بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
سب سے پہلے میں ادارۂ الہدیٰ کا شکرگزار ہوں، جن کے تعاون سے ایک مرتبہ پھر اس پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ اس سے پہلے آپ میں سے بہت سے خواتین کو قرآن مجید اور حدیث پاک پر دو پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا ہوگا۔ قرآن مجید اور حدیثِ رسول کے بعد یہ اس سلسلے کا تیسرا پروگرام ہے، جس میں فقہِ اسلامی پر ان شاء اللہ بارہ خطبات پیش کیے جائیں گے۔
ان خطبات کا مقصد فقہِ اسلامی کا احاطہ کرنا نہیں ہے، اس لیے کہ بارہ خطبات تو کیا، بارہ سال میں بھی کوئی فقہِ اسلامی کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسا بحرِ ناپیدا کنار ہے، جس کی وسعتوں کا اندازہ انہی لوگوں کو ہو سکتا ہے جو اس دریا کے شناور ہیں۔ ان خطبات کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان خواتین کو، جنہوں نے قرآن مجید کو اپنی زندگی کا بنیادی موضوع قرار دیا ہے، جو قرآن مجید کے درس و تدریس میں مصروف ہیں، فقہِ اسلامی سے اس طرح متعارف کرا دیا جائے کہ وہ فقہِ اسلامی کی ہمہ گیریت، گہرائی، گیرائی اور بنیادی خصوصیات سے واقف ہو جائیں۔
اس عنوان میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلے خطبے کا عنوان ہے: ’’فقہِ اسلامی — علومِ اسلامیہ کا گلِ سرِ سبد‘‘۔ اگر اسلامی علوم و فنون کو ایک گلدستے سے تشبیہ دی جائے تو اس گلدستے کا سب سے نمایاں پھول فقہِ اسلامی ہے۔
فقہِ اسلامی پر بات کرنے سے پہلے ایک غلط فہمی اپنے ذہن سے ہمیشہ کے لیے نکال دیجیے۔ یہ غلط فہمی بعض اوقات کم فہمی سے، بعض اوقات کسی منفی تاثر کے نتیجے میں، بعض اوقات کم علم اور کم فہم لوگوں سے گفتگو کے نتیجے میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ فقہِ اسلامی قرآن مجید اور حدیثِ رسول سے الگ کوئی چیز ہے۔ قرآن مجید اور فقہِ اسلامی، قرآن مجید اور حدیث و سنت، یہ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں، ایک ہی چیز کو سمجھنے کے مختلف انداز ہیں۔ اللہ کی شریعت ہمارے پاس قرآن مجید اور سنت کی شکل میں آئی ہے۔ اللہ کی اس شریعت کو جب انسان اپنے روزمرہ معاملات پر منطبق کرے گا، اس منطبق کرنے کے لیے روزمرہ کے معاملات پر احکامِ شریعت کا اطلاق کرے گا، اسی عمل کا نام فقہ ہے۔ قرآن مجید اور سنتِ رسول کی نصوص کو روزمرہ پیش آنے والے واقعات اور حقائق پر منطبق کرنا، اور اس کے تفصیلی احکام کو مرتب کرنا، اور مرتب کر کے زندگی کو اس کے مطابق سنوارنا، اس پورے عمل کا نام فقہ ہے۔ یہ عمل ایک لمحے، ایک ثانیے کے لیے بھی قرآن مجید اور سنت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن مجید اور سنت اس پورے عمل کی روح ہے، اس روح کے ظاہری عوامل یا مظاہر، فقہ کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔
فقہِ اسلامی جس شکل میں آج ہمارے پاس موجود ہے، اس شکل میں اس کی تیاری اور ترتیب میں انسانی تاریخ کے بہترین دماغوں نے حصہ لیا ہے۔ انسانی تاریخ میں جو بہترین دماغ ہوئے ہیں، ان کا فقہِ اسلامی کی ترتیب، تنظیم اور توسیع میں اتنا غیر معمولی حصہ ہے کہ دنیا کی کسی اور قوم کی تاریخ میں، کسی اور تہذیب و تمدن میں، نہ اس گہرائی کی مثال ملتی ہے، نہ اس وسعت کی مثال ملتی ہے، اور نہ اس حکیمانہ ترتیب کی مثال ملتی ہے جو فقہِ اسلامی کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔
بعض لوگ فقہ کا ترجمہ ’’اسلامی قانون‘‘ یا ’’اسلامک لاء‘‘ کرتے ہیں۔ سمجھنے کے لیے ممکن ہے یہ ترجمہ درست ہو، ایک عام درسی یا تفہیمی ضرورت کے لیے اس ترجمے کو اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن فقہِ اسلامی کے متخصصین کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فقہ کا ترجمہ اسلامی قانون یا اسلامک لاء نہیں ہے۔ انگریزی زبان میں جس چیز کو لاء کہتے ہیں، یا اردو میں جس شعبۂ علم کے لیے قانون کا لفظ استعمال ہوتا ہے، وہ فقہِ اسلامی کے مقابلے میں بہت محدود، انتہائی سطحی اور انتہائی ہلکی چیز ہے۔ فقہِ اسلامی کا دائرہ قانون اور لاء کے مقابلے میں بڑا وسیع، انتہائی جامع اور انتہائی گہرائی پر مبنی ہے۔ اس لیے عارضی طور پر اپنی فہم کے خاطر یا ایک غیر متخصص کو سمجھانے کے خاطر فقہِ اسلامی کا ترجمہ اسلامک لاء یا اسلامی قانون کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ترجمہ نامکمل ہے۔
فقہِ اسلامی پر بات کرنے سے پہلے یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے کہ ہم فقہِ اسلامی کا ایک بہت عمومی اور ابتدائی تقابل دنیا کے دوسرے قوانین کے ساتھ کریں۔ کسی شاعر نے کہا تھا: ’’وبضدہا تتبین الاشیاء‘‘۔ چیزیں نہایت واضح اور نمایاں ہو کر سامنے آ جاتی ہیں اگر ان کی ضد سے اس کا مقابلہ کر کے دیکھا جائے۔ روشنی کی حقیقت سمجھ میں آ سکتی ہے اگر تاریکی کا علم ہو، علم کا مفہوم معلوم ہو سکتا ہے اگر جہالت کا پتہ ہو، عقل و فہم کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے اگر بد عقلی اور سفاہت کا اندازہ ہو۔ اس لیے فقہِ اسلامی کی عظمت کا اندازہ کیا جا سکے گا اگر ایک سرسری نظر دنیا کے دوسرے قوانین پر بھی ڈال لی جائے۔
آج فقہِ اسلامی کا شمار دنیا کے چند قدیم ترین نظام ہائے قوانین میں ہوتا ہے۔ فقہِ اسلامی جس دور میں مرتب ہو رہی تھی، جن دنوں فقہاء اسلام اور ائمۂ مجتہدین، محدثین و مفسرین، قرآن و سنت پر غور کر کے قرآن و سنت کے احکام کو مرتب کر رہے تھے، اس دور میں دنیا میں چار بڑے بڑے قوانین موجود تھے۔
قدیم ترین قانون جو آج ہمارے سامنے ہے، جس کی دستاویز آج دنیا کی ہر بڑی زبان میں موجود ہے، وہ حمورابی کا قانون ہے۔ حمورابی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام سے تقریباً دو ہزار سال پہلے تھا۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس کو دنیائے اسلام نمرود کے نام سے جانتی ہے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ السلام کا معاصر تھا۔ اس نے قانون کا ایک مجموعہ مرتب کرایا تھا جو کئی سو دفعات پر مشتمل ہے۔ یہ فرمانروا کم و بیش پینتالیس سال حکمران رہا، اس نے دنیا کا ایک قدیم ترین مجموعہ جو کئی سو دفعات پر مشتمل تھا، ایک بڑی سنگی لوح (پتھر کا کتبہ) پر کندہ کرایا تھا۔ یہ لوح جو اس کے زمانے میں لکھی گئی تھی، 1901ء میں دستیاب ہوئی۔ اس کے بارے میں دنیا کے آرکیالوجی (آثار) کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین قانون ہے۔
اگر اس قانون کا سرسری جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کی اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی حاصل نہ ہو تو وہ کس انداز کا قانون مرتب کرتا ہے۔ یہ بات کہ اس کا مرتب کرنے والا بت پرست اور مشرک تھا، اس قانون کے آغاز سے بھی ظاہر ہے اور انتہا سے بھی ظاہر ہے۔ قانون کا آغاز بھی دیوتاؤں کے نام اپیلوں اور مناجاتوں سے ہوتا ہے اور قانون کی انتہا بھی دیوتاؤں اور بتوں سے اپیلوں کے نام پر ہوتی ہے۔ جگہ جگہ اس قانون میں قانون کے مخالفین پر لعنت کی گئی ہے۔ جو احکام دیے گئے ہیں، ان کا اندازہ آپ اس سے کر لیں کہ اس میں لکھا ہوا ہے کہ جھوٹے گواہ کی سزا موت ہے، غلط فیصلہ کرنے والے جج کو برطرف کر دیا جائے، جرمانہ بھی کیا جائے۔ اور جو زیادہ دلچسپ مثال ہے کہ اگر کسی شخص کی دیوار گر جائے، کسی کے مکان کی، دکان کی، اور اس کے نتیجے میں کوئی شخص مر جائے، تو جس نے وہ دیوار بنائی تھی اس کو سزائے موت دی جائے گی۔ اگر مالک کا بچہ مر جائے تو بنانے والے کے بچے کو مار دیا جائے۔ (یعنی) ایک ٹھیکیدار نے مکان بنایا، اس مکان کی دیوار گر گئی، جو اس میں رہتا تھا اس کا بچہ مر گیا، تو اب سزا یہ نہیں ہے کہ بنانے والے کو جرمانہ کیا جائے یا بنانے والے معمار سے پوچھا جائے (بلکہ) سزا یہ ہے کہ بنانے والے معمار کے بچے کو پکڑ کر سزائے موت دے دی جائے۔
یہ قانون ہے جو دنیا کا قدیم ترین قانون کہلاتا ہے۔ اس نے آبادی کے تین طبقے قرار دیے ہیں۔ آبادی متساوی انسانوں پر مشتمل نہیں تھی، بلکہ اس آبادی کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا: ایک طبقۂ حکام یعنی اشرافیہ کا طبقہ، ایک عامۃ الناس کا طبقہ، ایک غلاموں کا طبقہ۔
لیکن ان احکام کے باوجود ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس قانون میں بعض ایسی مثالیں موجود ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب یہ قانون مرتب کیا جا رہا تھا تو وہاں بعض آسمانی شریعتوں کے بقایاجات بھی موجود تھے۔ ان آسمانی شریعتوں کے بقایاجات حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت کے بقایاجات تھے، وہ حضرت ادریس علیہ السلام کی شریعت کے تھے، یا کسی اور قدیم تر پیغمبر کے تھے، ہم نہیں جانتے، لیکن بعض مثالیں ایسی موجود ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ بعض آسمانی کتابیں وہاں موجود تھیں جن کے اثرات اس قانون میں پائے جاتے ہیں۔ طلاق کے بعض احکام، سزاؤں کے بعض احکام، تورات اور قرآن مجید سے ہم آہنگ اور ملتے جلتے معلوم ہوتے ہیں۔
حمورابی قانون کے علاوہ دنیا کا دوسرا قدیم قانون یہودی قانون ہے، ہندوؤں کا منوشاستر ہے، اور دنیائے مغرب کا وہ قانون جس پر دنیائے مغرب کو آج بھی ناز ہے، رومن لاء ہے۔
رومن لاء وہ قانون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت بچپن کے زمانے میں مرتب کیا گیا، غالباً جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کو چند سال ہوئے ہوں گے، اس وقت روما میں ایک فرمانروا جس کا نام جسٹینین تھا، اس نے یہ احکام مرتب کرائے تھے۔ ان احکام کے مجموعے کو رومن لاء کہا جاتا ہے۔ رومن لاء پوری سلطنتِ روما میں رائج رہا، ان علاقوں میں بھی رائج رہا جہاں سلطنتِ روما کے اثرات تھے۔ سلطنتِ روما کے اثرات جن (علاقوں) میں تھے اور جن علاقوں میں (یہ قوانین) رائج تھے، وہ ایک طویل گفتگو کا موضوع ہے۔ لیکن سلطنتِ روما کے اس قانون کی اہمیت فقہِ اسلامی کے طلبہ کے لیے ایک اعتبار سے یوں پیدا ہو جاتی ہے کہ بہت سے مغربی مستشرقین نے آج سے کم و بیش ڈیڑھ سو، پونے دو سو سال پہلے یہ دعویٰ کیا کہ فقہِ اسلامی قانونِ روما سے ماخوذ ہے۔ جب انہوں نے فقہِ اسلامی کے ذخائر کا مطالعہ کیا اور یہ دیکھا کہ اتنا وسیع و عریض، اتنا منظم، اتنا گہرا، اتنا عمیق اور اتنا سائنٹیفک قانون مسلمانوں کے پاس موجود رہا ہے، تو ان کے دل نے یہ گوارہ نہیں کیا، ان کے ذہن نے یہ بات قبول نہیں کی کہ مسلمانوں کی اس عظمت کا اعتراف کریں اور مسلمانوں کے اس کارنامے کو تسلیم کریں۔ انہوں نے یہ بے بنیاد دعویٰ شروع کر دیا کہ اسلام کا قانون، قانونِ روما سے ماخوذ ہے۔
ان کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید یا تائید کرنے کے لیے فقہاء اسلام نے قانونِ روما کا مطالعہ شروع کیا۔ گزشتہ صدی میں، بیسویں صدی میں، بڑی تعداد میں علماء اسلام نے رومن لاء کا مطالعہ کیا اور تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ رومن لاء کا اسلامی قانون پر ذرہ برابر اثر نہیں ہے۔ وہ تمام شواہد اور دعاوی جو رومن لاء کے اثرات کے بارے میں کیے جاتے رہے، وہ سب کے سب بے بنیاد تھے اور غلط تھے۔ رومن لاء کے بنیادی مضامین، رومن لاء کے تفصیلی احکام، رومن لاء کے بنیادی تصورات، یہ سب کے سب فقہِ اسلامی کی ترتیب، مضامین اور بنیادی تصورات سے ہر اعتبار سے متعارض ہیں۔
فقہِ اسلامی کے بنیادی مضامین کیا ہیں، ان پر آگے چل کر گفتگو ہوگی، لیکن رومن لاء کے بنیادی مضامین تین تھے: اس قانون میں سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ اشخاص (Persons) کا قانون کیا ہے۔ پھر وہ یہ بتاتے ہیں کہ چیزوں (Things) کا قانون کیا ہے یعنی پراپرٹی کا قانون کیا ہے۔ پھر وہ اعمال (Actions) کا قانون بناتے ہیں۔ افراد، اَشیا اور اعمال، ان تین شعبوں میں انہوں نے رومن لاء کو تقسیم کیا ہے۔ آپ فقہِ اسلامی کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں، قدیم یا جدید، وہ امام شافعیؒ کا کتاب الاُم ہو، یا امام ابویوسفؒ (مالکؒ) کی مؤطا ہو، یا آج کے کسی فقیہ کی کتاب ہو، آپ کو فقہِ اسلامی کی کوئی کتاب ان تین عنوانات میں مرتب نظر نہیں آئے گی۔ اس لیے یہ بنیاد ہی غلط ہے، ابتدا ہی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فقہِ اسلامی کا سارا آغاز و ارتقا صرف قرآن و سنت کی روشنی میں اور فقہاء اسلام کی اجتہادی بصیرت کی روشنی میں ہوا، اس کا کوئی تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ رومن لاء سے نہیں رہا۔
رومن لاء کے مآخذ و مصادر (یعنی بادشاہوں کا دیا ہوا مدون قانون، مجسٹریٹوں کے دیے ہوئے فیصلے، اور بادشاہوں کے مقرر کیے ہوئے ماہرینِ قانون کے فیصلے اور مشورے — فقہِ اسلامی میں اِن میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ نہ فقہِ اسلامی کسی بادشاہ کا دیا ہوا قانون ہے، نہ فقہِ اسلامی کسی مجسٹریٹ کے دیے ہوئے ضابطے ہیں، نہ فقہِ اسلامی بادشاہوں کے مقرر کیے ہوئے کسی مشیر کے مشورے ہیں۔ کسی بادشاہ یا کسی حکمران کا فقہِ اسلامی کے کسی حکم کی ترتیب و تدوین میں کوئی حصہ نہیں رہا۔ اس پر ہم آگے چل کر بات کریں گے۔ اس لیے فقہِ اسلامی کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے بارے میں یہ فرض بھی کیا جا سکے کہ وہ قانونِ روما سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ماخوذ تھی۔ بعض احکام ایسے ہیں جو اسلام کے تصورِ عدل کے خلاف ہیں۔ نہ صرف اسلام کے تصورِ عدل کے خلاف ہیں بلکہ آج دنیا کا کوئی نظام اس تصور کو قبول نہیں کرتا، خود روما میں وہ تصورات آج ناقابلِ قبول ہیں۔ مثال کے طور پر اس میں لکھا ہوا ہے کہ اگر مقروض شخص قرض ادا نہ کر سکے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ بڑی رقم ہو تو قتل کر دیا جائے، اور اگر قرض کی رقم تھوڑی ہو تو مقروض کو قرض دار کا غلام بنا دیا جائے۔ یہ بات آج یا ماضی میں دنیا کا کوئی انصاف پسند انسان قبول نہیں کر سکتا تھا۔
اس کے باوجود جب 19ویں صدی میں مغربی محققین نے یہ بات دیکھی کہ فقہِ اسلامی دنیا کی تاریخ کا سب سے منظم، سب سے مرتب اور سب سے وسیع نظامِ قانون ہے، تو انہوں نے یہ دعویٰ شروع کر دیا کہ یہ رومن لاء سے ماخوذ ہے۔ 1875ء سے پہلے کے سالوں میں بعض اور لوگوں نے یہ دعوے کیے اور ان دعووں کی بنیاد پر کتابیں لکھ دی گئیں، مضامین لکھ دیے گئے، اور مسلمانوں میں کمزور ایمان رکھنے والے بعض لوگوں کو، یا شریعت کا علم نہ رکھنے والے بعض مغربی قانون دانوں کو یہ بات ذہن نشین کرا دی گئی کہ فقہِ اسلامی کا سارا ذخیرہ قانونِ روما سے ماخوذ ہے۔
اگر آپ نے اسلام کی تاریخ میں یونانیوں کے علوم و فنون کے ترجمے کی تاریخ پڑھی ہو تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ مسلمانوں نے یونانیوں کے علوم و فنون کی بہت سی کتابیں ترجمہ کیں۔ افلاطون اور ارسطو کی کتابیں عربی میں ترجمہ ہوئیں۔ سقراط اور بقراط اور حکیم جالینوس کی کتابیں ترجمہ ہوئیں۔ منطق، فلسفہ، طب پر ہزاروں کتابیں ترجمہ ہوئیں۔ لیکن ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ قانون یا دستور پر کوئی ایک کتاب بھی دنیا کی کسی بھی زبان سے عربی میں ترجمہ ہوئی ہو۔ پہلی صدی ہجری سے لے کر گیارہویں بارہویں صدی ہجری تک ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ قانون کی کوئی کتاب عربی میں ترجمہ کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہو۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اسلام کا قانون اور فقہ اتنا مرتب و منظم تھا کہ مسلمانوں نے ایک لمحے کے لیے بھی اس ضرورت کا احساس نہیں کیا کہ ان کو کسی ایسی چیز کی ضرورت ہے جو قانون کے میدان سے تعلق رکھتی ہو اور دنیا کی کسی قوم کے پاس موجود ہو۔
یہی حال دنیا کے اور قدیم قوانین کا ہے۔ ہندوؤں نے تو کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ مسلمانوں نے کوئی چیز ان سے لی ہے۔ یہودیوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔ (بدھوں) کے پاس تو سرے سے کوئی قانون ہی نہیں تھا، انہوں نے اخلاق کو کافی سمجھا۔ اس لیے ان مثالوں کے بعد ہم یہ یقین سے تسلیم کر سکتے ہیں کہ فقہِ اسلامی تمام تر سو فیصد قرآن پاک اور سنتِ رسول کے اصولوں پر قائم ہے۔ فقہاء اسلام کو جو اجتہادی بصیرت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی، یہ اس پر مبنی ہے۔ اور اس کا تمام تر ارتقا فقہاء اسلام، مفسرین قرآن اور شارحینِ حدیث کا مرہونِ منت ہے۔
مسلمانوں کا جن اقوام سے قریبی رابطہ رہا، مثلاً یہودی اور عیسائی، ان کے بھی کسی قانونی تصور نے فقہِ اسلامی پر اثر انداز ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ عیسائیوں کے ہاں تو سرے سے قانون ہی نہیں تھا، عیسائیت کے آغاز میں قانونِ تورات کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ لیکن یہودیوں کے ہاں ایک مرتب قانون تھا، لکھا ہوا بھی تھا، اس پر کتابیں بھی موجود تھیں، اور خود مدینہ منورہ میں یہودیوں کا مِدراس یعنی درسگاہ موجود تھی جہاں یہودی قانون کی تعلیم دی جاتی تھی۔ لیکن نہ یہودیوں نے اس کا دعویٰ کیا، نہ مسلمانوں کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ یہودیوں سے ان کے قانون کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ایک بنیادی سوال کا جواب ناگزیر ہے، جس سے فقہِ اسلامی کی بنیادی اساس کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کا جو ضابطہ مرتب کیا جائے — وہ کسی ایک شعبے کو منظم کرتا ہو یا ایک سے زائد شعبے کو منظم کرتا ہو — اس کی اساس اور بنیاد کیا ہو؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی اساس عقلِ انسانی کو ہونا چاہیے۔ انسان اپنی عقل سے یہ فیصلہ کرے کہ انسانوں کی زندگی کو کیسے منظم کیا جائے۔ اسلام اور دیگر آسمانی شریعتوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ چیز صرف وحی الٰہی کی بنیاد پر مرتب کی جا سکتی ہے۔ نہ انسانوں میں کوئی چیز عقل کی بنیاد پر قدرِ مشترک ہے، نہ کوئی انسان اپنے ذاتی مفادات اور ذاتی مصلحتوں سے ماورا ہو سکتا ہے، نہ کوئی انسان اپنے خاص ماحول سے آزاد ہو کر مجرد اخلاق کی بنیاد پر یا مجرد عقل کی بنیاد پر کوئی چیز طے کر سکتا ہے۔ اس لیے جب بھی انسانوں کی عقل کو یہ ذمہ داری دی جائے گی، اس میں ذاتی مفاد اور ذاتی مصلحت کا دَر آنا ناگزیر ہے۔ یہ صرف وحی الٰہی ہے جو تمام انسانوں کے مفادات اور مصلحتوں سے بالاتر ہے ؎
وحی حق بینندہ سودِ ہمہ
در نگاہش سود و بہبودِ ہمہ
علامہ (محمد اقبال) نے فرمایا کہ صرف وحئ حق ہے جو ہر انسان کی فلاح و بہبود اور کامیابی کا خیال رکھتی ہے، اس کی نگاہ میں ہر انسان کی فلاح و بہبود برابر ہے۔ اس کے مقابلے میں جب عقلِ انسانی کو یہ ذمہ داری دی جائے گی، تو یا تو وہ اس کا فیصلہ اپنے تجربے کی بنیاد پر کرے گی، یا قیاس کی بنیاد پر کرے گی۔ تجربہ اور قیاس کے علاوہ کوئی ذریعہ عقلِ انسان کے پاس نہیں ہے کہ وہ انسانوں کے لیے کوئی نظام وضع کر سکے۔ تجربہ ہر انسان کا محدود ہوتا ہے۔ کسی انسان کا تجربہ اتنا لامتناہی نہیں ہے کہ آپ اسلام آباد میں بیٹھ کر چینیوں کے لیے نظام وضع کر دیں، کوئی چینی بیجنگ میں بیٹھ کر ہمارے لیے نظام وضع کر دے، کوئی شخص آج سے پانچ سو سال پہلے بیٹھ کر چھ سو سال بعد آنے والوں کے لیے نظام وضع کر دے۔ کسی انسان کا تجربہ لامتناہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایک انتہائی محدود تجربے کی روشنی میں لامحدود انسانوں کے لامحدود معاملات کے لیے نظام وضع کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہی حال قیاس کا ہے کہ انسان کسی دیکھی ہوئی چیز پر اَن دیکھی چیز کو قیاس کرتا ہے۔ ایک چیز آپ نے دیکھی، اس پر اَن دیکھی چیز کو قیاس کر کے ایک نتیجہ معلوم کر لیا۔ جو چیز آپ نے دیکھی ہے وہ انتہائی محدود ہے، دو یا چار پانچ چیزیں دیکھی ہیں، اس پر ہزاروں چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
پھر اگر یہ عقل فرد کی ہے، فرد کی عقل پر بھروسہ کر کے جن لوگوں نے معاملات چلائے، ان کا انجام دنیا کے سامنے ہے۔ اگر ایک سے زائد افراد کو یہ ذمہ داری دی جائے گی، دنیا کا تجربہ ہمارے سامنے ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ جس طبقے سے ان کا تعلق ہوگا، اس طبقے کے مفاد کو وہ پیش نظر رکھیں گے؛ اور جس طبقے سے تعلق نہیں ہوگا، اس طبقے کا مفاد مجروح ہو جائے گا۔ ہم سب کا تعلق پڑھنے پڑھانے کے معاملات سے ہے، اگر اساتذہ اور طلبہ کو ملک کا نظام بنانے کی اجازت دے دی جائے تو سارا مفاد اساتذہ اور طلبہ کا ہوگا۔ اور مزدوروں، کسانوں، سرمایہ داروں، کارخانہ داروں، ملازمین، سب کا مفاد مجروح ہو جائے گا۔ ملازمین کو یہ حق دیا جائے تو بقیہ سب کا مفاد مجروح ہو جائے گا، اُن کا مفاد پورا ہو جائے گا۔
اس لیے اللہ کی شریعت نے یہ طے کیا کہ انسانی زندگی کے نظام میں جو جو چیزیں ضروری ہیں، ان کی وہ بنیادی اساسات اور ان کے وہ بنیادی احکام وحی الٰہی کے ذریعے طے کر دیے جائیں۔ جہاں انسانی عقل کے بھٹکنے کا امکان ہے، جہاں انسانی عقل سے اس بات کا امکان ہے کہ وہ کسی خاص طبقے یا فرد کے مفاد کو پیش نظر رکھے گی، وحی الٰہی نے وہ بنیادی تصورات فراہم کر دیے۔ اچھائی اور برائی کا معیار طے کر دیا کہ کیا چیز اچھی ہے اور کیا چیز بری ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ طے ہو جائے تو پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان حدود کے اندر انسانی عقل کو اجازت ہے کہ وہ جتنی تفصیلات چاہے طے کر لے۔ وہ تفصیلات جو کسی فرد یا گروہ کی عقل طے کرے گی، اگر قرآن و سنت کے ان بنیادی احکام کے مطابق ہیں تو قابلِ قبول ہیں، ان بنیادی احکام سے متعارض ہیں تو ناقابلِ قبول ہیں۔ ان بنیادی احکام کے اندر اگر ایک سے زائد آرا ہیں، اور اس ڈھانچے میں ایک سے زائد آرا کی گنجائش ہے، تو ایک سے زائد آرا بھی قابلِ قبول ہیں۔
آپ میں سے جن کو حدیث پر خطبات سننے کا موقع ملا ہوگا، میں نے اس میں یہ مثالیں دی تھیں کہ کس طرح ایک حدیث کا ایک سے زائد مفہوم فقہاء نے، صحابہ کرام نے، تابعین نے سمجھا؛ اور وہ ایک سے زائد مفاہیم سارے کے سارے بیک وقت درست قرار پائے۔ قرآن پاک کی ایک آیت کو ایک سے زائد انداز میں صحابہ کرامؓ نے کیسے سمجھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مفاہیم کو کیسے درست قرار دیا۔ جہاں ایک مفہوم ہی درست تھا، حضورؐ نے اس کی نشاندہی فرما دی۔ جہاں ایک سے زائد تعبیرات کی گنجائش تھی، آپؐ نے ایک سے زائد تعبیرات کی اجازت دی۔ لیکن ان حدود کے اندر، اس چوکھٹے کے اندر جو قرآن پاک اور سنتِ رسول میں موجود ہے۔ یہ چوکٹھا انسانی زندگی کے تمام بنیادی مسائل کا جواب دیتا ہے۔ یہ چوکٹھا انسانوں کی بنیادی حکمتوں اور مصلحتوں کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ چوکٹھا کمزور سے کمزور انسان کے مفاد کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ چوکٹھا انسانی اخلاق کی نگہداشت کرتا ہے۔ یہ چوکٹھا زندگی کے تسلسل کا ضامن ہے۔ یہ چوکٹھا انسانی زندگی کو ماضی سے جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے اندر اندر انسانی عقل جتنا سوچ سکے اس کو سوچنے کی اجازت ہے۔ انسانی عقل جو مسائل تجویز کر سکے، جو حل تجویز کر سکے، وہ کر سکتی ہے۔
لیکن اگر یہ بنیادی رہنمائی جو قرآن مجید اور سنت نے دے دی، یہ موجود نہ ہو، تو وہ ہوتا ہے جو آج مغرب میں ہو رہا ہے۔ مغرب میں یہ طے کیا گیا کہ فلاں جماعت کے ارکان — جن کی تعداد دو سو یا تین سو یا ہزار یا دو ہزار ہے — ان کی عقل زندگی کے معاملات کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ ان انسانوں کی عقل نے جو فیصلے کیے، وہ آج میں آپ کے سامنے بیان نہیں کر سکتا۔ میری حیا اس کی اجازت نہیں دیتی کہ میں وہ مثالیں دوں جو انسانوں نے ہماری اسی دنیا میں، 20ویں اور 21ویں صدی میں انسانوں کے بارے میں فیصلے کیے۔ تازہ ترین فیصلہ سن لیجیے۔ ترکی، جو برادر مسلم ملک ہے، جس کا ایک حصہ یورپ میں ہے اور تقریباً تین چوتھائی سے زائد حصہ ایشیا میں ہے، اس ایک چوتھائی سے کم حصے کی وجہ سے وہ یورپین یونین کا ممبر بننا چاہتے ہیں اور کم و بیش پچاس سال سے کوشاں ہیں کہ ان کو یورپین یونین کی ممبرشپ عطا فرما دی جائے۔ ان کی قیادت نے — اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے — ہر وہ کام کیا جو یورپینز نے ان سے مطالبہ کیا کہ آپ یہ کریں۔ تازہ ترین، جب ان کا معاملہ بالکل طے کرنے کے قریب ہوا، فیصلہ ہونے لگا کہ وہ یورپین کونسل کے ممبر ہو جائیں، تو انہوں نے اعتراض کیا کہ پچھلے دنوں آپ کی پارلیمنٹ میں ایک قانونی مسودہ پیش ہوا ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ بدکاری کو ترکی میں جرم قرار دے دیا جائے، یہ یورپین تصورات کے خلاف ہے، ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ جس طرح سے چاہے اپنی عزت و اخلاق کا سامان کرے، سودا کر لے، لہٰذا یہ پابندی لگانا جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے وہ قانون واپس لے لیا۔ افسوس کی بات ہے، ہمارے لحاظ سے دکھ کی بات ہے، لیکن یہ فیصلے ہیں جو انسانی عقل کی بنیاد پر ہوتے ہیں، جن کا اخلاق، روحانیت، کردار، کسی چیز سے کوئی تعلق نہیں۔
اگر ایک مرتبہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ زندگی کے بنیادی مسائل کا جواب دینے کا حق انسانی عقل کو ہے، وحی الٰہی کو نہیں ہے، تو پھر انسانی زندگی کے لیے کوئی راستہ نہیں بچتا۔ ایک لاکھ انسان ہوں گے تو وہ ایک لاکھ عقلی مشورے دیں گے، جہاں ایک ارب انسان ہوں گے تو وہ ایک ارب حل تجویز کریں گے، اور انسانیت کسی ایک حل تک نہیں پہنچ سکے گی۔ آج دنیا میں جو لاتعداد مسائل پیدا ہو رہے ہیں، آئے دن انسانوں کو جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ اس لیے ہے کہ انہوں نے کچھ انسانوں کا یہ حق تسلیم کر لیا کہ ان کی عقل دنیا کے معاملات کا فیصلہ کرے۔ اب جس کے پاس ڈنڈا ہے اس کی عقل بھی سب سے زیادہ ہے، جس کی جیب میں پیسہ ہے اس کی عقل بھی سب سے زیادہ ہے۔ چنانچہ آپ دیکھ لیجیے کہ دنیا میں جن قوموں کے پاس قوت اور طاقت ہے، ان کا نظام بھی دنیا میں زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے۔ جن اقوام کے پاس وسائل زیادہ ہیں اور قوت کی وجہ سے انہوں نے وسائل پر بھی قبضہ کیا ہے، ان کا نظام دنیا میں چل رہا ہے اور لوگ ماننے پر مجبور ہیں۔
ہمارے ترک بھائیوں کے دلوں میں کیا ہے؟ یقینا وہی ہوگا جو میرے اور آپ کے دل میں ہے۔ لیکن وہ اس مجبوری کی وجہ سے ان کی شرائط ماننے پر مجبور ہیں، جن کے پاس پیسہ بھی ہے، جن کے پاس قوت بھی ہے، جن کے پیسے اور قوت کی وجہ سے ان کی تنظیم میں ہر شخص شامل ہونا چاہتا ہے۔ یہ وہ کمزوریاں ہیں جو دنیا کے قوانین میں اور نظاموں میں پائی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی پائی جاتی رہیں گی۔
اس کے مقابلے میں اسلامی شریعت نے جو نظام دیا ہے، وہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت نے ایک راستہ متعین کر دیا ہے کہ انسان کو کس راستے پر جانا ہے۔ اس راستے کے بنیادی حدود اور نشاناتِ منزل اللہ کی شریعت نے طے کر دیے ہیں۔ اللہ کی شریعت نے یہ بتا دیا ہے کہ اس راستے پر جاؤ گے تو کامیاب رہو گے، اس کے علاوہ کسی اور راستے پر چلو گے تو کامیاب نہیں رہو گے۔ اگر آپ کو کسی جنگل میں سفر کرنا ہو، کسی ریگستان اور صحرا میں سفر کرنا ہو، اور یہ بھی نہ پتہ چلے کہ مشرق کدھر ہے اور مغرب کدھر ہے، منزل کدھر ہے اور لامنزل کدھر ہے، اور کوئی شخص آپ کے لیے جگہ جگہ نشان لگا کر راستہ متعین کر دے، تو آپ کے لیے منزل پر پہنچنا آسان ہو جائے گا۔ اب یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ ٹھہرتے ہوئے سفر کریں، آپ کے اختیار میں ہے کہ اونٹ پر سفر کریں یا گھوڑے پر کریں، موٹر گاڑی پر کریں یا بائیسکل پر کریں، راستے میں ٹھہرتے ہوئے جائیں یا مسلسل جائیں، راستے میں زادِ راہ کیا رکھیں، کھانا اچھا رکھیں یا معمولی رکھیں۔ یہ سب تفصیلات آپ کو طے کرنے کا اختیار ہے۔ یہ ساری تفصیلات آپ اپنے حالات کے لحاظ سے طے کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر راستہ ہی متعین نہ ہو تو کوئی کہے گا کہ دائیں چلو، کوئی کہے گا کہ بائیں چلو، کوئی کہے گا کہ جہاں سے آ رہے ہو وہاں واپس جاؤ، تو آپ بنی اسرائیل کے میدانِ تیہ کی طرح اس میں سرگرداں اور سرگشتہ رہیں گی اور منزل تک نہیں پہنچ سکیں گی۔
اس لیے رب العالمین کی شریعت نے رحمت للعالمین کے ذریعے جو پیغام بھیجا، جو پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے، وہ یہ ہے کہ اس جنگل میں، اس بیابان میں، راستے کی نشاندہی کر دی کہ راستہ یہ ہے۔ یہ راستہ، جس کے دونوں اطراف نشاناتِ منزل لگے ہوئے ہیں، جو منزل مقصود تک پہنچا دینے کا ضامن ہے، اس راستے کو عربی زبان میں شریعت کہتے ہیں۔ شریعت ایک جامع اصطلاح ہے جس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی۔ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، وہ سب کا سب شریعت ہے۔ پورا قرآن مجید، پوری سنت، یہ شریعت ہے۔ اس شریعت میں انسان کی اس زندگی اور اُخروی زندگی کی کامیابیوں کے لیے جن جن ہدایات اور رہنمائی کی ضرورت ہے، وہ ساری ہدایات اور رہنمائی کے سامان اس میں موجود ہیں۔ عربی زبان میں شریعت اس راستے کو کہتے ہیں جس پر چل کر آپ پانی کے ذخیرے تک پہنچ سکیں۔ اگر آپ کا قیام کسی گاؤں یا دیہات میں ہو اور آپ کے گھر میں پانی کا بندوبست مستقل طور پر نہ ہو، تو آپ کو صبح شام پانی لینے کے لیے کسی کنویں یا نہر یا چشمے پر جانا پڑے گا۔ اس چشمے یا کنویں پر گاؤں کے سب لوگ جا رہے ہوں گے۔ اس مسلسل جانے سے لوگوں کے چلنے سے ایک راستہ بن جائے گا۔ وہ راستہ انتہائی مختصر ہوگا۔ کوئی شخص جو پانی لینے کے لیے جائے گا، وہ لمبا چکر لگا کر پانی کے کنویں تک نہیں جائے گا، بلکہ مختصر ترین راستے سے جائے گا۔ تو وہ راستہ سیدھا بھی ہوگا، مختصر بھی ہوگا، بہت کشادہ بھی ہوگا، بہت ہموار بھی ہوگا، اور وہاں بہت کثرت سے لوگ جا رہے ہوں گے، اور وہاں جانا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آپ پانی کے ذخیرے تک پہنچ جائیں۔ کسی اور راستے سے جائیں گے تو راستہ بھٹکنے کا امکان ہے، گاؤں کی کسی اور گلی میں نکل جائیں گے، کسی اور رخ پر نکل جائیں گے، لیکن اس راستے پر چل پڑیں تو آپ یقینی طور پر پانی کے ذخیرے تک پہنچ جائیں گے۔ اس راستے کو عربی زبان میں شریعت کہتے ہیں۔
قرآن مجید نے بتایا ہے: ’’وجعلنا من المآء کل شیء حی‘‘ (الانبیاء ۳۰) ہم نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ گویا زندگی کے ماخذ اور مصدر تک جو راستہ لے جائے، وہ راستہ عربی زبان میں شریعت کہلاتا ہے۔ یہ راستہ جو زندگی کے ماخذ اور مصدر تک لے جاتا ہے، یہ ہمیشہ مختصر ترین ہوتا ہے، سیدھا ہوتا ہے، صاف اور ہموار ہوتا ہے، کشادہ ہوتا ہے، اور منزل تک پہنچانے کا یقینی ذریعہ ہوتا ہے۔ باقی کوئی ذریعہ یقینی نہیں۔ یہ خصوصیات شریعت میں پائی جاتی ہیں، لغوی مفہوم میں۔ قرآن مجید نے یہ بھی بتایا کہ ’’وان الدار الاٰخرۃ لہی الحیوان‘‘ (العنکبوت ۶۴) کہ آخرت کی زندگی ہی در حقیقت حقیقی زندگی ہے۔ اُس زندگی میں کامیابی تک جو راستہ پہنچا دے، وہ اصطلاح میں شریعت کہلاتا ہے۔ یہ راستہ بھی انتہائی واضح ہے، یہ راستہ بھی انتہائی سیدھا ہے، یہ راستہ بھی انتہائی ہموار ہے، یہ راستہ بھی مشکلات سے پاک ہے، یہ راستہ بھی رکاوٹوں اور دقتوں سے صاف ہے، یہ راستہ بھی منزل تک پہنچنے کا ایک یقینی ذریعہ ہے۔ اس لیے عربی زبان میں قرآن مجید نے شریعت کے لفظ کو اختیار کیا کہ وہ اس مفہوم کو پورے طور پر ادا کر دیتا ہے، جو شریعت کے لفظ سے اللہ تعالیٰ انسانوں کے ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں۔ شریعت کی شکل میں جو راستہ دیا گیا ہے، یہ اس زندگی اور اخروی زندگی میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ یہ راستہ انتہائی مختصر ہے، سیدھا ہے، کشادہ ہے، ہموار ہے اور منزل پر پہنچا دینے کا واحد ذریعہ ہے۔
