شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت

مولانا فضل الرحمٰن کیلئے دعا

مولانا فضل الرحمٰن کی جرأتِ رندانہ حیران کن ہے۔ سچ پوچھئے تو پریشان کن بھی۔

مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی جلسے سے ان کا خطاب سن کر یہ احساس ہوا کہ یہ ایک ایسے حق گو مذہبی راہنما کا نعرۂ مستانہ تھا جو جذبات، دور اندیشی اور جرأت کا مرقع ہے۔ دل کا درد ان کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ انہیں اندازہ تھا کہ علمائے حق کی صف میں ایک ایسا خلا واقع ہو گیا ہے جو تادیر باقی رہے گا۔ دور اندیشی الفاظ میں ڈھل کر متنبہ کر رہی تھی کہ ایک ایسی دینی تعبیر مسلم معاشروں میں سرایت کر چکی جو ہمارے اجتماعی وجود اور شعور کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ تعبیر مسلم علما اور عوام کی تکفیر کرتی اور ان کو مباح الدم قرار دیتی ہے۔ جرأت اس لہجے سے نمایاں تھی جو باطل کو للکارنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

اقتدار کی سیاست کے ساتھ، مولانا نے مذہب کے سماجی کردار کو بھی اپنا ہدف بنایا ہے۔ اس وقت ان کا یہی کردار میرے پیشِ نظر ہے۔ انہیں ایک طرف اپنے مسلک کا دفاع کرنا ہے اور دوسری طرف مذہبی تنوع اور مذہب کو درپیش چیلنجوں کا بھی لحاظ رکھنا ہے۔ ان پر مستزاد عالمی سیاست کی الجھنیں ہیں۔ ہماری مذہبی قیادت میں شاید ہی کوئی ہو جو ان کی طرح اس سیاست کو سمجھتا اور تاریخ کا شعور رکھتا ہو۔ ان پہلوؤں کا ادراک رکھتے ہوئے معاشرے میں مذہب کی نمائندگی کرنا آسان نہیں۔ ہم گواہ ہیں کہ مولانا نے پاکستان کو بارہا انتشار سے بچایا، بالخصوص جب فرقہ واریت کا عفریت ہمارے وجود سے لپٹ گیا یا تشدد اور انتہا پسندی نے معاشرے کو فساد سے بھر دیا۔ یہ واقعات زیادہ پرانے نہیں۔ میں نے اور میرے بعد آنے والی نسل نے ان کو بچشمِ سر دیکھا ہے۔ یہ واقعات ہم پر بیتے ہیں۔

1990ء کی دہائی میں بطورِ خاص اور اس کے بعد بھی، شیعہ سنی تنازع ہمارے سماجی امن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ کوئی مسجد محفوظ رہی نہ کوئی امام بارگاہ۔ جذبات تھے کہ قابو میں نہ آتے تھے۔ علما قتل ہو رہے تھے اور عوام بھی۔ اس فضا میں جب ایک دِیا سلائی دکھانے سے کراچی سے خیبر تک آگ بھڑک سکتی تھی، جھنگ میں جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ پانچ علما کو شہید کر دیا گیا۔ یہ معمولی واقعہ نہیں تھا، بالخصوص جمعیت کے لیے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت جمعیت کے کارکنوں کے جذبات کیا ہوں گے۔ اعلان ہوا کہ نمازِ جمعہ کے بعد راجہ بازار راولپنڈی میں احتجاجی جلسہ ہو گا، جس سے مولانا فضل الرحمن خطاب کریں گے۔ میں نے جمعہ کی نماز ’دارالعلوم تعلیم القرآن’ میں پڑھی، جو شہر میں دیوبندی مسلک کا سب سے معتبر ادارہ اور راجہ بازار میں واقع ہے۔ یہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کی یادگار ہے۔ مسجد میں اندازہ ہو گیا کہ اس احتجاج کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔ کارکن توقع کر رہے تھے کہ قائد ایک خاص مسلک کے خلاف اعلانِ جہاد کر سکتے ہیں۔

مولانا جلسے میں تشریف لائے اور ان کی تقریر نے جذبات کی آگ پر پانی ڈال دیا۔ وہ اجتماع جو اس واقعے کو جھنگ کی خاص فضا اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہا تھا، اسے مولانا نے بتایا کہ اس واقعے کا تعلق شیعہ سنی اختلاف سے نہیں ہے۔ حاضرین کے ایک بڑے طبقے میں مایوسی پھیل گئی لیکن مولانا کی تقریر نے اس فساد کے سامنے بند باندھ دیا جو ملک بھر میں پھیل سکتا تھا۔ انہوں نے غم و غصے کا رخ بدل دیا اور اپنے ہم مسلکوں کو پیغام دیا کہ یہ شیعوں اور سنیوں کو لڑانے کی کوئی سازش ہو سکتی ہے۔ میں ان دنوں ایک نوجوان طالب علم تھا اور یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ آج جب بال سفید ہو رہے ہیں، میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ مولانا کی فراست نے پاکستان کو فرقہ واریت کی کوکھ سے جنم لینے والے فساد سے کیسے محفوظ رکھا جس کے مسلح علمبردار ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔

لاہور کا واقعہ بھی سب کو یاد ہو گا جب داتا دربار میں بم دھماکہ ہوا اور بہت سی قیمتی جانیں اس کی نذر ہو گئیں۔ کچھ شرپسندوں نے اسے دیوبندی بریلوی جھگڑے میں بدلنا چاہا۔ مولانا اس وقت بھی سامنے آئے اور یہ اعلان کیا کہ سید علی ہجویریؒ ہمارے بزرگوں میں سے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی دیوبندی ان کے مزار کو ہدف بنائے۔ پھر حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ وہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کے لیے ایرانی سفارتخانے گئے۔ فرقہ وارانہ اور مسلکی تعصبات کے اس غلبے میں، یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ مولانا کو معلوم تھا کہ انہیں اپنوں کی تنقید کا بھی ہدف بننا پڑے گا۔ اس کے باوصف انہوں نے وہی کیا جو مسلمانوں اور پاکستان کے مفاد میں تھا۔

سب سے بڑا معرکہ انہوں نے جہاد کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کے خلاف لڑا۔ یہ تحریکیں مسلکِ دیوبند کو اپنا یرغمال بنا لیتیں اگر مولانا آگے بڑھ کر ان کا راستہ نہ روکتے۔ برصغیر میں علمائے دیوبند نے انگریزی استعمار کے خلاف جہاد کیا ہے، یہ تلوار کے ساتھ تھا اور قلم سے بھی۔ انگریزوں کے اقتدار اور ان کے ساتھ تعاون کے خلاف فتوے بھی دیے گئے۔ کچھ گروہوں نے اس روایت کو مسلم حکمرانوں اور عوام کے خلاف بھی استعمال کرنا چاہا جب افغانستان میں سوویت یونین نے حملہ کیا یا طالبان نے مسلح اقدام کیا۔ اس دوران میں کچھ لوگوں نے غیر ملکی استعمار اور مسلم اقتدار کے ساتھ، پاکستان اور افغانستان کے حالات کے فرق کو بھی نظر انداز کیا اور پاکستان میں مسلح جنگ کو جائز کہا۔ یہ چونکہ اپنا تعلق دیوبند کی روایت سے جوڑتے تھے، اس لیے اس کے سب سے زیادہ اثرات بھی اس مسلک کے وابستگان پر مرتب ہوئے۔ مولانا کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہو گیا اور انہوں نے اس کے خلاف میدان میں نکلنے کا فیصلہ کیا۔

یہ آسان کام نہیں تھا۔ اس میں جان کا خطرہ تھا۔ مولانا نے یہ خطرہ مول لیا۔ ان پر کم از کم تین قاتلانہ حملے ہوئے۔ اگر ان کی گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو جان کا بچنا مشکل تھا۔ ان کے بیٹے پر بھی حملہ ہوا۔ وہ جس خطے میں رہتے ہیں وہاں اس انتہا پسندانہ تعبیرِ دین کو ماننے والوں کا غلبہ ہے، مولانا جن کو للکار رہے ہیں۔ مولانا محمد ادریس کی شہادت پر مولانا کی تقریر جس جرأت مندی سے عبارت ہے، کوئی مصلحت پسند دنیادار اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے ان کی بہادری کی تحسین کے ساتھ، مجھے اس خطاب سے پریشانی بھی ہوئی۔ میں مولانا محمد ادریس کے حوالے سے یہ بات پہلے بھی لکھ چکا کہ ایسے علما کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے جو انتہا پسندانہ مذہبی تعبیرات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا ہے جو انسانی جان کی حرمت سے واقف نہیں اور یہ نہیں جانتے کہ قتل کے مجرم کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیسی سخت وعید سنائی ہے۔

ہم جب کسی فرد کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں تو ہمیں اس کی مجموعی شخصیت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ حکم کُل پر لگایا جاتا ہے، جزو پر نہیں۔ عصمت کا باب نبوت کے ساتھ بند ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمٰن سمیت سب شخصیات کا معاملہ یہی ہے۔ مولانا نے سماج میں فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جو کردار فی الجملہ ادا کیا ہے، اس پر وہ تحسین کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا سمیت ہر اس شخص کی حفاظت فرمائے جو معاشرے میں امن کے لیے کام کرتا اور انسانوں کو فساد سے بچانا چاہتا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

مولانا ادریسؒ کی شہادت کی اصل وجہ

KPK کے اندر ایک مرتبہ پھر ایک بہت بڑے جید عالمِ دین اور شیخ الحدیث مولانا ادریس کو شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کس وجہ سے؟ 

میرے بھائیو! معاشرے میں نفرت کے الاؤ کو دہکایا جا رہا ہے۔ جو بندہ حالتِ جنگ میں فوج کی حمایت کر دے، یا اداروں کے ساتھ کھڑا ہونے کی بات کر دے، اس کے اوپر ’’یزید کے پیروکار، بے ایمان، فراڈیے، بوٹ پالشیے‘‘  — ایک پارٹی مسلسل معاشرے میں اس نفرت کی آگ کو بھڑکا رہی ہے۔ شیخ صاحبؒ نے بھی اسی قسم کا بیان حالتِ جنگ میں دیا۔ اور جب بھی ملک حالتِ جنگ میں ہو آپ کے فوج کے ساتھ لاکھ اختلاف ہوں، لاکھ اختلاف ہوں — پاکستان میں فوج کے ساتھ عوامی اور سیاسی جماعتوں کا یہ اختلاف تو ہے نا کہ آپ سیاست میں مداخلت نہ کریں — لیکن جب حالتِ جنگ ہو تو اس وقت فوج کے خلاف ہرزہ سرائی دشمنوں کو محفوظ کرنے والی ہوتی ہے۔ شیخ صاحبؒ نے یہی چند باتیں کہہ دیں:

’’یہ وہ ملک ہے جو اللہ کے نام پہ بنا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو بہت بڑی قربانیوں کے بعد وجود میں آیا۔ پاکستان میں، میں پاک بات ہی کروں گا۔ پاکستان کی موجودہ حکومت اور بالخصوص ہمارے جو فیلڈ مارشل صاحب ہیں، حافظ صاحب، میں بالکل پاک بات کروں گا، یہ ان کی کوشش اور ان کی برکت سے یہ جنگ ختم ہوئی، الحمد للہ، پاکستان کا ایک نام بن گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت بڑا نام پوری دنیا میں۔ اور پوری دنیا میں جہاں جہاں ہمارے لوگ کام کر رہے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ آج ہمارا پاسپورٹ آسمانوں کو چھو رہا ہے، لوگ قدر کر رہے ہیں، عزت کر رہے ہیں پاکستان کی، کیونکہ پاکستان کے سبب خلیج کی بہت بڑی جنگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے رک گئی، یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے۔ 
اور یہ جو بنا پھرتا ہے ٹرمپ … اس کو اللہ غرق کرے، یہ سارا مسئلہ اس نے کھڑا کیا … اسی نے سب کے گھروں میں آگ جلا دی ہے۔ تو شکر ہے کہ یہ آج پاکستان کا محتاج بن گیا ہے۔ آج بھی وہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاکستان کے وزیر اعظم اور پاکستان کے فیلڈ مارشل صاحب کا نام لے کر کہ ان کی برکت سے یہ جنگ ختم ہوئی۔ اور بات مزید آگے بڑھ رہی ہے کہ وہ خود پاکستان اپنے وفود بھیج رہے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ پاکستان آجائیں … تاکہ اس سے پاکستان کا امیج اور نام مزید بن جائے گا۔ 
بات یہ ہے کہ آج ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ ہمارا ملک جتنا بلند ہو گا اس سے آپ کا بھی فائدہ ہے، ہمارا بھی فائدہ ہے، سب کا فائدہ ہے۔ اللہ ہمارے ملک کو عزت دے، مزید عزت دے۔ جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں امن کے لیے — اور امن تو بہت اچھی چیز ہے، امن نہیں ہے تو تباہی ہے — جتنی کوششیں ہوئی ہیں اور مسلمان ممالک میں جو امن آیا، بد امنی ختم ہوئی، پاکستان کی کوششوں کی برکت سے ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ مزید ترقی دے، مزید کامیابی دے۔ یہ دعا ہم اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں کہ تمام ملکوں میں اللہ تعالیٰ امن لے آئے۔ 
ایک سوال یہاں کرتا ہوں، یہ ملک بہت بڑی قربانی کے بعد وجود میں آیا، اللہ تعالیٰ اسے مزید ترقی دے، اس ملک کے کونے کونے کو، گلی گلی کو، محلے محلے کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم اور سنتِ نبویؐ کی روشنی سے منور کرے، آمین۔‘‘

پورا سوشل میڈیا KPK کا ان کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ آپ یہاں سے اندازہ کیجیے کہ کوئی عالمِ دین آرمی چیف سے مل لے — میں اپنی بات کرتا ہوں، آرمی چیف کے ساتھ میٹنگ ہوئی، آپ سوشل میڈیا اٹھا لیں: ’’یہ یزید کے ہاتھ پہ بیعت کر دی، یہ علماء بک گئے‘‘ — ہمارے ملک کی فوج ہے، ہمارے ملک کے افسر ہیں، ہم اُن کو کسی بات میں کوئی مشاورت دے دیں، یا کوئی یہاں پہ بات کر دیں تو بکاؤ ہو گئے؟ نوکر ہو گئے؟ 

اور پھر دوسری ایک پارٹی ہے پاکستان کے اندر: ’’جی پاکستان پورے کا پورا یہودی ایجنٹ ہے، وہ اس وجہ سے کہ سعودیہ کا ساتھی ہے، سعودیہ اسرائیل کا ساتھی ہے‘‘۔ یہ معاشرے میں نفرتوں کے الاؤ بھڑکا کر شیخ صاحبؒ کے خلاف دو دن پروپیگنڈا ہوا، شیخ صاحبؒ کو شہید کر دیا گیا اس کے بعد۔ میں یہ سمجھتا ہوں، شیخ صاحبؒ کو شہید کرنے والے — حقیقت میں اس پارٹی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں تو نفرت پھیلائی ہے لیکن حقیقت میں یہ قاتل نہیں ہوں گے، نہیں کہہ رہے، لیکن یہ علماء سے نفرت کی آگ اور الاؤ تو بھڑکا رہے ہیں۔ جس عالمِ دین کو نفرت کی بنیاد کے اوپر اور اس پاکستان سے محبت کی بنیاد پہ شہید کیا گیا، اس کے جنازے کے اندر اتنے لوگ شامل تھے، اتنے لوگ شامل تھے کہ گنتی میں نہیں آ رہے تھے۔ 

گزشتہ دو سالوں کے اندر چھ سے زائد اہلِ حدیث علماء — یہ تو دیوبند مسلک سے تھے، شیخ الحدیثؒ تھے — مولانا عزت اللہؒ، مولانا رحمت عیسٰیؒ، مولانا فریدی صاحبؒ کو پچھلے ماہ میں شہید کیا گیا۔ کون لوگ شہید کرتے ہیں؟ وطن دشمن، پاکستان دشمن، جن کا یہ نقطۂ نظر ہے کہ ’’یہ علماء مرتد ہو گئے ہیں۔ یہ جو فوج ہے یہ پاک فوج نہیں ہے یہ ناپاک فوج ہے، یہ مرتد ہیں، ان کا خون مباح ہے، ان کو قتل کر دو، شہید کر دو‘‘۔ معاشرے میں دو فکریں ہیں جو اصل میں ایک ہی فکر ہے، خارجی، لیکن دو ناموں سے چل رہی ہیں: ایک خارجیت اور ایک رافضیت کے نام سے۔ جو صحابہؓ کی تقدیس کا جھنڈا اٹھائے اس کو مار دو۔ جو اسلام اور وطن اور پاکستان کے دفاع کی بات کرے اس کو مار دو خارجیت کے نام کے اوپر، رافضیت کے نام کے اوپر۔ 

علماء کو مسلسل شہید کیا جا رہا ہے، آپ حیران رہ جائیں گے کہ کس تسلسل سے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کو ۱۹۸۷ء میں پاکستان کے پہلے بم بلاسٹ میں شہید کیا گیا۔ کہاں ہیں قاتل؟ پکڑے گئے؟ ایک ٹک ٹاکر کا قاتل چوبیس گھنٹے میں پکڑا جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ نا پکڑیں۔ پکڑیں! لیکن علمائے دین کے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے آپ نے کبھی بھی اُس طرح کی تیزی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ایک فوجی اہلکار، ایک پولیس اہلکار وطن کے لیے جان قربان کر دے تو سرکاری اعزازات کے ساتھ اس کو دفن کیا جاتا ہے۔ دفن کیا جانا چاہیے۔ لیکن وہ عالمِ دین جو اسلام اور پاکستان اور صحابہؓ کا دفاع کرتے ہوئے دنیا سے چلا جائے وہ قانون اور آئین کا محافظ نہیں؟ کبھی آپ نے اس کو بھی سرکاری اعزاز سے نوازا ہے؟ کیا اِن علماء کا حق نہیں ہے کہ ان کی بھی ویسے ہی قدر کی جائے جیسے آپ اپنے اہلکاروں کی کرتے ہیں۔ 

https://youtu.be/01bHSJQea6I


حالات و واقعات

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات