زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان

"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی؟"

کیا آپ نے روسی بحری بیڑے، چینی فوجی جمعاؤ، میڈیا کی تیاریوں، امریکی خبردار کرنے، اور جرمن مشاورت کی خبریں سنی ہیں؟ کیا آپ کا دل لرز اٹھا؟ کیا وسوسوں کا شور آپ کے دل کو پیس رہا ہے؟ کیا خوفناک تصویروں کا سیلاب آپ کو ہلاک کیے دے رہا ہے؟ آپ نے کتنی بار سوچا کہ دنیا کے اس جلتے ہوئے خطے سے بھاگ جاؤں؟ آپ کا کیا قصور — کیونکہ ہر طرف سے آنے والی خبروں اور معلومات کے اس سیلاب میں یہی چاہت چھپی ہوئی ہے کہ آپ اسی اضطراب میں مبتلا ہو جائیں۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ یہ مضمون خاص آپ کے لیے لکھوں۔

کیا میں آپ سے گزارش کر سکتا ہوں کہ ذرا پوری طرح سکون سے بیٹھ جائیں؟

جان لیجیے، اے محترم! کہ یہ چکی جس کروٹ بھی چلے — وہ صرف اس لیے چلتی ہے کہ آپ کا سر آپ کے مالک کی دہلیز پر جھک جائے۔ مصیبت پر صبر کرتے ہوئے، نعمت پر شکر ادا کرتے ہوئے، گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے، فرمانبردار اور محتاج بن کر — اس کی رضا اور جنت کی امید لیے۔ دنیا کے تمام اتار چڑھاؤ اور اس کے دنوں کا صرف ایک ہی مقصد ہے — آپ کے اندر کی بندگی کو آزمانا۔ چاہے آپ امیر ہوں یا غریب، تندرست ہوں یا بیمار، دنیا کے کسی پرامن کونے میں ہوں یا کسی جلتے ہوئے خطے میں — سوال بدلتے ہیں، مگر امتحان ایک ہی ہے۔ بندگی کا امتحان۔ اپنے فرض ادا کرنے کا امتحان۔ وہ کرنے کا امتحان جو آپ پر لازم ہے۔ خوشحالی میں اور تنگی میں، فائدے میں اور نقصان میں، عافیت میں اور مصیبت میں — جہاں تک ہو سکے اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان۔

کل کیا آئے گا، یہ آپ کے ہاتھ میں نہیں — لیکن جو بھی آئے، اس میں آپ کیا کرتے ہیں، یہی اصل بات ہے۔ جسے اللہ نے بندگی کا حق ادا کرنے کی توفیق دے دی — بس وہی جیتا، وہی سرخرو ہوا۔ خواہ میدان میں اپنے خون میں ڈوبا پڑا ہو، یا گھر میں چین کی نیند سوتے ہوئے آنکھیں موند لی ہوں — جب دنیا سے خود جی بھر گیا تب گیا۔

یہ بات یاد رکھیں — مجھے امید ہے کہ اگر آپ نے اسے سمجھ لیا تو یہ آپ کو اس لمبی امید سے بچائے گی جو طاعت سے غافل کر دیتی ہے اور آخرت سے پھیر دیتی ہے۔ کیونکہ لمبی امید خیر اور شر دونوں میں یکساں آتی ہے۔ اور وہ بنیادی اصول جو آنکھ اور ناک کی طرح واضح ہونا چاہیے:

  • کہ اس امت کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے مگر اسے جڑ سے اکھاڑا نہیں جا سکتا۔
  • کہ اللہ کے ہر فیصلے کا انجام بھلا ہی ہوتا ہے۔
  • کہ اللہ نے ہمارے نبی ﷺ کی دعا کے صدقے ہمارے لیے یہ طے فرما دیا ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا — نہ انہیں جڑ سے مٹایا جائے گا، نہ انہیں چھوڑ دینے والے انہیں نقصان پہنچا سکیں گے۔
  • کہ کوئی امت اپنی مقررہ مدت اور رزق پورا کیے بغیر نہیں مرتی۔
  • کہ یہ تمام ثابت اصول اللہ نے کائنات میں جاری کر دیے ہیں، اور انہیں نتیجہ خیز بنانے والے اعمال کا ہمیں شریعت میں حکم دیا ہے۔

اللہ نے ہمیں عمل کا حکم دیا ہے — سُستی اور ڈھیلے پن کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر قیامت بھی آ جائے اور آپ کے ہاتھ میں نیکی کا کوئی پودا ہو تو اسے اپنی جگہ لگا دیں — نہ عاجز بنیں، نہ کاہل — اور یہ سوچ کر نہ بیٹھ جائیں کہ زندگی تو ابھی شروع ہی کہاں ہوئی۔

"’اور جنت کی ایک لمحے کی خوشی دنیا کے ہر غم اور ہر تکلیف کو بھلا دے گی۔"

کچھ اسلامی تحریکوں نے ایک ایسا راستہ اپنایا جو بظاہر اچھا تھا — مگر اس کے نتائج بہت برے نکلے۔ کچھ نے یہ راستہ سچی نیت سے اپنایا، اور کچھ نے اپنے ساتھیوں کے ذہنوں کو الجھائے رکھنے کے لیے۔ یہ راستہ تھا اپنے پیروکاروں کے دل و دماغ کو روزانہ کی خبروں کے سیلاب کے حوالے کر دینا — کبھی "حالات سمجھنے" کے نام پر، کبھی "مسلمانوں کے درد میں شریک ہونے" کے نام پر۔ اس غلط چناؤ کے تین بنیادی نقصانات نکلے:

  1. پہلا: لوگوں کا وقت اور توانائی ان چیزوں میں ضائع ہونے لگی جن پر نہ ان کا کوئی بس تھا، نہ کوئی اثر۔
  2. دوسرا: دل کمزور پڑ گئے، روحیں ٹوٹ گئیں، اور بے بسی کا وہ زہریلا احساس اندر اتر گیا جو آدمی کو بالکل ناکارہ بنا دیتا ہے — نہ کچھ کرنے کی ہمت رہتی ہے، نہ کسی چیز میں فائدہ نظر آتا ہے۔
  3. تیسرا: جس نے اپنا دل ان خبروں سے بھر لیا، وہ خود کو تجزیہ کار اور ماہر سمجھنے لگا — بغیر علم کے بولنے لگا، بلکہ خبروں کے چند ٹکڑے ہاتھ میں آئے تو اپنے آپ کو سب سے بڑا جاننے والا سمجھ بیٹھا۔

طاقتور قومیں، یا وہ قومیں جو اپنی طاقت کی بنیاد رکھنا چاہتی ہیں، ایسا نہیں کرتیں۔ وہ اپنے افراد، صلاحیتوں اور ہنرمندوں کو سوچ سمجھ کر بانٹتی ہیں — ہر شخص کو وہیں لگاتی ہیں جہاں اس کی ضرورت ہے اور جہاں وہ اپنی قوم کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ اور جو چیز اس کے اپنے کام سے باہر ہو، اس پر وہ اتنی ہی توجہ دیتا ہے جتنی سے اس کے اصل کام میں کوئی کمی نہ آئے۔

ہاں، ہمت والا آدمی یا تو آخرت کا طالب ہوتا ہے یا دنیا کا — اور دونوں میں سے کوئی فکر و پریشانی سے خالی نہیں۔ لیکن جس نے دنیا کی فکر سے اللہ کی پناہ مانگی، آخرت کو اپنا سب سے بڑا مقصد بنایا، اللہ سے مدد مانگی، ہمت نہ ہاری اور اس پر بھروسہ کیا — وہی سچا خوش نصیب ہے۔ اس کی خوش نصیبی یہ نہیں کہ اسے کوئی فکر نہیں، بلکہ اس کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اس کی فکر آخرت کے لیے ہے — پھر وہ اپنی یہ فکر اللہ کے سامنے رکھتا ہے، اسی پر توکل کرتا ہے، اسی سے مدد مانگتا ہے۔ اس راہ میں جو تکلیف ہے وہ طلب کا درد ہے — اور دنیا میں کوئی بھی اس سے خالی نہیں — اور آخرت کا اجر اسی کے بقدر ملے گا۔

اور اپنے مسلمان بھائیوں کی فکر کرنا بھی ایک بوجھ ہے جو آدمی اٹھاتا ہے۔ مومن مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کی اینٹیں ایک دوسرے کو تھامے رکھتی ہیں۔ اور مومنوں کی آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی کی مثال ایک جسم جیسی ہے — جب ایک عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم بے چین اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اور یہ جو مشہور بات کہی جاتی ہے کہ "جو مسلمانوں کے معاملات کی فکر نہ کرے وہ ان میں سے نہیں" — یہ حدیث سخت ضعیف اور ناقابل قبول ہے، رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں۔ لیکن اوپر بیان کی گئی دونوں صحیح احادیث اس مفہوم کے لیے کافی ہیں۔ مسلمانوں کی فکر کرنا ایمان کی ایک پکی شاخ ہے۔

مگر اس "فکر" سے آپ ﷺ کی مراد یہ نہیں تھی کہ دنیا کے کونے کونے سے مسلمانوں کی خبریں اکٹھی کرتے پھرو۔ بلکہ اس فکر کا اصل مرکز وہ ذمہ داریاں ہیں جو آپ کے سامنے ہیں اور جن پر آپ واقعی اثر ڈال سکتے ہیں: والدین کے ساتھ نیکی، رشتہ داروں سے تعلق، بیوہ اور مسکین کی مدد، غریب اور مسافر پر صدقہ، علم سکھانا، لوگوں کو فائدہ پہنچانا — یہ سب مسلمانوں کی فکر کرنا ہے۔ جس نے یہ سب چھوڑ دیا اور سمجھا کہ چینلوں پر خبریں دیکھنا، آنکھیں نچوڑ کر رونا، پھر اپنے سامنے موجود فرائض سے منہ پھیر لینا کافی ہے — تو وہ گنہگار ہے اور اپنی عمر برباد کر رہا ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو دونوں کا حق ادا کر پاتے ہیں، اور ہم نے اپنے جاننے والوں کے احوال دیکھے تو پایا کہ اکثر نے اپنی عمر جلا ڈالی، اور کئی نے تو اپنے گھر والوں کو بھی ضائع کر دیا۔

وہ سمجھتا ہے کہ جب تک مسلمانوں کی بڑی بڑی تباہیوں کی خبریں دیکھ رہا ہے تو کسی بڑے کام میں لگا ہوا ہے — حالانکہ وہ بالکل خالی ہاتھ ہے۔ اس ساری خبر بینی سے اسے بس اتنا ملتا ہے جتنا دل میں تکلیف محسوس ہوتی ہے — اور بس۔ اس کے بعد وہ ویسے کا ویسا بیٹھا رہتا ہے، کچھ کیا نہیں، کوئی ایسا عمل نہیں جو اس کی ترازو کو بھاری کرے۔

"انہوں نے دنیا بدلنے کا نہیں سوچا — ان کی پوری کوشش بس یہ تھی کہ افریقی قبائل کے اسکولوں کے بچوں تک پنسلیں پہنچا سکیں۔"

اس سوچ پر مجھے یقین آئے کتنا عرصہ ہو گیا؟ شاید دس سال۔ ان دس سالوں میں میں نے یہ سیکھا کہ بس اتنی خبر کافی ہے جتنی میرے کام کے لیے ضروری ہو — اور ساتھ ہی وہ خبریں مجھے بٹھا بھی نہ دیں، میری ہمت نہ توڑیں، میری عمر نہ جلائیں۔ اور کوئی مسلمان اس بات پر قابلِ ملامت نہیں کہ اس نے اپنے لیے وہ راستہ چنا جو اس کے دل کو بچائے اور دنیا و آخرت میں کام آنے والی چیزوں کو حاصل کرنے میں اس کی مدد کرے۔ انسان کی اصل خوشی، زندگی کی مایوسیوں سے نکلنے کی کنجی، اور حقیقی عمل کا راز — یہ سب چھپا ہوا ہے چھوٹی چھوٹی، مگر مسلسل اور منظم کامیابیوں میں۔ وہ تبدیلیاں جو زیادہ لوگوں کو نظر نہیں آتیں — مگر جن کے لیے یہ کام کیا گیا، ان کے لیے یہ بہت بڑی چیز ہوتی ہے۔

اور ایک اور خوبصورت اقتباس یاد آتا ہے: یہ سب جو تم کر رہے ہو، سمندر میں بس ایک قطرہ ہے — شاید، مگر جناب، سمندر بھی تو قطروں ہی سے بنا ہے۔ یہ چھوٹا سا پودا دنیا نہیں بدلے گا — مگر آپ کو اسے لگانے کا حکم دیا گیا ہے، چاہے قیامت ہی کیوں نہ آ جائے۔ کیونکہ یہ پودا آپ کی نیکیوں کی ترازو میں ملے گا اور اسے بھاری کرے گا — اور یہی اصل بات ہے۔ آپ کا اسی فیصد وقت، محنت، توجہ، کام اور سوچ — اس دائرے میں لگنی چاہیے جہاں آپ واقعی اثر ڈال سکتے ہیں، جہاں آپ خود اپنے ہاتھوں سے کچھ بدل سکتے ہیں۔ یہ کم از کم ہے۔ اور جو حالات و واقعات آپ کے بس میں نہیں، جن کا رخ آپ نہیں موڑ سکتے — ان پر بہت کم وقت لگائیں۔ جو ہو سکے کریں — دعا، حوصلہ افزائی، یا مالی مدد — پھر فوراً‌ اپنے اصل کام کی طرف لوٹ آئیں۔ ورنہ — عمر یونہی گزر جائے گی، کچھ ہاتھ نہ آئے گا، اور بس یہی رہ جائے گا کہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو یہ وہم دیتے رہیں کہ بڑے فکرمند اور مصروف ہیں۔

"جو کام تمہارے ذمے نہیں لگایا گیا اسے اپنے سر نہ لو، اور جو تمہارے ذمے ہے اسے ضائع نہ کرو۔"

یہی اصلاح کی بنیاد ہے اور اس کی چوٹی — کہ آدمی اپنی عمر صرف اسی کام میں لگائے جو وہ اچھا کرتا ہے، جسے وہ نکھار سکتا ہے اور جس میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ اطمینان سے اپنے اندر جھانکیں، اپنی صلاحیتیں اور خوبیاں تلاش کریں، انہیں نکھاریں اور انہی کے ذریعے دوسروں کی بھلائی کریں۔ پوری قوم کی طاقت ہر فرد کی طاقت سے بنتی ہے — جب ہر فرد اپنا کردار پوری طرح ادا نہ کرے تو کسی قوم سے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ مؤثر اور فعال بنے گی۔ اور ہر فرد کا اپنا کردار ادا کرنے کا مطلب کئی چیزیں ہیں:

  1. پہلی: جو کام وہ اچھا جانتا ہے اسے پوری محنت اور لگن سے کرے۔
  2. دوسری: خود کو مسلسل بہتر بناتا رہے — سوچ کے اعتبار سے بھی، اور اپنے ہنر اور کام کو نکھارنے کے اعتبار سے بھی۔
  3. تیسری: اپنے کام میں اپنی اخلاقی اور دینی اقدار کو بنیاد بنائے، اور فیصلے انہی کی روشنی میں کرے۔
  4. چوتھی: نیکی کے دروازے اور دین کی خدمت کے راستے بہت ہیں — جو کام تم اچھا نہیں جانتے، یا جو تمہاری طاقت سے باہر ہے، یا جو کوئی اور پہلے سے کر رہا ہے — اسے چھوڑ کر وہی کرو جو تم اچھا کر سکتے ہو۔
  5. پانچویں: تمہاری فکر کا دائرہ تمہارے اثر کے دائرے سے بڑا نہ ہو۔ مسلمانوں کے مسائل کی فکر کرو — مگر اس فکر میں اپنی کم سے کم توانائی لگاؤ، اور باقی سب ان کاموں میں لگا دو جہاں تم واقعی کوئی فرق ڈال سکتے ہو۔

ہر اس مسئلے کا بوجھ اٹھانے پر تمہیں اجر ملے گا جو تم نے دل میں محسوس کیا — مگر جہاں تم کچھ کر سکتے تھے اور نہیں کیا، وہاں سوال بھی ہوگا۔ اور بغیر عمل کی خالی فکر کا اجر، کوتاہی کا گناہ کھا جاتا ہے۔ آخر کس کام آئی یہ فکر، یہ الجھن، یہ بے چینی — جبکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے، تمہارے گھر کے پاس، تمہاری پہنچ میں — نیکی کے دروازے کھلے پڑے ہیں، ایمان کی شاخیں کسی کی منتظر ہیں!

زندگی کا منصوبہ — یہ وہ سب سے بہترین چیز ہے جو انسان کو اس دنیا کے مشکل سفر میں سنبھالے رکھتی ہے۔ یہ منصوبہ ریل کی پٹریوں جیسا ہے — انجن کتنا بھی تھکے، رکے، یا بھٹکنے کی کوشش کرے — پٹری اسے کھینچتی رہتی ہے، تھامے رکھتی ہے، اور دوبارہ چلنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ منصوبہ بند اور مقفل نہیں — اسے ہمیشہ بدلا اور بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اس کا بنیادی خاکہ یہ ہے: اللہ کی بندگی کرنا، آسانی میں بھی اور مشکل میں بھی، خوشی میں بھی اور ناگواری میں بھی اس کے حکم پر چلنا۔ پھر اس منصوبے کے شعبے آتے ہیں — اپنی ذات سے شروع ہو کر پورے معاشرے تک پھیلے ہوئے، زندگی کے ہر پہلو کو سمیٹے ہوئے۔ ہر شعبے میں قریبی اور دور کے ہدف ہوتے ہیں۔

ان اہداف کو طے کرتے وقت اپنی ذاتی صلاحیتوں، اپنے موقعوں، اور اپنے ماحول و معاشرے کو ضرور سامنے رکھیں۔ اور ان سب میں علم کا کردار سب سے اہم ہے — علم انسان کی زندگی کے لیے ایسا ہے جیسے فضا — زندگی کا کوئی مرحلہ اور منصوبے کا کوئی حصہ اس کے بغیر سانس نہیں لے سکتا۔ یہ اس منصوبے کی خوراک بھی ہے اور اسے آگے بڑھانے کا ذریعہ بھی۔

اب ان روزمرہ کی الجھنوں کو چھوڑنا ہوگا جو آپ کو کھائے جا رہی ہیں، آپ کے دن کاٹے جا رہی ہیں — اور آپ ان میں ڈوبے ہیں مگر ہاتھ کچھ نہیں آتا! آپ اس طرح اپنے آپ کو اور اپنی عمر کو جلا رہے ہیں۔ اللہ سے مدد مانگیں اور لکھنا شروع کریں — خوب لکھیں: میں کون ہوں؟ میری صلاحیتیں کیا ہیں؟ میرے حالات کیا ہیں؟ میں کیا اچھا کر سکتا ہوں؟ مجھ میں کیا کمی ہے؟ میرے آس پاس کے لوگوں کو کس چیز کی ضرورت ہے جو میں پوری کر سکتا ہوں؟ اور میں کیسا بنوں کہ جب موت آئے اور اپنی گزری زندگی پر نظر ڈالوں تو کہہ سکوں: اچھا کیا، جو کر سکتا تھا کر دیا؟

سفر کا آغاز یہیں سے ہے۔

عالم اسلام اور مغرب

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات