوا اور آگے چل کر یہی ادارہ شریعہ اکیڈمی کہلایا۔ لیکن ۱۹۸۱ء میں جب ادارہ قائم ہوا تو اس کا مقصدِ وحید عدالتی افسران، ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے افسران، پولیس کے شعبہ پراسیکیوشن کے افسران، ڈی ایس پی لیگل اور مسلح افواج کے تینوں شعبوں کی جج ایڈوکیٹ جنرل برانچ کے افسران کو سولہ ہفتوں پر محیط اسلامی قانون کا کورس کرانا تھا۔
مارچ ۱۹۸۵ء میں اسلامی یونیورسٹی کا درجہ بلند کر کے اسے بین الاقوامی کر دیا گیا۔ اس وقت یونیورسٹی میں تدریسی شعبوں کے ساتھ کچھ اضافے ہوئے۔ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی ۱۹۸۱ء میں یونیورسٹی کے قیام سے قبل، وزارتِ مذہبی امور کا ایک ماتحت ادارہ تھا جسے اسلامی یونیورسٹی کے ساتھ ملحق کر دیا گیا۔ دعوہ اکیڈمی کے نام سے ایک نیا ادارہ ۱۹۸۵ء میں یونیورسٹی کے اندر قائم ہوا جس کا ابتدائی نام اکیڈمی فار دعوۃ اینڈ ٹریننگ آف امام تھا۔ ۱۹۸۷ء میں اسے دعوۃ اکیڈمی سے بدل دیا گیا۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس کا الحاق بھی یونیورسٹی کے ساتھ رہا اور ۱۹۸۱ء میں قائم انسٹیٹیوٹ آف ٹریننگ اِن شریعہ اینڈ لیگل پروفیشن کی قلب ماہیت شریعہ اکیڈمی کی صورت میں ہوئی۔ ۱۹۸۷ء میں ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے دعوہ اکیڈمی کی سربراہی قبول کی۔ اس وقت شریعہ اکیڈمی میں پورے سال میں عدالتی افسران کے لیے وہی سولہ ہفتوں کا ایک کورس ہوا کرتا تھا۔ راقم اس عرصے میں دعوہ اکیڈمی میں لیکچرار کی حیثیت میں کام کر رہا تھا۔
دعوہ اکیڈمی میں راقم نے اپنی تقرری کے ساتھ ہی علومِ اسلامیہ کی اشاعت خط و کتابت کورس کے ذریعے کرنے کی طرف توجہ کی۔ شاہ فیصل مسجد کے خطباتِ جمعہ کی بنیاد پر مراسلاتی کورس کو آپ کی راہنمائی اور تعاون سے میں نے یہ سلسلہ چار مزید کورسوں تک پھیلا دیا جو اَب تک جاری ہے۔ مجھے شدت سے احساس تھا کہ متعدد قانونی زاویوں سے اسلام کا تعارف قانونی حلقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ نظری باتیں تو بہت کر لیتے ہیں لیکن اسلامی قانون کی فنی باریکیوں کا علم بہت کم ہوتا ہے۔ اس سوچ کے باعث میں نے وکلا کے ایک مراسلاتی کورس کی زبانی تجویز پیش کی جسے انہوں نے بلا تامل منظور کر کے ہدایت کی کہ اس کا تفصیلی خاکہ تیار کر کے متعلقہ ادارے کے سامنے رکھا جائے۔ یہ خاکہ تیار ہوا، اس کی منظوری اسی طرح ہو گئی جیسے راقم نے خاکہ تجویز کیا تھا۔ اس کے بعد یہ مراسلاتی کورس لکھنے کا عمل شروع ہوا۔ یہ سارا مواد میں نے لکھنا تھا۔
شریعہ اکیڈمی کا نیا جنم
راقم کو یہ کہنے لکھنے میں ذرا تامل یا ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ اپنے قیام سن ۱۹۸۱ء سے ۲۸ جنوری ۱۹۹۲ء کو جناب ڈاکٹر غازی صاحب کے شریعہ اکیڈمی کا سربراہ بننے تک اس اکیڈمی کا مطلب ہر کسی کے نزدیک ایک ہی تھا: ججوں کی تربیت والا کورس۔ اکیڈمی میں اپنا منصب سنبھالتے ہی موصوف نے مجھے "مشورے" کے لیے بلایا۔ قارئین مشورے کو واوین میں دیکھ کر یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ شاید کوئی چبھتا ہوا حکم ہوا ہوگا۔ ایسے نہیں ہے۔ ان کے دیگر رفقا بھی شہادت دیں گے کہ موصوف حکم دینے کے عادی نہیں تھے۔ انداز البتہ یکسر الگ ہوا کرتا تھا۔ کوئی بات کہنا ہوتی تو اس کی عبارت یوں ہوتی "ذرا کبھی وقت نکال کر آج کل میں تشریف لائیے، کچھ مشورہ کرنا ہے۔ کوئی جلدی تو نہیں ہے بس اپنی سہولت کے مطابق ایک فون ضرور کر لیجیے تاکہ آپ کو زحمت نہ ہو"۔ ملاقات ہونے پر انہیں جو کہنا ہوتا، اتنے دلنشین انداز میں کہتے کہ سامع نے اختلاف کرنا ہوتا تو بھی متامل رہتا۔
اس زمانے میں غیر ملکی طلباء بڑی کثرت سے یونیورسٹی میں داخلہ لیا کرتے تھے۔ بعض طلباء کے مطلوبہ تدریسی سالوں میں سے ایک یا دو سال کم ہوتے تھے۔ ایسے تمام غیر ملکی طلبا کو یونیورسٹی واپس نہیں بھیجتی تھی بلکہ دعوہ اکیڈمی کے زیر انتظام ایک دعوہ اسٹڈیز سنٹر ہوا کرتا تھا جہاں یہ تمام طلبا ایک یا دو سال میں مطلوبہ کمی پوری کر کے یونیورسٹی میں داخلے کے اہل ہو جاتے تھے۔ راقم اس سینٹر کا پرنسپل تھا۔ مشورے کے لیے پیش ہوا تو آپ نے پہلے تو میرے "کارہاے نمایاں" کی ہلکی سی توصیف فرمائی۔ پھر فرمایا، دیکھیں آپ نے وکلا کے لیے ایک مراسلاتی کورس کا خاکہ تیار کیا تھا، آپ کی موجودہ ذمہ داری کے ساتھ اسے روبہ عمل لانا ممکن نظر نہیں آتا۔ پھر یہ کہ وکلا کے لیے ہونے کے باعث اس کورس کا اجرا شریعہ اکیڈمی سے زیادہ مفید ہے۔ لہٰذا اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ شریعہ اکیڈمی میں بیٹھا کر کریں اور وہیں بیٹھ کر اس کورس کا مواد لکھیں۔
شریعہ اکیڈمی کے تحقیقی و تدریسی عملے میں راقم اور مراسلاتی کورس برائے وکلا پہلا اضافہ تھا۔
اڑیل گھوڑا اور "چابک دست" سوار
شریعہ اکیڈمی میں منعقدہ پہلا اجلاس راقم کو کل کی بات کی طرح خوب یاد ہے۔ اکیڈمی میں، جیسا کہ پہلے عرض کیا، سولہ ہفتے کا صرف ایک کورس ہوا کرتا تھا۔ باقی سارا سال ملازمین کا ایک پورا غول اس کورس کی "تیاری" میں لگا رہتا تھا۔ اس پہلے اجلاس میں آپ کی پہلی "تجویز" یہ تھی کہ ججوں والا کورس سال میں ایک کی بجائے دو دفعہ ہوا کرے۔ دوسری تجویز قانون دانوں کے لیے مراسلاتی کورس شروع کرنے کے بارے میں تھی۔ تیسری تجویز کتابوں کی باقاعدہ اشاعت کے متعلق تھی۔ ادھر انتظامی عملے کے فہم ہی سے بالا تھا کہ اس "انتہائی اہم کورس" کے ہوتے ہوئے وکلا کے مراسلاتی کورس کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ اور اکیڈمی کے "علمی" امور سے یہ کتابوں کی اشاعت کا کیا تعلق ہے؟ لیکن مجال ہے کہ آنجناب کے ماتھے پر کوئی شکن نظر آئی ہو۔ تمام مزاحمت کو بڑے دل نشیں پیرائے میں لیا، کوئی حکم صادر نہیں کیا، بڑے فرق کے ساتھ اپنے سے نچلے منصب کے کوتاہ فکر افسران کو قائل کر کے آئیندہ کا لائحہ عمل سب کے ذہن میں جاگزیں کرایا۔
اگر ان سطور کا مقصد محض ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کی ستائش ہوتا تو اللہ معاف کرے یہ کوئی علمی مشق نہیں، تملق ہے۔ بے مقصد کام سے اللہ ہم سب کو بچائے۔ اس طرح کے کام کسی محبوس ریا کے لیے اپنے ممدوح کی زندگی میں تو سود مند ہو سکتے ہیں، وفات کے بعد حقِ نمک ادا کرنا خاصہ دشوار کام ہوتا ہے۔ راقم اس کوچے میں اجنبی ہے۔ تو پھر سطورِ گزشتہ کی علت غائی؟ محض لکھنے کی حد تک تو یہ سطور کچھ عقیدت کے جنون میں لکھی گئی ہیں کہ یہی ان کا محرکِ اول تھا۔ لیکن قارئین محسوس کریں گے کہ اس تحریر میں ان کی قوتِ شامعہ کو تشویق کی مہک بھی محسوس ہو گی۔ نیکی اور نیکوکار کا تذکرہ شجرِ طیبہ کی آب یاری نہیں تو کیا ہے۔ کیوں برائی کے تذکرے تک سے منع کر دیا گیا ہے؟
ڈاکٹر غازی صاحب کے ان محاسن کے بیان کا ایک بڑا مقصد یہ بھی پیش نظر رہا کہ شاید کسی ایک دل میں یہ شوق پیدا ہو کہ وہ بھی وہی نیک نامی کمائے جو ڈاکٹر غازی کا اثاثہ تھی۔ اگر یہ بات ہے تو پڑھنے والے سوچ رہے ہوں گے کہ ذرا یہ بھی تو پتہ چلے کہ آخر اتنی متاع ثمینہ ڈاکٹر صاحب موصوف کیسے سمیٹنے میں کامیاب ہوئے۔ میں جب غور کرتا ہوں کہ ان کی زندگی کے اس دفتری پہلو کو چند الفاظ میں سمیٹنے کی کوشش کروں تو پہلی مشکل یہ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے کہ ان کی دفتری زندگی، عملی زندگی، علمی زندگی، خانگی زندگی، غرض یہ کہ زندگی کے ہر زاویے کا رنگ ایک ہی نظر آتا ہے۔ آپ اپنے اردگرد کے رفقا کا جائزہ لیں تو تھوڑے غور سے آپ دیکھیں گے کہ کم و بیش ہر شخص کی شخصیت لاتعداد گرہوں میں منقسم ہے۔ دفتری زندگی میں کامیاب شخص اڑوس پڑوس کے لیے شاید راندہ درگاہ ہو۔ اڑوس پڑوس کی آنکھ کا تارا ممکن ہے، اہلِ خانہ کو نظر انداز کرتا ہو۔ انتظامی صلاحیتوں سے مالامال شخص کا علمی پہلو کمزور ہو سکتا ہے، علیٰ ہذا القیاس۔ ڈاکٹر غازی صاحب کی زندگی اس کے بالکل برعکس یکساں رفتار کے ساتھ، ماحول منڈی سے یکسر بے نیاز اور دنیا سے بے رغبتی میں ڈوبی اور افق سے بھی اس پار کہیں دور، ستاروں کی دنیا سے بھی آگے مآل پر ٹکی نظر آتی ہے۔ ہر شخص کو اللہ کریم نے دو ہی آنکھیں دی ہیں۔ کچھ تحریروں اور فنون میں اہلِ علم ایک تیسری آنکھ بھی بیان کرتے ہیں۔ مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں لیکن ساحر لدھیانوی کے بقول "لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے"۔
میں اس تیسری آنکھ سے ڈاکٹر غازی صاحب سے اپنی تیس سالہ رفاقت کو دیکھوں تو ان کی وہی تیسری آنکھ دور بہت دور، اور اس سے بھی دور، پتہ نہیں کتنی دور خالقِ کائنات کی تلاش اور اس کے قرب کے لیے بے چین بھٹکتی نظر آتی ہے۔ لیکن باقی دیدہ بینا سے کام لوں تو اپنے ممدوح کا اثات البیت تین قیمتی برتنوں پر مشتمل نظر آتا ہے: یقینِ محکم، عملِ پیہم، محبتِ فاتح عالم۔ ہفت زبان ہونے کے باوجود موصوف کی اپنی ذاتی غیر مطبوعہ لغت میں تلاش کے باوجود مجھے "دل آزاری" نام کا لفظ نہ مل سکا۔ تیس سالہ رفاقت میں صرف دو دفعہ — اپنی لاتعداد کوتاہیوں اور بداعمالیوں کے باوجود — جو سب سے "درشت" جملہ سننے کو ملا، یادش بخیر! اب کس سے سنوں؟ کہاں سے سنوں؟ وہ حلاوت آفرینی، وہ شیرینی اور وہ انگبیں وش لہجہ!: "بھئی آپ مہمل باتیں نہ کیا کریں"۔ کسی دفتری فروگزاشت کی جزا نہ تھی۔ ایک علمی مچیٹا ہم دونوں کے مابین شروع ہوا۔ کہاں رانی بھوج اور کہاں گنگوتیلی! لیکن اکابر کے ساتھ مچیٹے کے دنگل میں، میں اسی وقت لنگوٹ کس کر کودتا ہوں جب مجھے اپنی رائے کے کلی طور پر درست ہونے کا یقین ہو۔ میں تھوڑی ہی دیر میں حوالوں کے پرے کے پرے اٹھا لایا۔ بالآخر تو مان گئے لیکن اپنے خاص شعبے — دستور — میں انہیں میری اختلافی مداخلت قدرے ناگوار گزری۔ تیس سالہ رفاقت کے پکوان میں یہ جملہ — بھئی آپ مہمل باتیں نہ کیا کریں — اب تتیہ مرچ لگتا ہے۔ ذرا اپنے کھانوں میں سے مرچ نفی کر کے کھا کر تو دیکھیں۔
شعبہ مطبوعات: جامعہ کے اندر جامعہ
ڈاکٹر غازی صاحب کے عہد میں شریعہ اکیڈمی کی ۱۰۰ سے کچھ کم کتب چھپ چکی تھیں۔ ان کے بعد آنے والے اصحاب نے اکیڈمی کے امور بطریق احسن چلائے۔ لیکن ان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے جانے کے بعد بھی اپنے رفقا کے دل پر قبضہ جمائے رکھا۔ دفتری نظام میں جانے والے کو اچھے الفاظ میں یاد رکھنے کی روایت ہمارے ہاں بہت کم رہی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو روایتی اعتبار سے بعد میں آنے والے بھی اپنے فہم اور صلاحیتوں کے ساتھ اکیڈمی کے اشاعتی کام میں اپنا حصہ بحسن و خوبی ادا کرتے رہے۔ لیکن ان سب اصحاب کا موازنہ جب میں ڈاکٹر غازی صاحب سے کرتا ہوں تو اس دوڑ میں ڈاکٹر صاحب ان تمام لوگوں سے بہت ہی آگے نظر آتے ہیں۔ اندازہ کیجئے، صفر سے کام کا آغاز اور رجال کار ندارد! خامہ ہائے بگوش کو تو چھوڑیں کہ ادھر ادھر سے بھی کام چلا لیا جاتا ہے، یہاں تو طباعتی ناک نقشہ ہی مفقود! طرفہ تماشہ یہ کہ شریعہ اکیڈمی میں ایک گھنٹے کی تشریف آوری! رخشِ امور علمی کی رکاب میں پا تو ہاتھ اسلامی نظریاتی کونسل کی باگ پر، سمندِ وزارت کی شہواری، بحرِ عدلِ عظمیٰ کی شناوری، نیشنل سیکورٹی کونسل میں جرنیلوں کی ہم جلیسی اور کتابوں کی اشاعت؟ ایک سال اور گزار لیتے تو سنچری مکمل ہو جاتی۔ وہ انسان تھا یا سلیمان علیہ السلام کا جن؟
ذیل میں ان کتب کی فہرست ہے جو آپ کے عہدِ گراں مایہ میں شریعہ اکیڈمی سے شائع ہوئیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس قدیم و جدید کو ہم آغوش کرنے کو جو اسلامی یونیورسٹی بصد ناز و ادا آئی تھی (جی ہاں اب صیغہ ماضی ہی سے کام چلانا پڑے گا۔ مصطفےٰ زیدی نے یقیناً اسی بارے میں کہا تھا، "وہ داستان تھی کسی اور شاہزادے کی") وہ قدیم و جدید تو ایک مکمل جامعہ کی شکل میں پہلے سے موجود تھا۔
اتنا طویل عرصہ رفاقت کے باوجود میرے لیے یہ طے کرنا خاصا دشوار کام ہے کہ شعبہ ہائے خط و کتابت کورس، مطبوعات، تحقیق اور تربیت میں سے آپ کس شعبے کو فوقیت دیا کرتے۔ مرحوم کی زندگی میں اس قدر توازن اور اعتدال تھا کہ میں یہ کہنے پر — کوئی فیصلہ نہ کرنے کے باعث — مجبور ہوں کہ آپ تمام امور کو یکساں اہمیت دیتے تھے۔ ۱۹۹۹ء میں آپ کو کہیں سے سن گن ملی کہ لاہور کے ادارہ معارفِ اسلامی میں چھ مطبوعات ترجمہ شدہ شکل میں پڑی ہیں۔ مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ادارہ انہیں طبع نہیں کر پا رہا۔ ذرا تاخیر کیے بغیر آپ نے راقم سمیت تین اصحاب کی ایک کمیٹی کو معارفِ اسلامی بھیجنے کا حکم دیا۔ ۲۰ مارچ ۱۹۹۹ ء کو ہم تینوں افراد لاہور گئے اور مذکورہ چھ کتب خرید کر لے آئے اور تھوڑے ہی عرصے میں ان میں سے دو کتب چھپ کر شائع ہو گئیں جو یہ ہیں: احکام القران از جصاص اور سبل السلام از صنعانی۔
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کوئی کتاب ان کے پاس چھپنے کے لیے آئی ہو تو انہوں نے کسی تامل یا ردوکد کا مظاہرہ کیا ہو۔ تعجب تو اس پر ہے کہ آخری دور تک سو سے کچھ ہی کم اور ہزاروں صفحات پر مشتمل ان تمام مطبوعہ کتب کا آپ ایک ایک صفحہ پڑھ کر منظوری دیا کرتے تھے۔ اہمیت کی حامل کتب کے صفحات تک سے باخبر ہوتے تھے۔ کہیں کسی موقع پر بریفنگ وغیرہ دینا ہوتی تو متعلقہ افسران اپنے شعبہ کے متعلق اتنے باخبر نہیں ہوتے تھے جتنا آپ کو علم ہوتا۔ کتابوں کا تعارف کراتے وقت درجنوں کتب کے صفحات تک زبانی بتا دیتے۔
مناسب تحقیقی و تدریسی عملہ نہ ہونے کے سبب ڈاکٹر غازی صاحب کے سارے عہد میں مطبوعات کا شعبہ الگ سے نہیں تھا۔ طباعت کا تمام کام انتظامی افسران کے پاس تھا۔ یہ کام مختلف اسالیب سے سرانجام دیا جاتا تھا۔ مثلاً ۵-۱۹۹۴ میں مطالعہ اسلامی قانون کے اسباق کی طباعت کا کام درپیش تھا تو ذاتی دلچسپی ہونے کی وجہ سے عملًا یہ سارا کام راقم نے خود کرایا۔ انتظامی افسران نے خوب معاونت کی۔ اس کے بعد بھی اس کام کے لیے طویل عرصے تک کوئی شخص مقرر نہ ہوا بلکہ کئی افراد مل کر کتابیں طبع کراتے رہے۔ آخری سالوں میں ایک صاحب انگریزی مطبوعات کے ایڈیٹر رکھے گئے۔ بڑی اچھی انگریزی اور عمدہ صلاحیتوں کے مالک لیکن بعض بے اعتدالیوں کا شکار تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد بلا اطلاع غائب ہوگئے۔ یہ لکھ دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ من جملہ دیگر اصحاب اور باسثنائے راقم کے، موصوف ڈاکٹر غازی سے بھی ایک موٹی رقم بطور قرض لے کر غائب ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب نے انتظامی افسران کے توسط سے قانونی طریقے سے ان کا سراغ لگانے کی ہلکی سے کوشش کی لیکن پھر سکوت اختیار کر لیا۔
مطبوعات
احکام القرآن: امام ابوبکر احمد بن علی الرازی الجصاص (م۳۷۰ھ) کی شہرہ آفاق اور مستند فقہی تفسیر احکام القرآن کا پہلا عام فہم اردو ترجمہ، مترجم مولانا عبد القیوم (فیصل آبادی) ۶ جلدیں، صفحات: ۴۲۱۲
تفسیر قرطبی: امام محمد بن احمد القرطبی المالکی (م۶۷۱ھ) کی مقبولِ عام اور جامع فقہی تفسیر الجامع لاحکام القرآن کا پہلا سلیس اردو ترجمہ، مترجم ڈاکٹر اکرام الحق یٰسین جلد اوّل، صفحات: ۶۸۸۔ یہ منصوبہ شروع تو ڈاکٹر غازی صاحب نے کرایا لیکن زیر نظر کتاب ان کے بعد شائع ہوئی۔
سُبل السلام: دورِ متوسط کے عظیم محدث حافظ ابن حجر العسقلانی (م۸۵۲ھ) کے مرتب کردہ فقہی احکام پر مشتمل مجموعہ احادیث بلوغ المرام منادلّۃ الاحکام کی مقبول و معروف شرح سُبل السلام از امام محمد بن اسماعیل الصنعانی یمنی (م ۱۱۸۲ھ) کا اردو ترجمہ مترجمین مولانا عبدالرحمٰن کیلانی، جلد اول، دوم، مولانا عبدالقیوم (فیصل آبادی)، جلد سوم، چہارم، ۴ جلدیں، صفحات: ۲۴۶۰
اسلامی نظریۂ ضرورت: مغربی نظریۂ اباحیت، مفاسد اور تجدّد پسندی کے سیاق و سباق میں اسلامی نظریۂ ضرورت اور متعلقہ مباحث پر ایک تحقیقی تصنیف ڈاکٹر عبد المالک عرفانی مرحوم، صفحات: ۲۷۸
عقد الجید: اجتہاد و تقلید کے موضوع پر شاہ ولی اللہ، محدث دہلوی (م۱۱۷۶ھ) کی فاضلانہ تصنیف عقد الجید فی أحکام الاجتہاد والتقلید کا اردو ترجمہ مترجم ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صفحات: ۱۸۶
اسلامی قانون میں تحدیدِ مدت اور قبضہ کے تصورات: مؤلف ڈاکٹر ساجد الرحمان صدیقی، صفحات: ۱۹۲
اسلام میں قانونِ ٹارٹ کا تصور: مؤلف ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، صفحات: ۸۰
عاقلہ کا تصور، فقہِ اسلامی میں: قصاص و دیت کے مقدمات میں مجرم کی برادری کی ذمہ داریوں کے بارے میں مصر کے نامور فقیہ اور قانون دان ڈاکٹر عوض محمد عوض کی علمی تحریر کا اردو ترجمہ مترجم ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صدیقی، صفحات: ۸۸
اسلامی قانون میں شبہ کا تصور: سنتِ رسولؐ نیز صحابہ کرامؓ کے عمل کی روشنی میں ’شبہ‘ کے مختلف پہلوؤں پر مصر کے نامور فقیہ استاد محمد ابو زہرہ کی ایک تحقیقی تالیف الجریمۃ والعقوبۃ فی الفقہ الاسلامی کے ایک باب کا اردو ترجمہ۔ مترجم ڈاکٹر احمد حسن، صفحات: ۸۲
قواعدِ کلّیہ اور ان کا آغاز و ارتقاء: فقہاء کے اجتہادی عمل کو سمجھنے کے لیے رہنما اصولوں اور ضابطوں کے آغاز و ارتقاء پر ایک ابتدائی کتاب۔ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، صفحات: ۵۸
فقہِ اسلامی کا تاسیسی پس منظر: فقہِ اسلامی کا عمومی تعارف اور تشکیلی دور کا مختصر جائزہ۔ مؤلف ڈاکٹر ساجد الرحمان صدیقی، صفحات: ۴۸
ہدایہ: فقہ حنفی کی مستند کتاب ہدایۃ، امام علی بن ابی بکر فرغانی مرغینانی (م۵۹۳ھ) کا سلیس اردو ترجمہ، جلد اوّل، مترجمین: مولانا محمد مالک کاندھلوی، ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صفحات: ۶۵۶
خطبات بہاول پور (۲) اسلام کا قانون بین الممالک: اس کتاب میں عالمانہ اور مدلل انداز سے اسلام کے تصورِ قانون بین الممالک کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم اور عامۃ الناس کے لیے انتہائی مفید ہے۔ تالیف ڈاکٹر محمود احمد غازی، صفحات: ۵۴۰
علمِ اصولِ فقہ - ایک تعارف: اسلامی قانون کے مختلف پہلوؤں سے قانون دان طبقوں کی آگاہی کے لیے ایک رہنما کتاب، مقالہ نگار: ڈاکٹر محمود احمد غازی، جسٹس (ر) منیر احمد مغل، ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ڈاکٹر محمد میاں صدیقی، ڈاکٹر محمد ضیاء الحق، ڈاکٹر سعد صدیقی، ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ڈاکٹر ساجدہ محمد حسین بٹ اور مفتی محمد مجاہد، ترتیب و تدوین: ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، جلد اوّل، صفحات: ۶۰۰، جلد دوم، صفحات: ۵۰۰، جلد سوم، صفحات: ۵۲۰، مکمل سیٹ، صفحات: ۱۷۲۰۔ یہ سارا کام الگ الگ اسباق میں تو آپ کے دور میں چھپا تھا، کتابی شکل بعد میں آئی۔
مراسلاتی کورس اسلامی قانون کے اسباق: پہلے ۲۱ اسباق کے مؤلف ڈاکٹر شہزاد اقبال شام، ۲۲ واں سبق مؤلف ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب اور ۲۳واں اور ۲۴واں سبق ڈاکٹر محمد احمد غازی صاحب کی تالیف ہیں۔ ۲۴ اسباق کا مکمل سیٹ، صفحات: ۹۴۴
اسلامی قانون کے مآخذ: مأخذ اوّل-قرآن، ۴۲ صفحات
اسلامی قانون کے مآخذ: مأخذ دوم-سنت، ۴۴ صفحات
اسلامی قانون کے مآخذ: مأخذ سوم-اجماع، ۴۰ صفحات
اسلامی قانون کے مآخذ: مأخذ چہارم-قیاس، ۴۰ صفحات
اجتہاد: ایک تعارف، ۴۰ صفحات
اسلام میں قانون سازی کا تصور اور طریقِ کار، ۴۲ صفحات
دینی مسائل میں اختلافات، اسباب اور ان کا حل، ۴۲ صفحات
اسلام کا قانونِ نکاح و طلاق، ۴۴ صفحات
اسلام کا قانون وراثت و وصیت، ۴۴ صفحات
اسلام میں عورت کی استثنائی حیثیت اور اس کی وجوہ، ۳۸ صفحات
اسلام کا تصورِ ملکیت و مال، ۴۰ صفحات
اسلام کا تصورِ معاہدہ، ۳۶ صفحات
اسلام میں شراکتی کاروبار کا تصور، ۴۰ صفحات
مزارعت اور مساقات، ۳۶ صفحات
اسلام کا نظامِ محاصل، ۴۰ صفحات
اسلام کا نظامِ مصارف، ۳۶ صفحات
اسلام میں عدل و قضا کا تصور، ۴۰ صفحات
اسلام کا نظامِ احتساب، ۳۴ صفحات
اسلامی نظامِ عدل و قضا میں شہادت کا تصور، ۴۰ صفحات
اسلام کا تصورِ جرم و سزا، ۴۴ صفحات
اسلام کا فوجداری قانون، ۳۶ صفحات
اسلام کا دستوری قانون، ۴۰ صفحات
اسلام کا قانون بین الممالک، ۳۴ صفحات
اسلام میں ربا کی حرمت اور بلاسود بینک کاری، ۳۲ صفحات
اختصاصی مراسلاتی کورس، کل صفحات: ۹۴۴
مطالعہ قانون اسلامی و اصول فقہ: یہ سارے اسباق آپ کے عہد میں تیار تو ہو چکے تھے، ان کی طباعت بعد میں ہوئی۔
علم اصول فقہ: ایک تعارف-۱ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۶۸ صفحات
علم اصول فقہ: ایک تعارف-۲ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۶۴ صفحات
قرآن مؤلف ڈاکٹر ساجدہ محمد حسین بٹ، ۵۲ صفحات
سنت مؤلف ڈاکٹر محمد سعد صدیقی، ۴۶ صفحات
سنت کی حجیت کا جائزہ مؤلف ڈاکٹر محمد سعد صدیقی، ۵۲ صفحات
اجماع مؤلف ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ۵۲ صفحات
قیاس مؤلف مفتی محمد مجاہد، ۴۸ صفحات
شرائع سابقہ و اقوالِ صحابہؓ و استصلاح مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۵۸ صفحات
استحسان و استصحاب و استدلال مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۶۲ صفحات
عرف اور سدِّذرائع مؤلف ڈاکٹر منیر احمد مغل، ۵۶ صفحات
حکم شرعی-۱ (حکم تکلیفی) مؤلف ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ۳۲ صفحات
حکم شرعی-۲ (حکم وضعی) مؤلف ڈاکٹر محمد ضیاء الحق، ۵۴ صفحات
خاص مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۶۸ صفحات
عام، مشترک، حقیقت و مجاز، صریح و کنایہ مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۶۲ صفحات
دلالات مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۵۸ صفحات
اسلام کا نظریہ اجتہاد مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۵۶ صفحات
مناہج و اسالیب اجتہاد مؤلف پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، ۵۶ صفحات
تقنین مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۵۶ صفحات
پاکستان میں قوانین کو اسلامیانے کا عمل مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۴۸ صفحات
فقہ حنفی و فقہ مالکی مؤلف ڈاکٹر محمد میاں صدیقی، ۵۶ صفحات
فقہ شافعی و فقہ حنبلی مؤلف ڈاکٹر محمد میاں صدیقی، ۴۰ صفحات
فقہ جعفری و فقہ ظاہری مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۸۰ صفحات
قواعد کلیہ-۱ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۶۸ صفحات
قواعد کلیہ-۲ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۶۴ صفحات
المدخل للفقہ المصرفی (عربی): اسلام میں بینک کاری کے موضوع پر ایک قابلِ قدر کاوش، مؤلفین: ڈاکٹر محمد طاہر منصوری، ڈاکٹر عبدالحی ابڑو، صفحات: ۲۴۲





















