کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)

جدید الحاد کا مطالعہ جغرافیائی اور فکری تناظر میں گہرائی کا متقاضی ہے۔ مغربی دنیا میں الحاد کی وجوہات اپنی تاریخی بنیادیں رکھتی ہیں، جبکہ اسلامی دنیا میں یہ مسئلہ بالکل مختلف سیاسی، سماجی، اور مذہبی محرکات کا نتیجہ ہے۔ اکثر اہلِ علم کا تجزیہ یہی ہے کہ مغرب میں الحاد کا جنم تاریخی طور پر عیسائیت کی شکست، جدید فلسفیانہ افکار، اور سوشل سائنسز کی کھوکھ سے ہوا، جن کا گہرا تجزیہ ضروری ہے۔ یہ تجزیہ نہ صرف اس تحریک کی بنیادوں کو سمجھنے میں معاون ہوگا، بلکہ اسلامی دنیا میں اس کے اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی بھی فراہم کرے گا۔

1۔ مغربی الحاد کی فکری اساسیات اور اس کے اسباب

جدیدیت و مابعد جدیدیت کے فلسفیانہ تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے، مغربی الحاد کے تین بڑے محرکات کا تفصیلی جائزہ حسب ذیل ہے:

(1) جدیدیت: عیسائیت کی شکست اور عقل پرستی کا عروج

جدیدیت (Modernism) دراصل 17ویں اور 18ویں صدی کے یورپ میں روایت پسندی (Traditionalism) اور کلیسائی استبداد کے خلاف پیدا ہونے والی نظریاتی اور سماجی تحریکوں کا مجموعہ ہے۔ یہ وہ دور تھا جب کلیسا کا استبداد عروج پر تھا اور وہ یونانی فلسفہ اور عیسائی معتقدات کے خود ساختہ امتزاج سے ہٹ کر کسی بھی آزاد علمی آواز کو دبا رہا تھا۔ بنیادی محرکات اس طرح ہیں:

کلیسا اور سائنس کا تصادم

کلیسا کے لرزہ خیز مظالم اور سائنسی حقائق کی بے رحمی سے تردید (جس کی بہترین مثال سائنسدانوں کو زندہ جلانا ہے) نے پورے یورپ کو کلیسا سے متنفر کر دیا۔ یہ وہ بنیاد تھی جس پر 19ویں صدی کے مؤرخین جان ولیم ڈریپر اور اینڈریو ڈکسن وائٹ نے "تصادم کا تھیسس" (Conflict Thesis) پیش کیا، اور مذہب کو سائنسی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

"تاریک زمانہ" کا تصور

شدید رد عمل کی بنا پر اس تحریک نے پورے عہدِ وسطیٰ کو "تاریک دور" (Dark Ages) قرار دیا، جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ مذہبی حکمرانی لازماً پسماندگی لاتی ہے۔ یہ نظریہ اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ اسی دوران اندلس کی اسلامی تہذیب میں حریتِ فکر، تجرباتی سائنس اور انسانیات (Humanism) کی جدید تحریکوں نے یورپ کو متاثر کیا تھا۔

عقلیت (Rationalism) کی بالادستی

جدیدیت کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکن، رینے ڈیکارٹ، اور تھامس ہابس جیسے مفکرین کے افکار میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کائنات عقل، تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعے قابل دریافت (Deterministic) ہے، اور یہ کہ حقائق کی دریافت کے لیے کسی الٰہی سرچشمہ (Metaphysics) کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ڈیکارٹ کا مشہور اعلان "I think therefore I am" (میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں) دراصل خودمختار فرد (Autonomous Individual) کو معنی اور سچائی کا واحد سرچشمہ قرار دیتا ہے، جو جدیدیت کی بنیاد ہے۔

سیاسی محاذ پر جدیدیت نے حریت انسانی، جمہوریت، اور قومی ریاستوں کا تصور عام کیا، جبکہ معاشی محاذ پر سرمایہ دارانہ معیشت اور افادیت (Utilitarianism) پر مبنی اخلاقیات کو فروغ دیا، جس سے پرانے جنسی اخلاقیات اور روایتی خاندان کا ادارہ چیلنج ہوا۔ یہ تمام عوامل تدریجی طور پر یورپ کا رخ ایک مکمل اور وسیع مادیت کی طرف پھیر گئے، جس نے الحاد اور تشکیک کو جنم دیا۔

(2) فلسفیانہ علوم کی غلبہ پسندی اور مذہبی بیانیے کی شکست

مغربی دنیا میں الحاد کے پھیلنے کا دوسرا بڑا سبب علومِ فلسفہ سے حد سے زیادہ اعتناء اور وسیع پیمانے پر فلسفیانہ افکار کی بازگشت ہے۔ کلیسا سے آزادی حاصل کرتے ہی علمی سیلاب آیا، جس میں خاص طور پر اندلس کے "مکتب ابن رشد" کا فلسفیانہ لٹریچر مغربی دنیا میں پھیلا۔ فلسفے کی یہ خاصیت ہے کہ یہ حاضر و محسوس کا گرویدہ اور غائب و مستور سے بیگانہ کرتی ہے۔ اسلامی تاریخ کے بڑے فلاسفہ کے افکار میں بھی اس "الحادی جراثیم" کے اثرات پائے جاتے تھے، جس کی شدید فکری مزاحمت امام غزالیؒ نے اپنی معرکہ آراء کتاب "تہافت الفلاسفہ" کے ذریعے کی۔ امام غزالیؒ نے خالص عقلی طریقوں سے معلوم ہونے والے حقائق کی اضافیت (Relativity) ثابت کی اور دکھایا کہ حسیات اور عقل انسانی دونوں دھوکہ کا باعث ہو سکتے ہیں، لہٰذا حتمی سچائی صرف وحی الٰہی کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔

جدید الحاد کا فلسفہ پر ایمان اسی وقت متزلزل ہوگا جب کوئی "غزالی وقت" جدید مغربی فلسفہ کی "نارسائی" پر مرکوز ہو کر اس کے داخلی تضادات کو بے نقاب کرے گا۔ اسلامی روایت میں ماتریدی مکتب عقل و نقل کے حسین امتزاج کے حوالے سے بہترین مثال ہے، جو نہ تو کلیسا کی طرح عقل پر مکمل پابندی لگاتا ہے اور نہ ہی جدید ذہن کی طرح اساسیات مذہب کو تشکیک کی بھٹی سے گزارتا ہے۔

(3) مابعد جدیدیت (Postmodernism) اور آفاقی سچائی کا انکار

جدید الحاد کا تیسرا اور نہایت تیزی سے مقبول ہوتا سبب فلسفہ مابعد جدیدیت (Postmodernism) ہے، جو جدیدیت کے فکری استبداد کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔ جدیدیت کا غرور تھا کہ وہ اپنے بل بوتے پر حقیقت کو تلاش کر لے گا، جبکہ مابعد جدیدیت اس کے برعکس ڈھٹائی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتی ہے کہ "حقیقت، سچ، اور اقدار وغیرہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے، ایسا کچھ ہے ہی نہیں"۔

بنیادی نکات اور اثرات

  • مابعد جدیدیت کی تعریف فلسفی لیوٹارڈ کے الفاظ میں "عظیم بیانات پر عدم یقین" ہے۔ یہ تمام آفاقی دعووں جیسے جمہوریت، ترقی، آزادی، مذہب، اور خدا کے وجود کو دیو مالائی داستانیں یا "خود ساختہ سچائیاں" قرار دیتی ہے، اور ان سب کی ردِ تشکیل (Deconstruction) کا مطالبہ کرتی ہے۔
  • مابعد جدیدیت کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں کسی آفاقی سچائی یا حقیقت مطلقہ کا وجود نہیں ہے۔ سچائی اور خیر کا تعلق محض انفرادی پسند و ناپسند اور مقامی احوال سے ہے۔ یہ نظریہ مذہبی عقائد کو اس لیے رد کرتا ہے کہ وہ اٹل حقائق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
  • مابعد جدیدیت نے افکار، نظریات، اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دلچسپی نہایت کم کر دی ہے، جس سے یہ دور "عدم نظریہ کا عہد" (Age of No Ideology) بن گیا ہے۔ انسان کی بحث و گفت گو کا سارا زور عملی مسائل (Pragmatic Issues) اور جذبات و احساسات پر منتقل ہو گیا ہے۔ اس فلسفے کے تحت وحدت ادیان کا نظریہ فروغ پاتا ہے، جہاں لوگ بیک وقت سارے مذاہب کو سچ ماننے کے لیے تیار ہوتے ہیں کیونکہ کوئی بھی دعویٰ حتمی نہیں ہے۔
  • قدروں کی اضافیت کے نتیجے میں خاندانی نظام، ازدواجی وفاداری، اور جنسی اخلاقیات مکمل طور پر چیلنج ہوئے ہیں۔ شادی مرد اور عورت کے درمیان ہی نہیں، بلکہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ سب ذاتی پسند اور ذوق کی بات ہے۔ مابعد جدیدیت کا حاصل یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی مرضی اور پسند کی زندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے، اور سوسائٹی کو کسی بھی ضابطہ بندی کا حق نہیں ہے۔

علمی محاکمہ

مابعد جدیدیت کا یہ دعویٰ کہ "دنیا میں کوئی سچ نہیں ہے" خود ایک نہایت غیر منطقی دعویٰ ہے، کیونکہ یہ بات بذات خود ایک "عظیم بیان" اور "آفاقی سچائی" کا دعویٰ ہے۔ اگر اس بیان کو سچ مان لیا جائے تو اس کی زد سب سے پہلے خود اسی بیان پر پڑے گی اور وہ جھوٹا قرار پائے گا۔ یہ فلسفہ اپنے ہی اصولوں کے ذریعے اپنی ہی بنیادوں کو ڈھاتا ہے۔ اس منطقی تضاد کے علاوہ، اس کے عملی اثرات بھی بھیانک ہیں، کیونکہ سچائی کی اضافیت کو مان لینے کے بعد کسی بھی عالمی برائی (جیسے نازی ازم یا کسی شخص کا دوسروں کی جیب کاٹنا) کو کسی بھی آفاقی اخلاقی قدر کی بنیاد پر غلط قرار دینا ممکن نہیں رہتا۔

2۔ اسلامی نقطۂ نظر اور ماورائے جدیدیت 

اسلام کا نقطۂ نظر اس پوری بحث میں نہایت معتدل، متوازن اور عقل کو اپیل کرنے والا ہے۔ یہ نہ تو جدیدیت کی طرح عقل کو حتمی اور قطعی مقام دیتا ہے اور نہ ہی مابعد جدیدیت (Transmodernity) کی طرح ہر آفاقی سچائی کا کلیتاً انکار کرتا ہے۔

حتمی حقائق کا سرچشمہ

اسلام کے نزدیک وحی الٰہی (قرآن و سنت) سے منصوص حقائق حتمی اور قطعی (Absolute Truth) ہیں، جبکہ انسانی عقل، تجربہ، اور مشاہدہ سے اخذ کردہ حقائق خواہ وہ سائنسی ہوں یا سیاسی، اضافی (Relative) ہیں اور غلطی کا امکان رکھتے ہیں۔

غیر منصوص احکام اور اجتہاد

اسلام وحی الٰہی کی صورت میں بنیادی اصولوں اور سمت کو آفاقی حیثیت دیتا ہے، لیکن ان آفاقی اصولوں کی روشنی میں مخصوص وقت، مقام اور احوال کے لیے اجتہاد کے ذریعے تغیرات کا دروازہ کھلا رکھتا ہے، اور غیر منصوص احکام میں 'عرف' (Cultural Consensus) کا لحاظ رکھتا ہے۔

ماورائے جدیدیت (Transmodernity)

ضیاء الدین سردار جیسے مفکرین نے اسلام کو پوسٹ ماڈرن ازم کے مقابلہ میں ماورائے جدیدیت کی حیثیت میں پیش کیا ہے۔ اسلامی سماج ابدی قدروں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ماقبل جدید (Premodern) نہیں، اور چونکہ یہ قدریں نئے زمانے کا ساتھ دینے اور نئے ضابطوں کی تشکیل کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس لیے وہ صرف جدید یا پس جدید بھی نہیں ہیں۔ اسلام بیک وقت دائمی و آفاقی اور تغیر پذیر اصولوں کو جمع کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پوسٹ ماڈرن ازم، ماڈرن ازم کا ایک منفی رد عمل اور فکری مایوسی کا مظہر ہے۔ یہ تمام جھوٹے خداؤں کے زمین بوس ہو جانے کے بعد دراصل "لا الٰہ" (کوئی معبود نہیں) کا اعلان ہے۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے کا لازمی اور منطقی انجام "الا اللہ" (مگر اللہ ہی) کا اعلان ہونا چاہیے، جو انسان کو ایک حتمی، سچی، اور عقل کو اپیل کرنے والی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اسلام اور عصر حاضر

اقساط

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات