’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)

2۔ مشکلات القرآن کی انواع کی جامع درجہ بندی

جس طرح ہم نے پہلے ذکر کیا کہ مشکلات القرآن کی کتب میں تمام دستیاب انواع کا صحیح طرح سے ذکر نہیں کیا گیا، تو اِس مقالے میں خاص طور سے میں نے یہ کیا کہ مشکلات القرآن کی جو بنیادی کتب ہیں، جیسے ابن قتیبہؒ کی، حمد بن منصور کی، یا دیگر، ان میں جو انواع ذکر ہیں اس کا بھی ایک نقشہ میں نے مقالے میں دیا ہے، کہ انہوں نے اِن اِن انواع کا ذکر کیا ہے۔ تاکہ ان انواع کا بھی ذکر سامنے آجائے، پھر جب میں اس میں اپنی انواع شامل کروں تو تقابل سے قاری سمجھ سکے کہ واقعی کون کون سی انواع ان میں ذکر نہیں کی گئی تھیں۔

اب میں نے جو اس پر کام کیا ہے تو اولاً‌ مشکلات القرآن کو دو بڑے دائروں میں تقسیم کیا ہے، اور یہ صرف میں نے نہیں تقسیم کیا، مشکلات القرآن کی کتابوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  1. ایک ہے ’’مشکل علوم القرآن‘‘  یعنی علوم القرآن کے وہ مباحث جو بڑے پیچیدہ قسم کے مباحث ہیں، جن سے بڑے اشکالات پھوٹتے ہیں۔
  2. اور دوسری ہے ’’مشکل القرآن والتفسیر‘‘ یعنی جو براہ راست قرآن پاک کی آیات سے متعلق اشکالات ہیں، وہ گویا کہ اس میں آگئے ہیں۔

(1) مشکل علوم القرآن

اس سے مراد وہ مباحث ہیں جن کا تعلق علوم القرآن کے ساتھ ہے اور ان میں کوئی تاریخی، فکری یا استنادی مشکلات ہیں، یعنی اشکالات ہیں یا اشتباہات ہیں۔ میری نظر میں یہ کل سات ایسی انواع ہیں یا سات ایسی قسمیں ہیں جو بہت ہی زیادہ خاص قسم کے موضوعات ہیں علوم القرآن میں، اور اس پر بہت زیادہ لے دے ہوتی ہے، بہت زیادہ استنادیہ یا اور حوالے سے اس میں مسائل ہوتے ہیں۔ مثلًاً‌:

1) مشکل جمع القرآن وتدوینہ

قرآن پاک کی جمع و تدوین آپ سمجھتے ہیں، علوم القرآن کی انتہائی پیچیدہ اور بعض حوالوں سے انتہائی اہم بحث ہے۔

2) مشکل اثر السنۃ النبویۃ فی التفسیر

سنت اور تفسیر کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ کیا حدیث کی وجہ سے قرآن پاک کی کس آیت میں اضافہ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے، نسخ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ نسخ القرآن بالسنۃ، نسخ السنۃ بالقرآن، یہ علوم القرآن کے اہم ترین مباحث ہیں۔

3) مشکل الترجمہ

قرآن پاک کے ترجمے کے حوالے سے ہم برصغیر والے، دیوبندی اور بریلوی حضرات کی جتنی بھی بحثیں ہوئیں وہ مشکل الترجمہ سے متعلق ہیں کہ ترجمہ کے کون سے اصول ہیں، وغیرہ۔

4) مشکل دلالۃ القرآنیہ قطعیاً‌ و ظنیاً‌

یعنی جو قرآن پاک کی اپنی آیات پر دلالت ہیں، وہ قطعی ہیں یا ظنی ہیں؟ بڑی اہم بحث ہے۔

5) مشکل الاحرف السبعۃ

احرفِ سبعہ کیا ہے۔

6) مشکل اختلاف المفسرین

یعنی جو مفسرین کے اختلافات ہیں، جس میں کسی آیت کے حوالے سے پانچ پانچ اقوال، دس دس اقوال مل جاتے ہیں، تو اس کو ہم کیسے sum up کریں گے اور اس میں کیا کیا اصول ہو سکتے ہیں کہ ان انواع سے یا ان اختلافات سے ایک درمیانی راہ نکالی جائے۔

7) مشکل حفاظۃ القرآن و عدم التحریف

کیا قرآن میں تحریف ہوئی ہے یا نہیں ہوئی۔ خاص طور پر اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے تناظر میں یہ بحث کی جاتی ہے۔ اہلِ تشیع کی کتابوں میں ایسی روایات ہیں جن سے لگتا ہے کہ قرآن پاک میں کچھ نہ کچھ چیزیں رہ گئی ہیں۔ پھر وہ ہماری کتابیں اٹھاتے ہیں کہ آپ کی کتابوں میں بھی یہ چیزیں ہیں۔ تو گویا کہ قرآن پاک کی حفاظت اور اس میں تحریف نہ ہونا، اور جو اس کے برخلاف روایات ہیں ان کی توجیہ، یہ علوم القرآن کے اہم ترین موضوعات میں سے ہیں۔

تو یہ سات انواع علوم القرآن کی ایسی ہیں جن کو ہم ’’مشکل علوم القرآن‘‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ گویا کہ یہ پہلا دائرہ ہے اور اس کے اندر سات انواع ہیں۔

(2) مشکل القرآن والتفسیر

اب اس کے بعد ہے ’’مشکل القرآن والتفسیر‘‘ کہ وہ انواع جن کا تعلق براہ راست قرآنی آیات کی تفسیر و تاویل سے ہے۔ جیسا کہ کچھ مثالیں ہم نے اس سے پہلے دورِ رسالت میں بیان کی تھیں۔ تو یہ میں نے نو عنوانات میں تقسیم کی ہیں:

1) مشکل التعارض والاختلاف

اس میں پہلی نوع ہے ’’مشکل التعارض والاختلاف‘‘۔ یہ مشکلات القرآن کی سب سے اساسی نوع ہے۔ اسی لیے بعض اہلِ علم کے ہاں مشکل القرآن سے مراد ہی تعارض ہے، تعارض کو حل کرنا ہے۔ تو اِس میں چھ قسم کے تعارض آتے ہیں:

’’مشکل التعارض بین الآیات‘‘ —    آیات کا آپس میں تعارض۔

’’مشکل التعارض بین القراءات المختلفۃ‘‘ —    دو قراءتوں کا آپس میں تعارض۔

’’مشکل التعارض بین الآیات والسنۃ النبویۃ‘‘ —    حدیث اور آیت میں تعارض۔

’’مشکل التعارض بین الآیات والحس والعادۃ‘‘ —    آیات اور جو حس اور عادت ہے، اس میں تعارض۔

’’مشکل التعارض بین الآیات والعلوم الجدیدۃ‘‘ —    یہ معاشرے میں جتنے بھی علوم رائج ہوتے ہیں، جیسے فلسفہ، سائنس، یا دیگر علوم، اس علم کی کوئی بات قرآن سے ٹکراتی ہو، تو یہ بھی مشکل التعارض میں آتا ہے۔

’’مشکل التعارض مع مسلمات الشرع‘‘، یا ’’مع قواعد الشرع‘‘ —    یعنی قرآن پاک کی کوئی آیت کسی مسلّم چیز سے ٹکراتی ہو۔

تو اِس پہلے نوع، تعارض کے تحت میں نے چھ انواع بمع امثلہ کے ذکر کی ہیں۔

2) مشکل القراءت

دوسری قسم ہے ’’مشکل القراءۃ‘‘۔ اس میں دو انواع خاص طور پر آتی ہیں:

’’مشکل علل القراءۃ‘‘ —    اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن پاک کی کسی قراءت کی توجیہ میں کوئی اشکال ہو۔ اور جو لوگ علمِ قراءت سے ہیں، وہ زیادہ سمجھتے ہیں۔ مثلاً‌ اس کی مثال ہے کہ جہاں آتا ہے ’’ربنا اَرِنا‘‘ تو بعض قراء نے اسے ’’اَرْنا‘‘ پڑھا ہے را کے سکون کے ساتھ۔ تو اس میں ایک صَرفی اشکال ہوتا ہے کہ یہ کیسی قراءت ہے، یہ کون سا صیغہ ہے۔ تو گویا کہ اس قراءت کی توجیہ اور اس کی تاویل میں کوئی نہ کوئی اشکال ہو۔

’’مشکل الرسم وکتابۃ القراءۃ‘‘ —    آپ کو پتہ ہے کہ قرآن پاک کا ایک محدّد رسم ہے جس کو ہم رسمِ عثمانی کہتے ہیں، تو بعض قراءتوں کا جو رسم ہے، وہ رسمِ عثمانی کے خلاف ہے، تو اس میں بھی پھر ظاہر ہے کہ اشکال ہو گا کہ یہ رسمِ عثمانی کے خلاف کیسے ہے؟ یعنی انہی قراء میں ہے، جو قراءتِ متواترہ ہے، اس میں بعض ایسی جگہیں ہیں۔

3) مشکل اللغۃ

اس کے بعد تیسری نوع ہے ’’مشکل اللغۃ‘‘۔ یہ سب سے عمومی قسم ہے۔ اس سے مراد ہے کہ وہ تمام قرآنی آیات جن میں کسی نہ کسی حوالے سے لغوی اشکال و مشکل موجود ہے۔ اور اس میں تقریباً‌ پندرہ قسم کی لغوی مشکلات کا میں نے ذکر کیا ہے:

’’مشکل الاعراب و مخالفۃ القواعد‘‘ —    قرآن پاک کی کوئی آیت عربی گرامر کے خلاف لگتی ہو، اس میں اشکال ہو۔

’’مشکل غرابۃ اللفظ‘‘ —    قرآن پاک میں کوئی غریب لفظ ہو، یعنی اس میں فصاحت کے حوالے سے اشکال ہو کہ یہ لفظ غریب ہے۔

’’مشکل غرابۃ المعنی‘‘ —    وہ ایسے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ وہ معنی غریب ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ’’غریب القرآن‘‘ بڑی مشہور قسم ہے۔

’’مشکل الایجاز والاختصار‘‘ —    قرآن پاک کی بعض آیات میں ایجاز اتنا زیادہ ہے کہ اس میں اشکال یا توجیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

’’مشکل المجاز والکنایۃ‘‘ —    قرآن پاک کے بعض مجازات اور کنایات۔ جیسے ابھی پیچھے آیا تھا ’’الخیط الابیض والخیط الاسود‘‘ تو قرآن پاک کے مجازات بھی حل کرنے ہیں۔ اور ابن قتیبہؒ نے اس پر بڑی زبردست بحثیں کی ہیں اور بہت سارے مجازاتِ قرآنیہ کو حل کیا ہے۔ یعنی ’’مشکل اللغۃ‘‘ میں ابن قتیبہؒ کی کتاب بڑی بہترین ہے۔

’’مشکل التقدیم والتاخیر‘‘ —    قرآن پاک کی بعض آیات میں تقدیم اور تاخیر ایسی ہوئی ہے کہ وہ اشکال پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی مشہور مثال سورۃ الکہف کے شروع میں ہے ’’الحمد للہ الذی انزل علیٰ عبدہ الکتاب ولم یجعل لہ عوجا، قیما‘‘۔ اب ’’قیما‘‘ آپ سمجھتے ہیں کہ پچھلی آیت کی ’’الکتاب‘‘ ہی کی کوئی صفت ہے یا اسی سے متعلق ہے، لیکن یہ بالکل اگلی آیت میں ذکر ہے۔ اس طرح سے تقدیم و تاخیر سے قرآن پاک کی بعض آیات میں اشکال پیدا ہو جاتا ہے۔

’’مشکل الالتفات‘‘ —    التفات آپ سمجھتے ہیں کہ کسی جگہ غائب کی ضمیر، پھر غائب سے فوراً‌ حاضر کی ضمیر، پھر حاضر سے فوراً‌ متکلم کی ضمیر۔

’’مشکل الاضمار‘‘ —    اس سے مراد ہے کہ کسی جگہ ضمیر لانا تھا لیکن نہیں لے کر آئے۔ اور اس میں پھر اظہار، کسی جگہ اس میں ظاہر لانا تھا لیکن نہیں لے کر آئے۔

’’مشکل التکرار‘‘ —    قرآن پاک کی آیات میں اور مباحث میں تکرار ہے، تو یہ تکرار کیوں ہوا ہے۔

’’مشکل حروف المعانی‘‘ —    قرآن پاک میں جو حروف استعمال ہوئے ہیں، جو حروفِ معانی ہیں، جیسے اِن ہے، واؤ ہے، فا ہے، با ہے۔ تو ان حروفِ معانی نے بھی کچھ جگہوں پر اشکالات پیدا کر دیے ہیں اور تابعین کے دور سے ہی یہ چیز شروع ہوگئی تھی۔ جیسے ’’اِن‘‘ کے حوالے سے اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نافیہ ہے یا شرطیہ ہے؟ چنانچہ یہ حروفِ معانی کی مشکلات میں آئے گا۔

’’مشکل حروف المقطعات‘‘ —    آپ سمجھتے ہیں کہ حروفِ مقطعات پر بحث دورِ تابعین سے ہے اور ابھی تک جاری ہے کہ ان کا معنی کیا ہے اور ان کے نزول کا کیا مقصد ہے۔

’’مشکل المترادفات‘‘ —    قرآن پاک نے بہت سارے مترادف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ کسی جگہ ایک لفظ ہے، بعض جگہ دوسرا مترادف لے کر آئے ہیں۔ تو کیا یہ ترادف صرف تفنن فی الکلام ہے یا اس میں بھی کچھ نہ کچھ پیغام ہے۔ تو یہ بھی ایک اشکال ہے۔

’’مشکل الحذف والزیادۃ‘‘ —    کسی جگہ قرآن پاک کوئی چیز حذف کرتا ہے تو اشکال پیدا ہو جاتا ہے۔ یا کوئی اضافہ ہوتا ہے جیسے ’’وما اللہ بغافل عما تعملون‘‘ اب با زائد ہے تو کیوں زائد ہے؟ ’’وکفیٰ باللہ شہیدا‘‘ یہاں بھی با زائد ہے تو کیوں زائد ہے؟

’’مشکل الالفاظ المعربۃ‘‘ —    جس کا پیچھے ہم نے ذکر کیا ہے کہ الفاظِ معربات، یعنی غیر عربی زبان کے الفاظ ہیں، وہ قرآن پاک میں ہیں یا نہیں؟

تو اس طرح سے ’’مشکل اللغۃ‘‘ کی کیٹیگری میں یہ پندرہ قسم کی انواع آتی ہیں۔

4) مشکل التاویل

اس کے بعد نوعِ رابع ہے ’’مشکل التاویل‘‘۔ اس سے مراد ہے کہ قرآنی آیات کا جو ظاہری معنی ہے اس میں اشکال ہو۔ جس کی وجہ سے اس ظاہری معنی میں تاویل کرنے کی ضرورت ہو۔ اور اس کا ایک ایسا مرادی معنی متعین کرنے کی ضرورت ہو جس سے وہ اشکال ختم ہو جائے۔ تو اس میں سات قسم کی مشکلات آتی ہیں:

’’مشکل عصمۃ الانبیاء‘‘ —    قرآن پاک کی بعض آیات آپ جانتے ہیں کہ عصمتِ انبیاءؑ کے خلاف ہیں۔ اب اس کا ہم ظاہری معنی نہیں لے سکتے۔ ’’وعصیٰ آدم ربہ فغویٰ‘‘ جیسی آیات میں۔

’’مشکل اقسام القرآن‘‘ —    اللہ تعالیٰ غیر اللہ کی قسمیں کیوں کھاتے ہیں اور ان قسموں سے مقصد کیا ہے؟ تو ظاہر ہے کہ وہاں قسم کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے کہ قسم تو صرف اللہ کی کھائی جاتی ہے، پھر اس کی اور تاویلات کرنی پڑتی ہیں۔

’’مشکل المخالفۃ للکتب السماویۃ‘‘ —    قرآن پاک کے بعض جو بنی اسرائیل کے واقعات یا تفصیلات ہیں وہ تورات اور انجیل یا کتبِ سماویہ کے بھی خلاف ہیں۔ جیسے خاص طور پر اس کی مشہور مثال ہے کہ ہامان کا ذکر تورات میں نہیں ہے تو قرآن نے اس شخصیت کو کہاں سے لیا ہے؟ جو بنی اسرائیل کی تاریخ ہے اس میں فرعون کے کسی بڑے وزیر کا نام ہامان نہیں ہے۔

’’مشکل المبہمات القرآنیۃ‘‘ —    قرآن میں بہت سارے مبہمات کا ذکر ہے تو اس کی تاویل۔

’’مشکل سبب النزول‘‘ —    قرآن پاک کی بعض آیات کا سببِ نزول اس میں اشکال پیدا کرتا ہے۔

’’مشکل النسخ‘‘ —    قرآن پاک کی بعض آیات کیا منسوخ ہیں یا نہیں ہیں؟

’’مشکل الامثال القرآنیہ‘‘ —    قرآن پاک کی بعض مثالیں سمجھنا۔ پہلے پارے میں آتا ہے ’’او کصیب من السمآء فیہ ظلمات و رعد و برق‘‘۔ اب ان مثالوں کی توجیہ اور تطبیق۔ یہ کون سی مثال ہے: کیا یہ مثال تفصیلی ہے؟ مشبہ کیا ہے؟ مشبہ بہ کیا ہے؟ یہ سب اِس میں آتا ہے۔

5) مشکل الدلالۃ

نوعِ خامس ہے ’’مشکل الدلالۃ‘‘۔ اس سے مراد ہے کہ قرآن نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، اپنے معنی پر دلالت کے حوالے سے اس میں کوئی اشکال آتا ہے۔ جیسے:

’’مشکل سیاق الآیۃ‘‘ —    جو آیت کا سیاق و سباق ہوتا ہے وہ اشکال پیدا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی دلالت واضح نہیں ہوتی۔

’’مشکل الخصوص والعموم‘‘ —    قرآن پاک کی آیت عام ہے یا خاص ہے؟ اگر خاص ہے تو پھر اس میں عموم کیسے پیدا کرنا ہے؟ عام ہے تو اس میں خصوص ہے یا نہیں؟

’’مشکل القید والشرط‘‘ —    جیسے پیچھے آیا تھا قصر کے حوالے سے کہ اس میں قید ملحوظ ہے یا نہیں؟

’’مشکل مفہوم المخالفۃ‘‘ —    کیا مفہومِ مخالفت مراد ہے یا نہیں ہے؟ آپ سمجھتے ہیں کہ کسی خاص چیز کو ذکر کیا گیا تو اس کا مخالف مفہوم بھی ملحوظ ہے یا نہیں، یعنی اس میں نفی والا حکم ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟

’’مشکل موقع الآیۃ‘‘ —    اس سے مراد ہے آیت کے ذکر کرنے کی جگہ۔ عام طور پر اس کی مثالیں دی جاتی ہیں جب کسی مدنی سورت میں کوئی مکی آیت ہو، یا کسی مکی صورت میں کوئی مدنی آیت ہو، تو اس سے ’’مشکل موقع الآیۃ‘‘ پیدا ہو جاتی ہے۔

’’مشکل الربط والمناسبۃ‘‘

’’مشکل اسالیب القرآن‘‘ —    قرآن کے اسالیب، مثلاً‌ قرآن جب کسی چیز میں زور پیدا کرتا ہے تو کیا اسلوب ہے، یا کسی اور معاملے میں کیا اسلوب ہے۔ تو اِن اسالیب القرآن کو سمجھنا بھی بڑا ضروری ہے۔ مختلف قسم کے اسالیب پر مولانا فراہیؒ کا ایک مستقل رسالہ بھی ہے۔

یہ ساری چیزیں دلالت پہ براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ یعنی ان چیزوں سے قرآنی الفاظ کی دلالت میں گویا کہ فرق پڑ جاتا ہے تو اس لیے یہ ’’مشکل الدلالۃ‘‘ میں آتی ہیں۔

6) مشکل المتشابہ

اسی طرح نوعِ سادس ہے ’’مشکل المتشابہ‘‘۔ یہ بڑی مشہور قسم ہے مشکلات القرآن کی۔ اس میں دو انواع آتی ہیں:

’’مشکل المتشابہ اللفظی‘‘ —    جو قرآن پاک کی بعض آیات لفظی مشابہے ہیں، جسے حفاظ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، جیسے مثلاً‌ پہلے پارے میں ’’فانزلنا علی الذین ظلموا رجزا من السمآء‘‘ (البقرۃ ۵۹) اور ۹ویں پارے میں ’’فارسلنا علیہم رجزا من السمآء‘‘ (الاعراف ۱۶۲)۔ اُدھر انزلنا ہے، اِدھر ارسلنا ہے۔

’’مشکل المتشابہ المعنوی‘‘ —    آپ یوں سمجھ لیں کہ یہ جو صفاتِ الٰہیہ کی آیات ہیں، صفاتِ الٰہیہ کی بحث کو متشابہ معنوی کہتے ہیں۔

7) مشکل التاریخیۃ وقصص القرآنیۃ

اس کے بعد نوع سابع ہے ’’مشکل التاریخیۃ وقصص القرآنیۃ‘‘۔ اس سے مراد وہ مشکلات ہیں جو قصصِ قرآنیہ کے فہم و تفاصیل سے متعلق ہیں۔ اس میں دو امور آتے ہیں:

’’مشکل الجغرافیۃ القرآنیۃ‘‘ —    جیسے قرآن پاک نے جودی پہاڑ کا ذکر کیا، قرآن پاک نے سدِ مارب کا ذکر کیا۔ اور اسی طرح قرآن پاک نے کافی علاقوں کے نام لیے ہیں، تو وہ کونسے ہیں؟ جیسے ذوالقرنین کے واقعہ میں ہے کہ وہ شمال کی طرف چلا، پھر وہ مغرب کی طرف چلا، تو شمال اور مغرب سے کیا مراد ہے؟

’’مشکل تعیین الشخصیۃ القرآنی‘‘ —    وہی جو پہلے ذکر ہوا ہے کہ کسی شخصیتِ قرآنی کی تعیین ہے، تو اس نوع میں یہ آتا ہے۔

8، 9) مشکل الاسرائیلیات والموضوعات

اس کے بعد ہے نوعِ ثامن، آخری نوع ہے ’’مشکل الاسرائیلیات والموضوعات‘‘۔ تفسیر میں اسرائیلی روایات کا دخل مشکل القرآن کے اہم انواع میں سے ہے۔ اس میں دو امور آتے ہیں:

’’مشکل الاسرائیلیات‘‘ —    اس سے مراد ہے کہ اسرائیلی روایات اور موضوع روایات سے بھی بسا اوقات قرآن کی کسی آیت میں اشکال پیدا ہوتا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ سورۃ ص میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا قصہ ہے، یا حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ ہے، اس میں اسرائیلی روایات سے کتنے زیادہ اشکالات پیدا ہوتے ہیں۔

’’مشکل الموضوعات‘‘ —    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مشہور مقولہ ہے کہ تفسیر میں بہت سارے موضوعات ہیں۔

یوں کل نو (۹) انواع اور اس کی ذیلی اقسام کی صورت میں انچاس (۴۹) کے قریب اقسام بمع اس کی قرآنی امثلہ مقالے میں ذکر کی گئی ہیں۔ میں نے یہاں مثالیں اس لیے ذکر نہیں کیں کہ پریزنٹیشن بہت لمبی ہو جائے گی، تو بہرحال اصل مقالے میں مثالیں بھی موجود ہیں، قرآن پاک کی ان آیات کو پیش کیا گیا ہے جس میں وہ مشکل موجود ہے، جس میں وہ اشکال موجود ہے۔

3۔ دورِ جدید میں مشکلات القرآن کی انواع اور مستقبل کے چیلنجز

اس بحث میں موجودہ دور میں مشکلات القرآن کے مباحث و انواع کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس بحث کو پھر دو بنیادی اقسام میں ذکر کیا گیا ہے: 

  1. دورِ حاضر کے مشکلات القرآن 
  2. مستقبل کے ممکنہ مشکلات القرآن

یہ تقسیم دراصل میں نے اس لیے کی کہ پچھلی صدی میں جو قرآنی موضوعات پر بہت زیادہ مواد  آ چکا ہے، اسے میں نے دورِ حاضر کی مشکلات میں شمار کر لیا ہے۔ اور کچھ ایسے جدید موضوعات جن پر ابھی اتنا زیادہ مواد نہیں ہے، اس کو میں نے مستقبل کے ممکنہ مشکلات القرآن میں شامل کیا ہے۔ ان کی میں انواع کا ذکر کرتا ہوں۔

(1) دورِ حاضر کی مشکلات القرآن

1) مشکلات علوم القرآن

اس میں اگر آپ دیکھیں تو پہلا وہی ہے ’’فرع اول: مشکلات علوم القرآن‘‘:

  1. تدوینِ قرآن اور معاصر نظریات:
    آپ سمجھتے ہیں کہ تدوینِ قرآن کے حوالے سے کتنے معاصر نظریات پیدا ہو گئے ہیں، جس میں تمنا عمادی کا نظریہ ہے اور مکتبِ فراہی کا نظریہ ہے، اور بہت سارے نظریات ہیں۔
  2. نظریہ عدمِ تحریف اور عصری مباحث:
    اہلِ تشیع کے جو معاصر علماء ہیں انہوں نے اس بحث کو بہت زیادہ اٹھایا ہے کہ قرآن پاک میں کیا تحریف ہوئی ہے یا نہیں ہوئی۔ اور اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے تراث میں جو تحریف پر مبنی روایات ہیں اس کا کیا جواب ہے۔ تو ایک بڑا بہترین اس پر مکتبہ تیار ہو چکا ہے۔
  3. قراءاتِ قرآنیہ اور مسلم مفکرین:
    دورِ حاضر میں قراءت کے حوالے سے ایک پورا مکتبِ فکر وجود میں آیا ہے جو قراءات کو مانتے ہی نہیں۔ تو یہ جو پورا لٹریچر ہے وہ اسی میں آجاتا ہے۔
  4. تفسیر میں احادیث و روایات سے استفادہ اور معاصر نظریات:
    اس میں خاص طور سے مکتبِ فراہی ہے، یا سر سیّد احمد خان صاحب کا مکتب ہے، یا اسی طرح منکرینِ حدیث کا مکتب ہے۔ تو یہ مختلف قسم کے ہمیں ورژنز نظر آتے ہیں۔ میں بہت ہی اشاروں میں بات کر رہا ہوں، امید ہے آپ سمجھ رہے ہوں گے۔
  5. جدید تفسیری رجحانات میں انحراف کا عنصر:
    یہ جتنے بھی جدید تفسیری رجحانات ہیں، جیسے سائنسی تفسیر ہے، یا موضوعی تفسیر ہے مکتبِ فراہی کی، یا اسی طرح ربط اور مناسبتیہ نظام کی تفسیر ہے۔ گویا کہ اس میں جدید قسم کے بہت سارے رجحانات آئے ہیں، تو ان میں چند مقامات پر انحرافات بھی ہوئے ہیں، وہ بھی مشکلات علوم القرآن میں آتے ہیں۔

2) مشکلات القرآن والتفسیر

اس کے بعد ہے ’’فرع دوم: مشکلات القرآن والتفسیر‘‘:

  1. ترجمہ قرآن اور عصری مباحث:
    جدید دور میں یہ اس کے اندر پہلی چیز ہے۔ اور یہ ہماری اس پچھلی صدی کا سب سے اہم موضوع ہے بریلوی اور دیوبندی علماء کا۔ ویسے میرے سپروائزر صاحب نے یہ بحث میرے سے نکلوا دی۔ اب پتہ نہیں کیوں نکلوائی تھی۔ دراصل اس میں چونکہ بریلوی اور دیوبندی کا محاکمہ پیش کیا گیا تھا، تو اس لیے میرے سپروائزر صاحب نے فرمایا کہ اس میں چیکنگ کے حوالے سے کچھ مسائل آئیں گے۔ ظاہر ہم کسی بریلوی کو بھیجیں گے یا کسی دیوبندی کو بھیجیں گے۔ ورنہ وہ بحث میں نے لکھی تو ہے، اور اس میں دیوبندی اور بریلوی ترجمے میں جو اختلافات ہیں، اس کو میں نے اصولی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً‌ اس میں بنیادی اختلاف جسے کہہ سکتے ہیں ’’واستغفر لذنبک‘‘ نبی علیہ السلام کو فرمایا کہ آپ اپنے گناہوں کے لیے مغفرت مانگیں۔ اب اس کا ترجمہ کیسے کرنا ہے؟ تو دیوبندی حضرات اس کو اس مفہوم میں لیتے ہیں کہ ترجمہ لغوی الفاظ کے مطابق کرنا ہے اور پھر تفسیر میں اس کی تاویل کرنی ہے۔ لیکن بریلوی حضرات کہتے ہیں کہ براہ راست ترجمہ ہی ایسا کرنا ہے جس طرح آپ نے تاویل کرنی ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ امت کے گناہوں کے لیے معافی مانگیں۔ تو یہ گویا کہ ایک اصولی قسم کی چیز ہے۔ تو ’’ترجمہ قرآن اور عصری مباحث‘‘ میں اس طرح کی بہت سی چیزیں سامنے آئی ہیں۔
  2. تفسیر میں مسلکی رجحانات کے اثرات:
    مسلک کے حوالے سے آپ سمجھتے ہیں کہ جو ہمارے مسالک کی تفاسیر لکھی گئیں، جیسے مثلاً‌ ’’ما اہل بہ لغیر اللہ‘‘ میں کیا شامل ہے اور کیا شامل نہیں ہے؟ اسی طرح جو ہمارا مماتی مکتبِ فکر ہے اشاعت التوحید والوں کا، انہوں نے قرآن پاک کی کچھ آیات کا کس طرح بدعات اور شرک اور باقی فرقوں پر اطلاق کیا۔ تو یہ پوری بحث ہے۔
  3. تفسیر پر عقلیت و جدیدت کے اثرات:
    اس نے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
  4. الفاظِ قرآن کی قطعیت کی بحث اور تفسیر پر اس کے اثرات:
    خاص طور پر دورِ جدید میں غامدی مکتبِ فکر نے اس کو بہت اٹھایا، مکتبِ فراہی نے اس کو اٹھایا، مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے خاص طور پر تدبر القرآن کے مقدمے میں اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ قرآن پاک اپنے الفاظ پہ بالکل قطعی ہے اور یہ خالص عربی زبان ہے اور یہ ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے۔ تو یہ سب اسی بحث کے تحت ہے۔
  5. تفسیر پر استشراقی اثرات:
    خاص طور پر ہمارے جو جدید مفسرین ہیں، جیسے سر سیّد صاحب ہیں، یا عالمِ عرب میں مفتی محمد عبدہ صاحب ہیں، اسی طرح رشید رضا مصری صاحب ہیں، تو یہ سب گویا کہ اس میں آجاتے ہیں۔

(2) مستقبل کی ممکنہ مشکلات القرآن

جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ دورِ حاضر میں بھی ہیں لیکن ان پر کماحقہ لٹریچر ابھی تیار نہیں ہوا، یا ابھی تیاری کے مراحل میں ہے، تو اس لیے میں نے انہیں مستقبل کی ممکنہ مشکلات القرآن میں شامل کیا ہے۔

1) تفسیرِ قرآن اور ما بعد جدیدیت کا چیلنج

ما بعد جدیدیت آپ سمجھتے ہیں جس میں الفاظ اور ان کے اپنے معنی پر دلالت سے بحث ہوتی ہے، براہ راست لسانی نقطۂ نظر سے، کہ الفاظ متعین معنی پر دلالت کرتے ہیں یا قاری اس سے جیسا مرضی مفہوم نکالے۔

2) تفسیر قرآن اور فیمنزم کا چیلنج

قرآن پاک کی بہت ساری آیات جو خاص طور پر خواتین کے بارے میں ہیں، تو جدید فیمنزم اسے عورتوں کے خلاف یا عورتوں کے حقوق کے خلاف سمجھتی ہے۔ جیسے ’’ان کیدکن عظیم‘‘ قرآن پاک میں آیا ہے کہ عورتوں کی چال بہت بڑی ہے۔ اب وہ اس میں کہتے ہیں کہ عورتوں کی جنس کی تحقیر کی گئی ہے۔ تو اِس طرح سے آیات ہیں جن کے متعلق فیمنزم نے مباحث پیدا کر دیے ہیں۔

3) تفسیر قرآن اور الحادِ جدید کا چیلنج

جو جدید الحاد ہے، خاص طور پر جو دیسی ملحدین ہیں، انہوں نے قرآن پاک میں بہت سارے مباحث پیدا کر دیے ہیں۔ ’دیسی‘ سے پاک و ہند کے ملحدین مراد ہیں۔ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے قرآن کے حوالے سے — جیسے قرآن کی مثال لانا ممکن نہیں ہے — تو انہوں نے قرآن جیسی آیات بنا لیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم نے مثال بنا لی ہے۔ تو اس طرح کے مباحث انہوں نے پیدا کر دیے ہیں۔

4) سائنسی ارتقاء اور آیاتِ کونیہ

دیکھیں، ایک تو قرآن کی سائنسی تفسیر ہے، لیکن ظاہر ہے کہ سائنس بھی تو ارتقاء میں ہے، تو پھر جو آیاتِ کونیہ ہیں، جو زمین و آسمان اور جتنی بھی کون اور کائنات کی چیزیں ہیں تو ان سے متعلق جب سائنسی ارتقاء ہوتا ہے تو اس میں پھر اشکالات وغیرہ پیدا ہو جاتے ہیں۔

5) نظریہ ارتقاء اور قرآنی بیانات

آپ سمجھتے ہیں کہ نظریہ ارتقاء پچھلی دو تین صدیوں کا سائنس کا بہترین قسم کا نظریہ ہے۔ اب قرآن تو کہتا ہے کہ انسان کی تخلیق حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی۔ تو اس طرح کے مباحث اس میں آتے ہیں۔

6) اعجازِ قرآن کی جہات میں غلو اور مشکل القرآن پر اس کے اثرات

دیکھیں، قرآن پاک معجزہ ہے۔ کس حوالے سے معجزہ ہے؟ اس کی بہت ساری جہات ہیں۔ اس میں خاص طور پر ایک ہے اعجازِ عددی، جس میں قرآن پاک میں اعداد کا ایک بڑا منظم سسٹم ہے، لیکن بعض لوگ اس اعجازِ عددی کو نہیں مانتے۔ یہ ایک لمبی بحث ہے لیکن بہرحال اس نے بھی مشکل القرآن کے کچھ مباحث پیدا کیے ہیں۔

7) آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور قرآنی آیات کے مماثل ادب کی تخلیق

اسی طرح ایک بڑی اہم چیز مصنوعی ذہانت ہے۔ اب اے آئی ظاہر ہے کہ ہر چیز میں ماہر ہے، اور میں نے اِس مقالے میں اے آئی سے یہ پوچھا ہے اور اس کی میں نے وہ عبارتیں ذکر کر دی ہیں کہ آپ قرآن جیسی کوئی آیت بنا کے دکھاؤ۔ اب اس کا کیا جواب ہے اور اس جواب پر کیا تبصرہ ہے، وہ مقالے میں ہے۔ یہاں بات لمبی ہو جائے گی، لیکن بہرحال اگر مستقبل میں اے آئی اتنی پاورفل ہو جائے جو قرآن جیسا ادب تخلیق کر دے تو ہم کیا کریں گے؟ اس حوالے سے ظاہر ہے ایک مسئلہ تو بنے گا۔

8) آثارِ قدیمہ کی دریافت اور قرآنی بیانات

آپ کو پتہ ہے کہ بہت سارے آثار بعد میں دریافت ہوتے ہیں، تو ان سے قرآنی بیانات کی تطبیق ہوتی ہے، توافق ہوتا ہے، اختلاف ہوتا ہے۔

یہ تو ہو گیا دورِ جدید۔ اب ہم مقالے کے دیگر عمومی مباحث پر نظر ڈالیں گے کہ اِن مباحث کے علاوہ اور کیا مباحث ہیں۔

https://youtu.be/VhTHNQFwSLI

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات