غیر مسلموں کو سلام کہنے کا شرعی و فقہی جائزہ

دنیا کے مختلف گوشوں میں آباد مسلمانوں کی طرف سے یہ مسئلہ کثرت سے پوچھا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں غیر مسلم حضرات کو سلام کرنے کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟ بالخصوص وہ مسلمان جو مغربی ممالک میں آباد ہیں، جہاں غیر مسلموں کی اکثریت ہیں، انہیں اس مسئلے کا زیادہ سامنا رہتا ہے۔ میں نے اس مسئلے کی وضاحت قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہو سکے۔

اس سلسلے میں بطور خاص یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے فقہائے کرام نے سماجی، معاشرتی، سیاسی، بین الاقوامی اور اہلِ ذمہ غیر مسلموں سے متعلق مسائل پر نہایت دقتِ نظر کے ساتھ گفتگو فرمائی ہے، لیکن، چونکہ یہ فقہی ذخیرہ زیادہ تر اُس عہد میں مرتب ہوا ہے جب مسلمان عروج، غلبہ اور اقتدار کی حالت میں تھے، اس لیے ان کے اجتہاد و استنباط میں ان حالات کی پوری جھلک نمایاں طور پر موجود ہے۔

اب جبکہ وہ حالات باقی نہیں رہے اور دنیا کے حالات بہت تیزی سے بدل چکے ہیں تو ضروری ہے کہ موجودہ حالات کے پس منظر میں بعض مسائل پر ازسرنو غور کیا جائے، خصوصاً‌ ایسے مسائل میں جہاں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہو، وہاں ضرورت کے موقع پر جس فقیہ کے قول میں مسلمانوں کیلئے آسانی اور سہولت کا پہلو موجود ہو، اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ البتہ اس سلسلے میں سلفِ صالحین کے اجتہادات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کے ارشادات، سیرت نبویؐ کے اشارات اور شریعتِ اسلامی کے بنیادی اصول و قواعد کو بھی پیش رکھنا نہایت ضروری ہے۔

بہرحال زیربحث مسئلہ یہ ہے کہ غیر مسلموں سے ملاقات کے وقت انہیں پہلے سلام کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یا غیر مسلم کے سلام کے جواب میں وعلیکم السلام کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟ 

غیر مسلموں کو سلام میں پہل کرنا

اس مسئلے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ جو حضرات عدمِ جواز کے قائل ہیں اور غیر مسلم کو سلام میں پہل کرنا جائز نہیں سمجھتے، وہ اپنے موقف کے ثبوت میں ایک روایت پیش کرتے ہیں جسے متعدد محدثین نے الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔

عن سھیل بن ابی صالح قال خرجت مع ابی الی الشام فجعلوا یمرون بصوامع فیہا نصاری فیسلمون علیہم فقال ابی: لا تبدوہم بالسلام، فان ابا ہریرۃ حدثنا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لاتبدوہم بالسلام فاذا لقیتموہم فی الطریق فاضطر وہم الی اضیق الطریق۔ (ابو داؤد، کتاب الادب باب فی السلام علی اہل الذمۃ: ۳۶۶/۲، رقم الحدیث: ۵۲۰۵) (مسلم، باب النہی عن ابتداء اہل الکتاب بالسلام ۲۱۳/۲۰)
سھیل بن ابی صالح کہتے ہیں، میں اپنے والد کے ہمراہ ملک شام کی طرف گیا، وہاں لوگ ایسے گرجوں کے پاس سے گزرنے لگے جن میں عیسائی موجود تھے، پس وہ انہیں سلام کرنے لگے، اس پر میرے والد نے کہا: انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ حضرت ابوہریرہؓ نے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اہل کتاب کو پہلے سلام نہ کرو، بلکہ جب تمہاری ان سے راستے میں ملاقات ہو تو انہیں تنگ راستے کے تنگ حصے میں چلنے پر مجبور کرو۔‘‘

مذکورہ حدیث اور اس مضمون کی دیگر روایات کی بنیاد پر جمہور فقہائے کرام کے نزدیک غیر مسلموں کو سلام میں پہل کرنا جائز نہیں ہے۔ 

البتہ امام نوویؒ اور علامہ ابن قیمؒ نے اس مسئلے میں متعدد صحابہ اور فقہاء، مثلاً‌: حضرت ابن عباسؓ، ابو امامہؓ، ابن ابی محیریزؒ کے متعلق لکھا ہے کہ یہ حضرات عمومی احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کو سلام میں پہل کرنا جائز ہے۔ اسی طرح فقہائے احناف کے نزدیک ضرورت اور حاجت کے موقع پر غیر مسلم کو پہلے سلام کرنا جائز ہے۔ فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

واما التسلیم علی اہل الذمۃ، فقد اختلفوا فیہ ایضا، قال بعضہم لاباس بہ، و قال بعضہم لا یسلم علیہم، وہذا اذا لم یکن للمسلم حاجۃ الی الذمی، فان کان لہ حاجۃ فلا باس بالسلام علیہ، لان النہی عن السلام لتو قیرہ، ولا توقیر للذمی اذا کان السلام لحاجۃ۔ (والفتاوی التاتارخانیۃ: ۱۸ /۸ / کتاب الکراہیۃ، الفصل الثامن فی السلام والتشمیت، ط، فاروقیہ، لاہور ۱۴۳۱ھ)
اب اس سلسلے میں نکتۃ الغور یہ ہے کہ اسلامی عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرنے اور موجودہ حالات میں انہیں اسلام سے متعلق ہر قسم کی بدگمانی سے بچانے اور اسلام سے مانوس اور قریب کرنے سے بڑھ کر کون سی بڑی ضرورت اور حاجت ہو سکتی ہے۔ ہمارے فقہائے کرام نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ: اذا دخل ذمی علی مسلم فقام لہ، ان قام طمعا فی اسلامہ فلا باس بہ وان قام تعظیمالہ من غیر ان ینوی شیئا مماذ کرنا او قام طمعا لغناہ کرہ لہ ذالک۔ (فتاویٰ ہندیہ، ۸ ۳۴/۵، ط: رشیدیہ)

جب کوئی ذمی شخص کسی مسلمان کے پاس آئے اور وہ اس کیلئے کھڑا ہو جائے تو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ اس ذمی کے اسلام لانے کے طمع میں کھڑا ہوا تو شرعاً‌ کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر وہ کسی چیز کی نیت کے بغیر — جن کا ہم نے ذکر کیا — اس کے تعظیم کیلئے کھڑا ہوا، یا اس کی دولت مندی کے باعث کھڑا ہوا، تو یہ اس کیلئے مکروہ ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ سلام ایک دعا ہے اور اس کے دعا ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ اور حدیث شریف کے مطابق غیر مسلم کیلئے مغفرت کے علاوہ ہدایت، صحت، تندرستی اور عافیت وغیرہ کی دعا کرنا جائز ہے۔ چنانچہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے پینے کی کوئی چیز طلب کی تو آپ نے اسے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حسین و جمیل رکھے۔ چنانچہ مرتے وقت تک اس کے بال سیاہ رہے۔ (مصنف عبد الرزاق۳۸۴،۱۰، اعمل الیوم واللیۃ لابن السنی، ۲۵۳، دار لتقامۃ)

شارح مسلم امام نوویؒ لکھتے ہیں: ’’اعلم انہ لا یجوز ان یدعی لہ بالمغفرۃ وما اشبھہ اللکفار لکن یجوز ان یدعی لہ بالہدایۃ وصحۃ البدن والعافیۃ وشبہ ذلک۔‘‘ (کتاب الاذکار للنووی ۵۰۹، ط: دار ابن حزم)

فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ نصرانی پڑوسی سے مصافحہ کرنے میں بھی شرعاً‌ کوئی مضائقہ اور حرج نہیں۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’ولا باس بمصافحۃ المسلم جارہ النصرانی اذا رجع بعد الغیبۃ ویتاذی بترک المصافحۃ۔‘‘ (۳۴۸/۵/ ط: رشیدیہ) اور اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ مسلمان اپنے عیسائی پڑوسی سے مصافحہ کرے، جب وہ گھر سے باہر رہنے کے بعد واپس لوٹے اور مصافحہ نہ کرنے پر وہ اذیت محسوس کرتا ہو۔

امام ابوحنیفہؒ کے استاذ جلیل القدر تابعی اور فقیہ حضرت ابراہیم نخعیؒ غیر مسلم کو سلام میں پہل کرنے کو جائز قرار دیتے ہے۔ ان کے شاگرد سلیمان الاعمش کا بیان ہے: میں نے اپنے استاذ حضرت ابراہیم نخعیؒ سے پوچھا: مجھے علاج و معالجہ کے سلسلے میں ایک نصرانی طبیب کے پاس جانا پڑتا ہے، کیا میں اس کو پہلے سلام کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! ضرورت کے موقع پر انہیں سلام کر سکتے ہو۔ (احکام القرآن ۳ /۵۷۱، سورۃالمجادلۃ، ط: دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

امام جصاصؒ نے سورہ المجادلۃ کی آیت کریمہ: ’’واذا جاؤوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ‘‘ کی تفسیر میں مشہور صحابی حضرت عبد االلہ بن مسعودؓ کا واقعہ ان کے شاگرد، مشہور تابعی حضرت علقمہؒ کے حوالے سے یوں بیان فرمایا ہے:

ایک سفر میں ہم لوگ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ہمراہ تھے۔ اس سفر میں ہمارے ساتھ کچھ غیر مسلم دیہاتی بھی تھے۔ حضرت علقمہؒ فرماتے ہیں کہ کچھ دور جا کر ان غیر مسلموں نے ہم سے الگ ہو کر دوسرے راستے کا رخ کیا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ صورت حال دیکھ کر ان غیر مسلموں کو سلام کیا۔ اس پر میں نے ان سے پوچھا: ’’کیا آپ اس میں کوئی کراہت نہیں سمجھتے؟‘‘ جواب میں حضرت عبدا اللہ بن مسعود ؓنے فرمایا: ’’انہ حق الصحبۃ‘‘ بے شک یہ ساتھ چلنے والے ساتھی کا حق ہے۔ اس واقعے پر علامہ جصاصؒ تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ظاہرہ یدل علی ان عبد اللہ بداہم بالسلام لان الرد لا یکرہ عند احد‘‘ اس کا ظاہر اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے انہیں پہلے سلام کیا تھا، کیونکہ غیر مسلم کے سلام کا جواب دینا کسی کے نزدیک بھی مکروہ نہیں ہے۔ (احکام القرآن۳ /۵۷۱، سورۃالمجادلۃ، ط:دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

اور جیسے کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے فقہائے احناف نے بھی ضرورت اور حاجت کے موقع پر غیر مسلم کو پہلے سلام کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ موجودہ حالات میں جبکہ مغربی میڈیا اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں لگا ہوا ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا ضرورت ہو سکتی ہے کہ انہیں سلام کے خوبصورت کلمے کے ذریعے قریب کر کے ان کے شبہات کا ازالہ کیا جائے اور اسلام کے متعلق ان کی ہر قسم کی بدگمانی کو دور کیا جائے۔

غیر مسلم کے سلام کے جواب میں وعلیکم السلام کہنا

غیر مسلم ملاقات کے وقت اگر کسی مسلمان کو سلام کرے تو شرعاً‌ ان کے سلام کا جواب دینے کی تاکید ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں صحابہ کرامؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اہلِ کتاب جب ہمیں ملتے ہیں تو وہ ہمیں سلام کرتے ہیں۔ ہم ان کے سلام کا جواب کیسے اور کن الفاظ میں دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم لوگ جواب میں وعلیکم کہہ دیا کرو۔‘‘ (بخاری، کتاب الاستیذان، باب کیف الرد علی اہل الذمۃ بالسلام ۲/ ۲۵ ۹ / رقم الحدیث: ۶۲۵۷)

غیر مسلم کے سلام کے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کے مروجہ اور مسنون طریقے کے برعکس صرف ’’وعلیکم‘‘ اور بعض روایات میں واو کے حذف کے ساتھ ’’علیکم‘‘ پر اکتفا کرنے کا ذکر ہے۔ اس کی وجہ محدثین نے یہ بتائی ہے کہ یہودی جان بوجھ کر بدنیتی کے ساتھ اپنی زبانوں کو لوچ دیتے ہوئے السلام علیکم میں تحریف کر کے ’’السام علیکم‘‘ (تم پر موت واقع) کہا کرتے تھے۔ ان کے اس شاطرانہ طرز سلام کے جواب میں تو ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ’’علیکم السام واللعنہ‘‘ بھی کہا۔ جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نرمی کی تلقین فرمائی اور ان کے جواب میں ’’وعلیکم‘‘ کہنے کا حکم دیا۔ اب اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ آج کل غیر مسلموں میں عموماً‌ بدنیتی اور الفاظ کا ہیر پھیر نہیں پایا جاتا۔ تو اگر وہ واضح الفاظ میں السلام علیکم کہہ دیں، تو کیا ان کے جواب میں و علیکم السلام کہا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں بعض فقہا و محدثین نے قرآن و سنت سے استدلال کرتے ہوئے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔

چنانچہ علامہ ابن قیمؒ لکھتے ہیں: اگر سننے والے کو اس بات کا مکمل یقین ہو جائے کہ غیر مسلم نے اسے ’’السلام علیکم‘‘ ہی کہا ہے نہ کہ ’’السام علیکم‘‘ تو شریعت کے دلائل اور قواعد کا تقاضہ یہی ہے کہ اسے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ ہی کہا جائے؛ کیونکہ یہ بات عدل و انصاف کے باب سے ہے اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا او ردوھا‘‘ جب تمہیں سلام کی صورت میں تحفہ دیا جائے تو اس سے اچھے الفاظ میں تحفۂ سلام کا جواب دو یا کم از کم انہیں الفاظ میں جواب دو۔ اس ارشاد الٰہی سے معلوم ہوا کہ فضل مندوب اور عدل واجب ہے۔ (احکام اہل الذمۃ، (۱۴۹ / فصل، ذکر معاملتہم عند اللقاء، دار الحدیث۔ القاھرۃ ۱۴۲۶ھ)

نتیجہ

ان تمام دلائل اور تفصیلات سے معلوم ہوا کہ فی زمانہ غیر مسلموں کو پہلے سلام کرنا جائز ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

اب رہے وہ احادیثِ طیبہ جن میں غیر مسلموں کو پہلے سلام نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جیسا کہ اوپر گزرا۔ ان احادیث میں بعض محدثین نے یہ توجیہ کی ہے کہ یہ عمومی حکم نہیں تھا، بلکہ ایک خاص واقعے میں خاص حالات کے تحت یہ حکم دیا گیا تھا جو کہ اسی واقعے کے ساتھ خاص تھا۔ اور وہ یہ کہ جب صحابہ کرامؓ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سے فرمایا کہ: بنو قریظہ کے لوگوں کو پہلے سلام نہ کرنا۔

لکن قد قیل ان ہذا کان فی فضیۃ خاصۃ لما ساروا الی بنی قریظۃ قال: لا تبدوہم بالسلام۔ (زاد المعاد ۲/ ۳۸۸ فصل، فی ہدیہ فی السلام علی اہل الکتاب، ط: دار الرسالۃ العالمیۃ)

فضائل و مسائل
دین و حکمت

(الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۹

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۵)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

ابولہب کے لیے تخفیفِ عذاب کی روایت : تنقیدی جائزہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۲)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۴)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۵)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۹)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۷)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

ہبہ، وصیت اور میراث کے شرعی احکام و ضوابط
مولانا مفتی عبد الرحمٰن منیر

غیر مسلموں کو سلام کہنے کا شرعی و فقہی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

افواجِ پاکستان کا ترانہ
سید امین گیلانیؒ

6 ستمبر 1965ء  —    وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اسلام اور شخصی آزادی (۱)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

ریاست کی ناکامی پرکھنے کے اصول اور کامیاب بنانے کے اقدامات
اسرار ایوب

پاکستان اور افغانستان کا ایک مستقبل
مولانا فضل الرحمٰن

سیمینار: امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات
تنظیمِ اسلامی

سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ
الاحسان ٹی وی

کتبۂ مرقدِ محمودؒ کے مندرجات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازی اور شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

Protection of Muslim Family Laws
Mufti Taqi Usmani

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۳)
حافظ مجددی

The Qadiani Question in State Appointments
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات