بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ اشرف الانبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ وصحبہ ومن تبعہم باحسانٍ الیٰ یوم الدین۔
نہایت قابلِ قدر جناب سردار احمد خان شکیب صاحب، سفیر امارتِ اسلامیہ افغانستان!
افغانستان کے ’’فتحِ مبین‘‘ کے پانچ سال مکمل ہونے پر اِس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام شرکائے عظام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ محترم سفیر صاحب نے جس پرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک، اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی صد بہ صد تائید کرتا ہوں۔ اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے، اس خیر سگالی کا جواب دوہری خیر سگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہو گا، اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہو گا۔
آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملّتِ افغاں درآں پیکر دل است
در کشاد او کشادِ آسیا
از فسادِ او فساد آسیا
علامہ اقبالؒ نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد، پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب و مشرق کو قریب کرنا — مشرق وسطیٰ ہو، وسطی ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبی ایشیا ہو — اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے اُس کا ادراک کرنا ہوگا، اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھتے کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہو گا — ایک مستقبل، ایک وحدت — اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت میں مجتمع کر سکے گا۔
ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہشمند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں۔ اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیشرفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہمسفر بن سکتی ہے۔ اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں، اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں، اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔
آج کے اس اجتماع میں، میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے۔ میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے، افغانستان کے اپنے بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عملدرآمد کے لیے صلاحیت عطا کرے، اور اس کے بیچ میں جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو — جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا — ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا نقشہ پیش کر سکیں، ان شاء اللہ۔ تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔
میں بہت شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے کچھ گفتگو کرنے کا موقع دیا، جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ میں نے کوئی بات بھی کرنی ہے، لیکن اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، گفتگو کی، میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان یکجان ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہم یکجان ہو کر ہی اپنا مستقبل متعین کریں گے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔





















