امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ میں عرب لیگ اور او آئی سی کی خاموشی
از قلم: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ — صوبائی سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
جمعیت اہلِ سنت والجماعت حنفی دیوبندی (رجسٹرڈ) گوجرانوالہ کے زیرِ اہتمام ۳ اپریل ۲۰۲۶ء کو جامعہ قاسمیہ ملہی چوک میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ جمعیت کے سرپرستِ اعلیٰ علامہ زاہد الراشدی صاحب نے اپنے خطاب میں مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ نے نہ صرف بیت المقدس کے تقدس اور اس کی آزادی کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ حرمین شریفین، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نازک صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے طبقاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اسرائیل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ایجنڈے پر گامزن ہے جبکہ ایران ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ کے قیام کے لیے کوشاں ہے، اور دونوں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں عرب لیگ اور او آئی سی کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے، جنہیں فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں، بصورتِ دیگر تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔
امریکہ ایران جنگ بندی کا خیرمقدم
جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی (رجسٹرڈ) گوجرانوالہ کے سرپرست اعلیٰ مولانا زاہد الراشدی نے جمعیت کے سرکردہ راہنماؤں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک جنگی صورتحال میں پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں فوری طور پر ایران امریکہ جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے احسن کردار کو سراہا۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے حالیہ جنگ بندی مزید مستحکم حالات پیدا کرنے کے لیے معاون ثابت ہو گی۔ امید ہے کہ عرب لیگ اور او آئی سی پاکستان کے کامیاب اور مؤثر کردار کو قابل تقلید سمجھتے ہوئے اپنی بیداری ظاہر کرتے ہوئے امت مسلمہ کی وحدت اور تمام اسلامی ممالک کے مشترکہ مفادات اور اہداف کے حوالے سے عملی اقدامات کریں گے۔ اجلاس میں مولانا قاری محمد ریاض چشتی، مولانا جواد محمود قاسمی، حاجی بابر رضوان باجوہ، مفتی نعمان احمد، مولانا امجد محمود معاویہ، حافظ عبد الجبار شریک تھے۔
اتحادِ علماء و حفاظ کنونشن سے خطاب
روزنامہ نیو دن، لاہور — ۱۸ اپریل ۲۰۲۶ء
شکرگڑھ (تحصیل رپورٹر) وہ خبر نہ نشر کی جائے جس سے معاشرے میں فساد پھیلے۔ خبر کا درست ہونا ہی کافی نہیں۔ مذہبی سکالر مولانا زاہد الراشدی نے گزشتہ روز جامعہ خالد بن ولید نورکوٹ میں ’’اتحادِ علماء و حفاظ کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا بے لگام گھوڑا بن چکا ہے۔ کوئی خبر بلاتحقیق نہ نشر کی جائے۔ خبر کا درست و صحیح ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس خبر کے معاشرے پر ہونے والے اثرات کو مدنظر رکھا جائے۔ اگر خبر کے نشر ہونے سے انتشار و فساد پھیلے تو اس سے پرہیز کریں۔ اتحاد کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوڑ ہی میں کامیابی کا راز مضمر ہے۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام ضرور آئیں۔ اس موقع پر قرآن مجید حفظ کرنے والے بچوں کی دستار بندی بھی کی گئی۔ شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد اس کو یاد رکھنے کی فضیلت و اہمیت بھی بیان کی۔ کنونشن میں خطیب اہل سنت مولانا عاصم شاد نے بھی قرآن و سنت کی روشنی میں اتحاد کے عنوان پر گفتگو کی۔ کنونشن میں علماء و حفاظ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
فہمِ قرآن اسلامک سنٹر کی تقریب سے خطاب
روزنامہ نیشنل یوتھ — ۲۸ اپریل ۲۰۲۶ء
گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) دنیا کے تمام مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے۔ اس وقت دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کا حل قرآن و سنت میں ہے اور جو مسائل آئندہ پیش آنے والے ہیں ان کا حل بھی قرآن سے ہی ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا زاہد الراشدی نے فہمِ قرآن اسلامک سنٹر (شہزاد ٹاؤن، گوجرانوالہ) میں مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کی نئی تصنیف ’’دروس القرآن: سورہ یس مع سفر حرمین شریفین‘‘ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
عالمی سیاست اور اُمّتِ مسلمہ: ایک فکری و تجزیاتی محاضرہ — ایک نظر میں
ازقلم: مولانا فضل الرحمٰن افضل
ہمارے ادارے جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن نارتھ کراچی) کے لیے یہ ایک سعادت اور اعزاز کی بات تھی کہ مفکرِ اسلام، حضرت اقدس مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم کی تشریف آوری ہوئی۔ حضرت والا زید مجدہم ہر سال ہمارے ادارے جامعہ انوار القرآن میں تشریف لاتے ہیں اور کئی اہم موضوعات پر محاضرات ارشاد فرماتے ہیں۔ اِس سال (۳۰ اپریل ۲۰۲۶ء) بھی حسبِ ترتیب تشریف آوری ہوئی اور آپ نے نہایت اہم اور عصرِ حاضر سے متعلق موضوع "عالمی سیاست اور امتِ مسلمہ" پر ایک بصیرت افروز محاضرہ ارشاد فرمایا، جسے اساتذہ کرام، طلبہ اور باہر سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی نے نہایت توجہ اور شوق سے سنا اور بہت زیادہ فائدہ محسوس کیا۔ اِس موقع پر ادارے کے نائب مہتمم حضرت مولانا رشید احمد درخواستی صاحب مدظلہم اور ناظمِ اعلیٰ حضرت مفتی حبیب احمد درخواستی مدظلہم بھی تشریف فرما تھے۔
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہم نے اپنے خطاب کے آغاز میں خلافت کے تصور کو واضح کرتے ہوئے اس کی تعریف، تکییف (حقیقت و نوعیت) اور تاریخی ارتقاء پر مدلل گفتگو فرمائی۔ آپ نے خلافتِ راشدہ کے روشن نمونے کو بیان کیا اور بعد کے ادوار میں پیدا ہونے والی ملوکیت اور دیگر طرزِ حکمرانی کا تقابلی جائزہ پیش کیا، جس سے سامعین کو اسلامی نظامِ حکومت کی اصل روح کو سمجھنے میں مدد ملی۔ بعد ازاں حضرت نے موجودہ عالمی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی اور اس کے اثرات کا تجزیہ کیا۔ خصوصاً اسرائیل کے “گریٹر اسرائیل” نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی سیاست میں امتِ مسلمہ کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت مولانا نے نہایت اہم اور بنیادی نکات پیش کیے۔ آپ کے مطابق مسلمانوں کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے دو امور ناگزیر ہیں:
- اول: ریاستی سطح پر چند اسلامی ممالک میں دستوراً اور عملاً شریعتِ اسلامیہ کا نفاذ ہو، تاکہ ایک حقیقی اسلامی ماڈل دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
- دوم: اسلامی ممالک کا ایک متحدہ پلیٹ فارم قائم ہو، جہاں سے اجتماعی طور پر امت کے مسائل پر مؤثر آواز بلند کی جا سکے۔
اسی تسلسل میں حضرت نے سیاستِ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ پر ایک جامع مگر مختصر نظر ڈالی اور یہ واضح فرمایا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سیاست عدل، حکمت اور انسانیت کی فلاح پر مبنی تھی، جو آج کے دور میں بھی مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔
محاضرہ کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں حاضرین نے اپنے اشکالات پیش کیے اور حضرت مولانا نے نہایت حکمت اور بصیرت کے ساتھ ان کے جوابات عنایت فرمائے۔ آخر میں مجمع کی درخواست پر حضرت نے حدیثِ مسلسل بالاولیۃ پڑھ کر اس کی اجازت مرحمت فرمائی، جس سے محفل کو ایک روحانی اور علمی حسنِ اختتام حاصل ہوا۔ یہ محاضرہ یقیناً طلبہ و اساتذہ کے لیے فکری رہنمائی اور بیداری کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ حضرت مدظلہم کی عمر میں برکتیں عطا فرمائے اور اُن کی جملہ دینی خدمات قبول فرمائے۔
حضرت مولانا ادریسؒ کی شہادت پر جمعیت اہلِ سنت کی تعزیتی نشست
از قلم: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ
پریس ریلیز (۷ مئی ۲۰۲۶ء) جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کی طرف سے مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کے حوالے سے تعزیتی نشست کا انعقاد جامعہ مدینۃ العلم میں جمعیت کے صدر مولانا قاری محمد ریاض کی صدارت میں ہوا۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے سرپرست اعلیٰ علامہ زاہد الراشدی نے اپنے بیان میں اس المناک سانحہ کی بھرپور مذمت کی۔ مولانا محمد ادریس کی شہادت پہ گہرے غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پے در پے علماء کی ٹارگٹ کلنگ اور جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیوخ اساتذہ کو نشانہ بنایا جانا قابلِ تشویش ہے، اس پہ حکومت وقت کو بروقت سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے کارروائی عمل میں لانا ہو گی۔ ہماری دینی قیادت اس حوالے سے جو بھی لائحہ عمل طے کریں گے ہم اپنی سطح پر اس پہ عملدرآمد کریں گے۔ تعزیتی نشست میں شہید مولانا محمد ادریس کی علمی، دینی، تدریسی اور ملی خدمات کو سراہتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی بلندئ درجات اور مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔ نشست میں حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا پیر جی مشتاق، مولانا فضل الہادی، حافظ عبد الجبار، حافظ محمد عثمان اور دیگر علماء کرام اور طلباء کی نمایاں تعداد نے شرکت کی۔
معرکۂ حق یومِ تشکر کی تقریب
رپورٹ: مولانا فضل اللہ راشدی
۱۱ مئی ۲۰۲۶ء بروز سوموار جامعہ فتحیہ، اچھرہ، لاہور میں ’’یومِ تشکر (بنیان مرصوص)‘‘ کے عنوان سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں علمائے کرام، طلبۂ عظام اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس بابرکت اجتماع کے مہمان خصوصی جانشین امام اہل سنت مولانا علامہ زاہد الراشدی تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ’’بنیان مرصوص‘‘ کے قرآنی تصور کو اجاگر کیا اور فرمایا کہ امتِ مسلمہ کی حقیقی قوت اس کے باہمی اتحاد، فکری ہم آہنگی اور دینی وابستگی میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جب قوم اپنے نظریے، عقیدے اور مقصدِ حیات کے گرد سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہو جاتی ہے تو کوئی بیرونی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ شکرگزاری کا تقاضا صرف زبانی کلمات تک محدود نہیں بلکہ اس کا عملی اظہار دینِ اسلام کے تقاضوں پر کاربند رہنے، قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور وطنِ عزیز کے استحکام کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے میں مضمر ہے۔
مولانا زاہد الراشدی نے اپنے خطاب میں گزشتہ برس پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے روایتی دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان کے مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی مگر الحمد للہ ہماری بہادر افواج اور قومی اداروں نے بروقت اور مؤثر جواب دے کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس جرأت مندانہ ردعمل نے نہ صرف دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا بلکہ دنیا پر بھی یہ حقیقت واضح کر دی کہ پاکستان دفاعی اور عسکری لحاظ سے ایک مضبوط، مستحکم اور ناقابلِ تسخیر ملک ہے۔
مزید انہوں نے نظریۂ پاکستان کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ قیامِ پاکستان کا بنیادی محرک یہی تھا کہ مسلمان اپنی جداگانہ دینی، تہذیبی اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دین، ہماری تہذیب اور ہماری قومی شناخت ہندو معاشرے سے یکسر مختلف ہے، اور یہی وہ بنیادی جواز تھا جس کی بنیاد پر ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا گیا۔ لہٰذا اسلام اور پاکستان کی حفاظت، بقا اور سلامتی درحقیقت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اور اس کے لیے ہر سطح پر قربانی دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دفاعِ پاکستان اور سیرتِ نبویؐ کے اسباق
رپورٹ: مولانا حافظ فضل الہادی — امیر پاکستان شریعت کونسل سٹی گوجرانوالہ
امیر مرکزیہ پاکستان شریعت کونسل، مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بروز منگل (۱۲ مئی ۲۰۲۶ء) نمازِ عصر کے بعد درس میں فرمایا کہ گزشتہ سال انہی دنوں بھارت کی جانب سے پاکستان پر مسلط کی گئی جارحیت کے موقع پر پاکستانی افواج نے جس جرأت، حکمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ بظاہر دشمن وسائل اور طاقت میں برتر دکھائی دیتا تھا، لیکن ایمان، عزم اور قربانی کے جذبے نے پاکستانی قوم اور افواج کو سرخرو کیا۔ آج بھی اس کامیاب دفاع کے اثرات موجود ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کی عزت و وقار نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے فرمایا کہ جنگیں صرف اسلحہ اور تعداد سے نہیں بلکہ ایمان، حوصلے، دیانت اور مضبوط قیادت سے جیتی جاتی ہیں۔ اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ہجرتِ نبوی ﷺ کا ایمان افروز واقعہ بیان کیا۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے تو قریش نے آپ ﷺ کی گرفتاری پر بڑے انعامات مقرر کر رکھے تھے۔ راستے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ تو انہوں نے حکمت کے ساتھ جواب دیا: “رجل یھدینی السبيل” یعنی “یہ شخص مجھے راستہ دکھا رہا ہے۔” مولانا نے فرمایا کہ انہی خطرناک حالات میں سراقہ بن مالک انعام کی لالچ میں رسول اللہ ﷺ کے تعاقب میں نکلا، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ناکام کر دیا۔ آخرکار اس نے امان طلب کی تو نبی کریم ﷺ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا بلکہ یہ عظیم پیش گوئی بھی فرمائی کہ ایک دن اس کے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔ اس وقت بظاہر حالات ایسے نہ تھے کہ کوئی اس پیش گوئی کا تصور بھی کر سکتا، مگر یہی ایمان اور حوصلے کی قوت تھی جس نے بعد میں دنیا کی عظیم سلطنتوں کو مسلمانوں کے سامنے جھکا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے خزانے مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مبارکباد وصول فرما رہے تھے، لیکن ساتھ ہی کسی چیز کی تلاش اور فکر میں بھی تھے۔ تین دن گزر گئے۔ پھر ایک سپاہی حاضر ہوا اور عرض کیا کہ راستے میں بیمار ہو جانے کی وجہ سے ایک بستی میں رکنا پڑا، اس لیے تاخیر ہوگئی۔ اس کے بعد اس نے کسریٰ کے کنگن پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی امانت ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کنگن ہاتھ میں لیے، آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا کہ جس قوم کے سپاہی اتنے دیانت دار ہوں کہ اتنا بڑا خزانہ بھی امانت کے ساتھ پہنچا دیں، اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ اس پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ جب حکمران دیانت دار ہوں تو رعایا اور سپاہی بھی دیانت دار ہوتے ہیں۔ بعد ازاں حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کو واقعی کسریٰ کے کنگن پہنائے گئے اور یوں رسول اکرم ﷺ کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔
مولانا زاہد الراشدی صاحب نے کہا کہ آج پاکستان کو بھی اسی ایمان، حوصلے، اتحاد اور دیانت کی ضرورت ہے۔ اگر قوم اپنے نظریے پر قائم رہے، افواج باحوصلہ ہوں اور قیادت دیانت دار ہو تو کوئی دشمن پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہماری افواج کے حوصلے بلند رکھے، وطنِ عزیز کو امن و استحکام عطا فرمائے اور ہمیں اجتماعی دیانت اور اخلاص کی دولت نصیب فرمائے۔ آمین۔
قادیانی کے لیے ستارۂ امتیاز
منجانب: حافظ شاہد الرحمٰن میر — ۱۷ مئی ۲۰۲۶ء
استاذ جی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ایک مجلس میں پوچھا گیا کہ ایک شہری کے طور پر نبیل احمد قادیانی کو ستارۂ امتیاز ملنے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بات شہری کی نہیں ہے، بات آئین کی پاسداری کی ہے۔ کوئی ایسا شہری جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کر کے اس کے خلاف سرگرم عمل ہے تو اس کو ریاست کی طرف سے کوئی تمغہ آخر کیسے دیا جا سکتا ہے؟ قادیانی گروہ بحیثیت اجتماعی ملک کی دستوری رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ دستور پاکستان، عدالت عظمیٰ، پارلیمنٹ اور قوم کے اجتماعی فیصلوں کو قبول کرنے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ دنیا بھر میں ہر سطح پر اس کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہیں۔ اس لیے کسی بھی قادیانی کو کوئی بھی تمغہ ریاست کی طرف سے دیے جانے کا مطلب قادیانیوں کے موقف کی تائید اور سہولت کاری ہے۔ اور ایسا کر کے انہیں دستور سے بغاوت پر شہہ دی جا رہی ہے۔ اس لیے تمام محب وطن حلقوں کو اس پر احتجاج کرنا چاہیے اور حکومت کو یہ تمغہ فی الفور واپس لینا چاہیے۔
صدر مرکزی جامع مسجد الحاج ظفر علی ڈار کی وفات
منجانب: عبد القادر عثمان — دفتر مرکزی جامع مسجد، گوجرانوالہ
آج ۱۹ مئی ۲۰۲۶ء تبلیغی جماعت کے پرانے بزرگ اور مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی مجلس منتظمہ کے صدر الحاج ظفر علی ڈار صاحب انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز عصر کے بعد رخسانہ مسجد سٹی ہاؤسنگ میں ان کی نماز جنازہ تبلیغی جماعت کے بزرگ حضرت مولانا خورشید احمد صاحب نے پڑھائی جس میں علماء کرام اور سرکردہ شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ حضرت مولانا زاہد الراشدی نے حافظ شاہد میر، عبد القادر عثمان، حافظ عثمان غنی اور دیگر رفقاء کے ہمراہ نماز جنازہ میں شرکت کی۔
اس سے قبل مرحوم کی رہائشگاہ پر ان کے بیٹوں جناب عمر ڈار، عثمان ڈار اور دیگر اہلِ خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے فرمایا: گزشتہ نصف صدی سے میرا اُن سے تعلق چلا آ رہا تھا۔ میں نے انہیں ہمیشہ دعوت و تبلیغ اور مسجد و مدرسہ کے ماحول میں محنت کرتے ہوئے دیکھا۔ اللہ پاک ان کی حسنات کو قبول فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
