اسلامی فلسفے کا پس منظر

اسلامی روایت میں محض عقلی بنیادوں پر کلام کا مزاج معتزلہ سے شروع ہوتا ہے اور معتزلہ کی تاریخ واصل بن عطا سے شروع ہوتی ہے جو اس مکتب فکر کے بانی اور امام حسن بصری رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے امام حسن بصری سے کچھ عقلی سوالات کیے اور انہوں نے اس طرح کے سوالات سے منع کر دیا کیوں کہ یہ پہلی صدر ہجری کے اواخر اور دوسری صدی ہجری کے اوائل کا زمانہ تھا۔ اور اسلام کے اس دور میں قرآن و سنت کے ہوتے ہوئے عقلی، فلسفیانہ یا جاہلانہ گفت و شنید پر گرفت کی جاتی تھی تاکہ اسلامی عقائد و نظریات میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں۔ بہر حال! واصل بن عطا جواب نہ ملنے پر بھرم ہو کر امام حسن بصری کی محفل سے الگ ہو گئے اور حسن بصری نے ان کے بارے میں کہا "اعتزل عنا" یعنی ہم سے الگ ہو گیا۔ چنانچہ واصل بن عطا کے افکار و نظریات سے اتفاق کرنے والے لوگ ان سے ملتے گئے اور ان کا حلقہ کافی بڑھ گیا۔ پہلے پہل ان کے عیسائیوں کے ساتھ مناظرے اور بحث و مباحثے ہوتے رہتے تھے۔ چونکہ عیسائی برادری کسی حد تک یونانی فلسفے خاص طور پر ارسطی منطق سے واقفیت رکھتی تھی اس لیے وہ اپنے موقف کی تائید میں اور معتزلہ کو چت کرنے کے لیے یونانی فلسفے اور منطق سے خوب خدمت لیتے۔ ان میں بطور خاص یوحنا الدمشقی وغیرہ کا نام آتا ہے۔

ان کے اس طریقہ کار کا معتزلہ نے توڑ یہ نکالا کہ یونانی فلسفہ اور منطق سیکھی جائے اور ان کے رد کے لیے استعمال کی جائے۔ اس طرح فلسفہ و منطق سے استخدام کا سلسلہ شروع تو ہوا لیکن کچھ ہی عرصے میں معتزلہ اس کے رنگ میں اتنے رنگ گئے کہ انہوں نے اسلامی عقائد و نظریات کی توجیہات بھی خالص عقلی بنیادوں پر کرنا شروع کر دیں۔ اور اس اسلوب و کلام کو "علم الکلام" کا نام دے کر نہ صرف یہ کہا کہ یہ تمام اسلامی علوم کا رئیس ہے کیوں کہ اس میں اسلامی عقائد و نظریات پر بحث ہوتی ہے بلکہ یہ اسلامی عقائد و نظریات کو جاننے اور سمجھنے کا جدید طریقہ اور اور عین اسلام ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا اثر و رسوخ اتنا بڑھا کہ خلیفہ وقت مامون الرشید ان سے متاثر ہوا اور اس نے قیصر روم کو خط لکھ کر ان سے ارسطو کی فلسفیانہ کتب منگوا لیں اور حنین بن اسحاق، ثابت بن قرہ، ابن البطریق اور قسطا بن لوقا جیسے عیسائی ماہرین فلسفہ سے یونانی فلسفے کا عربی میں ترجمہ کرا ڈالا۔

ریاستی سطح پر اس کام کی پشت پناہی کا اثر یہ ہوا کہ معتزلہ کو خوب تقویت ملی اور اس کے بعد انہوں نے اسلامی عقائد و نظریات کی توجیہات میں جو اسلوب اختیار کیا وہ کچھ یوں تھا کہ:

  1. عقل کو نقل پر ترجیح دی جائے۔ 
  2. کوئی بھی عقیدہ یا نظریہ تب تک قبول نہ کیا جائے جب تک اس میں بحث و مباحثہ کر کے اسے عقلی بنیادوں پر ثابت نہ کر لیا جائے۔ 
  3. ہر اس نظریہ یا عقیدہ کی نفی کی جائے گی جو عقلی بنیادوں پر سمجھنے میں شرک، یا تعدد آلہہ وغیرہ کو مستلزم ہو۔ 

چنانچہ ان کا یہ طریقہ کار ایک مکمل فکری و علمی راہ اختیار کر کے علم الکلام کے نام سے شہرت پا گیا۔ ان کے اس طریقہ کار کی وجہ سے کئی اسلامی عقائد و نظریات میں فلسفہ و منطق داخل ہو گئے اور کئی بنیادی عقائد جیسے "صفات الٰہیہ، تقدیر" وغیرہ کی نفی ہونے لگی اور کئی لوگ اس راہ ضالہ پر گامزن ہونے لگے۔

چنانچہ ان کی تردید اور اسلامی عقائد و نظریات کی درست تشریحات و تعبیرات کے لیے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس میدان میں اترے اور انہوں نے صرف روایت کی راہ اختیار کی اور معتزلہ کی بنیادوں پر خوب روائیتی دلائل کے گولے برسائے۔ امام احمد کے بعد امام ابوالحسن علی اشعری سامنے آئے اور انہوں نے علم الکلام، فلسفہ اور منطق وغیرہ میں کمانڈ حاصل کر کے معتزلہ کا رد شروع کیا اور انہوں نے نہ صرف روایت کی راہ اختیار کی بلکہ روایت و درایت کے امتزاج پر مبنی راستہ اختیار کیا۔ انہی کے زمانہ میں ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ نے بھی اسی امتزاج کے ساتھ زور آزمائی کی۔ اور انہوں نے امام اشعری ہی کے منہج کو اختیار کیا لیکن جن چیزوں میں انہیں ذرا سی افراط نما جھلک دکھائی دی انہیں وہ اعتدال پر لانے کی کوشش کرتے رہے۔

ان مکاتب فکر کے باہم تصادم یا پھر کہہ لیں کے ان تمام کے عروج کا اصل زمانہ پہلی صدی ہجری کے اواخر سے لے کر چوتھی صدی ہجری کے آغاز تک کی تین صدیوں پر محیط رہا۔ امام احمد کی راہ اختیار کرنے والے محدثین یا حنبلی کہلائے، اشعری فکر کو اپنانے والے اشعری کہلائے، جبکہ ماتریدی اعتدالی راہ اختیار کرنے والے ماتریدی کہلائے۔ اور عقائد کی دنیا میں معتزلہ کے مد مقابل اہل سنت کے یہ تین گروہ متعارف ہوئے اور ان کا سلسلہ اب تک چلا آرہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بعد کے زمانوں میں ان کے اپنے باہمی اختلافات کی بھی خوب گرم بازاری رہی جو کہ بذاتِ خود ایک طویل بحث کا متقاضی ہے۔

لیکن اب بھی ایک خلا کو پُر کرنا کسی حد تک باقی تھا۔ وہ یہ کہ علم الکلام میں معتزلہ نے جو عقلی راہ اختیار کی تھی اس کے مد مقابل حنبلی، اشعری اور ماتریدی مکاتب فکر نے خوب جم کر کام کیا اور صرف روایت یا پھر روایت و درایت کے اس امتزاج پر مبنی جو راہ اختیار کی وہ کسی طرح بھی ناقابلِ فراموش اور قابلِ تحسین تھی۔ لیکن اب بھی یہ کام کسی حد تک باقی تھا کہ جو فلسفیانہ افکار اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور اسلامی علمی روایت میں انہیں کسی حد تک مقبولیت حاصل ہو چکی ہے، ان پر کلام کیا جائے اور عقائد کو بحیثیت عقائد اور فلسفہ کو بحیثیت فلسفہ دیکھا جائے۔ اور جہاں ضرورت پڑے وہاں اسی قدیم یونانی فلسفیانہ افکار کی توجیہ وحی کی روشنی میں کی جائے۔ اس کام کا بیڑا امام ابو یوسف یعقوب الکندی نے اٹھایا اور الفارابی، ابن سینا اور ابن رشد اور دیگر گئی شخصیات نے ان کے کام کو نہ صرف علمی و فکری طور پر سراہا بلکہ آگے بڑھانے میں بھی خوب مدد دی۔ اور اس طرح ان کی فکر "فلسفہ اسلام" کے عنوان سے متعارف ہوئی۔

یہ بات اس مقام پر ناقابلِ فراموش ہے کہ ان فلاسفۂ اسلام نے فلسفیانہ ابحاث بطور عقیدے کے اختیار نہیں کی تھیں۔ بلکہ انہوں نے بنیادی عقائد کے طور پر اہل سنت والجماعت ہی کے عقائد کو اختیار کیا لیکن اسلام میں داخل شدہ فلسفیانہ ابحاث کو فلسفیانہ نقطۂ نظر سے ہی دیکھتے ہوئے وحی و شریعت کی روشنی میں ان کی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی۔ لیکن متاخرین معتزلہ کو یہاں یہ مغالطہ ہوا کہ انہوں نے سمجھا فلاسفۂ اسلام یہ توجیہات اعتقادی بنیادوں پر کر رہے ہیں۔ چنانچہ قاضی عبدالجبار اور ابو علی جبائی وغیرہ متاخرین فلاسفہ نے ان کا رد کرنا شروع کر دیا۔ پھر امام ابو حامد الغزالی اٹھے اور انہوں نے ایک طرف تو "الاقتصاد فی الاعتقاد" وغیرہ لکھ کر ان متاخرین معتزلہ کی خوب خبر لی لیکن دوسری طرف مقاصد الفلاسفہ اور پھر تہافۃ الفلاسفہ لکھ کر فلاسفہ اسلام سے بھی خوب زور آزمائی کی۔ اور ابن رشد نے بھی تہافۃ التہافہ لکھ کر اپنا دفاعی سسٹم مضبوط کیا۔ اور اس طرح اسلامی روایت میں فلسفیانہ و تشریعی بنیادوں کے امتزاج پر مبنی ایک عمارت کھڑی ہو گئی جو یورپ کے نشاۃِ ثانیہ تک تو خوب شان و شوکت سے قائم رہی لیکن پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی میں یورپ کے نشاۃ ثانیہ اور جدید مغربی فلسفہ کے متعارف ہونے سے اس عمارت کی جانب کئی فکری یلغاروں کا رخ ہوا جس سے یہ کافی حد تک بوسیدہ ہو چکی ہے۔

فلسفہ اسلام کے اس طویل دورانیہ میں مختلف ادوار میں ہونے والی تجدید کا جائزہ لینے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فلسفے کا آغاز آٹھویں صدی میں اُس وقت ہوا جب عباسی خلافت نے بغداد کو علمی اور فلسفیانہ مرکز کے طور پر ترقی دی۔ اس دور میں فلسفہ یونان اور ایران کی قدیم حکمتوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا، اور اس سے فلسفیانہ سوچ کو ایک نیا رخ ملا۔ یہ دور آٹھویں صدی عیسوی سے دسویں صدی عیسوی تک شمار ہوتا ہے اور اس دور کے بڑے فلاسفہ میں الکندی، الفارابی، ابن سینا اور ابن رشد کا نام سر فہرست ہے۔ انہوں نے یونانی فلسفے کو وحی کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی۔

اس کے بعد پندرہویں صدی عیسوی تک اسلامی فلسفے کا دوسرا دور شمار ہو گا جس میں اسلامی فلسفے نے تصوف، منطق، اور علم کے دیگر مختلف شعبوں میں ترقی کی، اور اس دور کے بڑے فلاسفہ میں امام غزالی، ابن طفیل، ابن العربی، جلال الدین رومی، شہاب الدین سہروردی، اور خواجہ زادہ وغیرہ نے اہم کام کیا۔

اس کے بعد تیسرا اور تجدیدی دور شروع ہوا جسے "اسلامی فلسفہ کا نشاۃِ ثانیہ" بھی کہا جا سکتا ہے، یہ سولہویں صدی عیسوی سے لے کر اب تک کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں اسلامی دنیا میں فلسفے کی اہمیت کم ہونے لگی، لیکن اسے جدید اصطلاحات و تعبیرات اور فنون کے ساتھ کچھ شخصیات نے آگے بڑھانے کی کوشش ضرور کی۔ اس دور کے بڑے فلاسفہ میں ملاصدرا، محمد عبدہ، جبکہ ہندوستان میں شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ وغیرہ کا نام نمایاں ہے۔

اسلام اور عصر حاضر

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات