اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل

مشاہد حسین سید: 

دی لاسٹ اسپیکر فار دِس ڈسکشن آن نیشنل انٹیگریشن (اسٹوڈنٹ کنونشن اسلام آباد 2006ء)، سید عدنان کاکاخیل صاحب۔ سیٹ نمبر 93۔ جامعۃ العلوم الاسلامیۃ، بنوری ٹاؤن، کراچی سے تعلق ہے ان کا۔ 

سید عدنان کاکاخیل: 

میرے ساتھیوں نے کل بھی اس موضوع کے اوپر بہت اچھی باتیں کیں۔ آج کوشش کروں گا انہی باتوں کی روشنی میں اس کو بالکل مختصر انداز میں پیش کروں۔

ملک کی نظریاتی اساس کے متعلق شکوک و شبہات

اس میں دو رائیں نہیں ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا بحران نظریاتی یکجہتی، فکری وحدت اور اتحاد و اتفاق سے محرومی ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ محرومی اٹھاون سال گزرنے کے باوجود ابھی تک کیوں ہے! اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو بنیادی پلیٹ فارم دیا گیا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ‘‘ اس پر کنفیوژنز پیدا کر دی گئیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ابھی تک پوچھا جا رہا ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا تھا؟ قائد کا وژن کیا تھا؟ کیا یہ چیزیں بہت کلیئر نہیں ہیں؟ اور کیا اس سوال کا جواب میں یا آپ دے سکتے ہیں، یا وہ نسل دے سکتی ہے جس نے تخلیقِ پاکستان کے خاکے میں اپنے خون سے رنگ بھرا تھا؟ یہ ان کی روحوں کے ساتھ مذاق ہے، یہ ان کی قربانیوں کا مذاق ہے کہ جی آپ تو کٹ مرے، ہمیں سمجھ ہی نہ آیا کہ آپ کا مسئلہ کیا تھا۔ 

امن و امان کی دگرگوں صورتحال کے محرکات

ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ امن و امان کی دگرگوں صورتحال ہے۔ اور بدقسمتی سے اس کو بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ اسلام ذمہ دار ہے۔ حالانکہ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سب سے زیادہ اسلام امن و امان کے اوپر زور دیتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی دعا تو ذرا دیکھیے، معیشت کی بات بعد میں کرتے ہیں، اکانومی کی بات بعد میں کرتے ہیں، پہلے امن کی بات کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’رب اجعل ھذا بلدا اٰمنا‘‘ الٰہی میری اس بستی کو امن کا گہوارا بنا دے۔ پھر فرماتے ہیں: ’’وارزق اہلہ من الثمرات‘‘ اس میں رہنے والوں کی معیشت بھی ٹھیک کر دیجیے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی جب اپنے انعامات گنواتے ہیں تو فرماتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو کہ ’’واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس وامنا‘‘ ہم نے آپ کو ایک ایسی جگہ بسایا جس کو بار بار آنے کی جگہ اور امن کا گہوارہ بنایا۔ 

یہ تو بات بالکل واضح ہے۔ مسئلہ یہ ہے، ہمارا امن و امان تباہ کیوں ہوا؟ ہمارا نوجوان کس طرح دہشت گردوں کا آلہ بنا؟ اور ہم روز بروز لاقانونیت کی دلدل میں کیوں دھنسے جا رہے ہیں؟ جناب صدر! نوٹ کرنے کی بات ہے کہ یہ سبق اس کو کسی مذہب نے نہیں سکھایا، یہ سبق اس کو کسی دین نے نہیں بتایا۔ یہ طبقاتی تفریق، استحصالی نظام، ٹیلنٹ کی بے قدری، تعلیمی ڈھانچے کا کھوکھلاپن، بے انتہا کرپشن، اور اختیارات کا ناجائز استعمال وہ خوفناک مسائل ہیں جو نوجوان کو اس طرف لے کر گئے ہیں۔ آپ یہ مسائل حل کر دیجیے، پھر دیکھیے یہ نوجوان دہشت گرد ہے یا امن پسند ہے۔ 

جمہوری روایات کے فقدان کا سبب

ہمارا تیسرا سب سے بڑا مسئلہ، جو اس وقت بہت اہمیت کا حامل ہے، جمہوری روایات کا فقدان ہے۔ ہم ابھی تک حقیقی جمہوری کلچر اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے ماحول کو پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ٹوٹتی بنتی اسمبلیوں، انتخابی دھاندلیوں، اور جنابِ صدر! اہم قومی مسائل میں پارلیمنٹ کو بائی پاس کی روایات نے عوام کا اعتماد موجودہ پولیٹیکل سسٹم سے اٹھا دیا ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے اس پڑوسی ملک سے سبق سیکھنا چاہیے جہاں سے مشاہد صاحب تشریف لائے ہیں اور آپ عنقریب جانے والے ہیں، ان کی اور ہماری تاریخِ آزادی ایک ہی ہے، ہمیں اور ان کو ایک جتنا وقت ملا ہے، مگر انہوں نے اپنے ہاں جمہوری اقدار کو اتنا مضبوط کر دیا ہے کہ حکومت کتنی ہی ناکام ثابت کیوں نہ ہوجائے، کوئی بھی افتاد ٹوٹ پڑے، یہ نہیں ہو سکتا کہ فوج بیرکوں سے نکلے اور اقتدار میں آ کر بیٹھ جائے۔ جنابِ صدر! میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج اس ہال میں لگی ہوئی قائد کی تصویر آپ سے پوچھ رہی ہے، آگے آپ کھڑے ہوئے ہیں، کہ جنرل! تم تو سرحدوں کے رکھوالے ہو، تم کو ایوانِ اقتدار کی راہ کس نے دکھائی ہے؟ 

ایلیٹ کلاس اور قرضوں کی معیشت

اور جناب اعلیٰ، ہمارا چوتھا سب سے بڑا مسئلہ ایلیٹ کلاس اکانومی ہے۔ آپ کے اعداد و شمار کے جادوگر کہہ رہے ہیں کہ معیشت ترقی کر رہی ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، قرضے کم ہو گئے ہیں، کشکول ٹوٹ گئی ہے۔ آپ بار بار کہتے ہیں، پہلے ہم مانگنے جاتے تھے، اب ہم دینے جاتے ہیں۔ اور عوام حیران ہے کہ خدایا کیا ماجرا ہے! 

  • معیشت ترقی کر رہی ہے، غریب کا چولہا بجھ رہا ہے۔
  • زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
  • روپے کی قیمت ڈی ویلیو ہوتے ہوتے کہاں آ کھڑی ہوئی ہے۔ 

مضر تفریحی سرگرمیوں کی سرکاری ترویج

اور اس کے بعد ایک اور بات جنابِ صدر! آپ نے کہا کہ بسنت منانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اسلام تفریح سے ہرگز منع نہیں کرتا بلکہ صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مگر خدارا محروموں لاچاروں کی آرزوؤں کے مزار پر دھماچوکڑی نہ مچائی جائے۔ ایک عجیب تاثر ہے، ٹھیک ہے لوگ انفرادی طور پر پتنگ اڑائیں، کوئی اس کو حرام نہیں کہتا، مگر جب ایک غریب دیکھتا ہے کہ میرے پیٹ میں روٹی نہیں، میرا صدر پتنگ بازی کر رہا ہے، تو وہ یوں سمجھتا ہے کہ ہمارے درمیان کوئی گیپ ہے۔ بالکل اس طرح لگتا ہے ایک گھر کے اندر میت پڑی ہو، اور آپ دوسرے گھر کے اندر ڈرم بجائیں کہ میں تو آزاد ہوں، غم تو تمہارا ہے، میرا نہیں ہے۔ تو کوئی بھی اس کی اجازت نہیں دے گا، کوئی بھی مذہب کہے گا کہ نہیں، اس کا احساس کیجیے، اس کی اشک شوئی کریں، اس کو سینے سے لگائیے۔ 

ناقابلِ قبول حکومتی لب و لہجہ

اس کے علاوہ جنابِ صدر، ایک بہت اہم بات جو ہم محسوس کرتے ہیں کہ بعض مسائل آپ کے لہجے کی کرختگی کی وجہ سے خراب ہوتے ہیں۔ آپ بلوچستان کے عوام سے کہتے ہیں، تمہیں ہم وہاں سے ہٹ کریں گے تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا ہم نے تمہیں کہاں سے ہٹ کیا ہے۔ آپ قوم کے بڑے ہیں۔ آپ کو بالکل قوم سے اس انداز میں گفتگو کرنی چاہیے جس طرح آپ اپنے بیٹے بلال سے گفتگو کرتے ہیں۔ 

جناب صدر، وردی کی بات میری بہن نے کی ہے۔ وردی کی بات تو  — آپ نے خود چودہ کروڑ عوام سے کہا تھا میں ۳۱ دسمبر کو اتار دوں گا، پھر قوم کے ’’وسیع تر مفاد‘‘ میں آپ وعدے سے مکر گئے۔ 

مشاہد حسین سید: 

تھینک یو جی۔ شکریہ، مہربانی، تھینک یو، آپ کا ٹائم ہو گیا اووَر جی۔

جنرل پرویز مشرف: 

تھینک یو۔ تھینک یو ویری مچ۔ یہ بنوری ٹاؤن سے آئے ہوئے مہمان کی باتوں سے ایک بات کا ثبوت ضرور ہو گیا کہ یہاں انڈیپنڈنس آف ویوز، ٹرانسپیرنسی — کوئی یہ سلیکشن ایسی نہیں ہوئی ہوئی ہے کہ کوئی نہ بات کر سکے۔

https://youtu.be/6FKqFEOs8ns

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات