باب سوم: عہدِ رسالت و اشاعتِ اسلام (مدنی زندگی)
ہجرتِ مدینہ
جب قریش نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو مدینہ ہجرت کر جانے کا حکم دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا تو حضورؐ نے فرمایا: صبر کریں، مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: مجھے ہمراہی کا شرف نصیب ہو گا؟ آپؐ فرمایا: ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے چار ماہ انتظار کیا اور دو اونٹ خرید کر تیار رکھے۔
اسی زمانے میں حضرت ابوبکرؓ نے خواب دیکھا کہ چاند آسمان سے اتر کر مکہ میں وارد ہوا۔ انہوں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ چاند نبی کریمؐ ہیں، ستارے صحابہؓ ہیں، اور چاند کا حضرت عائشہؓ کے گھر میں قیام یہ بتاتا ہے کہ وہ حضورؓ کی زوجہ بنیں گی۔
کفارِ مکہ نے دارالندوہ میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی۔ ابوجہل نے مشورہ دیا کہ ہر قبیلے کا ایک بہادر اٹھ کھڑا ہو اور سب مل کر ایک ہی حملے میں حضورؐ کو قتل کر دیں۔ یہ تجویز منظور کر لی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی اکرمؐ کو اس سازش سے آگاہ فرما دیا۔
دوپہر کے وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر تشریف لائے اور انہیں ہمراہی کا شرف عطا فرمایا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے سامانِ سفر تیار کیا۔ انہوں نے اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کیے، ایک سے توشہ دان باندھا اور دوسرے سے مشک کا منہ باندھا۔ اسی وجہ سے انہیں ’’ذات النطاقین‘‘ (دو پٹکے والی) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضورؐ نے عبد اللہ بن اریقط کو راہنمائی کے لیے رکھا، حضرت عامر بن فہیرہؓ کو بکریاں چرانے پر مقرر کیا، اور حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ کو کفار کی جاسوسی کے لیے مقرر کیا۔
کفارِ مکہ نے اپنے منصوبہ کے مطابق حضورؐ کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تھا تاکہ رات کو آپؐ پر حملہ کریں۔ اس وقت گھر میں حضرت علیؓ موجود تھے۔ نبی کریمؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ میری چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو جائیں اور میرے جانے کے بعد لوگوں کی امانتیں واپس کر کے مدینہ آ جائیں۔ پھر آپؐ نے سورۂ یٰس کی آیات پڑھتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئے اور اللہ کے حکم سے وہ آپؐ کو دیکھ نہ سکے۔ بعد میں کسی نے کفار کو بتایا کہ محمد تو یہاں سے جا چکے ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا تو حضرت علیؓ بستر پر تھے۔ اس طرح کفار ناکام اور شرمندہ ہو گئے اور آخرکار حضرت علیؓ کو بھی چھوڑ دیا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ غارِ ثور کی طرف چل دیے۔ راستے میں حضورؐ کے پاؤں زخمی ہو گئے تو حضرت ابوبکرؓ نے اپؐ کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ غار میں حضرت ابوبکرؓ نے اپنے کپڑے کے ٹکڑے کر کے تمام سوراخ بند کیے۔ ایک سوراخ کے لیے کپڑا نہ بچا تو اپنی ایڑی رکھ دی۔ اسی سوراخ میں سے ایک سانپ نے ان کے پاؤں میں کاٹا، لیکن انہوں نے درد کی شدت کے باوجود پاؤں نہ ہٹایا تاکہ حضورؐ کے آرام میں خلل نہ پڑے۔ حضورؐ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے زخم پر اپنا لعابِ دہن لگا دیا جس سے فوراً درد جاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے غار کے منہ پر جھاڑیاں اگا دیں، عنکبوت نے جالا تان دیا، اور کبوتروں نے گھونسلا بنا کر انڈا دے دیا۔ پھر ایک کھوجی پاؤں کے نشانات کی مدد سے مشرکینِ مکہ کو غار ثور تک لے آیا اور وہ غار کے دہانے پر آ کھڑے ہوئے۔ لیکن جب انہوں نے کبوتر کا انڈا اور مکڑی کا جالا دیکھا تو کہا کہ یہ غار بہت پرانا ہے، کوئی اندر نہیں جا سکتا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر انہوں نے اپنے قدموں کی طرف نگاہ ڈالی تو وہ ہمیں دیکھ لیں گے۔ حضورؐ نے فرمایا: ابوبکر! ان دو شخصوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے؟
تین دن کے قیام کے بعد وہ غار سے باہر نکلے۔ راستے میں ان کا تعاقب کرنے والے سراقہ بن مالک کے گھوڑے کے پاؤں حضورؐ کی دعا سے زمین میں گڑ گئے۔ سراقہ نے امان نامہ طلب کیا اور خود بھی واپس لوٹ گیا اور اس طرف آنے والے دوسرے لوگوں کو بھی واپس کرتا رہا۔ بریدہ اسلمیؓ ستر سواروں کو لے کر گرفتاری کے لیے آیا، لیکن جب حضورؐ کو دیکھا تو فوراً مسلمان ہو گیا اور اپنا عمامہ نیزہ پر باندھ کر حضورؐ کا علمبردار بن کر مدینہ تک آگے چلتا رہا۔
آٹھ روز کے سفر کے بعد حضورؐ قبا پہنچے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضورؐ کے پیچھے آ کر چادر سے سایہ کیا۔ قبا میں آپؐ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی جو اسلام کی پہلی مسجد تھی۔ جمعہ کے روز حضورؐ قبا سے روانہ ہوئے۔ بنی سالم بن عوف کے محلے میں پہلی بار مدینہ میں نمازِ جمعہ ادا فرمائی۔ حضورؐ کی اونٹنی جہاں بیٹھی وہ جگہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان کے قریب تھی۔ حضورؐ نے سات مہینے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے ہاں قیام فرمایا۔ جہاں حضورؐ کی اونٹنی بیٹھی تھی، وہ زمین دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی۔ حضورؐ نے دس مثقال سونا دے کر اسے خرید لیا اور قیمت حضرت ابوبکرؓ صدیق نے ادا کی۔ اس زمین میں چند درخت، کھنڈر اور مشرکوں کی قبریں تھیں۔ حضورؐ نے انہیں صاف کرایا اور خود اپنے دستِ مبارک سے مسجد کی بنیاد ڈالی۔ حضرت ابوبکرؓ بھی مسجد کی تعمیر میں پیش پیش رہے اور اپنی کمر پر پتھر رکھ کر لاتے تھے۔ مسجد کے ایک کنارے پر کھجور کی ٹہنیوں سے بنے چھت والا چبوترا تھا جس کا نام صفہ تھا۔ جن صحابہؓ کے پاس گھر نہیں تھا، وہ وہاں رہتے تھے اور اصحابِ صفہ کہلاتے تھے۔
حضورؐ نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابو رافعؓ کو مکہ روانہ فرمایا کہ وہ آپ کے اہل و عیال کو مدینہ لے آئیں۔ حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ بھی انہی لوگوں کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ کے اہل و عیال کو لے آئے۔ جب مہاجرین مدینہ میں آئے تو یہاں کی ہوا انہیں موافق نہ آئی اور اکثر بیمار ہو گئے۔ حضرت ابوبکرؓ صدیق کو اتنا شدید بخار ہوا کہ زندگی کی امید نہ رہی۔ حضرت عائشہؓ نے حضورؐ سے شکایت کی تو حضورؐ نے دعا فرمائی، جس کے بعد مدینہ کی آب و ہوا مہاجرین کے لیے مکہ سے بھی زیادہ خوشگوار ہو گئی۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دینی بھائی حضرت خارجہ بن زید بن ابی زہیر انصاریؓ بنے۔ انصار نے مہاجرین کو اپنے گھر لے جا کر اپنا سارا سامان ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کپڑے کی تجارت شروع کر دی اور جلد ہی مالی طور پر خودمختار ہو گئے۔
غزوات اور صلح حدیبیہ
رمضان ۲ ہجری میں غزوۂ بدر کا عظیم معرکہ پیش آیا۔ اس غزوہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضورؐ کے ساتھ بھرپور شرکت کی۔ جب حضورؐ نے صحابہؓ سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے سب سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ہم اپنی جانیں راہِ حق میں قربان کر دیں گے۔ لڑائی کے دوران حضرت ابوبکرؓ ننگی تلوار لے کر حضورؐ کے سائبان کے پاس ڈٹے رہے اور حضرت سعد بن معاذؓ کے ساتھ مل کر اس کی حفاظت کرتے رہے۔ جب حضورؐ نے ہاتھ پھیلا کر دعا مانگی اور آپؐ کے کندھوں سے چادر گر گئی تو حضرت ابوبکرؓ نے چادر اٹھا کر آپؐ کے کندھے پر ڈالی اور عرض کیا: حضور! اب بس کیجیے، اللہ ضرور اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ جنگ میں اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی اور قریش کے ستر قیدی گرفتار ہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے سفارش کی کہ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ حضورؐ نے ان کی رائے کو پسند فرمایا اور قیدیوں کو فدیہ لے کر، یا لکھنا پڑھنا سکھانے کی شرط پر چھوڑ دیا۔
شوال ۳ ہجری میں غزوہ احد پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں کو فتح ہو رہی تھی، لیکن تیر اندازوں کے درہ چھوڑ دینے سے شکست ہو گئی۔ اس نازک مرحلے میں جب کفار نے حضورؐ کی ذاتِ اقدس پر حملہ کیا تو حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت طلحہؓ جیسے صحابہؓ نے جانثاری کا ثبوت دیا۔ جب حضورؐ زخمی ہو گئے تو حضرت ابوبکرؓ نے آپ کو سہارا دے کر پہاڑ پر ایک محفوظ مقام تک پہنچایا۔ جب ابوسفیان نے پکارا کہ کیا محمد، ابوبکر اور عمر زندہ ہیں؟ تو حضرت عمر فاروقؓ نے جواب دیا۔ اس جنگ میں حضورؐ کی پیشانی مبارک پر ایک کڑی پیوست ہو گئی، جسے حضرت ابو عبیدہ بن ابی جراحؓ نے اپنے دانتوں سے نکالا، جس سے ان کے دانت ٹوٹ گئے۔
ذوالقعدہ ۵ ہجری میں غزوہ احزاب پیش آیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے پر شہر کے گرد خندق کھودی گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی خندق کی کھدائی میں شب و روز مشغول رہے۔ ایک مرتبہ جب حضورؐ تھک کر سو گئے تو حضرت ابوبکرؓ آپؐ کے گرد پہرہ دیتے رہے۔ اس غزوہ میں حضرت ابوبکرؓ کے ماتحت ایک دستہ خندق کے ایک حصے کی حفاظت پر مامور تھا۔ بعد میں اس جگہ ایک مسجد بنی جو مسجد صدیق کے نام سے مشہور ہوئی۔
ذوالقعدہ ۶ ہجری میں نبی کریم عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے۔ قریش نے آپؐ کو بیت اللہ کی زیارت نہ کرنے دی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا: آپؐ تو بیت اللہ کی زیارت کے لیے نکلے ہیں، نہ کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور نہ کسی سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں، اگر کسی نے ہمیں روکا تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ جب قریش کے سفیر عروہ بن مسعود نے کہا کہ لوگ حضورؐ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے، تو حضرت ابوبکرؓ غصے میں آ کر بولے: بد معاش! کیا ہم لوگ محمدؐ کو چھوڑ کر بھاگ سکتے ہیں؟ جب حضرت عثمان بن عفانؓ کے شہید ہونے کی افواہ پھیلی تو حضورؐ نے ’’بیعتِ رضوان’’ لی، جس میں حضرت ابوبکرؓ بھی شامل تھے۔ صلح نامے پر حضورؐ کے بعد سب سے پہلے دستخط کرنے والے حضرت ابوبکرؓ تھے۔
محرم ۷ ہجری میں غزوہ خیبر پیش آیا۔ قلعہ قموص کی مہم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ کیا گیا، انہوں نے بہت شجاعت دکھائی لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا، کیونکہ یہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقدر میں لکھا جا چکا تھا۔
رمضان ۸ ہجری میں فتحِ مکہ کا عظیم تاریخی واقعہ پیش آیا۔ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ آپؐ کی دائیں جانب تھے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ کے والد ابو قحافہ، جو نابینا تھے، حضورؐ کی خدمت میں لائے گئے اور انہوں نے اسلام قبول کیا۔
شوال ۸ ہجری میں طائف کے محاصرہ کے دوران حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ تیر سے زخمی ہوئے، یہ زخم بعد میں پھٹ پڑا اور ان کی شہادت کا سبب بنا۔
شوال ۹ ہجری میں غزوہ حنین پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں میں انتشار پھیل گیا اور بہت سے مسلمان پسپا ہو گئے۔ جو چند لوگ حضورؐ کے گرد رہ گئے ان میں حضرت ابوبکرؓ بھی شامل تھے۔ حضورؐ کے چچا حضرت عباسؓ کے پکارنے پر مسلمان پلٹ پڑے اور انہوں نے دشمن کو شکست دی۔
رجب ۹ ہجری میں غزوہ تبوک پیش آیا۔ یہ سخت گرمی اور قحط کا زمانہ تھا۔ حضورؐ نے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے گھر کا سارا مال و اسباب لا کر بارگاہِ رسالت میں پیش کر دیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنا آدھا مال پیش کیا، اور جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکرؓ سب کچھ لے آئے ہیں تو انہیں یقین ہو گیا کہ وہ کبھی ان سے بازی نہیں لے سکتے۔ حضورؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو سب سے بڑا عَلم عطا فرمایا اور امامت کے منصب پر فائز کیا۔
سریے اور اہم مہمات
شعبان ۷ ہجری میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بنو کلاب کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا گیا۔ مقابلہ ہوا جس میں دشمن کے چند آدمی قتل ہوئے اور کچھ گرفتار ہوئے۔
جمادی الثانی ۸ ہجری میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو حضرت عمرو بن العاصؓ کی مدد کے لیے روانہ کیا گیا۔ مخالف جنگجوؤں نے خود کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا تاکہ جم کر لڑ سکیں، اس لیے یہ مہم ذات السلاسل (زنجیروں والی) کے نام سے مشہور ہوئی۔ البتہ وہ مسلمانوں کے پرزور حملے کے سامنے نہ ٹھہر سکے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔
رجب ۸ ہجری میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کی سرکردگی میں ایک مہم پر روانہ کیا گیا۔ راستے میں رسد ختم ہو گئی تو مجاہدین کو درختوں کے سوکھے پتوں پر گزارا کرنا پڑا، اس لیے یہ معرکہ ’’سریۃ الخبط‘‘ کے عنوان سے مشہور ہو گیا۔
امارتِ حج
غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد حج کا موسم آیا تو حضورؐ نے تین سو مسلمانوں کا قافلہ حج کے لیے بھیجا اور اس کا امیر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مقرر فرمایا۔ ادھر سورہ توبہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں مشرکوں کے لیے جزیرہ نما عرب میں کوئی جگہ نہ ہونے کا اعلان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضٰیؓ کو یہ آیات دے کر مکہ روانہ فرمایا تاکہ وہ حج کے دنوں میں لوگوں کو سنائیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حج کے تمام مناسک ادا کیے اور حضرت علیؓ نے سورہ توبہ کی آیات کی تلاوت فرمائی۔
وفاتِ رسولِ کریمؐ
ربیع الاول ۱۱ ہجری میں جب حضورؐ کا مرض شدید ہو گیا تو آپؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ ابوبکرؓ غمگین آدمی ہیں، لیکن حضورؐ نے پھر بھی انہی کو حکم دیا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے سترہ نمازیں پڑھائیں۔ ایک دن جب آپؐ کو کچھ افاقہ ہوا تو آپؐ مسجد میں تشریف لائے۔ حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھا رہے تھے، آپؐ نے انہیں اپنی جگہ پر قائم رکھا اور ان کے پہلو میں بیٹھ کر نماز پڑھی۔ ۱۲ ربیع الاول کو دوپہر کے وقت حضورؐ کا وصال ہوا۔ وفات سے تھوڑی دیر قبل آپؐ نے فرمایا: نماز اور لونڈی و غلاموں کا خیال رکھنا۔ پھر تین مرتبہ فرمایا: اب کوئی نہیں، بلکہ وہ بڑا رفیق چاہیے۔ وصال کی خبر سن کر صحابہؓ پر غم کی کیفیت طاری ہو گئی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے تلوار کھینچ لی اور کہنے لگے: اگر کسی نے کہا کہ محمدؐ کا انتقال ہو گیا ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ جب مدینہ پہنچے تو سیدھے حضرت عائشہؓ کے حجرے میں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخِ انور سے چادر ہٹا کر آپؐ پر جھکے اور بوسہ دیا۔ پھر مسجد میں آ کر آپ نے خطاب کیا: اے لوگو! جو شخص محمدؐ کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمدؐ کا وصال ہو گیا۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا، تو اللہ زندہ ہے، وہ کبھی نہیں مرے گا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اور محمد تو ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے، تو کیا اگر وہ انتقال فرما جائیں یا شہید ہو جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟
حضورؐ کی وصیت کے مطابق اہلِ بیت نے انہیں غسل دیا۔ کفن تین سوتی کپڑوں کا بنایا گیا۔ نماز جنازہ کے لیے لوگ گروہ در گروہ آتے رہے۔ دفن کے بارے میں اختلاف ہوا تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی اپنی وفات کے بعد اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جہاں اس کی وفات ہوئی ہو۔ چنانچہ اسی جگہ (حجرہ عائشہؓ) میں آپ کی قبر تیار کی گئی۔
باب چہارم: عہدِ خلافت
بیعتِ خلافت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد انصار حضرت سعد بن عبادہؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خلافت کا استحقاق انصار کو ہے۔ جب یہ اطلاع حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو ہوئی تو یہ دونوں بزرگ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کے ہمراہ سقیفہ روانہ ہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انصار سے خطاب کیا: ہم سابقین اولین میں ہیں، رسول اللہ کے ساتھ مکہ میں رہے، کفار کے ہاتھوں ایذائیں اٹھائیں، پھر انہی کے ہمراہ ہجرت کی۔ ہم امراء ہیں اور تم وزراء ہو۔ حضرت حباب بن منذرؓ نے کہا: مناسب یہ ہے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے۔ حضرت بشیر بن سعدؓ نے کہا: رسول اللہ قریش سے تھے اور ان کی قوم امارت و خلافت کی زیادہ مستحق ہے، کیا تم نے نہیں سنا کہ حضرت محمدؐ نے فرمایا: تمام امام قریش سے ہوں گے؟ یہ سن کر حضرت حباب بن منذرؓ کا خیال بدل گیا اور بحث ختم ہو گئی۔ حضرت بشیر بن سعدؓ نے اٹھ کر سب سے پہلے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پھر حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ نے بیعت کی، پھر دیکھتے ہی دیکھتے صحابہؓ کی کثیر تعداد نے بیعت کر لی۔
بیعت سقیفہ کے دوسرے دن حضرت ابوبکرؓ مسجد میں آئے اور منبر پر بیٹھ کر لوگوں سے بیعت عام لی۔ پھر کھڑے ہو کر حمد و نعت کے بعد حاضرین سے مخاطب ہوئے: اے لوگو! میں تمہارا حاکم بنا دیا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں ٹھیک رہوں تو میری مدد کرو، اور اگر بری راہ اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔ سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔ تم میں جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے جب تک میں اس کا حق اسے نہ دلا دوں۔ اور قوی میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق واپس نہ لے لوں۔ تم میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں، اور جب نافرمانی کرنے لگوں تو میری اطاعت نہ کرو۔
حضرت ابو سفیانؓ نے حضرت علیؓ سے بیعت کے متعلق کہا تو انہوں نے سختی سے جواب دیا۔ بعد میں حضرت علیؓ خود حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے اور کہا: آپ نے سقیفہ میں میری عدمِ موجودگی میں بیعت کیوں لی؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ وہ نزاع رفع کرنے گئے تھے اور حاضرین نے خود بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ تھوڑی دیر سوچتے رہے، پھر ہاتھ بڑھا کر حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
لشکرِ اسامہؓ کی روانگی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے کچھ روز پہلے رومیوں سے انتقام لینے کے لیے ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا تھا، جس کا سردار اسامہ بن زید کو مقرر فرمایا تھا۔ اس لشکر میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ جیسے بڑے صحابہ بھی شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب ارتداد کا رجحان پھیل گیا تو بعض صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ لشکرِ اسامہؓ کی روانگی ملتوی کر دی جائے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے یہ مشورہ قبول نہ کیا اور فرمایا: میں اس جھنڈے کو نہیں کھول سکتا جسے رسول اکرم نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے باندھا ہو۔ اور جب بعض صحابہؓ نے کہا کہ اسامہؓ نوعمر ہے، تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: جسے خدا کے رسول نے سردار بنایا ہو، مجھے اسے معزول کرنے کا کیا حق ہے؟ یکم ربیع الثانی ۱۱ ہجری کو لشکر روانہ ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ خود پیدل حضرت اسامہؓ کے گھوڑے کے ساتھ کچھ دور تک چلے۔ حضرت اسامہؓ سے جدا ہوتے وقت حضرت ابوبکرؓ نے انہیں نصیحتیں فرمائیں: دیکھو! خیانت نہ کرنا۔ دھوکا نہ دینا۔ مال نہ چھپانا۔ کسی کے اعضا کو نہ کاٹنا۔ بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا۔ کھجور کے درختوں کو نہ جلانا۔ پھل والے درختوں کو نہ کاٹنا۔ تمہارا گزر ایک قوم پر ہو گا جو دنیا کو چھوڑ کر اپنی خانقاہوں میں بیٹھی ہو گی، تم اس سے تعرض نہ کرنا۔ لشکرِ اسامہ چالیس روز بعد مالِ غنیمت اور فتح کی خوشخبری لے کر واپس لوٹا۔ اس مہم سے منافقین اور مرتدین کو یہ پیغام گیا کہ مسلمانوں کی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئی، جس کی وجہ سے بہت سے قبائل دائرہ اسلام میں لوٹ آئے۔
فتنہ ارتداد
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد عرب میں ارتداد کی وبا پھیل گئی جس کی چند بڑی وجوہات تھیں: عرب برسوں سے مختلف ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے، اسلام نے انہیں ملا کر ایک ملت بنا دیا لیکن وہ اس نظام کو اپنی آزادی کی زنجیر سمجھنے لگے۔ زکوٰۃ کو ایک بوجھ سمجھا گیا اور اس سے دستبردار ہونے کی کوشش کی جانے لگی۔ شراب اور زنا پر اسلام نے کڑی پابندیاں لگا دیں جو انہیں گراں گزریں۔ دور دراز علاقوں کے لوگ حضورؐ کی صحبت سے فیضیاب نہیں ہوئے تھے۔ حضورؐ کی کامیابی کو دیکھ کر عرب میں جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہو گئے۔
قبیلہ عبس و ذیبان نے ذی القصہ میں پڑاؤ ڈال کر مدینہ پر حملہ کر دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے پہلے سے انتظام کر رکھا تھا اور انہیں شکست دے دی۔
حضرت ابوبکرؓ نے پوری فوج کو گیارہ دستوں میں تقسیم کیا، ہر دستے کا ایک الگ سردار مقرر کیا اور اسے جھنڈا دیا۔ ان سرداروں میں حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ، حضرت شرجیل بن حسنہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ اور دیگر شامل تھے۔ روانگی سے پہلے حضرت ابوبکرؓ نے مرتدین کو عام پیغام بھیجا کہ وہ فتنہ سے باز آ جائیں اور اسلامی برادری میں دوبارہ داخل ہو جائیں۔
طلیحہ نے بنی اسد میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ ان کے مقابلے پر گئے۔ حضرت عدی بن حاتمؓ نے اپنی قوم کو سمجھا بجھا کر طلیحہ سے الگ کر دیا۔ طلیحہ شام کی طرف فرار ہو گیا، بعد میں اس نے توبہ کی اور دوبارہ مسلمان ہو گیا۔
مسیلمہ نے حضورؐ کے مرض الوفات کے دوران نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو اس کے مقابلے پر روانہ کیا۔ سخت جنگ کے بعد مسیلمہ اپنے ایک باغ میں چھپ گیا۔ حضرت براء بن مالکؓ نے باغ میں گھس کر دروازے کھول دیے اور مسیلمہ قتل کر دیا گیا۔
یمن میں اسود عسنی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ شہر بن باذان کی بیوی نے فوج ابناء کے سرداروں کی مدد سے رات کے وقت اسود کو قتل کر دیا۔ یہ فتح اسی رات ہوئی جب مدینہ میں حضورؐ کا وصال ہوا۔
مالک بن نویرہ نے زکوٰۃ روک دی اور مسلمانوں سے جنگ شروع کر دی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے انہیں گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ بعض مسلمانوں نے اعتراض کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ سے واقعہ کی تشریح میں غلطی ہونے کی بنا پر قصاص نہ لیا اور خود مالک کا خون بہا ادا کر دیا۔
تدوینِ قرآن و حدیث
جنگِ یمامہ کے موقع پر حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ جنگوں میں بے شمار حفاظ شہید ہو رہے ہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو قرآن مجید کے ایک بڑے حصے کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ابتدا میں فرمایا کہ وہ یہ کام نہیں کر سکتے جو نبی کریم نے اپنی زندگی میں نہیں کیا۔ لیکن پھر اللہ نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی اور ان کی رائے بھی حضرت عمر فاروقؓ والی ہو گئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو بلایا اور فرمایا: تم نوجوان ہو، حضورؐ کے کاتبِ وحی ہو، اور حضورؐ کو قرآن سنایا کرتے تھے، اس لیے تم قرآن کریم جمع کرو۔ حضرت زیدؓ نے کھجور کے پتوں، کپڑے کے ٹکڑوں، پتھر کے ٹکڑوں اور صحابہؓ کی یادداشتوں سے قرآن مجید کو اکٹھا کیا۔ حضرت ابوبکرؓ کے وصال تک یہ صحیفے ان کے پاس محفوظ رہے۔
حضرت ابوبکرؓ نے حضورؐ کی مستند پانچ سو احادیث کا ایک مجموعہ تیار کیا اور یہ مجموعہ اپنی بیٹی حضرت عائشہؓ کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے اس مجموعے کو نہایت احتیاط سے تیار کیا۔ روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے یہ نسخہ حضرت عائشہؓ کو دیا تو اس رات ان کے ہاں قیام کیا، اور تمام رات اس خوف سے کروٹیں بدلتے رہے کہ کہیں کسی حدیث کی تحریر میں کوئی کوتاہی نہ رہ گئی ہو۔
فتوحاتِ عراق و شام
محرم ۱۲ ہجری میں حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو عراق روانہ کیا۔ ان کے ہمراہ دس ہزار فوج تھی۔ انہوں نے حیرہ پہنچ کر شرفاء حیرہ سے کہا: ہم کلمۃ اللہ کی غرض سے آئے ہیں، تم لوگ اسلام قبول کر لو یا مطیعِ اسلام ہو کر جزیہ دو، ورنہ میدان جنگ میں آؤ۔ شرفاء حیرہ نے اسلام کی اطاعت قبول کر کے نوے ہزار درہم جزیہ پر صلح کر لی۔
شاہ فارس کی جانب سے صوبہ کا گورنر ہرمز نامی ایک دلیر جنگجو تھا۔ اس نے اپنی فوج کو زنجیروں سے گھیر دیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے ہرمز کو مقابلے کے لیے للکار کر قتل کر دیا۔ اس جنگ کو ذات السلاسل کہا جاتا ہے۔
شام کی مہم میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان یرموک کی عظیم جنگ ہوئی۔ مسلمانوں کی تعداد ۴۶ ہزار تھی جبکہ رومی لشکر ۲ لاکھ ۴۰ ہزار پر مشتمل تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے لشکر کو منظم کیا اور حملہ کر دیا۔ رومی اس حملے سے گھبرا کر بھاگ نکلے۔ دو لاکھ چالیس ہزار میں سے اکثر مارے گئے۔ ہرقل کا بھائی تدارق بھی قتل ہوا۔ اس جنگ میں تین ہزار مسلمان شہید ہوئے جن میں حضرت عکرمہؓ بن ابی جہل اور ان کے بیٹے حضرت عمروؓ شامل تھے۔
خلافت کا نظم و نسق
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا عہدِ خلافت اس آیت کی عملی تفسیر تھا: ’’وامرھم شوریٰ بینھم‘‘ کہ ان کے تمام کام باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔ جب کوئی اہم مسئلہ پیش آتا تو وہ اکابر انصار و مہاجرین سے مشورہ کرتے تھے۔ ان ممتاز اصحاب میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت اُبی بن کعبؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ شامل تھے۔
آمدنی کے ذرائع میں زکوٰۃ، عشر، خراج، جزیہ، فے اور غنیمت شامل تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے بیت المال تعمیر کروایا۔ وفات کے بعد جب حضرت عمر فاروقؓ نے اس کا جائزہ لیا تو صرف ایک دینار برآمد ہوا۔ بیت المال کے نگران کے مطابق کل دو لاکھ دینار آیا تھا، لیکن حضرت ابوبکرؓ اسے فوراً ضروری مدوں پر خرچ کر دیتے یا لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔
عسکری نظام کے سلسلہ میں حضرت ابوبکرؓ نے لشکر کو مختلف دستوں میں تقسیم کیا اور ہر دستے کو الگ الگ پرچم عطا فرمایا۔ انہوں نے فوج کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ امرائے فوج کو ہدایت کی کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کریں، راہبوں سے تعرض نہ کریں، کلیساؤں کو نہ چھیڑیں، لاشوں کا مثلہ نہ کریں، اور اسیرانِ جنگ سے اچھا سلوک کریں۔
حضرت ابوبکرؓ نے خیبر کے یہود سے کیے گئے معاہدے کی توثیق فرمائی۔ معاہدے کے مطابق ان کی خانقاہیں اور گرجے نہیں گرائے جائیں گے اور وہ ناقوس بجا سکیں گے، نیز بوڑھے، بے کار اور محتاج افراد کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا۔
جب بحرین سے مالِ غنیمت آیا تو حضرت ابوبکرؓ نے اعلان کیا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کوئی وعدہ کیا ہو تو وہ آئے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ نے عرض کیا کہ حضورؐ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ جب فلاں جگہ سے مال آئے گا تو انہیں تین بار دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر دیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انہیں اسی طرح عطا فرمایا۔
باب پنجم: وفات و میراث
علالت و وفات
مؤرخین کے مطابق حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کی اصل وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال فرمانا تھا۔ اس صدمے میں ان کا جسم گھلنے لگا۔ ایک روایت کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کے پاس ایک شخص نے خزیرہ (قیمہ جس میں دلیہ پڑا ہو) بھیجا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ اور حارث بن کلدہ دونوں کھانے میں شریک تھے۔ حارث نے کہا: اے خلیفہ رسول اللہ! ہاتھ روک لیجیے، اس میں زہر ہے اور یہ وہ زہر ہے جس کا اثر ایک سال میں نمایاں ہوتا ہے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ایک سال کے اندر میں اور آپ ایک ہی دن مر جائیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ہاتھ کھینچ لیا، لیکن زہر اپنا کام کر چکا تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد نے ۷ جمادی الثانی کو غسل فرمایا، اس دن سردی تھی جس سے انہیں بخار ہو گیا اور وہ پندرہ روز تک علیل رہے۔ علالت کے دوران لوگ عیادت کے لیے حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے خلیفہ رسول اللہ! اجازت ہو تو ہم آپ کے لیے طبیب لائیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: مجھے طبیب نے دیکھ لیا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: طبیب نے کیا کہا؟" فرمایا: کہتا ہے: ’’انی فعال لما يريد‘‘۔
جب حضرت ابوبکرؓ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو انہوں نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کو بلا کر پوچھا: تم عمر فاروقؓ کو کیا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ پھر حضرت عثمانؓ سے بھی یہی بات دریافت کی۔ حضرت عثمانؓ نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ہم لوگوں میں ان کا مثل موجود نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت اسید بن حضیرؓ، حضرت سعید بن زید اور دوسرے انصار و مہاجرین سے بھی مشورہ کیا۔ حضرت اسیدؓ نے کہا: اللہ خوب جانتا ہے کہ آپ کے بعد عمرؓ ہی وہ شخص ہے جو اللہ کی رضا کو اپنی رضا سمجھتے ہیں۔ ان کا باطن ان کے ظاہر سے بھی اچھا ہے اور کارِ خلافت کے لیے ان سے زیادہ قوی اور مستعد کوئی دوسرا نہیں۔
حضرت ابوبکرؑ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا کہ یہ وصیت نامہ لکھیں: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ وصیت نامہ ہے جو ابوبکر بن ابی قحافہ نے اپنے آخر عہد میں دنیا سے جاتے وقت لکھایا ہے۔ لوگو! میں نے اپنے بعد تم پر عمر بن خطابؓ کو خلیفہ مقرر کیا ہے، ان کے احکام کو سننا اور ان کی تعمیل کرنا۔ میں حتی المقدور خدا اور اس کے رسول اور دینِ اسلام کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ انصاف سے کام لیں گے۔ میں نے تمہارے لیے نیکی اور بھلائی کا قصد کیا ہے، مجھے غیب کا علم نہیں ہے۔
پھر انہوں نے اس وصیت کو سر بمہر کر کے حضرت عثمانؓ کے حوالے کر دیا۔ لوگوں نے برضا و رغبت حضرت عمرؓ سے بیعت کر لی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے: اے اللہ! یہ جو کچھ میں نے کیا ہے اس سے میرا مقصود مسلمانوں کی فلاح و بہبود ہے۔ میں نے ان میں جو سب سے بہتر تھا اسے ان کا والی بنایا ہے۔ اے اللہ! تو ہی اپنے بندوں کا مالک و مختار ہے۔ ان میں صلاحیت پیدا کرنا اور عمرؓ کو خلفاء راشدین میں شامل کرنا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب ان کے والد نزع کی حالت میں تھے تو میری کی زبان سے نکلا: آج آپ کو سخت مرض لا حق ہو گیا ہے، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: یہ مت کہو، بلکہ یہ کہو کہ سکرات موت آنا ضروری ہے، یہی وہ حالت ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ رسول اکرمؐ کی وفات کس روز ہوئی تھی؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: سوموار کے دن۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میں آج رات ہی انتقال کروں گا۔ ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ ہجری کو ۶۳ سال کی عمر میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتقال ہو گیا۔
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں کھجور کا ایک درخت ہبہ فرما دیا تھا جس سے سالانہ ۲۰۰ وسق (۱۲۰۰ صاع) کھجوریں آتی تھیں۔ انتقال سے قبل انہوں نے فرمایا: اے بیٹی! میں تم کو تمام لوگوں میں سے زیادہ آسودہ حال دیکھنا پسند کرتا تھا۔ میں نے جو تمہیں نخل دیا تھا، اب تک تم نے اس سے نفع اٹھایا، لیکن میرے مرنے کے بعد وہ تمہاری بہنوں اور بھائیوں پر تقسیم ہو جائے گا۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: ابا جان! آپ نے میری بہن صرف ایک اسماءؓ چھوڑی ہے، تو دوسری بہن کون سی ہے؟ آپؓ نے فرمایا: تمہاری سوتیلی ماں حبیبہ بنت خارجہؓ کے پیٹ میں ایک لڑکی ہے، تم اس کی بھی وصیت کرنا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ کے انتقال کے بعد حضرت ام کلثوم بنت ابی بکرؓ پیدا ہوئیں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب ان کے والد کو مرض میں زیادہ تکلیف ہوئی تو انہوں نے اپنے دو کپڑوں کے بارے میں فرمایا: میرے یہ دو کپڑے ہیں، مجھے غسل دے کر انہی دو استعمال شدہ کپڑوں میں کفنا دینا، کیونکہ مردے کے مقابلے میں زندہ کو نئے کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
تکفین و تدفین و تعزیت
حضرت ابوبکرؓ کی وصیت کے مطابق ان کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیسؓ نے انہیں غسل دیا اور حضرت عبد الرحمٰن بن ابی بکرؓ نے مدد کی۔ حضرت ابوبکرؓ کو انہی کے دو مستعملہ کپڑوں میں کفنایا گیا۔ نماز جنازہ حضرت عمر فاروقؓ نے ان کی قبر اور منبر کے درمیان میں پڑھائی۔ حضرت ابوبکرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو مبارک میں رات ہی کے وقت دفن کیا گیا۔ ان کا سر رسول اللہ کے شانہ مبارک کے متوازی رکھا گیا اور ان کی قبر کی لمبائی روضہ اطہر کے برابر رکھی گئی۔
جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کی خبر پھیلی تو حضرت علی المرتضٰی تعالیٰ عنہ رو پڑے اور ان کے مکان پر آ کر فرمانے لگے: اے ابوبکرؓ! اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ واللہ! آپ تمام امت میں سب سے پہلے ایمان لائے اور ایمان کو اپنا شیوہ بنایا۔ آپ سب سے زیادہ صاحبِ یقین، سب سے زیادہ غنی، اور سب سے زیادہ دین کی حفاظت و نگہداشت کرنے والے، سب سے بڑھ کر اسلام کے حامی اور مخلوق کے خیر خواہ تھے۔ آپ خُلق، فضل اور ہدایت میں رسول اللہ سے سب سے زیادہ قریب تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔ آپ نے رسول اللہ کی اس وقت تصدیق کی جب دوسروں نے تکذیب کی، اور اُس وقت آپؐ کی غم خواری کی جب دوسروں نے بخل کیا۔ جب لوگ نصرت و حمایت سے رکے ہوئے تھے، آپ کھڑے ہو کر رسول اللہ کی مدد کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی کتاب میں صدیق فرمایا (والذی جآء بالصدق وصدق بہ)۔ آپ اسلام کی پشت و پناہ اور کافروں کو بھگانے والے تھے۔ نہ آپ کی حجت کبھی کمزور ہوئی اور نہ آپ کی بصیرت ناتواں ہوئی۔ آپ کے نفس نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔ آپ پہاڑ کی مانند ثابت قدم تھے؛ نہ تند ہوائیں آپ کو اکھاڑ سکیں اور نہ ہلا سکیں۔ رسول اللہ نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ آپ ضعیف البدن، قوی الایمان اور منکسر المزاج ہیں۔ اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ، زمین پر بزرگ، اور مومنوں میں سب سے بڑے تھے۔ نہ آپ کے سامنے کسی کو طمع ہو سکتی تھی اور نہ خواہش۔ کمزور آپ کے نزدیک قوی تھا اور قوی کمزور، یہاں تک کہ آپ کمزور کا حق دلا دیتے اور طاقتور سے حق لے لیتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات پر حضرت خفاف بن ندبہ السلمیؓ نے نہایت درد بھرے انداز میں کہا کہ انسان آخرکار یہ حقیقت جان لیتا ہے کہ دنیا میں کسی کو ہمیشہ باقی نہیں رہنا۔ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور یہاں کی ہر نعمت عارضی ہے۔ حکومت، اقتدار اور عزت بھی دراصل ایک امانت ہیں جو ایک دن واپس لے لی جاتی ہیں۔ انسان اپنی زندگی میں بہت کوششیں اور آرزوئیں کرتا ہے، لیکن موت ہر وقت اس کے تعاقب میں رہتی ہے۔ کبھی بڑھاپا انسان کو ختم کر دیتا ہے، کبھی بیماری اور کبھی کوئی اور سبب، مگر انجام سب کا ایک ہی ہے۔ لوگ بیماریوں کا شکوہ کرتے ہیں، حالانکہ اصل حقیقت موت کا آ جانا ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ پھر وہ حضرت ابوبکرؓ کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ رحمت و برکت کے بادل تھے، جو سوکھی زمین پر بارش بن کر برستے اور لوگوں کو زندگی بخشتے تھے۔ ان کی ذات کمزوروں کے لیے سہارا، محتاجوں کے لیے آسرا اور مسلمانوں کے لیے امن و سکون کا ذریعہ تھی۔ حضرت خفافؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! نیکی، تقویٰ، اخلاص اور اعلیٰ کردار میں کوئی شخص حضرت ابوبکرؓ کا ہم پلہ نہیں ہو سکتا، خواہ وہ کتنا ہی باعزت اور بلند مرتبہ کیوں نہ ہو۔ جو شخص ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کے زمانے جیسی پاکیزگی حاصل کرنے کی کوشش کرے، اسے بھی ویسی ہی محنت، دیانت اور نیک عملی اختیار کرنا ہو گی جیسی حضرت ابوبکر صدیقؓ کی زندگی کا وصف تھی۔
اختتامیہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدتِ خلافت صرف سوا دو برس تھی، لیکن اس قلیل مدت میں انہوں نے وہ عظیم کارنامے سر انجام دیے کہ انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے:
- عرب بھر میں پھیلے ہوئے فتنہ ارتداد کو انہوں نے اپنی قوت ایمانی اور عزم و ہمت سے کچل کر رکھ دیا۔
- مسیلمہ کذاب، طلیحہ، اسود عسنی جیسے جھوٹے نبیوں کو انہوں نے نیست و نابود کر دیا۔
- قرآن پاک کو پہلی مرتبہ کتابی شکل دینے کا عظیم کارنامہ انہی کے سپرد تھا۔
- عراق اور شام کی فتوحات کی بنیاد انہوں نے رکھی، جسے ان کے جانشینوں نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
- انہوں نے نوزائیدہ خلافتِ اسلامیہ کو اتنی مستحکم بنیادوں پر قائم کیا کہ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے ایک شاندار عمارت تعمیر کر دی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں انہوں نے لشکرِ اسامہ کو روانہ کیا، جس سے منافقین و مرتدین کو یہ پیغام گیا کہ مسلمانوں کی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
اگر ایک جملے میں کہا جائے تو نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دینِ اسلام کی سب سے بڑی شخصیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔
(جاری)
