سیمینار: امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات

تنظیمِ اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام ’’امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات‘‘ کے عنوان سے جاری اکیس روزہ ملّی آگاہی مہم کے سلسلہ میں 9 اگست 2026ء کو قرآن آڈیٹوریم لاہور میں ایک سیمینار منعقد ہوا، جس سے مہمان مقررین جناب سراج الحق (سابق امیر جماعتِ اسلامی پاکستان) اور مولانا زاہد الراشدی (ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ) کے علاوہ جناب شجاع الدین شیخ (امیر تنظیمِ اسلامی پاکستان)، ڈاکٹر عارف رشید (صدر انجمن خدام القرآن لاہور)، اور جناب رضاء الحق (ناظم نشر و اشاعت تنظیمِ اسلامی) نے بھی خطاب کیا۔ ان تمام خطابات کی ایک جامع رپورٹ حسبِ ترتیب یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

جناب رضاء الحق:

جناب رضاء الحق نے اپنے افتتاحی خطاب میں امتِ مسلمہ کے عروج کے اسباب اور زوال کی وجوہات کا تذکرہ کیا اور مستقبل میں اَحیا کے لیے درکار عملی اقدامات کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی روشنی میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل اطاعت و فرمانبرداری اور تقویٰ اختیار کرنا، قرآن سے وابستہ ہونا، اور اللہ کے دین کی دعوت و اقامت کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ ختمِ نبوت کے بعد امتِ مسلمہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچائے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے، اور معاشرے میں دین کے قیام کی کوشش کرے۔

انہوں نے امتِ مسلمہ کے شاندار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے دورِ نبوی اور خلافتِ راشدہ کو مسلمانوں کے عروج کا بہترین نمونہ قرار دیا۔ اس دور میں اسلام کو سیاسی و معاشرتی میدانوں میں نمایاں غلبہ حاصل ہوا۔ بعد کے ادوار میں بعض سیاسی نقائص پیدا ہونے کے باوجود مسلمان طویل عرصے تک عالمی سطح پر طاقتور رہے اور علم، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کرتے رہے۔

خطاب میں خلافتِ عثمانیہ کے دور کو بھی مسلمانوں کی اجتماعی قوت کی اہم مثال قرار دیا گیا۔ انہوں نے سلطان عبدالحمید ثانی کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں جبکہ خلافتِ عثمانیہ سیاسی طور پر کمزور ہو چکی تھی تب بھی نظامِ خلافت کی موجودگی نے بیرونی طاقتوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو سیاسی وزن اور وقار فراہم کر رکھا تھا۔ اور امت کی اجتماعیت کے نتیجے میں دشمن قوتوں کے اندر مسلمانوں کا خوف اور احترام موجود تھا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے یورپی ممالک میں توہینِ رسالت پر مبنی ایک پروگرام کے خلاف خلافتِ عثمانیہ کے رد عمل کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں اس پروگرام کو ترک کر دیا گیا۔ اور پھر یہودیوں کی طرف سے ارضِ فلسطین میں جگہ کے حصول کے لیے خلافت کو مراعات کی پیشکش کا تذکرہ کیا، جسے سلطان عبد الحمید نے ’’معاہدہ عمریؓ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔

جناب رضاء الحق نے امتِ مسلمہ کے زوال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس کے اسباب میں داخلی کمزوریاں، باہمی تفرقہ، دنیا سے حد درجہ محبت، اور دین سے دوری کے ساتھ ساتھ بیرونی سیاسی و فکری مداخلتیں بھی شامل رہیں۔ ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً‌ ولا تفرقوا‘‘ (اٰل عمران ۱۰۳) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو، انہوں نے قرآن کریم کی اس آیت  کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا بنیادی سرچشمہ اتحاد اور اللہ کی ہدایت سے وابستگی میں ہے۔

انہوں نے موجودہ دور میں مسلم دنیا کی سیاسی تقسیم، قومی مفادات کو امت کے وسیع تر مفاد پر ترجیح دینے، معاشی انحصار اور اسلامی اقدار سے دوری پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگِ عظیم اول اور دوم کے بعد مسلمانوں کو مختلف قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا، جس کے باعث امت کی اجتماعی قوت کمزور ہو گئی ہے۔ انہوں نے سودی معاشی نظام، سیکولر رجحانات، اور تعلیمی و سیاسی نظاموں میں اسلامی اصولوں سے دوری کو بھی امت کے مسائل کا حصہ قرار دیا۔

پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا، آئین میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے اور اسلامی نظام کے قیام سے متعلق متعدد آئینی و تاریخی حوالہ جات موجود ہیں، تاہم عملی طور پر اسلامی نظام کے نفاذ کی سمت میں مطلوبہ پیشرفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے خاص طور پر سود کے خاتمے، اسلامی اصولوں کے مطابق ریاستی نظام کی تشکیل، اور معاشرے میں دینی اقدار کے فروغ کو اہم قرار دیا۔

موجودہ عالمی حالات بالخصوص فلسطین اور غزہ کے تناظر میں جناب رضاء الحق نے مسلم ممالک کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی اجتماعی پالیسیوں اور بین الاقوامی معاہدوں — غزہ بورڈ آف پیس وغیرہ — کے مقاصد پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے ذریعے وہ کہیں صہیونی طاقتوں اور ان کی ہمنوا قوتوں کو تقویت تو نہیں پہنچا رہے، اور یہ کہ ایسے اقدامات مظلوم مسلمانوں کی مدد اور ظلم کے خاتمے کے لیے کس حد تک مؤثر ہیں؟

خطاب کے اختتامی حصے میں انہوں نے قرآنِ مجید کی آیت ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کےدین) کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا‘‘ کو مرکزی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کے حالات بدلنے کا راستہ اسی اصول کی طرف واپسی میں ہے جس کی بنیاد پر مسلمانوں نے ماضی میں عروج حاصل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا آغاز فرد کی اپنی زندگی سے ہونا چاہیے، ہر مسلمان کو اپنے دائرۂ اختیار میں دین کو نافذ کرنے، اپنے گھر اور معاشرے میں اس کی دعوت دینے، اور اقامتِ دین کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حضرت عیسٰی اور امام مہدی علیہما السلام کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے حالات اور بڑی عالمی تبدیلیاں کب رونما ہوں گی، اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تاہم مسلمانوں کی ذمہ داری اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے اور آخرت کے عذاب سے نجات پائے۔

جناب رضاء الحق نے اس دعا کے ساتھ خطاب کا اختتام کیا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تفرقے سے نجات دے، باہمی اتحاد و اتفاق پیدا کرے، دین پر عمل اور اس کی دعوت و اقامت کی جدوجہد کی توفیق عطا فرمائے، اور مسلم حکمرانوں سمیت پوری امت کو اسلام کی بنیاد پر متحد ہو کر آگے بڑھنے کی صلاحیت اور ہمت عطا کرے۔

ڈاکٹر عارف رشید:

ادارہ انجمن خدام القرآن لاہور کے صدر جناب ڈاکٹر عارف رشید نے اپنے خطاب میں امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت، پاکستان کے قیام کے مقاصد، اور بالخصوص رجوع الی القرآن کی اس تحریک کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی جس کا آغاز ان کے والدِ محترم ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔

ڈاکٹر عارف رشید نے کہا کہ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی خطے کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کے پسِ پشت اسلامی نظامِ زندگی کے قیام اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایک عادلانہ معاشرے کی تشکیل کا تصور موجود تھا۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘ اسی مقصد کی علامت تھا۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان اپنی اصل منزل کی طرف پیشرفت کرنے کی بجائے رفتہ رفتہ مختلف سیاسی، معاشی، معاشرتی، اور اخلاقی مسائل کا شکار ہوتا چلا گیا۔ انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارے معاشرے کی موجودہ اخلاقی و تہذیبی صورتحال اسی کی مزید بگڑی ہوئی صورت ہے جس کا تذکرہ ایک صدی قبل علامہ محمد اقبالؒ نے کیا تھا۔

خطاب کا بڑا حصہ ’’رجوع الی القرآن‘‘ کی تحریک کے تاریخی سفر پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر عارف رشید نے بتایا کہ ان کے والدِ محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے زمانۂ طالب علمی ہی میں قرآنِ حکیم اور اسلامی نظامِ زندگی سے گہرا تعلق قائم کرلیا تھا۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے، اس دور میں قرآنی تربیتی پروگراموں، دروس، اور خطابات میں فعال کردار ادا کیا اور بعد ازاں جماعتِ اسلامی کی رکنیت بھی اختیار کی۔ تاہم جب انہیں محسوس ہوا کہ جماعت میں سیاسی و انتخابی سرگرمیوں کا رنگ غالب آ رہا ہے تو نہ صرف انہوں نے بلکہ بعض دیگر اکابر علماء نے بھی اس سے علیحدگی اختیار کر لی، جن میں مولانا عبد الجبار غازیؒ اور مولانا عبد الجبار حسنؒ بھی شامل تھے، کیونکہ ان کے پیشِ نظر اسلام کے غلبے کے لیے ایک ہمہ گیر دینی جدوجہد تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جماعتِ اسلامی سے علیحدگی کے باوجود ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے دینی جدوجہد ترک نہیں کی بلکہ کراچی میں قرآن کی دعوت و تعلیم اور دروس کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعد ازاں ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ساہیوال میں ’’دارالاقامہ‘‘ کے ذریعے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کیا، اس ادارے میں قرآن و حدیث اور عربی گرامر کی تعلیم کا اہتمام کیا گیا، اور مولانا عبدالغفار حسنؒ جیسے جید عالمِ دین بھی اس کام سے وابستہ ہوئے۔

ڈاکٹر عارف رشید نے بتایا کہ 1966ء میں لاہور کو مرکز بنا کر ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے رجوع الی القرآن کی تحریک کو نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھایا۔ بطور میڈیکل ڈاکٹر مصروف طبی زندگی کے باوجود ہفتے کے متعدد ایام مختلف آبادیوں میں دروسِ قرآن کے لیے وقف ہوتے تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ کا ایک مختصر مگر جامع ’’منتخب نصاب‘‘ ان دروسِ قرآنی کی بنیاد ہوا کرتا تھا، جس میں ڈاکٹر اسرار صاحبؒ نے بہت سے اضافے کیے تھے۔ اس ساری جدوجہد کا مقصد عامۃ المسلمین کو ان کی بنیادی دینی ذمہ داریوں، بالخصوص عبادتِ الٰہی، شہادت علی الناس، اور اقامتِ دین کے تقاضوں سے آگاہ کرنا تھا۔ یہ نصاب لاہور کے مختلف حلقوں میں بارہا پڑھایا گیا اور بعد میں قرآنی دعوت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ انہوں نے مسجدِ شہداء میں ہونے والے ہفتہ وار درسِ قرآن کا بھی ذکر کیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے، اور اس اجتماع کی اصل کشش اور تاثیر قرآنِ حکیم ہی کی تھی، کیونکہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم اور فطرتِ سلیم عطا فرمائے، وہ قرآن کے پیغام کی طرف ضرور متوجہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عارف رشید نے بتایا کہ 1966ء سے 1972ء تک ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے تقریباً تنِ تنہا قرآن کی عمومی دعوت کا کام آگے بڑھایا، یہاں تک کہ 1972ء میں انجمن خدام القرآن کا قیام عمل میں آیا۔ یہ تحریک کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل تھا، کیونکہ اب قرآن کی دعوت کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ وجود میں آچکا تھا۔ انجمن کے تحت قرآن اکیڈمی اور بعد ازاں قرآن آڈیٹوریم کی تعمیر ہوئی۔ وقت کے ساتھ کراچی، ملتان، جھنگ، فیصل آباد، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی انجمن خدام القرآن اور قرآن اکیڈمیوں کا قیام عمل میں آیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے نزدیک محض دعوت، تبلیغ، نشر و اشاعت اور دروسِ قرآن کافی نہیں تھے بلکہ ان کے پیشِ نظر اسلام کے غلبے کے لیے ایک منظم جدوجہد بھی تھی، جس کے نتیجے میں 1975ء میں تنظیمِ اسلامی کا قیام عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عارف رشید نے اس امر پر زور دیا کہ انجمن خدام القرآن اور تنظیم اسلامی دو الگ مگر باہم مربوط شعبوں کی حیثیت رکھتے ہیں، اور قرآن کی دعوت و تعلیم اور اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد دونوں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے مجموعی مشن کا حصہ تھیں۔

خطاب میں انجمن خدام القرآن کے ابتدائی بانی اراکین کا بھی ذکر کیا گیا۔ ڈاکٹر عارف رشید کے مطابق انجمن کی بنیاد بیس افراد نے رکھی تھی، جن میں سے اٹھارہ اب وفات پاچکے ہیں، جبکہ دو بزرگ تاحال حیات ہیں۔ انہوں نے ان مؤسسین میں اپنے چچاؤں جناب اقتدار احمدؒ اور جناب وقار احمدؒ کا بھی ذکر کیا جو اپنے بھائی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے ساتھ ان کی جدوجہد میں شریکِ کار رہے۔ ڈاکٹر عارف رشید نے اس موقع پر انجمن کے قیام کے ابتدائی دور کی جدوجہد اور ان افراد کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ڈاکٹر عارف رشید نے ’’فیلوشپ سکیم‘‘ کو بھی ایک اہم سنگِ میل قرار دیا، جس کا مقصد ایسے نوجوانوں کی تربیت اور تیاری تھا جو اپنی زندگیاں قرآن کریم کی تعلیم و تعلّم کے لیے وقف کرنے پر آمادہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود، ان کے بھائی عاکف، اور بعض دیگر نوجوان اس پروگرام کے ابتدائی شرکاء میں شامل تھے، جیسا کہ ڈاکٹر عبد السمیع صاحب جو اِس وقت فیصل آباد کی انجمن کے صدر ہیں، اسی طرح خالد محمود صاحب جن کے پاس مکتبہ کی ذمہ داری ہے۔ بعد میں یہی پروگرام ایک سالہ ’’رجوع الی القرآن کورس‘‘ کی شکل اختیار کر گیا جس کا پہلا سیشن 1983ء میں منعقد ہوا۔ اس کورس کے اب تک درجنوں سیشن مکمل ہوچکے ہیں اور اس کے ذریعے شرکاء کو قرآن کی اصل دعوت، پیغام اور زبان سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے 1984ء میں شروع ہونے والے دورۂ ترجمۂ قرآن کو بھی تحریک کا ایک غیر معمولی سنگِ میل قرار دیا۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے رمضان المبارک میں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا ترجمہ، سیاق و سباق اور تشریحات پیش کرنے کا پروگرام شروع کیا۔ اگرچہ بعض حلقوں نے اس طرزِ عمل پر تحفظات کا اظہار بھی کیا لیکن اس پروگرام نے بڑی تعداد میں لوگوں کو قرآنِ حکیم کی طرف متوجہ کیا۔ ڈاکٹر عارف رشید کے مطابق آج تنظیم اسلامی سے وابستہ بہت سے افراد کے قرآن سے تعلق کی بنیاد اسی دورۂ ترجمۂ قرآن اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے خطابات میں ملتی ہے۔

انہوں نے قرآن کالج اور قرآن آڈیٹوریم کے قیام کو بھی اسی قرآنی مشن کا تسلسل قرار دیا اور کہا کہ ان اداروں اور پروگراموں کا بنیادی مقصد قرآن کے پیغام کو سمجھنا، سیکھنا اور دوسروں تک پہنچانا ہے۔ انجمن خدام القرآن کے تحت ایک سالہ کورس کے علاوہ سال بھر مختلف اوقات میں اسلامی تعلیمات اور قرآن فہمی کے متعدد پروگرام بھی جاری رہتے ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر عارف رشید نے اس امر پر زور دیا کہ قرآن محض گھروں میں رکھنے یا تلاوت کرنے کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت، عمل اور زندگی کی تبدیلی کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا مفہوم بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے قوموں کو بلند کرتا اور بعض کو پست کردیتا ہے۔ اس لیے قرآن انسان کے حق میں بھی حجت بن سکتا ہے اور اس کے خلاف بھی، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اسے پڑھتا، سمجھتا اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے یا نہیں۔

آخر میں انہوں نے دعا کی کہ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے رجوع الی القرآن کی جو تحریک اور اداروں کی صورت میں جو پودا لگایا تھا، اللہ تعالیٰ اسے مزید ثمر آور فرمائے، انجمن خدام القرآن اور تنظیمِ اسلامی کو ان کے مقاصد کے حصول میں برکت دے، اور دونوں ادارے باہمی تعاون کے ساتھ قرآن کے پیغام کو عام کرنے اور اسلامی زندگی کے قیام کی جدوجہد کو مؤثر انداز میں جاری رکھیں۔

جناب سراج الحق:

جناب سراج الحق نے اپنے خطاب کا آغاز اجتماع کے منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ وہ ان لوگوں کے درمیان موجود ہیں جنہوں نے شعوری طور پر قرآن و سنت کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مرکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مجلس کے انعقاد پر امیرِ تنظیمِ اسلامی جناب شجاع الدین شیخ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو اجرِ عظیم کا ذریعہ بنائے۔

جناب سراج الحق نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس تحریک کا آغاز اِس فکر کے ساتھ کیا تھا کہ دنیا بھر کے انسانوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑا جائے تاکہ وہ اس دنیا بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی۔ اگرچہ ڈاکٹر صاحبؒ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ایسے لوگ مرا نہیں کرتے جو اپنی زندگی اللہ کی راہ میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عراق کے دورے کا مشاہدہ ذکر کیا کہ وہاں لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ، امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور شاہ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ جیسی جلیل القدر شخصیات کے مزارات پر جاتے ہیں، لیکن عباسی خلافت کے بادشاہوں کے مزارات کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو لوگ قرآن و سنت کی خاطر زندگی گزارتے ہیں، دنیا انہیں یاد رکھتی ہے اور موت انہیں فنا نہیں کر سکتی۔

جناب سراج الحق نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ ایک سنگین بحران کا شکار ہے کہ اللہ کی بندگی کو مشکل اور غیر اللہ کی بندگی کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان اور عالمِ اسلام پر ایک دجالی نظام مسلط ہے۔ انہوں نے معیشت اور کرنسی کی قدر کے حوالے سے عالمی تجارتی اداروں کے تحت مسلم ممالک کی مجبوریوں کا ذکر کیا۔ انہوں کہا کہ ہم ایک ایسے نظام کے تحت رہ رہے ہیں جہاں ہمارے اپنے جسموں پر ہماری مرضی تسلیم نہیں کی جاتی۔ اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ قطر جاتے ہوئے چینی ویکسین لگوانے کے باوجود انہیں برطانوی ویکسین لگوانی پڑی، کیونکہ عالمی اداروں کی اجازت کے بغیر کوئی ویکسین تسلیم نہیں کی جاتی۔

انہوں نے لباس اور کلچر پر مغربی اثرات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کل ہمارے نوجوانوں میں نامناسب لباس پہننے کا رواج عام ہو گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اپنا ایک واقعہ سنایا کہ جہاز میں دو نوجوانوں نے مختصر لباس پہنا ہوا تھا تو میں ان سے عرض کیا کہ دوسرے مسلمان — جن کے ساتھ خواتین بھی ہیں — انہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے اور ایسا لباس پہننا اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جناب سراج الحق نے کہا کہ عالمی عدالتوں میں اسرائیلی اور بھارتی راہنماؤں کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ بے معنی ہے کیونکہ یہ عدالتیں خود استعمار کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اور تو اور ہمیں اپنی دعاؤں پر بھی اختیار حاصل نہیں ہے، اس سلسلہ میں ایک عرب ملک کا واقعہ سنایا جہاں انہوں نے قرآنی آیات تلاوت کیں تو انہیں مطلع کیا گیا کہ آئندہ ان آیات کی تلاوت نہ کریں۔ اسی طرح اپنی وزارت کے دور کا ایک واقعہ سنایا کہ جب انہوں نے چند قرآنی آیات ترجمہ کے ساتھ تلاوت کیں تو اس کے بعد انہیں اس کا موقع نہیں دیا گیا بلکہ کسی اور سے ’’آسان آیات‘‘ تلاوت کرنے کے لیے کہا گیا۔ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم گل سٹون کے اس قول کا حوالہ دیا کہ ’’جب تک مسلمانوں کے ہاتھوں میں قرآن ہے، وہ کبھی غلام نہیں بن سکتے۔‘‘

جناب سراج الحق نے خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد استعمار کی طرف سے مسلم ممالک کو رنگ، نسل، مسلک اور علاقائیت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا۔ تاہم اللہ کی سنت ہے کہ ہر دور میں کچھ شخصیات اور تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں جو لوگوں کو قرآن کی طرف بلاتی ہیں۔ انہوں نے مصر، یمن، شام، عراق اور پاکستان میں جاری بیداری کی تحریکوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کام لوگوں کو مایوس کرنا نہیں بلکہ امید دلانا ہے، اگرچہ عالمِ اسلام مشکلات کا شکار ہے مگر دوسری جانب بیداری کی لہر بھی موجود ہے اور مسلمان غلامی قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

جناب سراج الحق نے بتایا کہ وہ جماعتِ اسلامی کے رکن اس لیے بنے کہ اس کے دستور کی ایک شق یوں ہے: ’’ہم مخلوقِ خدا کو اللہ کی طرف بلائیں گے، نہ کہ کسی امیر یا فرد کی طرف‘‘۔ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو اپنا غلام بنانا چاہتی ہیں جبکہ ہماری اسلامی تحریکیں — تنظیمِ اسلامی، جماعتِ اسلامی، اخوان المسلمون وغیرہم — اللہ کی طرف بلاتی ہیں۔ انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے 1935ء کے پیغام ’’مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج وہ وقت آ گیا ہے جب مشرق سے بیداری کا سورج طلوع ہو رہا ہے:

  • افغانستان میں تین سپر پاورز (فرنگی، روسی، امریکی) کو شکست ہوئی۔
  • پاکستان نے اپنے سے آٹھ گنا بڑے دشمن بھارت کو شکست دی۔
  • حماس ایک چھوٹی تنظیم ہونے کے باوجود تین سال سے اسرائیل کا مقابلہ کر رہی ہے۔
  • ایران کی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مزاحمت جاری ہے اور اب ٹرمپ کی شکست کی باتیں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک نئی دنیا وجود میں آ رہی ہے اور امتِ مسلمہ میں وہ صلاحیت موجود ہے جو دنیا کی قیادت کے لیے ضروری ہے۔

جناب سراج الحق نے انبیاء کرامؑ کی تحریک کو ’’دل کا مرکز‘‘ اور غیر اللہ کی تحریکوں — سیکولرزم، سوشلزم، کمیونزم، سرمایہ داری وغیرہ — کو ’’معدہ کا مرکز‘‘ قرار دیا۔ اور کہا کہ قرآن کا فوکس ہمیشہ دل پر رہا ہے، اگر دل مطمئن ہو تو انسان تنہائی میں بھی پریشان نہیں ہوتا، اور اگر دل مطمئن نہ ہو تو دنیا بھر کا ساز و سامان کسی کام نہیں آتا۔ چنانچہ دل تک بات پہنچانے کا ذریعہ قرآن ہے اور ہمیں گلی گلی، کوچے کوچے، درسگاہوں اور خوابگاہوں تک قرآن کا پیغام پہنچانا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا کہ ایک سنیٹر نے سورہ اخلاص پڑھتے ہوئے غلطی کی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدان قرآن سے کتنے دور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی حدود کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا مگر قرآن و سنت کی طرف بلانے والا ایک علمی اور روحانی نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے اسلامی تہذیب و ثقافت پر ڈٹے رہنے کی تاکید کرتے ہوئے حضرت حذیفہؓ کا واقعہ یاد دلایا جس میں انہوں نے گورنر کے اعتراض پر جواب دیا تھا کہ ’’کیا میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ان بے وقوفوں کے لیے چھوڑ دوں؟‘‘

جناب سراج الحق نے حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدہ کو سراہتے ہوئے توجہ دلائی کہ یہ معاہدہ فلسطین اور غزہ کی آزادی کے لیے اسرائیل کے خلاف استعمال ہونا چاہیے۔ اور تجویز دی کہ دیگر اسلامی ممالک کو اس میں شامل کرتے ہوئے ایک مشترکہ اقتصادی، دفاعی اور تعلیمی نظام بنایا جانا چاہیے۔

اپنی گفتگو کے آخر میں جناب سراج الحق نے افغانستان کے مسئلہ پر بات کی۔ متعدد جنگوں اور طویل جدوجہد کے بعد قائم ہونے والی امارتِ اسلامی افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ حکومت بھی ناکام ہو گئی تو ہم دنیا کو کیا جواب دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت رنگ، نسل یا علاقائیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے نام پر قائم ہوئی ہے، لہٰذا تمام تر کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود اس حکومت کو کامیاب بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت سے اپیل کی کہ افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے، اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے۔ انہوں نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان وغیرہ کے لیے افغانستان ایک گیٹ وے ہے، جو پاکستان کی معیشت اور دفاع کی بہتری کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ جناب سراج الحق نے کہا کہ مسئلہ افغانستان کے حل کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مولانا زاہد الراشدی:

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے تنظیمِ اسلامی پاکستان اور اس کے ذمہ داران کو تسلسل کے ساتھ دینی و ملی سرگرمیاں جاری رکھنے پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تنظیمِ اسلامی اور اس کے سابق سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ سے دیرینہ تعلق رکھتے ہیں اور اس طرح کے اجتماعات کو نئی نسل میں دینی و قومی شعور بیدار کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی نے اپنے خطاب میں بنیادی طور پر اس تصور پر زور دیا کہ اسلام کو اپنی پسند کے چند حصوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دین ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ذاتی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں کسی قومی و سیاسی مسئلے پر گفتگو کرنے پر ایک بزرگ نے انہیں مشورہ دیا کہ جمعہ میں سیاسی باتیں نہ کیا کریں بلکہ صرف قرآن حکیم کے حوالے سے بیان کیا کریں۔ مولانا نے جواب میں قرآن مجید ہی سے یہ سوال سامنے رکھا کہ اگر قرآن میں روزے کے احکام بھی موجود ہیں اور اجتماعی معاملات سے متعلق احکام بھی، تو پھر ایک کو ’’دینی‘‘ اور دوسرے کو ’’سیاسی‘‘ قرار دے کر الگ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ فکر ’’الذین جعل القراٰن عضین‘‘ (الحجر ۹۱) کے مطابق بنی اسرائیل کا طرزِ عمل تھا جنہوں نے آسمانی ہدایات کو تقسیم کر کے رکھ دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام ’’سپیئر پارٹس کی دکان‘‘ نہیں کہ انسان اپنی پسند کے احکام منتخب کر لے اور باقی کو چھوڑ دے، بلکہ اسلام ایک مکمل پیکج ہے اور قرآن مسلمانوں کو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ اسی اصول کو انہوں نے موجودہ دور کے قومی، معاشرتی اور سیاسی مسائل پر بھی منطبق کیا۔

خطاب کا ایک اہم حصہ عالمی سطح پر مسلمانوں سے کیے جانے والے مطالبات کے تجزیے پر مشتمل تھا۔ مولانا نے کہا کہ آج مسلمان عالمی نظام اور بین الاقوامی اداروں کے دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں کہ ان سے مختلف نوعیت کے مطالبات کیے جاتے ہیں اور ان میں بعض مطالبات ایسے ہیں جن کی مثال عہدِ نبویؐ میں بھی ملتی ہے۔ انہوں نے ’’ابراہام اکارڈز‘‘ کا ذکر کیا اور پھر سورۃ الکافرون کے حوالے سے کہا کہ مکہ کے مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذہبی معاملات میں سمجھوتے اور درمیانی راستے کی تجویز پیش کی تھی، مگر قرآن نے عقیدۂ توحید پر کسی سودے بازی کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے تلقین کی کہ موجودہ دور میں بھی مسلمانوں کو اپنے بنیادی عقائد اور دینی شناخت کے بارے میں اسی اصولی موقف کو سامنے رکھنا چاہیے۔

مولانا زاہد الراشدی نے ختمِ نبوت کے مسئلے کو بھی اسی تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے مسیلمہ کذاب کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شراکت کا دعویٰ اور اس کے ذریعے ایک ’’مشترکہ‘‘ مذہبی حیثیت قائم کرنے کی کوشش کا ذکر کیا۔ آج بھی بعض عالمی مطالبات کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے مذہبی عقیدے کو تسلیم رکھتے ہوئے دوسرے متنازع دعووں اور تصورات کو بھی اسی سطح پر تسلیم کریں۔ انہوں نے اس کے مقابلے میں ختمِ نبوت کے قطعی اسلامی عقیدے کو بنیادی اصول قرار دیا۔

اسی طرح انہوں نے طائف کے وفد کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے خواہشمند لوگوں نے اپنی معاشرتی اور معاشی روایات برقرار رکھنے کی شرائط پیش کی تھیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو شرائط کے ساتھ قبول کرنے کا راستہ اختیار نہیں کرنے دیا۔ مولانا نے کہا کہ اسلام ایک مکمل پیکیج ہے جس میں عبادات، معاشرت، معیشت اور اخلاق سب شامل ہیں اور کسی ایک حصے کو قبول کرکے دوسرے کو اپنی سہولت کے مطابق چھوڑ دینا اسلامی تصورِ زندگی سے مطابقت نہیں رکھتا۔

مولانا نے پاکستان کے حوالے سے بھی اسی اصولی رویے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر اسلام ایک مکمل دین ہے تو مختلف علاقوں اور طبقات کے لیے اس کے بنیادی احکام اور معیار الگ الگ کیسے ہو سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ طائف کے لوگوں نے مختصر مدت میں یہ بات سمجھ لی تھی کہ اسلام کو اپنی شرائط کے مطابق تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ہمارے مسلمان معاشرے کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس بنیادی مسئلے پر اب بھی فکری الجھن کا سامنا ہے۔

پاکستان کے قیام کے حوالے سے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ ملک کے قیام کے وقت اسلامی تہذیب، مسلم شناخت اور اسلام کے لیے ایک الگ ریاست کے تصور کو بنیادی جواز کے طور پر پیش کیا گیا تھا، پھر انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم محض یہ بات دہراتے چلے جائیں گے کہ پاکستان اسلامی نظام اور اسلامی تہذیب کے تحفظ کے لیے قائم ہوا تھا؟ اس لیے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود قوم مسلسل اس سوال کا سامنا کر رہی ہے کہ ان مقاصد کو عملی شکل کب دی جائے گی؟

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری نئی نسل میں دینی و ملی اور قومی شعور منتقل کرنا ہے۔ اور صرف عام نوجوان ہی نہیں بلکہ علماء کی نئی نسل کو بھی اپنے ماضی، قومی جدوجہد اور دینی و ملی مسائل کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تنظیمِ اسلامی اور ایسے دیگر اجتماعات کو اس حوالے سے مثبت کاوش قرار دیا جو نئی نسل کو ماضی سے جوڑنے اور اجتماعی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

خطاب کے اختتام پر مولانا زاہد الراشدی نے قومی و ملی مسائل پر اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قیادتیں مختلف مواقع پر کسی قومی مسئلے کے حوالے سے متحد تو ہو جاتی ہیں مگر اکثر یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ قومی اور ملی مسائل پر پیدا ہونے والی یکجہتی کو وقتی اجتماع تک محدود رکھنے کی بجائے مستقل اجتماعی قوت میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے اپنی طویل جماعتی زندگی کے تجربے کی بنیاد پر کہا کہ جب بھی قومی و ملی معاملات میں مختلف حلقے متحد ہو کر کسی اصولی موقف پر کھڑے ہوئے، انہیں ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

جناب شجاع الدین شیخ:

امیر تنظیمِ اسلامی جناب شجاع الدین شیخ نے اللہ رب العالمین کا شکر ادا کرتے ہوئے سیمینار کے باحسن و بخوبی اختتام پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے بارش اور شدید موسم کے باوجود تمام حاضرین، بالخصوص مہمانانِ گرامی جناب سراج الحق کا اسلام آباد سے اور مولانا زاہد الراشدی کا گوجرانوالہ سے سفر کر کے تشریف لانے پر تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے سیمینارز کا بنیادی مقصد دینی شخصیات سے استفادہ، مختلف علمی و فکری زاویوں کو سمجھنا، اور امت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ فہم پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تنظیمِ اسلامی کے تحت 31 جولائی سے 21 اگست تک ’’امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات‘‘ کے عنوان سے ملک گیر مہم جاری ہے۔ اس مہم کا مقصد خطباتِ جمعہ، دروسِ قرآن، الیکٹرانک و پرنٹ اور سوشل میڈیا، اور عمومی مظاہروں کے ذریعے امت کو بیدار کرنا ہے۔ انہوں نے قرآن حکیم میں مذکور ’’اصحابِ سبت‘‘ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں مگر ہماری ذمہ داری اللہ کے حضور  — معذرۃً‌ الیٰ ربکم — یہ عرض کرنا ہے کہ ہم نے اپنا فرض پورا کیا۔

جناب شجاع الدین شیخ نے فاضل مقررین کے نکات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب رضا الحق نے امت کی تاریخی تابناکی، 1924ء میں خلافت کے خاتمے کے بعد زوال، اور دوبارہ عروج حاصل کرنے کے تدریجی مراحل پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر عارف رشید نے ’’رجوع الی القرآن‘‘ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے بانی تنظیمِ اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی کاوشوں کا تذکرہ کیا۔ جناب سراج الحق نے مسلمانوں پر مغربی تہذیبی اثرات، عالمی اداروں کا معاشی تسلط، اور مذہبی معاملات حتٰی کہ دعاؤں پر پابندیوں جیسے غلامانہ رویوں کا ذکر کیا، اور اس صورتحال کے علاج کے طور پر قرآنی دعوت کے فروغ پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی قریب میں امت کا درد رکھنے والی تمام شخصیات — چاہے وہ علامہ اقبالؒ ہوں، مولانا مودودیؒ ہوں یا ڈاکٹر اسرار احمدؒ — سبھی نے قرآن پاک سے تعلق مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کے نزدیک امت کے زوال کے دو بنیادی اسباب تھے: پہلا قرآن کو فراموش کرنا، اور دوسرا باہمی تفرقہ بازی۔ اسی طرح مفتی محمد شفیعؒ نے اپنے رسالے ’’وحدتِ امت‘‘ میں تفصیل سے واضح کیا ہے کہ اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے۔ اگر ہم نے قرآن کو اپنا رہنما اور امام بنایا ہوتا اور فرمانِ الہٰی ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا‘‘ (اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو) پر سچے دل سے عمل کیا ہوتا، تو آج امت یوں فرقہ واریت اور مسلک پرستی کے عفریت میں نہ گھری ہوتی۔ امت کے تمام اکابر علماء نے ہمیشہ قرآن ہی کی طرف رجوع کا راستہ دکھایا ہے۔

امیر تنظیمِ اسلامی نے زور دیا کہ قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے عرب کے صحرا نشینوںؓ کی زندگیوں میں حقیقی انقلاب برپا کیا۔ کافروں کو اس کے اثر کا علم تھا، اسی لیے وہ ’’لا تسمعوا لہذا القرآن والغوا فیہ‘‘ (حم السجدۃ ۲۶) شور مچا کر قرآن کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے تھے۔ آج دجالی تہذیب، میڈیا، اور مادہ پرستی کے ذریعے مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھا جا رہا ہے۔ مسلمان اگر ظاہری و مادی افکار اور مرعوبیت سے نکل کر قرآن سے حقیقی تعلق جوڑیں تو ان کا ایمان مضبوط ہوگا اور وہ غلامانہ ذہنیت سے آزاد ہو سکیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ستاون مسلم ممالک کے پاس ایٹمی صلاحیت، دفاعی قوت، تیل کی دولت، وسیع تر معاشی وسائل اور عظیم الشان دماغ موجود ہیں لیکن اس کے باوجود امت زوال پذیر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ نبویؐ پیشگوئی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ امت میں ’’وھن‘‘ (دنیا کی محبت اور موت سے نفرت) پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے مسلم ممالک کے اتحاد، عسکری بلاک، اور فلسطین کے حوالے سے OIC کے چارٹر پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جب دنیا اپنے مفادات کے لیے نیٹو اور یورپی یونین بنا سکتی ہے تو کلمۂ توحید پر مبنی یہ امت متحد کیوں نہیں ہو سکتی؟

جناب شجاع الدین شیخ نے کہا کہ پاکستان امتِ مسلمہ کا اہم ترین حصہ ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی۔ آج لسانیت، تعصبات، اور سیاسی و معاشی بحرانوں نے آزادکشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے خطوں میں سنگین حالات پیدا کر دیے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں وارد خراسان کے خطے — جس میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے کچھ حصے شامل ہیں — کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ غلبۂ اسلام اور نصرتِ الٰہی کے لیے تقویٰ، باطنی صفائی اور دینی کمٹمنٹ شرط ہے کیونکہ معصیت بھری زندگی کے ساتھ اللہ کی مدد حاصل نہیں ہو سکتی۔

امیر تنظیمِ اسلامی نے درج ذیل نکات پر عملی لائحہ عمل پیش کیا:

  • دنیا میں برپا فساد ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، لہٰذا فردً‌ا فردً‌ا اور اجتماعی سطح پر سچی توبہ اور استغفار کی ضرورت ہے۔
  • سب سے پہلے ساڑھے پانچ فٹ کے وجود پر شریعت کو نافذ کرتے ہوئے نماز قائم کی جائے؛ جھوٹ، وعدہ خلافی، سود، رشوت، بے پردگی اور وراثت میں بیٹیوں کا حق مارنے جیسے گناہوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
  • انفرادی اصلاح کے بعد منظم اجتماعیت اختیار کر کے اقامتِ دین اور اتحادِ امت کی جدوجہد کی جائے اور تمام حکمرانوں کو ان کی شرعی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا جائے۔

fb.com/share/v/1PwQt79nvM

اخبار و آثار

(الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۹

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۵)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

ابولہب کے لیے تخفیفِ عذاب کی روایت : تنقیدی جائزہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۲)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۴)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۵)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۹)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۷)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

ہبہ، وصیت اور میراث کے شرعی احکام و ضوابط
مولانا مفتی عبد الرحمٰن منیر

غیر مسلموں کو سلام کہنے کا شرعی و فقہی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

افواجِ پاکستان کا ترانہ
سید امین گیلانیؒ

6 ستمبر 1965ء  —    وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اسلام اور شخصی آزادی (۱)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

ریاست کی ناکامی پرکھنے کے اصول اور کامیاب بنانے کے اقدامات
اسرار ایوب

پاکستان اور افغانستان کا ایک مستقبل
مولانا فضل الرحمٰن

سیمینار: امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات
تنظیمِ اسلامی

سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ
الاحسان ٹی وی

کتبۂ مرقدِ محمودؒ کے مندرجات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازی اور شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

Protection of Muslim Family Laws
Mufti Taqi Usmani

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۳)
حافظ مجددی

The Qadiani Question in State Appointments
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات