غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس بات کی اجازت اور تعلیم دی ہے کہ وہ غیر مسلم اہلِ ذمہ سے سماجی مراسم و تعلقات بنا کر حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں، اور اپنے عمدہ اخلاق و کردار سے ان کے دلوں کو فتح کرنے کی کوشش کریں۔

غیر مسلم کی دعوت قبول کرنا

شادی بیاہ کی تقریبات اور خوشی کے دیگر مواقع کی دعوتیں معاشرت کا ایک لازمی جزو ہیں، اور ان میں شرکت سماجی و تمدنی مراسم اور تعلقات کا ایک حصہ ہے۔ اسلام نے وسعت ظرفی اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتے ہوئے کھلے دل سے غیر مسلموں کی دعوت قبول کرنے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اہل کتاب کے کھانے کو حلال اور جائز ہونے کے لئے بارے میں فرمایا ہے: وطعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لہم (سورۃ المائدۃ: ۵) اور ان لوگوں کا کھانا جنہیں کتاب دی گئی ہے تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔

خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مواقع پر غیر مسلموں کی دعوت قبول فرمائی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور چربی کھانے کی دعوت دی تو آپ نے اس کی دعوت قبول فرمائی۔ (مسند احمد: ۳/۲۱۰، حدیث: ۱۳۲۳۳) اسی طرح روایات سے ثابت ہے کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر ایک یہودی خاتون نے آپ کی دعوت کی۔ اس خاتون نے کھانے میں زہر ملایا تھا۔ آپ نے لقمہ لیتے ہی اسے تھوک دیا، اس کے باوجود اس کا اثر آپ پر ہوا، جبکہ آپ کے ساتھ حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ کا اسی زہر کے اثر سے انتقال ہو گیا۔ (بخاری: ۲/۶۱۰، کتاب المغازی، باب الشاۃ التی سمت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم بخیبر)

قرآن و سنت کے ان دلائل کی بنیاد پر فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ غیر مسلم کی دعوت قبول کرنا جائز ہے۔ ولا باس بالذہاب الی ضیافۃ اہل الذمۃ (ہندیۃ:۵ ۵/۳۴۷۳۴۷، ط: رشیدیۃ کوئٹہ) اہل ذمہ کی ضیافت کی جانے میں کوئی حرج نہیں۔

غیر مسلم کی مہمان نوازی

اسلام نے تمدنی اور معاشرتی تقاضوں کی رعایت کرتے ہوئے اس بات کی تعلیم و ترغیب دی ہے کہ کوئی شناسا، یا اجنبی اسی طرح قریبی یا بعید شخص بطور مہمان آ جائے تو نہ صرف یہ کہ اس کی مقدور بھر خاطر تواضع کی جائے، بلکہ اس کے مقام و مرتبے کے مطابق اس کا احترام و اکرام بھی کیا جائے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے: من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیکرم ضیفہ (وسلم: ۱/۵۰، کتاب الایمان، باب اکرام الضیف) جو شخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ 

اس حدیث میں لفظ ضیف (مہمان) عام ہے، جو مسلمان اور غیر مسلم دونوں کو شامل ہے۔ خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں غیر مسلم بھی قیام کرتے اور آپ کی مہمان نوازی سے مستفید ہوتے تھے۔ ابو البصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب وہ کافر تھے تو مدینہ منورہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مہمان ٹھہرے، اور رات کو گھر کی سب بکریوں کا دودھ پی گئے، اور تمام اہلِ بیت رسول رات بھر بھوکے رہے۔ (سیرت النبی: ۲/۲۱۷)

علاوہ ازیں غیر مسلموں کے جو بیرونی وفود بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوتے، آپ بذات خود ان کی میزبانی فرماتے۔ چنانچہ جب حبشہ کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ میں آیا تو آپ ان کی مہمان نوازی کی خدمت بنفس نفیس فرمانے لگے۔ یہ دیکھ کر صحابہ کرام نے عرض کیا: یہ خدمت ہم سرانجام دیتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہم کانوا لاصحابنا مکرمین وانی احب ان اکافئہم، یہ لوگ ہمارے (حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے) ساتھیوں کا اکرام کیا کرتے تھے، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان کچھ بدلہ چکا دوں۔ (سیرہ النبی، باب الہجرۃ الی ارض الحبشۃ: ۲/۳۱، دار المعرفۃ بیروت)

غیر مسلم کی عیادت

سماجی تعلقات، روایات اور اخلاقیات کے تقاضوں میں سے ایک تقاضہ یہ ہے کہ اردگرد آڑوس پڑوس میں اور متعلقین و احباب میں سے کوئی آدمی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت اور خبرگیری کی جائے۔ اسلام نے مریض کی عیادت کی ترغیب دی ہے اور اسے بہت بڑا کار ثواب قرار دیا ہے۔ ان تعلیمات میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں۔ خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس نفیس غیر مسلموں کی عیادت فرمائی ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی لڑکا، جو آپ کی خدمت کیا کرتا تھا، بیمار ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سر کے قریب بیٹھے۔ قریب بیٹھ کر آپ کو اندازہ ہوا کہ یہ لڑکا اس مرض سے نہیں بچ سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑے سے بڑے مخالف اور دشمن کے بارے میں بھی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ کسی طرح ایمان لے آئے اور یوں آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جائے۔

اپنے اس خادم کے بارے میں یہ خواہش کیوں نہ ہوتی۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ بیٹا اب تو اسلام قبول کر لو۔‘‘ اس نے مشورہ کی نگاہوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے قریب ہی بیٹھا تھا۔ باپ نے اس سے کہا: ’’اطع ابا القاسم‘‘ تم ابو القاسم کی بات مان لو، چنانچہ وہ اسلام لے آیا۔ کلمہ شہادت پڑھتے ہی اس کی روح پرواز کر گئی۔ حضور اکرم ﷺ کو اس کے کلمہ پڑھ لینے سے بہت خوشی ہوئی۔ باہر نکلے تو آپ کی زبان پر اللہ تعالی کی حمد و ثنا جاری تھی اور فرمارہے تھے: ’’الحمد للہ الذی انقذہ بی من النار‘‘ سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے میری وجہ سے اس لڑ کے کو دوزخ کی آگ سے نجات عطا فرمائی۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی فمات، رقم الحدیث: ۱۳۵۶)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوہ سے استدلال کرتے ہوئے فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ غیر مسلموں کی عیادت و تعزیت جائز بلکہ مستحسن ہے۔ چنانچہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے: ولا باس بعیادۃ الیہودی والنصرانی لانہ نوع بر فی حقھم وما نھینا عن ذلک۔ (کتاب الکراہیۃ: ج، ۴، ص، ۴۷۲) اور کوئی حرج نہیں یہودی اور عیسائی کی عیادت میں کیونکہ یہ ان کے حق میں ایک طرح نیکی یا حسن سلوک ہے اور ہمیں اس سے منع نہیں کیا گیا ہے۔

غیر مسلم کی تعزیت

معاشرتی زندگی کو خوشگوار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اپنے دوست یا پڑوسی کو کوئی خوشی یا غم لاحق ہو تو ان کی خوشی یا دکھ درد میں دوسرا پڑوسی شریک ہو جائے، ہر ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ اخلاق کا نمونہ پیش کرے، اگر ان کے گھر موت واقع ہو جائے یا وہ کسی پریشانی یا مصیبت میں مبتلا ہو جائیں تو ان کے گھر جا کر ان کی تعزیت کرے، تسلی دے، اور ہمدردی کا اظہار کرے، بوقت ضرورت ان کا تعاون اور خبر گیری کرے۔ یہ ہر ایک پڑوسی اور دوست کے ساتھ ہونا چاہیے۔ مسلمان ہو یا غیر مسلم، ایسا کرنا عین اسلامی منشا اور مزاج کے موافق ہے۔

غیر مسلم سے تعزیت کا نہ صرف یہ کہ جواز ہے، بلکہ فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ کسی یہودی یا مجوسی کے بچہ کا انتقال ہو جائے تو اس کے مسلمان پڑوسی کو اس کی تعزیت کرنی چاہیے اور کہنا چاہئیے کہ اللہ تعالی آپ کو اس کا اچھا جانشین عطا فرمائے اور آپ کے حالات کو بہتر بنائے۔ (رد المحتار علی الدر المختار: ج،۵،ص، ۳۴۱) (کتاب الخراج: ۲۱۶)

غیر مسلم کے موت پر ’’انا للہ‘‘ پڑھنا

’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ کے الفاظ میں دعا و استغفار کا پہلو نہیں ہے، بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم سب اللہ ہی کیلئے ہیں، اور اللہ ہی کی طرف ہم سب کو لوٹنا ہے۔ البتہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق یہ کلمہ مصیبت و بلاء کے موقع پر پڑھنے کا ہے، اس لئے کافر کی موت پر اس کے پڑھنے میں تامل ہوتا ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ اس موقع پر خاموشی اختیار کی جائے، اور اپنی آخرت کو یاد کیا جائے۔

غیر مسلم کے جنازے میں شرکت

مسلمانوں کو غیر مسلموں کے جنازے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے، البتہ جیسے کہ میں نے عرض کیا ان کے مکان پر جا کر ان کی دلجوئی کے لئے تعزیت جائز ہے، اور جس طرح غیر مسلم کے جنازے میں شرکت کرنا درست نہیں ہے اسی طرح اس کے آخری رسومات میں بھی شرکت کرنا ممنوع ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ولا تصل علیٰ احد منہم مات ابدا ولا تقم علیٰ قبرہ (سورۃ توبہ: ۲۱)۔ اس آیت کریمہ میں غیر مسلموں کی نماز جنازہ پڑھنے اور ان کی قبر پر کھڑے ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ قبر پر کھڑا ہونا آخری رسوم میں شرکت کرنا ہے جس سے صراحتاً‌ منع کیا گیا ہے۔

غیر مسلم کیلئے ایصال ثواب کرنا

غیر مسلم کیلئے قرآن کریم پڑھ کر ایصال ثواب کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ یہ بڑی جسارت کی بات اور قرآن پاک کے ساتھ مذاق ہے۔ انسانی تعلقات اور رواداری اپنی جگہ ہے۔ لیکن کفر و اسلام کا واضح فرق جو قرآن کریم نے جگہ جگہ بتا دیا ہے، واضح طور پر سامنے رہنا چاہیے اور اس میں کسی مداہنت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغفرو اللمشرکین ولوکانوا اولی قربی من بعد ما تبین لہم انھم اصحاب الجحیم۔ (سورہ تو بہ (۱۱۳)

غیر مسلم کی تدفین و تکفین

اگر کوئی غیر مسلم مر جائے اور اس کا کوئی رشتہ دار اس کا ہم مذہب موجود ہو تو بہتر ہے کہ اس کی لاش اسی کے لیے چھوڑ دی جائے، تاکہ وہ جس طرح چاہے اسے کفن دفن وغیرہ کرے، اور اگر اس کا کوئی رشتہ دار اس کے مذہب کا نہ ہو تو اس کے مسلمان رشتہ دار کیلئے اس کو غسل دینے، کفنانے اور دفن کرنے کی گنجائش ہے۔ اس ذمہ داری کو نبھا سکتا ہے۔

بدایہ میں ہے: واذامات الکا فرولہ مسلم فانہ یغسلہ ویکفنہ ویدفنہ، بذلک امر علی رضی اللہ عنہ فی حق ابیہ ابی طالب (باب الجنائز، فصل فی الصلاۃ علی المیت: ۱- ۹۱-ط۔ دار احیاء التراث العربی)

غیر مسلموں سے مساجد وغیرہ کی تعمیر میں چندہ لینا

اگر غیر مسلم حضرات مساجد یا مسلمانوں کے دیگر مذہبی و دینی اداروں میں تعاون پیش کریں تو چند شرائط کے ساتھ قبول کرنا جائز ہے۔

۱۔ وہ شخص اپنے عقیدہ کے مطابق اسے قربت سمجھتا ہوں۔

۲۔ اس کے قبول کرنے میں غیر مسلم کی تولیت اور دخل اندازی کا خوف نہ ہو۔

۳۔ مسلمان اپنے دینی معاملات میں مداہنت سے کام نہ لیں۔

۴۔ وہ غیر مسلم اس تعاون کے ذریعے مسلمانوں پر احسان نہ جتلائے۔

۵۔ اس کے بدل میں اپنی عبادت گاہوں اور مذہبی تہواروں میں تعاون کا طلب گار نہ ہو۔

۶۔ ان کا تعاون کرنا مساجد ومدارس کے مصالح کے خلاف نہ ہو۔

وفی الشامیۃ، ان شرط وقف الذمی ان یکون قربۃ عند ناو عندہم کالوقف علی الفقراء او علی مسجد - (۴/۳۴۱ / دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

غیر مسلم کی عبادت گاہوں میں چندہ دینا

غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی تعمیر اور مذہبی تقریبات میں تعاون کرنا اور چندہ دینا جائز نہیں ہے۔ ایسا کرنا تعاون علی الاثم والمعصیت ہے۔ البتہ عام فلاحی کاموں کے سلسلے میں چندہ دینا یا اگر غیر مسلم خود غریب ہو تو اس کے ساتھ تعاون کرنا جائز، بلکہ مستحسن ہے۔

دین اور معاشرہ

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات