روداد اجلاس منعقدہ ۴ مئی بمقام آسٹریلیا مسجد
ملی مجلس شرعی کے علماء کرام کا اجلاس صدر مجلس مولانا زاہد الراشدی صاحب کی صدارت میں ہوا۔ ایجنڈے کے نکات پر گفتگو کا خلاصہ اور فیصلے درج ذیل ہیں:
۱۔ اسلام کے عائلی نظام کے خلاف عدالتی فیصلے اور حکومتی قانون سازی
راقم نے موضوع کا تعارف کرایا۔ حافظ عبد الغفار روپڑی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا رضاء الحق اور دیگر علماء کرام نے اس خیال کا اظہار کیا کہ پچھلے کچھ عرصے سے اسلام کے عائلی نظام کے خلاف قانون سازی اور اعلیٰ عدالتوں کے غیر شرعی فیصلوں میں تیزی آگئی ہے۔ ججوں اور وکلاء کی اسلامی قانون میں تعلیم کا کوئی انتظام نہیں۔ دینی عناصر کو اس رویے کے خلاف چوکسی دکھانا ہوگی۔ فیصلہ کیا گیا کہ مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس موضوع پر ایک مبسوط رپورٹ تیار کرے جو حکومتی اور قانون ساز اداروں اور اعلی عدالتوں کو بھجوائی جائے:
ا۔ حافظ ڈاکٹر حسن مدنی
۲۔ مفتی شمس الدین ایڈوکیٹ / سیدہ عظمیٰ گیلانی ایڈوکیٹ
۳۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
۴۔ مولانا رضاء الحق
۵۔ ڈاکٹر محمد امین (کنوییز)
۲۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے عورتوں کے دودھ بنک کی منظوری
راقم کے بعد مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب نے اس موضوع پر روشنی ڈالی۔ علماء کرام کی اکثریتی رائے یہ تھی کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے نظریاتی کونسل نے جس طرح فون پر سرسری رائے لے کر عجلت میں اس کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، وہ غیر مناسب ہے اور شرعی لحاظ سے بھی صحیح نہیں۔ اس سلسلے میں ایک بات تو یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہم پاکستانی مسلمان ہر وہ کام کریں جو مغرب میں یہود و نصاری کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کا مسلم معاشرہ مغربی معاشروں سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں دودھ بنگ کی کوئی خاص ضرورت نہیں اور اس بنک کے قیام سے اسلام کے رضاعت، مصاہرت اور عفت کے احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے، لہٰذا اسلامی نظریاتی کونسل کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ علماء کرام اور دینی جماعتوں کو بھی کونسل کے اس فیصلے کو رد کرنا چاہیے۔
۳۔ ایران کی حمایت کے حوالے سے مسلکی اختلافات
اس موضوع پر صدر مجلس، حافظ عبد الغفار روپڑی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا رضاء الحق، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا غضنفر عزیز اور دوسرے علماء کرام نے اظہار خیال کیا۔ اس پر سب کا اتفاق تھا کہ پاکستان کے عوام حملہ آور یہود و نصاریٰ کی مذمت کرتے ہیں اور اپنے ایرانی بھائیوں کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہیں۔ اجلاس میں حکومت کی طرف سے فریقین کے درمیان مصالحت کو بھی سراہا گیا اور اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کے اہلِ تشیع بھی اس سلسلے میں اعتدال اور رواداری سے کام لیں گے۔
۴۔ قرآن حکیم کا متفقہ ترجمہ
مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان اور حافظ ڈاکٹر حسن مدنی نے اس سلسلے میں حکومتِ پنجاب کے قرآن بورڈ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ مولانا رضاء الحق نے ’علم فاؤنڈیشن‘ کے مؤقف کی وضاحت کی۔ ان وضاحتوں سے یہ پتا چلا کہ جس ترجمے کو متفقہ ترجمہ کہا جا رہا ہے اُس میں کئی جگہوں پر ترامیم ہو چکی ہیں لیکن ان کی کسی مرکزی اتھارٹی سے منظوری نہیں لی گئی۔ نیز جب مرکزی وزارتِ تعلیم نے متفقہ ترجمہ منظور کیا تھا تو اس وقت اس میں اختلافی حواشی موجود نہ تھے جنہیں اب لوگوں نے شائع کر دیا ہے اور ان پر مقتدر علماء کرام کی پچھلی تقاریظ بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ ان سب امور نے مل کر فکری خلفشار کی صورت اختیار کر لی ہے۔ سوال یہ تھا کہ ملی مجلس شرعی اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟ چونکہ کئی سینئر علماء نمازِ ظہر کے بعد جا چکے تھے اس لیے یہ فیصلہ ہوا کہ اس معاملے کو اگلی نشست تک مؤخر کر دیا جائے۔
۵۔ بلاسفیمی بزنس / توہینِ رسالت قانون
راقم نے واضح کیا کہ اس موضوع پر مجلس کی نشست مؤرخہ ۳۱ جولائی ۲۰۲۵ء میں ایک تحقیقی کمیٹی حافظ ڈاکٹر حسن مدنی صاحب کی کنوینرشپ میں قائم کی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے جب اپنی رپورٹ دی تو اس پر صدر مجلس، جنرل سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور دیگر کا خیال تھا کہ اس کمیٹی نے سارے مقدسات کو شامل کر لیا ہے اور زیادہ تر اسلام آباد ہائی کورٹ کے کیسز تک محدود رہی ہے جبکہ موضوع کا تقاضا یہ تھا کہ صرف توہینِ رسالت کے موضوع پر ترکیز کی جاتی۔ معاملے کو اس کے کلی تناظر میں دیکھا جاتا کہ اس کا بینی فشری [مستفید] کون ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے یا ہیں؟ پرانی کمیٹی کے ارکان نے بھی اپنی پوزیشن کی وضاحت کی۔ بحث و مناقشے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل ایک نئی کمیٹی بنائی جائے جو وسیع تر تناظر میں اس قضیے کا جائزہ لے اور پرانی کمیٹی کی رپورٹ بھی سامنے رکھے:
ا۔ مولانا غضنفر عزیز
۲۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
۳۔ مولانا ڈاکٹر عمران انور نظامی
۴۔ ڈاکٹر محمد امین (کنوینر)
صدر مجلس کی دعا سے نشست کا اختتام ہوا۔
فہرست شرکاء اجلاس
۱۔ مولانا زاہد الراشدی (شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ)
۲۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد امین (صدر تحریک رجوع الی القرآن، لاہور)
۳۔ حافظ عبد الغفار روپڑی (مہتمم جامعہ اہلِ حدیث، لاہور)
۴۔ مولانا عبد الرؤف فاروقی (مہتمم جامعہ اسلامیہ، کامونکی)
۵۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (مشیر امیر جماعتِ اسلامی پاکستان، لاہور)
۶۔ مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان (چیئرمین وفاق المدارس الرضویہ، لاہور)
۷۔ پروفیسر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی (مہتمم جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور)
۸۔ مولانا غضنفر عزیز (استاد جامعہ اشرفیہ، لاہور)
۹۔ مولانا عبد الودود (امیر جمعیت علماء اسلام، لاہور)
۱۰۔ حافظ محمد نعمان حامد (صدر لجنۃ العلماء، لاہور)
۱۱۔ حافظ ڈاکٹر محمد سلیم (مدیر جامعہ عثمانیہ، لاہور)
۱۲۔ مفتی شمس الدین ایڈوکیٹ (عالمی مجلس مفتیان کرام، کالاشاہ کاکو)
۱۳۔ مولانا رضاء الحق (ناظم نشر و اشاعت، تنظیم اسلامی پاکستان، لاہور)
۱۴۔ مولانا عبد الرؤف (تنظیم اسلامی پاکستان، لاہور)
۱۵۔ پیر محمد زبیر جمیل (جامع مسجد امن باغبانپورہ، لاہور)
۱۶۔ قاری اعجاز احمد (جامع مسجد عمر فاروق، لاہور)
۱۷۔ مولانا محمد عبد اللہ (آسٹریلیا مسجد، لاہور)
۱۸۔ قاری محمد عثمان رمضان (پاکستان شریعت کونسل، لاہور)
۱۹۔ حافظ مبشر اقبال (جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور)
۲۰۔ مولانا محمد نواز (جامع ابوبکر، لاہور)
روداد اجلاس بلاسفیمی بزنس کمیٹی منعقدہ ۱۳ مئی بمقام منصورہ
۱۔ کمیٹی کے تین ارکان (ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر محمد امین، مولانا غضنفر عزیز) موجود تھے۔ مولانا ڈاکٹر عمران نظامی صاحب نے کسی عذر کی وجہ سے آنے سے معذرت کی۔
۲۔ کمیٹی کے ارکان نے بحث و مناقشہ کے بعد طے کیا کہ:
i۔ ہم سب اس پر متفق ہیں کہ توہینِ رسالت سارے مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، لہٰذا پاکستان جیسے مسلم معاشرے میں کسی کو قطعاً اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ اسے برداشت کیا جا سکتا ہے کہ کوئی نبی کریم ﷺ کی اہانت کرے۔ خدانخواستہ اگر کوئی ایسا معاملہ سامنے آئے تو اسے قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے تاکہ وہ دوسروں کے لیے عبرت بن جائے۔
ii۔ یہ کہ دیکھا گیا ہے کہ عدالتوں میں ان کیسوں میں تاخیر کی جا رہی ہے جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کیسوں کو جلدی نمٹایا جائے اور مجرموں کو کڑی سزائیں فوراً دی جائیں۔
iii۔ مولانا غضنفر عزیز صاحب کے ذمے لگایا گیا کہ وہ اُن لوگوں کے خلاف ثبوت اکٹھے کریں جن پر الزام ہے کہ وہ بلاسفیمی بزنس میں مصروف ہیں۔ جب وہ ایسے ثبوت اکٹھے کر لیں تو ان پر غور کے لیے کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلایا جائے گا تاکہ فراہم کردہ مواد کی بناء پر کوئی رائے قائم کی جا سکے۔
روداد اجلاس عائلی قانون کمیٹی منعقدہ ۱۶ مئی بمقام جامعہ لاہور الاسلامیہ
۱۔ راقم نے تجویز پیش کی کہ ایک مبسوط رپورٹ تیار کی جائے جس کے تین حصے ہوں۔ پہلے حصے میں اسلام کے عائلی قوانین کی اساسات اور برصغیر میں اس پر عمل کا ذکر ہو۔ دوسرے حصے میں پاکستان میں جتنے عائلی قوانین خلافِ شرع بنے ہیں اور جتنے عدالتی فیصلے غیر اسلامی ہوئے ہیں اُن کا ذکر ہو۔ اور تیسرے حصے میں وکلاء حضرات ان مشکلات اور پروسیجرز کا بتائیں جن کے ذریعے یا جن کے غلط استعمال سے عدالتوں میں غیر اسلامی فیصلے ہوتے ہیں۔
۲۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب نے کہا کہ ضخیم رپورٹ کو بہت کم لوگ پڑھیں گے اور وہ ایک علمی کتاب بن کر رہ جائے گی اس لیے رپورٹ مختصر ہونی چاہیے۔ اس موضوع پر ڈاکٹر حسن مدنی صاحب، مفتی شمس الدین ایڈووکیٹ صاحب اور محترمہ سیدہ عظمیٰ گیلانی صاحبہ ایڈووکیٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
۳۔ بحث و مناقشے کے بعد اتفاق رائے سے یہ طے ہوا کہ ڈاکٹر حسن مدنی صاحب، سیدہ عظمیٰ گیلانی صاحبہ اور مفتی شمس الدین صاحب پر مشتمل ایک سب کمیٹی بنائی جائے جو ایک مختصر لیکن جامع رپورٹ تیار کرے۔ فائنل رپورٹ ڈاکٹر حسن مدنی صاحب مرتب کریں گے۔ اس رپورٹ کی مجلس سے منظوری کے بعد اسے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز، قومی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان، سپیکر اور چیئرمین سینٹ اور دیگر حکومتی و دینی حلقوں کو بھیجا جائے گا۔
