حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
’’شہیدہ‘‘ کے لقب سے ملقب عہدِ نبوی کی ایک خاتون معالج

تمہید

تاریخ کے روشن صفحات میں، عہدِ نبوی کی جن خواتین کا تذکرہ جلی حرفوں میں ملتا ہے، ان میں ایک نمایاں نام ’’حضرت ام ورقہ‘‘ رضی اللہ عنہا کا ہے، جن کو ابونعیم اصفہانی نے 

الشہیدۃ القارئۃ، ام ورقۃ الانصاریۃ، کانت تؤم المؤمنات المہاجرات، ویزورہا النبی ﷺ فی الاحایین والاوقات (حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء: ۲؍۶۳) 
’’شہیدہ قاریہ، ام ورقہ انصاریہ، مہاجر خواتین کی امامت کرتی تھی، نبی کریم ﷺ مختلف اوقات میں ان کے یہاں آیا کرتے تھے۔‘‘ 

کے الفاظ سے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ ان خوش نصیب خواتین میں ہیں، جن کے یہاں نبی کریم ﷺ زیارت کے لئے جایا کرتے تھے؛ بلکہ اس سے بڑھ کر خوش نصیبی ان کی یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے انھیں ’’شہیدہ‘‘ کا لقب عطا کیا تھا؛ چنانچہ جب ان کے یہاں جانے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: انطلقوا بنا نزور الشہیدۃ (طبقات ابن سعد: ۱۰؍۴۲۴، نمبر شمار: ۵۴۵۳) ’’شہیدہ کی زیارت کے لئے ہمارے ساتھ چلو‘‘۔ یہ وہ پہلی خاتون ہیں، جن کے گھر میں اذان دی گئی۔ یہ وہ پہلی خاتون ہیں، جنھوں نے خواتین کی امامت کی۔ انھیں یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے انھیں ہی ’’شہیدہ‘‘ کا لقب عطا کیا گیا۔

نام و نسب

یہ اپنی کنیت ’’ام ورقہ‘‘ سے مشہور ہیں، نسب اس طرح ہے: ام ورقۃ بنت عبداللہ بن الحارث بن عویمر بن نوفل الانصاریۃ۔ انھیں ’’ام ورقہ بنت نوفل‘‘ بھی کہا جاتا ہے، نوفل ان کے پردادا کا نام ہے، انھیں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۴؍۵۵۲، نمبر شمار: ۱۲۴۳۶، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: ۷؍۳۹۶، نمبر شمار: ۷۶۲۶، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ص: ۹۶۸، نمبر شمار: ۳۵۸۹)۔ بعض کتب میں ’’عویمر‘‘ کی جگہ ’’عویم‘‘ نقل کیا گیا ہے (الاستبصار فی نسب الانصار، ص: ۳۵۸)۔

اسلام

حضرت ام ورقہؓ انصار کی ان خواتین میں سے تھیں، جنھوں نے نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لا کر اسلام قبول کیا تھا، پھر جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو یہ ان کی بیعت سے بھی بہرہ مند ہوئیں۔ ابن سعد لکھتے ہیں: اسلمت وبایعت (طبقات ابن سعد: ۱۰؍۴۲۴، نمبر شمار: ۵۴۵۳) اسلام لانے کے بعد دینی تعلیم کے حصول میں لگ گئیں۔ چنانچہ انھوں نے قرآن کو پڑھنا اور اسے یاد کرنا شروع کیا اور اسے یاد بھی کر لیا۔ ابن اثیر لکھتے ہیں: وکانت قد قرات القرآن (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: ۷؍۳۹۶، نمبر شمار: ۷۶۲۵)۔ 

حفظِ قرآن کے بعد انھوں نے ’’جمع قرآن‘‘ کی طرف توجہ دی اور کھال و ہڈی وغیرہ میں لکھ لیا کرتی تھیں۔ ابن سعد لکھتے ہیں: وکانت قد جمعت القرآن (طبقات ابن سعد: ۱۰؍۴۲۴، نمبر شمار: ۵۴۵۳)۔ ’’روزنامہ عمان‘‘ کے ایک مضمون میں ہے: 

ثم انصرفت الی جمع آیات القرآن وکتابتہا علی العظم والجلد والرقائق، واصبح بیتہا فیہا بعد مرجعا لابی بکر الصدیق فی جمع القرآن من البیوت، ومن صدور الحفظۃ (مضمون: ام ورقۃ… الشہیدۃ، شائع شدہ: ۲۶؍ اپریل ۲۰۲۲ء) 
’’پھر وہ آیات قرآن کو جمع کرنے اور ہڈی، کھال اور جھلی پر انھیں لکھنے میں لگ گئی، پھر بعد میں ان کا گھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لئے گھروں اور حافظوں سے قرآن جمع کرنے کا مرکز بن گیا‘‘۔

غزوات میں شرکت اور طبابت

سن دو ہجری میں جب قریش مکہ سے مقابلہ کے لئے بدر کی طرف جانے کا اعلان ہوا تو حضرت ام ورقہؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کناں ہوئیں: ’’مجھے اپنے ساتھ نکلنے کی اجازت دیں؛ تا کہ میں مریضوں کی تیمارداری کر سکوں، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی مجھے شہادت نصیب کر دے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اپنے گھر میں رہو، اللہ تعالی شہادت نصیب کرے گا، راوی کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے انھیں ’’شہیدہ‘‘ کہا جاتا تھا‘‘ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: ۷؍۳۹۶، نمبر شمار: ۷۶۲۶، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۴؍۵۵۲)، اس عبارت سے دو باتیں معلوم ہوئیں:

۱- انھوں نے غزوۂ بدر میں شرکت کی اجازت چاہی تھی؛ لیکن اجازت نہیں دی گئی۔

۲- علاج و معالجہ سے بھی انھیں شغف تھا۔

وفات

حضرت ام ورقہؓ شہادت کی آرزومند تھیں اور اس کے لئے غزوۂ بدر میں شرکت کی اجازت چاہی تھی؛ لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے یہ فرمایا: تم گھر میں ہی رہو، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے شہادت لکھ دیا ہے۔ زبانِ نبوت صادق آئی اور گھر میں ہی انھیں شہادت کی موت نصیب ہوئی، جس کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ: ان کے یہاں ایک غلام اور باندی تھی، جن کو انھوں نے مدبر بنا دیا تھا، یعنی یہ کہہ دیا تھا کہ تم لوگ میری موت کے بعد آزاد ہو، ان دونوں نے آزادی کی عجلت کے چکر میں حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں ان کو چادر سے گلا گھونٹ کر شہید کر دیا۔ جب حضرت عمرؓ کو یہ معلوم ہوا تو ان دونوں کو گرفتار کروا کر انھیں سولی دیدی۔ 

اتنی بات تو کئی کتابوں میں مذکور ہے کہ یہ واقعہ حضرت عمرؓ کی خلافت میں پیش آیا؛ لیکن سن کی تعیین نہیں کی گئی ہے (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ص: ۹۶۸، نمبر شمار: ۳۵۸۹ طبقات ابن سعد: ۱۰؍۴۲۴، نمبر شمار: ۵۴۵۳ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۴؍۵۵۳، نمبر شمار: ۱۲۴۳۶)؛ البتہ ’’روزنامہ عمان‘‘ کے ایک مضمون میں سن عیسوی کی صراحت کی گئی ہے، اس میں لکھا ہے: 

توفیت ام ورقۃ سنۃ ستمائۃ واربع واربعین فی عہد الخلیفۃ الثانی عمر بن الخطاب رضی اللہ، ودفنت فی المدینۃ المنورۃ۔ (مضمون: ام ورقۃ۔۔۔ الشہیدۃ، شائع شدہ: ۲۶؍ اپریل ۲۰۲۲ء) 
’’ام ورقہ کی وفات خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے عہد میں سن چھ سو چھیالیس (عیسوی) میں ہوئی اور مدینہ منورہ میں تدفین عمل میں آئی۔‘‘

جب کہ ایک دوسرے عربک پورٹل (الجماعہ) میں یوں لکھا ہے:

لم یعرف بالتحدید عام ولادتہا ولا عام وفاتہا؛ ولکن المتفق علیہ ہو انہا توفیت فی خلافۃ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، مما یجعلنا نستنتج انہا عاشت فی حیاۃ الرسول ﷺ، وعاصرت خلافۃ ابی بکر الصدیق، وبعض من خلافۃ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، وانہا استشہدت حوالی عام ۲۲للہجرۃ۔ (عنوان: اضاءۃ علی سیرۃ صحابیۃ جلیلۃ۔۔۔ ام ورقۃ بنت نوفل الانصاریۃ الشہیدۃ للفاطمۃ العزوزی، تاریخ اشاعت: ۴؍ جنوری ۲۰۲۲ء) 
’’تعیین کے ساتھ نہ تو ان کی تاریخ وفات معلوم ہے اور نہ ہی تاریخ ولادت؛ لیکن یہ متفق علیہ بات ہے کہ ان کی وفات حضرت عمرؓ کی خلافت میں ہوئی، اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں باحیات رہیں، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد خلافت اور حضرت عمر بن خطابؓ کے عہد کے چند سالوں تک بقید حیات رہیں اور تقریبا بائیس ہجری میں ان کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔‘‘

رحم اللہ علی ہذہ الصحابیۃ الجلیلۃ الآملۃ بالشہادۃ التی کانت قدوۃ للنساء المسلمات فی حسن تعمقہا فی الدین وتعلیمہ للنساء ورضی عنہا وجمعنا بہا تحت لواء سیدالمرسلین مع الصحابۃ والابرار والصالحین، آمین!

سیرت و تاریخ

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات