محترم دوستو اور بزرگو! اللہ تعالیٰ نے ہمارے دینِ اسلام اور شریعت کو انتہائی آسان بنایا ہے، لیکن آسان ہونے کے باوجود اس کی اپنی کچھ حدود ہیں، کچھ ضابطے ہیں، کچھ قیود ہیں اور کچھ لیمیٹیشنز ہیں۔ ٹھیک ہے کہ دین بہت ہی آسان ہے، اُس شخص کے لیے جو صاحبِ فطرت ہو، لیکن جس کے دماغ کے اندر ہی روگ ہو اور جو ہر مثبت چیز میں منفی پہلو ڈھونڈتا ہو تو اس کو دین کے اندر بھی خامیاں ہی دِکھتی ہیں کہ دین میں یہ کیوں ہے، یہ کیوں ہے؟ اللہ نے یہ دین دیا ہے تو اللہ کی ذات علیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے، اس نے ہمارے لیے اس دین کے اندر جو حدود اور ضابطے بنائے ہیں، وہ میری اور آپ کی آسانی کے لیے ہیں۔
مال ایسی چیز ہے کہ ہر شخص کو اس سے فطری طور پر محبت ہوتی ہے، چھوٹے سے بچے کے سامنے بھی آپ پیسے رکھیں گے تو اس کو بھی فطری محبت ہوتی ہے، مال کو اللہ نے بنایا ہی ایسا ہے۔ اس مال کو خرچ کرنے کے کچھ حدود اور ضابطے ہیں اور عموماً انسان کو تین طریقوں سے اس سے وابستگی رہتی ہے۔ تین چیزیں ہیں اور تینوں الگ الگ ہیں۔ اگر آپ ایک کو دوسری سے، دوسری کو تیسری سے ملائیں گے تو ساری بات خراب ہو جائے گی اور خلطِ مبحث لازم آئے گا۔ لہٰذا یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ تین الگ الگ چیزیں کیا ہیں، ان کے کیا فوائد ہیں اور کیا تعلق ہے؟ سب سے پہلی چیز ہے ہبہ۔ دوسری چیز ہے وصیت۔ اور تیسری چیز ہے ورثہ یا میراث۔
- زندگی میں کسی کو کوئی چیز دینا، جائیداد تقسیم کرنا، یہ کہلاتا ہے ہبہ، یہ الگ چیز ہے۔
- وصیت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ کام کرنا، یہ الگ چیز ہے۔ وصیت کی تعریف میں یہ بات داخل ہے اور اس کے اندر یہ ذکر ہوتا ہے کہ ’’میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد‘‘۔ تو جب اس قسم کے الفاظ بولے جائیں گے تو اس کا تعلق ہبہ اور گفٹ سے نہیں ہوگا بلکہ اس کا تعلق بن جائے گا وصیت سے، اور وصیت کا حکم الگ ہے۔
- تیسری چیز ہے میراث یا ورثہ، اس کا تعلق انسان کے مرنے کے بعد سے ہے۔
گویا زندگی میں دو چیزیں ہو گئیں: ہبہ اور وصیت۔ جبکہ تیسری چیز جسے ہم میراث یا ورثہ کہتے ہیں اس کا تعلق مرنے کے بعد سے ہے۔ یہ تینوں چیزیں الگ الگ ہیں۔
(1) ہبہ
سب سے پہلی چیز ہے ہبہ، جسے ہم انگلش میں گفٹ کہتے ہیں، عربی زبان میں عطیہ کہتے ہیں، اردو میں ہدیہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہے۔
زندگی میں تقسیمِ جائیداد
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا ضروری نہیں ہے۔ جو جس چیز کا مالک ہے، وہ اگر کرنا چاہے تو اس کی صوابدید، نہ کرنا چاہے تو اس کی مرضی۔ کوئی اس کے اوپر اعتراض نہیں اٹھا سکتا کیونکہ مال اس کا ہے، پیسے اس کے ہیں، کاروبار اس کا ہے۔ جس کی جو ملکیت ہے، زندگی میں اسی کا تصرف چلے گا۔ لہٰذا بیٹے کا باپ کو یہ کہنا کہ ابو! آپ یہ تقسیم کر دو۔ تو باپ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ ’’میں کیوں کر دوں؟ یہ آپ کی چیز تو ہے ہی نہیں، یہ میری چیز ہے، آپ اس کے اندر دخل اندازی کر ہی نہیں سکتے‘‘۔ آپ اپنے ڈومین کے اندر، اپنی ملکیت میں فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ کیا کریں۔
چنانچہ تقسیم کرنا چاہیں تب بھی ٹھیک ہے، نہ کرنا چاہیں تب بھی درست ہے۔ شریعت نے زندگی میں نہ جائیداد کی تقسیم کرنے کا کہا ہے اور نہ منع کیا ہے، یہ ہر شخص کی اپنی صوابدید ہے۔ ہاں، کچھ فوائد بھی ہوتے ہیں، کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں، کچھ مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں، کچھ منفی پہلو بھی ہوتے ہیں۔
ممکنہ مضمرات
مثال کے طور پر، پہلا نقصان اس بات کا ہے کہ اگر کوئی شخص زندگی میں جائیداد تقسیم کر دے تو وہ خود محتاج ہو جائے گا کہ اس کے پاس کچھ بچا نہیں ہے۔ یا زیادہ دے دیا اور تھوڑا سا رہ گیا، تو زندگی میں ایسا نہ ہو کہ کوئی آسمانی سلطانی آفت آ گئی، کوئی بیماری آ گئی، بڑے ہسپتال میں داخلہ کرانا پڑ گیا، تو اس کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، وہ تو تقسیم کر چکا ہے۔ زندگی میں تقسیم کرنے کا یہ نقصان ہے۔
دوسرا نقصان یہ ہے کہ جب دے دے گا تو ملکیت ختم ہو جائے گی، تو اگر کل کو کچھ کاروبار کرنا چاہے، کوئی پلاٹ لینا چاہے، کوئی انویسٹمنٹ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پاس ہے ہی نہیں، وہ تو تقسیم کر چکا ہے۔
ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہر وقت اس کا ہاتھ تنگ رہے گا۔ وہ یہ سوچتا رہے گا کہ میرے پاس تو ایک کروڑ تھے، میں نے اَسی نوے لاکھ تقسیم کر دیے اور میرے پاس تو اب دس لاکھ ہی ہیں، اس طرح وہ ٹینشن کے اندر جا سکتا ہے، ڈیپریشن کے اندر جا سکتا ہے۔
اسی طریقے سے، جب سب تقسیم کر دے گا تو جو اولاد ہے، ورثاء ہیں، وہ اس میں دلچسپی کم لینے لگیں گے۔ مفادات کی زندگی ہے، مفادات کی دنیا ہے، جب سب دے دے گا تو بچے بھی بولیں گے کہ ہمارا ابا کسی کام کا نہیں ہے، چنانچہ خدمت میں بھی دلچسپی نہیں رہے گی، تو یہ نقصان ہے۔
ممکنہ فوائد
زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کے کچھ فائدے بھی ہیں۔ ایک فائدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد اس کی اولاد جھگڑوں سے محفوظ ہو جائے گی۔ وہ زندگی میں ہی کہہ دے کہ بھئی! یہ میں نے اپنی ماں کو دے دیا، یہ باپ کو دے دیا، یہ اپنی اِس اولاد کو دے دیا، یہ اپنی اُس بیٹی کو دے دیا، یہ اپنی بیوی کو دے دیا، یہ اپنی بہن کو دے دیا وغیرہ وغیرہ۔ تو اس کے مرنے کے بعد کچھ ہے ہی نہیں کہ جھگڑا ہو، تو اس کی اولاد کے اندر خوشی رہے گی، امن رہے گا، عافیت رہے گی۔ اسی طریقے سے خود بھی امن میں آ جائے گا کہ میرے مرنے کے بعد میرے بعد والے ورثاء آپس میں امن سے رہیں گے، خوشی سے رہیں گے۔
تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر زندگی میں جائیداد تقسیم کرنی ہو تو اس کو شریعت میں ہبہ کہتے ہیں، گفٹ کہتے ہیں۔ اس کے اپنے فوائد بھی ہیں اور اس کے اپنے نقصان بھی ہیں۔ ہر شخص اپنے گھر کے ماحول کے اندر خود فیصلہ کر سکتا ہے، دوستوں سے مشورہ کر سکتا ہے کہ بھئی مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں زندگی میں تقسیم کر دوں یا نہیں کروں؟ وہ آپ کے اوپر ہے۔
احکام و ضوابط
اگر تقسیم کرنا پڑ جائے تو اس صورت میں دو چیزوں کی پابندی ضروری ہے ورنہ وہ تقسیم، تقسیم نہیں ہو گی:
قبضہ اور ملکیت
ہبہ کا پہلا ضابطہ اور اصول یہ ہے کہ جس کو آپ جو چیز دے رہے ہیں، وہ بطور مالک بنا کر دیں، اس کے قبضے اور تصرف کے ساتھ دیں۔ ہماری میمن کمیونٹی کے اندر کتنی دفعہ سننے میں آتا ہے، حاجی صاحب کہتے ہیں کہ بھئی یہ گھر جو ہے میں نے اپنی بیوی کے نام کیا ہوا ہے۔ اور واقعتاً کیا ہوا بھی ہوتا ہے، تاکہ مرنے کے بعد بیوی روڈ پر نہ آ جائے، تو وہ اپنی بیوی کو محفوظ کرنے کے لیے اس کے نام کر دیتا ہے۔ لیکن مرنے کے بعد جب مسئلہ پوچھا تو پتا لگا گھر تو بیوی کا ہے ہی نہیں! قانونی طور پر اور رجسٹریشن کے اندر تو ہے، لیکن شرعی طور پر یہ گھر بیوی کا ہوا ہی نہیں ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ گھر صرف اس نے بیوی کے نام پر کیا ہے۔ تو کسی کے نام پر کوئی چیز کر دینے سے وہ چیز اس کی نہیں ہو جاتی، مثال کے طور پر:
- میری جیب میں موبائل ہے اور یہ میں حاجی صاحب کے نام کر دیتا ہوں، لیکن موبائل میری جیب کے اندر ہے، تو میں لاکھ نام کرتا رہوں، لکھت پڑھت بھی کر دوں، سب کچھ کر دوں، لیکن یہ چیز ان کی ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ میرے پاس ہے۔ اگر مجھے یہ چیز اُن کو دینی ہے، ہبہ کرنی ہے، اپنی جائیداد تقسیم کرنی ہے، تو باقاعدہ قبضہ اور تصرف (possession) ان کو دینا پڑے گا۔ اگر قبضہ نہیں دیا تو وہ چیز سامنے والے کی نہیں ہوگی۔ جب مرے گا تو وہ اس کے تمام ورثاء کے اندر تقسیم ہو جائے گی، اس کی بیوی کو نہیں ملے گی۔
- گاڑی بیٹے کے نام کی ہوئی ہے کہ میرے جانے کے بعد بیٹے کو تکلیف نہ ہو، لیکن وہ خود چلاتا ہے، گاڑی کی چابی بھی اسی کے پاس ہے، قبضہ بھی اس کا ہے، تصرف بھی وہی کرتا ہے۔ اب جب مرے گا اور مسئلہ پوچھنے کے لیے مفتی صاحب کے پاس آئے گا تو وہ کہیں گے کہ گاڑی آپ کے بچے کی ہوئی ہی نہیں تھی کیونکہ آپ نے قبضہ دیا ہی نہیں تھا، آپ نے تو صرف اس کے نام کی تھی۔
- گھر کے اندر خود رہ رہا ہے، اسے بیوی کے نام کر دے گا تو کیا وہ گھر بیوی کا شرعاً ہو جائے گا؟ نہیں ہوگا! تو کیا کرے؟ اس کا حل یہ ہے کہ اگر دینا ہی ہے بیوی کو، تو گھر سے باہر جا کر اپنے بچوں سے یا ورثاء سے کہہ دے کہ بھئی یہ چابی میری بیوی کی ہے، یہ گھر میرا نہیں ہے، اور چابی اس کو دے دے۔ اب قبضہ و تصرف اُس کا ہے۔ اب گھر کے اندر جس طرح دوسرے بچے رہ رہے ہیں، یہ بھی بس رہ رہا ہے، مالک نہیں ہے۔ اب جب یہ شخص مرے گا تو یہ گھر اس کی بیوی کا قانوناً تو پہلے بھی تھا، لیکن شرعاً بھی یہ اسی بیوی کا ہو گا، اور اس کے ورثاء کے اندر ترکے میں تقسیم نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ہبہ کی پہلی شرط کے ساتھ پایا گیا جس کے اندر اس کو باقاعدہ قبضہ اور تصرف دیا گیا تھا۔
لہٰذا پہلا اصول اور ضابطہ زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا یہ ہے کہ نام کر دینے سے، لکھت پڑھت کر دینے سے، رجسٹریشن کر دینے سے، اور گواہ بنا دینے سے کوئی چیز کسی کی نہیں ہوتی، بلکہ کوئی چیز کسی کی اسی وقت ہو گی جب آپ وہ چیز سامنے والے کے قبضے میں دیں گے۔
برابری اور مساوات
دوسری شرط ہے تمام اولاد کے اندر برابری کرنا۔ یہ شرط اگر نہ پائی جائے تو کام تو ہو جائے گا لیکن گناہ ہو گا۔ ہبہ کے برعکس میراث الگ چیز ہے تو اس کا اصول الگ ہے کہ لڑکے کا حصہ لڑکی کے مقابلے میں ڈبل ہوتا ہے جبکہ بیٹی کو سنگل ملتا ہے۔ لیکن زندگی میں کوئی چیز اگر دینی ہو تو پھر آپ بیٹے کو زیادہ نہیں دے سکتے، پھر تمام اولاد کے اندر برابری کرنا ضروری ہے۔ یہ شرعاً جائز نہیں کہ کسی کو زیادہ دے دیا، کسی کو کم دے دیا، اگر کیا تو آپ گنہگار ہوں گے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی نعمان بن بشیرؓ آئے اور کہنے لگے: حضور! میں اپنے ایک بیٹے کو ایک غلام ہدیہ دینا چاہتا ہوں اور میری بیوی کی خواہش یہ ہے کہ آپ اس پر گواہ بن جائیں۔ حضورؐ نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن پوچھا کہ تمہاری اور بھی اولادیں ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اور بھی اولادیں ہیں۔ حضورؐ فرمایا: ’’اکل ولدک نحلتہ مثل ما نحلت ھذا‘‘ کہ اپنی تمام اولاد کو یہ دیا ہے یا صرف ایک کو دے رہے ہو؟ کہنے لگے: نہیں، میں تو صرف ایک کو دے رہا ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’اذا لا اشھد علیٰ جور‘‘ (بخاری و مسلم) یہ تو گناہ ہے اور میں گناہ پر گواہ نہیں بنوں گا۔ یعنی صرف ایک بچے کو کیوں دے رہے ہو، باقی بچے کیا کریں گے؟
جب زندگی میں آپ نے کوئی چیز دینی ہے تو برابری کی سطح پر دینی ہو گی، کسی بچے کو زیادہ، کسی کو کم نہیں دے سکتے، سب کو برابر دینا ہو گا۔ ہاں، کوئی بچی ایسی ہے جو مالی طور پر بہت کمزور ہے، یا کوئی بچہ ایسا ہے جس نے دیگر بچوں کے مقابلے میں آپ کی بہت خدمت کی ہے، تو اس شرط کے ساتھ اس کو زیادہ دے سکتے ہیں کہ آپ کی نیت دیگر ورثاء کو نقصان پہنچانے کی نہ ہو۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ آپ کو ایک بیٹا اچھا لگتا ہے تو آپ نے اس کو ایک لاکھ روپے دے دیے، اور دوسرا بچہ اچھا نہیں لگتا تو آپ نے کہا کہ بس چھوڑو اس کو، یعنی آپ نقصان پہنچا رہے ہیں اس بچے کو، تو یہ بھی گناہ کے زمرے میں ہے۔ تھوڑی بہت کمی بیشی، زیادتی اور کمی کر سکتے ہیں، لیکن محروم کسی کو نہیں کر سکتے، یہ شرعاً جائز نہیں ہے، لہٰذا برابری کی سطح پر دینا ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ اگر زندگی میں جائیداد تقسیم کرنی ہو تو اس کو ہبہ کہتے ہیں۔ یہ کرنا کوئی ضروری نہیں ہے اور کوئی زبردستی نہیں ہے کیونکہ آپ اپنے مال کے سو فیصد خود مالک ہیں۔ لیکن اگر تقسیم کرنی ہو تو سب سے پہلے اپنے لیے کچھ ریزرو کر لیں، سارا نہ دے دیں، سارا دے دیا تو خود محتاج ہو جائیں گے۔ اپنے والدین کو کچھ دے دیں، اپنی بیوی کو بھی دے دیں جس نے پوری زندگی آپ کا ساتھ دیا ہے، کسی بہن بھائی کو دینا ہے تو آپ آزاد ہیں، اس میں کوئی قانون نہیں ہے کہ اِس کو نہیں دے سکتے اور اُس کو دے سکتے ہیں۔ خیرات (charity) کرنی ہے یا کچھ بھی اور کرنا ہو، آپ اپنے پورے مال کے سو فیصد مالک ہیں، آپ جیسا دینا چاہیں ویسے دے سکتے ہیں۔ اور اس شرط کے ساتھ کہ صرف بطور نام نہ ہو بلکہ مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ ہو۔ یہ ہے زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا، جس کو ہبہ کہا جاتا ہے۔
(2) وصیت
دوسری چیز ہے وصیت۔ ابتدائے اسلام میں وصیت کرنا فرض تھا اور اس پر قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی تھی کہ ایمان والوں کے اوپر وصیت کرنا فرض ہے، لیکن یہ اُس وقت تھا کہ جب میراث کا حکم نہیں آیا تھا کہ مرنے کے بعد انسان کا مال تقسیم کیسے ہوتا ہے۔ چنانچہ تب وصیت کرنا فرض تھا کہ بھئی آپ مرنے سے پہلے وصیت کریں کہ کس کو کتنا دینا ہے، تو ہر شخص اپنی مرضی سے وصیت کر دیتا تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے میراث کا حکم سورۃ النساء کے اندر اتار دیا، اس کے بعد یہ وصیت کے فرض ہونے کا حکم منسوخ ہو گیا۔ ہاں، اگر آپ کے اوپر مالی لین دین ہے، قرضہ لیا ہوا ہے، تو وہ وصیت کرنا آپ پر واجب ہے۔ حج فرض تھا وہ ادا نہیں کیا، روزے رکھنے تھے جو کسی وجہ سے نہیں رکھ سکے، تو اس کا فدیہ دینے کی آپ وصیت کر سکتے ہیں اور وہ وصیت کرنا ضروری ہے۔
زندگی میں اعلانِ تقسیم
وصیت کا مطلب ہے پہلے بتا دینا۔ انسان یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد میرا مال فلاں کو دے دینا، اس کو وصیت کہتے ہیں۔ اور جو پہلی چیز ہبہ تھی، اس میں مرنے کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا، اس کے اندر فی الفور دینا ہوتا ہے، تو ہبہ الگ چیز ہے اور وصیت الگ چیز ہے۔
وارث کے لیے وصیت نہیں
سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ وصیت غیر وارث کے لیے ہوتی ہے۔ ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ باپ کہہ رہا ہے: میرے مرنے کے بعد بیٹی کو اتنا دے دینا۔ کیوں بھئی؟ بیٹی کو تو اللہ نے ویسے ہی دے دیا ہے۔ اور ترمذی، سنن ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لا وصیۃ لوارث) کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ذی حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اب وارث کے لیے وصیت نہیں ہے — باپ کا کتنا حق ہے، ماں کو کتنا ملے گا، بیٹی کو کتنا ملے گا، بیٹے کو کتنا ملے گا، شوہر کو کتنا ملے گا، بیوہ کو کتنا ملے گا — اللہ نے سب کو دے دیا ہے، دوبارہ کسی وارث کے لیے وصیت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
لہٰذا اگر کبھی وصیت کرنی ہو تو وہ وصیت غیر وارث کے لیے ہوتی ہے، وارث کے لیے نہیں ہوتی۔ والدین وارث ہیں، دادا دادی ہیں وارث ہیں، اولاد ساری وارث ہوتی ہے، بعض صورتوں میں بہن بھائی وارث ہوتے ہیں، تو جو بھی وارث ہے، اس کے لیے وصیت نہیں ہے۔ اس لیے یہ غلط فہمی دور ہو جائے کہ لوگ جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ مرنے کے بعد میری بیٹی کو اتنا سونا مل جائے۔ بھئی! بیٹی تو وارث ہے، اس کے لیے وصیت کرنا جائز ہی نہیں۔
اگر پھر بھی کسی نے وصیت کر دی تو اس کا حکم الگ ہے۔ وہ یہ کہ اگر تمام ورثاء — اور وہ سارے بالغ ہوں — اس بات پر راضی ہو جائیں کہ بھئی! ہمارے ابا کی خواہش تھی کہ کسی ایک بھائی کو زیادہ مل جائے، یا ہماری امی کو زیادہ مل جائے، اور سب ورثاء خوش دلی سے راضی ہوں، تو اس صورت میں پھر کسی وارث کو بھی اگر دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، لیکن ایک تہائی مال کے اندر، ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت شرعاً جائز نہیں ہو گی۔
ایک تہائی مال کی حد
وصیت کا دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ وصیت کا نفاذ کُل مال کے ایک تہائی (1/3) کے اندر ہوتی ہے۔ یعنی ایک کروڑ روپے اگر چھوڑ کر گیا تو تقریباً تینتیس لاکھ پر اس کا حکم چل سکتا ہے کہ میرے مال کے ایک تہائی کے اندر مسجد میں دے دینا، ماموں کو دے دینا، میری بہو کو دے دینا وغیرہ وغیرہ، لیکن ایک تہائی سے زیادہ پر اس کا حکم نہیں چل سکتا۔
بخاری اور مسلم کی روایت ہے اور مسند احمد میں بھی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر شدید بیمار ہو گیا اور مجھے لگا میں مر جاؤں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس عیادت کے لیے آئے، میں نے حضورؐ سے کہا: مجھے اللہ نے بڑا مال دیا ہے اور میری ایک ہی بیٹی ہے، تو میں یہ چاہتا ہوں کہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں۔ حضورؐ نے کہا: نہیں، نہیں۔ انہوں نے پوچھا: اگر دو تہائی خرچ کر دوں؟ حضورؐ نے کہا: نہیں۔ پوچھا: اگر میں آدھا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں؟ حضورؐ نے کہا: نہیں۔ پھر پوچھا: اگر ایک تہائی خرچ کر دوں؟ تو حضور نے فرمایا: ’’الثلث والثلث کثیر‘‘ ایک تہائی ٹھیک ہے، اور ایک تہائی بھی بہت ہے۔ لہٰذا اس حدیث کی روشنی میں وصیت کا دوسرا ضابطہ اور قانون ہے کہ وصیت جب بھی ہوگی وہ ایک تہائی کے اندر ہوگی۔
ہمارے ہاں بعض لوگوں کہتے ہیں کہ ہمارا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دو۔ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: ’’ان تذر ورثتک اغنیاء خیر من ان تذر ھم عالۃ یتکففون الناس‘‘ (بخاری و مسلم) کہ تم اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جاؤ، یہ نہیں کہ جو کچھ ہے بس سارا اللہ کی راہ میں لگا دو۔ یہ کوئی صحیح بات نہیں ہے، یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سوٹ کرتا ہے، عام لوگوں کے لیے یہ نہیں ہے۔ عام لوگوں کے لیے یہ ہے کہ اگر بہت دینا ہے تو ایک تہائی دے سکتے ہو بس، اس سے زیادہ نہیں۔ اس لیے حضورؐ نے فرمایا کہ اپنے جانے کے بعد اپنی اولاد اور بیوہ کو مالدار چھوڑ کر جاؤ، یہ بہتر ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تمہارے جانے کے بعد — تم تو بڑے مالدار تھے لیکن تم نے سارا اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا — اور تمہاری اولاد لوگوں سے بھیک مانگ رہی ہے۔
صرف جائز کاموں میں
اسی طرح جب وصیت ہو تو ذہن میں رہے کہ وہ گناہ کے کام کی وصیت نہ ہو، وصیت جائز کاموں میں ہوتی ہے اور وہ کوئی بھی ہو سکتی ہے: مسجد میں، چیریٹی میں، فاؤنڈیشنز میں، وغیرہ۔
لہٰذا جب بھی وصیت کرنی ہو تو ان ضابطوں کا خیال رکھیں اور لکھت پڑھت کے ساتھ وصیت کر سکتے ہیں۔
(3) میراث
تیسری چیز ہے میراث، جو مرنے کے بعد ہوتی ہے۔ اصولی طور پر جب مرنے والا چلا گیا، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، تو اب اس کا تصرف اپنے مال پر نہیں ہے، لیکن پھر بھی شریعت نے اتنا حق دیا ہے کہ اگر اس نے اپنی زندگی میں کوئی وصیت کر دی ہو تو ایک تہائی تک دے سکتا ہے۔
چند غلط تصورات
عاق کرنے کی حیثیت
لہٰذا اس یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہمارے ہاں جو کوئی باپ اپنی اولاد کو جائیداد سے عاق کر دیتا ہے، تو ایسا کرنے سے کوئی عاق ہوتا ہی نہیں ہے۔ خبروں میں بھی آ جاتا ہے، قانون بھی بنا ہوا ہے، جو کہ خلافِ اسلام اور خلافِ شریعت قانون ہے کہ بچے کو عاق کر دیا، بیوی کو عاق کر دیا، کسی وارث کو عاق کر دیا۔ وراثت کے بارے میں ایک ضابطہ ذہن میں رکھ لیں کہ وراثت حقِ جبری ہے، اختیاری نہیں ہے۔ جبری کا مطلب ہے کہ جیسے ہی بندہ اس دنیا سے گیا، مرتے ہی سارا مال اللہ کی ملکیت میں آ گیا اور اللہ نے اس مال کا اُس کے ورثاء کو مالک بنا دیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ فلاں کو نہ ملے، فلاں کو ملے اور اتنا مل جائے، جب آپ مر گئے تو اس کے بعد اپنے مال پر کوئی زور نہیں ہے، سوائے اس کے کہ آپ نے وصیت کر دی ہو، وہ بھی ایک تہائی کے اندر۔ لہٰذا کسی کو جائیداد سے عاق کر دینے سے وہ عاق نہیں ہوتا۔
حق معاف کرنے کی حیثیت
اس سے یہ بھی پتا لگ گیا کہ جب بھائی نے بہن کو حصہ نہیں دیا — دیکھا کہ میت پڑی ہوئی ہے تو بولا کہ بھئی میں تو ابھی ابھی سب تقسیم کرتا ہوں — اب بہن عورت ہے، صنف نازک ہے، کمزور ہے، وہ کہتی ہے: نہیں نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ بھائی نے نعرۂ تکبیر لگا دیا، خوش ہو گیا اور سارا مال ہڑپ کر لیا کہ بہن نے معاف کر دیا ہے۔ اس معاف کر دینے سے بھی معاف نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ ذہن میں رکھ لیں کہ میراث کا حق معاف کر دینے سے معاف نہیں ہوتا۔ بہن سو دفعہ کہہ دے کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، پھر بھی اس کو ملے گا۔ بیٹی سو دفعہ کہہ دے کہ مجھے میرے باپ یا میری ماں کے مال میں سے کچھ نہیں چاہیے، بھائی! آپ بس میرے لیے دعائیں کرنا۔ پھر بھی یہ معاف نہیں ہوگا کیونکہ وراثت حقِ جبری ہے، یہ مل کے رہتا ہے، اختیاری نہیں۔ یہ وراثت کا سب سے اہم اور بڑا ضابطہ ہے۔
حق سے دستبرداری کی حیثیت
اسی طریقے سے زندگی میں اگر کبھی کسی بیٹی نے کہہ دیا کہ ابو! مجھے آپ کے مال میں سے کچھ نہیں چاہیے۔ اور ایک بیٹے نے اس کو محفوظ کر لیا اور مرنے کے بعد بہن کو بولا کہ آپ نے تو خود کہا تھا کہ مال نہیں چاہیے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چاہے زندگی میں سو دفعہ اس نے کہہ دیا ہو، پھر بھی ملے گا، کیونکہ وراثت حقِ جبری ہے، یہ اللہ کا بتایا ہوا ضابطہ ہے، مل کے رہے گا۔
اپنا حق دینے کی جائز صورت
ہاں، ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ بہنوں کو ان کا حق دے دیا جائے اور وہ ان کے قبضہ میں آجائے، پھر کسی بہن کی مرضی ہے کہ وہ سارا بھائی کو دینا چاہے تو دے دے۔ لیکن آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں کہ جب پیسے آ جائیں تو اس کے بعد کوئی کسی کو دے دے۔ اے ٹی ایم کے اندر ہم جاتے ہیں اور کارڈ ڈالتے ہیں کہ بھئی اتنے پیسے نکال لیں، تو اس کے بعد سب سے پہلے کیا ہوتا ہے؟ کیا پیسے باہر آتے ہیں؟ نہیں! پہلے کارڈ باہر آتا ہے۔ یہ مشین بنانے والے نے بہت سوچ سمجھ کے بنایا ہے اور ان کو پتا ہے کہ اگر پہلے پیسے باہر کر دیے تو پیسہ دیکھ کر تو انسان اوقات بھول جاتا ہے، وہ تو کارڈ لیے بغیر نکل جائے گا، اس لیے پہلے اے ٹی ایم مشین کارڈ باہر نکالتی ہے۔ تو جتنے بھی لوگ کہتے ہیں کہ بہن نے معاف کر دیا، بیٹی نے معاف کر دیا، تو ایک دفعہ ان کو دے کر دیکھو، پھر اگر معاف کر دے تو بتا دینا کہ معاف کیا ہے۔ لہٰذا میراث کے اندر یہ ضابطہ رہنا شرعاً بہت ضروری ہے۔
حق کا تقاضا کرنے کی ضرورت
اپنے حق کا تقاضا کرنا بھی سیکھیں کہ اگر آپ کا کوئی بڑا چلا گیا اور اللہ نے آپ کو اس کی میراث میں سے کچھ دینا ہے، تو بعض لوگ شرماتے ہیں کہ میں بھائی سے کیسے مانگوں؟ حالانکہ اپنے حق کا تقاضا کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ اور یہ بھی سن لیں کہ اگر وقت کے اوپر آپ نے اپنے حق کا تقاضا نہیں کیا تو پھر آپ کو زندگی بھر وہ چیز نہیں ملے گی، پھر آپ روتے دھوتے رہیں گے۔ وقت پر کھڑے ہوں کہ مجھے میرا حق چاہیے، بھلے کسی کو برا لگے۔ جب وہ مال ہڑپ کر سکتا ہے اور اس کو برا نہیں لگ رہا، تو آپ کو اپنا حق مانگتے ہوئے کیوں برا لگ رہا ہے؟
لہٰذا گھر جا کر اپنی بیٹیوں کو اور اپنی بہنوں کو ابھی سے ہی مسئلہ سمجھائیں کہ مرنے کے بعد تم نے حق مانگنا ہے، شرمانا نہیں ہے، تمہارا حق کا تقاضا کرنا ہرگز غلط نہیں ہے۔ اپنی بیٹی کو سمجھائیں کہ مرنے کے بعد میرا بیٹا کچھ بھی کہہ دے، آپ نے اپنا حق مانگنا ہے، ادب سے مانگنا ہے، شرمانا نہیں ہے اور حق کی پوری وصولی کرنی ہے، وقت پر خاموشی ہو گئی تو پھر زندگی بھر نہیں ملے گا۔
مال کی ملکیت کا ابہام
ہمارے ہاں یہ بات پتا نہیں ہوتی کہ اس مال کا مالک کون ہے۔ جبکہ وراثت چلتی ہے مملوکہ مال میں۔ مرنے کے بعد مسئلہ پوچھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں ہے کہ فرنیچر کس کا ہے، تو پھر مفتی صاحب کیا جواب دیں گے؟ لہٰذا زندگی کے اندر اپنی ملکیت کی چیزوں کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے، ہر بندے کو پتا ہونا چاہیے کہ بھئی یہ گاڑی فلاں کی ہے، گھر فلاں کا ہے، فرنیچر فلاں کا ہے، کاروبار فلاں کا ہے، بیٹے کی کاروبار میں حیثیت کیا ہے۔ جب ابہام ہوتا ہے تو مرنے کے بعد وہ مفتی صاحب کو پریشان کرتے ہیں کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا، ہم تو ایسے ہی کام کر رہے تھے۔
لہٰذا ہر چیز کا پتا ہونا بہت ضروری ہے کہ کون سی چیز کس کی ہے۔ بعض چیزیں بڑی سستی سی ہوتی ہیں جیسے کپڑے ہیں، پین ہیں، چشمے ہیں، گھڑی وغیرہ معمولی سی ہے، تو اس کے متعلق یہ اصول ہے کہ یا تو سارے ورثاء بیٹھ کر ٹیبل ٹاک کریں کہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دو، اور اگر قیمتی چیزیں ہیں تو ان کی قیمت لگوائی جائے اور سب کو میراث میں تقسیم کیا جائے، یا کوئی وارث یہ کہہ دے کہ والد صاحب کی یا میری والدہ کی یہ ساری چیزیں مجھے دے دو اور میں اس کی رقم جمع کرا دیتا ہوں جو ورثے میں تقسیم ہو جائے۔
تقسیمِ وراثت کی ترتیب
جب کوئی شخص مرتا ہے تو مرنے کے بعد سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کا خرچہ مرحوم کے مال میں سے نکالا جاتا ہے۔ اس کے لیے شریعت نے بیٹے کو، بیٹی کو، والدین کو مکلف نہیں بنایا ہے۔ مرنے کے بعد اس کے اپنے مال میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا خرچہ نکلے گا۔
اس کے بعد اگر اس نے کوئی قرضہ لیا ہوا ہے تو اس کے ترکے میں سے وہ قرضہ ادا ہوگا۔
قرضے کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی تھی تو وہ ایک تہائی کے اندر نافذ کی جائے گی۔
پھر جو مال بچے گا اُس کی مارکیٹ ویلیو نکال کر تمام ورثاء میں اللہ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
اس میں ایک بات یہ بھی ذہن میں رکھ لیں — جو میں بطور مبالغہ عرض کر رہا ہوں — کہ مرحوم کے دانتوں میں الائچی کا جو دانہ پھنسا ہوا ہو، اس کو بھی میراث میں تقسیم کیا جائے۔ کیونکہ عام طور پر سوال یہ ہوتا ہے کہ ہمارے والد صاحب کا یہ گھر تھا، اس کو کیسے تقسیم کریں؟ تو بھئی، باقی چیزیں کہاں ہیں؟ کیونکہ جب کوئی شخص مر گیا تو اس کی ملکیت کی ساری چیزیں گھڑی، گاڑی، گھر، جائیداد، کیش وغیرہ سب کو جمع کیا جاتا ہے اور پھر تقسیم کیا جاتا ہے۔ محض کوئی ایک چیز تقسیم والی نہیں ہے، سب چیزوں کی تقسیم ہو گی۔ اس کو میں نے یوں سمجھا دیا کہ الائچی کا دانہ پھنسا ہو تو وہ بھی تقسیم ہوگا، تو جب اتنے مبالغے سے ایک بات کی گئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہر چیز جو مرحوم کی ملکیت میں ہو، وہ تقسیم ہوتی ہے۔
لہٰذا یہ تین الگ الگ چیزیں ہیں:
- ہبہ — جس کا تعلق زندگی میں کوئی چیز گفٹ کرنے سے ہوتا ہے، اس کے احکام الگ ہیں۔
- وصیت — جس کا مطلب ہے میرے مرنے کے بعد یوں کر دینا، اس کے ضابطے الگ ہیں۔
- میراث اور ورثہ — یہ مرنے کے بعد اُس کا مال ہے اور اس کا ضابطہ الگ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ تمام فقہی مسائل سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے (آمین)۔





















