عرض مرتب
اسلامی نظریاتی کونسل میں ابتدائے ملازمت کے بعد دستور اور دستوری اداروں کے بارے میں مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور پھر اللہ تعالیٰ نے کچھ لکھنے کی بھی توفیق ارزانی فرمائی۔ ’اسلامی نظریاتی کونسل: ادارہ جاتی پس منظر اور کارکردگی، ’ادارہ اسلامی تعمیرِ نو ۱۹۴۷ء‘، ’حکومتی استفسارات اور کونسل کے جوابات'، 'اسلامی نظریاتی کونسل کے فکری رحجانات کا ارتقاء: حکومتی خطابات کی روشنی میں‘ اسی عنایت کا ثمر ہیں۔ پھر کچھ مزید کام ’۱۹۴۸ء کے دستوری خاکے‘، ’قراردادِ مقاصد کے مباحث کے ترجمہ اور موضوعاتی تدوین'، اور 'بورڈ آف تعلیمات اسلامیہ ۱۹۴۹ء کی سفارشات اور عوامی آرا‘ پر کرنے کی بھی توفیق ملی جن کی حتمی تدوین اور اشاعت باقی ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران دستوری نشانات کی جستجو پیدا ہوئی تو قدیم مجلات میں کچھ مواد میسر آگیا اور پھر کچھ سرکاری دستاویزات اور نوٹیفکیشن بھی مل گئے۔ ان کی بنا پر مطالعۂ دستوریات پاکستان کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ ہوا۔ یہ کتاب اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ اس سلسلے میں ارادہ ہے کہ صرف بنیادی مآخذ پر انحصار کیا جائے گا، ثانوی مصادر صرف تائید کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
کتاب کا محور ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کی قراردادِ پاکستان کے بعد کی دستوری فکری کاوشیں ہیں۔ اس کا نام ’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘ (تشکیلِ قومیت اور نوعیتِ دستور) رکھا گیا ہے۔ ان فکری مباحث کی تحریک اگرچہ مسلم لیگ صوبجات متحدہ (یوپی) سے شروع ہوئی مگر اس وقت تک آل انڈیا مسلم لیگ صوبائی لیگوں کو مرکز کی پالیسی کی پابند بنا چکی تھی اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں اقدامات مقرر ہو چکے تھے۔ تحریک کی ابتدا یوں ہوئی کہ قانونِ حکومتِ ہند ۱۹۳۵ء کے تحت ہونے والے صوبائی انتخابات میں زیادہ تر کانگریس کی اکثریتی حکومتیں بن گئیں اور ان کی مدتِ حکومت میں مسلمانوں کو اپنے تعلیمی اور ثقافتی نقصان کا احساس ہوا۔ ۱۹۳۸ء میں مسلم لیگ اور مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی طرف سے ان نقصانات کا اندازہ لگانے اور مناسب نظام تجویز کرنے کے لیے پیرپور کمیٹی اور نواب کمال یار جنگ کمیٹی کی تشکیل ہوئی۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے ایسا نظامِ تعلیم تجویز کیا گیا جس میں ان کے دین، تہذیب اور ثقافت کے تحفظ کو مد نظر رکھا گیا۔ اسی دوران مسلمانوں کے لیے الگ مسلم ملک یا کئی ممالک کی فیڈریشن بنانے کی تحریک واضح ہوتی چلی گئی اور قائدین کی تقریر و تحریر میں قرآن و سنت اور اصولِ اسلامی کے مطابق مسلم حکومت قائم کرنا روزمرہ کے مباحث کا موضوع بن گیا۔
۱۹۴۰ء میں قراردادِ لاہور کے بعد یوپی مسلم لیگ کے صدر گرامی قدر نے جلسۂ عام میں اعلان کیا کہ ہم ’اسلام کا نظامِ حکومت‘ اور ’اسلام کا نظامِ اقتصاد‘ ایسے محققین سے مرتب کرانا چاہتے ہیں جن میں روایتی علوم کے ماہرین بھی شامل ہوں اور معاصر محققین بھی۔ اس تجویز پر مولانا عبد الماجد دریابادی نے، جو خود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم۔اے فلسفے کے طالب علم رہے تھے، ایک کمیٹی تجویز کر دی جس میں علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا مودودی، ڈاکٹر محمد حمید اللہ اور دیگر اہلِ علم کے نام شامل تھے۔
- ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے، جو کہ حیدر آباد دکن میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر تھے، اس کمیٹی کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کی۔ ان کا موقف تھا کہ یہ کام کرنے کے لیے مغربی دستوری ڈھانچے کا ماہر ہونا اور مغربی دستوری اصطلاحات سے واقف ہونا ضروری ہے اور پھر علمِ دین میں اس قدر مہارت بھی ہو کہ اس دستوری ڈھانچے میں اسلامی تعلیمات اور ہدایات کی سلیقے سے تدوین کی جا سکے۔
- مولانا مودودی نے کمیٹی کے ساتھ کام کرنے سے تو انکار نہیں کیا، البتہ دستور کی تدوین کو چھوڑ کر معاشرے کی اصلاح پر کام کرنے اور حکومتِ الٰہیہ کے قیام کو نصب العین بنانے کا مشورہ دیا۔
- مولانا عبد الماجد دریابادی اور دیگر علما کا موقف یہ تھا کہ موجودہ حالات اور موجودہ تحریک کے اندر ہی اسلامی دستور مرتب کیا جائے، جس میں دستوری ڈھانچہ بھی اسلامی ہو اور اصطلاحات بھی۔
ان تینوں مواقف پر علمی بحث شروع ہوئی جس کی رودادیں ’ہفت روزہ صدق‘، ماہنامہ 'ترجمان القرآن' اور ماہنامہ 'معارف اعظم گڑھ‘ میں شائع ہوتی رہیں۔ اسی دوران مسلم لیگ یوپی (صوبجات متحدہ) کے صدر نواب محمد اسماعیل خاں نے ایک کمیٹی خود تجویز کی جس کا پہلا اجلاس ۴، ۵ جنوری ۱۹۴۱ء کو دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ میں ہوا اور اس مسودے پر کام شروع ہوا۔ زیر نظر کتاب اس کمیٹی کے اجلاس سے پہلے پیش آنے والی فکری بحثوں پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے کی دوسری کتاب ان شاء اللہ مسلم لیگ کی قائم کردہ کمیٹی ’’مجلس نظامِ اسلامی‘‘ کے تحت دستوری خاکوں کی تیاری اور مسودے کی تدوین پر مشتمل ہو گی جو امید ہے جلد ہی طبع ہو جائے گی کیوں کہ ہم نے یہ دونوں حصے تیار کرنے اور ڈمی بنانے کے بعد حجم مناسب کرنے کے لیے الگ الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
زیر نظر کتاب کل آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ کتاب کے شروع میں ممتاز محققین و ماہرینِ دستوریات کی تقریظات شامل کی گئی ہیں۔ پھر 'حکایتِ واقعہ' کے نام سے ایک تمہید بھی شامل کی گئی ہے، جس میں برصغیر میں مسلمانوں کے نظامِ حکومت اور نظامِ قانون سے لے کر برطانوی راج کے تحت ہونے والی دستوری کاوشوں کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے، اور کتاب کے آخر میں شاہد کے طور پر منتخب مآخذ کے متعلقہ صفحات کی عکسی نقول لگا دی گئی ہیں۔
کتاب کا پہلا باب ’مسلم قومیت کی تشکیل‘ کے بارے میں ہے، جس میں مسلمانوں کو ایک قومیت کی شکل میں مسلم لیگ کے تحت جمع کرنے کی کاوشوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں 'قراردادِ پاکستان اور آل انڈیا مسلم لیگ کا تصورِ دستور' قائدینِ لیگ کے افکار کی روشنی میں متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں ’اسلامی نظامِ حکومت کی تدوین: تجویز اور نوعیت‘ کی بحث ہے۔
چوتھے باب کا عنوان 'مغربی دستوری ڈھانچے پر مبنی اسلامی دستور‘ ہے، پانچویں باب کا ’معاشرے کی اصلاح اور حکومتِ الٰہیہ کی تیاری‘ اور چھٹے کا ’روایتی اسلامی ڈھانچے پر مبنی اسلامی دستور‘ ہے۔ ان تینوں ابواب میں نوعیتِ دستور کے بارے میں تینوں مواقف پر مشتمل منتخب تحریرات شامل کی گئی ہیں۔
ساتواں باب دستورِ اسلامی کی تدوین پر عوامی تاثرات پر مشتمل ہے۔ اس میں مختلف مجلات میں شائع ہونے والی ان منتخب آرا اور تبصروں کو شامل کیا گیا ہے جو عام قارئین نے اسلامی دستور کی تدوین کی خبر پر اپنے تاثرات کی صورت میں بھجوائیں، یا جس رائے کا اظہار کسی نے دستور کی نوعیت کے بارے میں شروع ہونے والی بحث کے تین مواقف میں سے کسی ایک موقف کی تائید میں کیا۔ کچھ قارئین ایسے بھی تھے جنہوں نے مزید اہلِ علم کی نشاندہی کی جو اس کام میں مدد دے سکتے ہیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا تصور اگرچہ اس کتاب کے دوسرے باب میں مختلف شواہد کے ساتھ درج کیا گیا، جس سے مختلف دستوری ابواب کی نوعیت متعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے، مگر اس باب میں کچھ دلچسپ اقتباسات ایسے درج کیے گئے ہیں جن میں مسلم لیگ کے رہنماؤں نے دستور کے اسلامی ہونے کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے ایران اور ترکی دساتیر کی طرح دستور نہ بنانے کی وضاحت کی، اور کچھ قارئین نے ان کے اس دعوے پر بھی تبصرے کیے۔ اس باب میں تحریکِ پاکستان کے اس ابتدائی مرحلے پر تدوینِ دستور میں عوامی دلچسپی کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔
آٹھویں باب میں نوعیتِ دستور کی بحث میں حصہ لینے والے سر کردہ محققین کا تفصیلی تعارف کرایا گیا ہے۔ بعض بڑے بڑے کاموں کو عموماً محض اس وجہ سے قابلِ توجہ نہیں سمجھا جاتا کہ کام کرنے والوں کے قد کاٹھ کا اندازہ نہیں ہوتا۔ نوعیتِ دستور کی بحث اس قدر اہم ہے کہ مارچ ۱۹۴۹ء میں قراردادِ مقاصد کے متعلق اسمبلی مباحث بھی اس سے بھرے نظر آتے ہیں۔ اس لیے امید ہے یہ باب ہمیں روزِ اول سے اس بحث کی اہمیت سمجھنے میں مدد دے گا اور پاکستان کے دستوری سفر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بہتر نتیجے پر پہنچنے کے لیے رہنمائی کرے گا۔
میں ان تمام بزرگوں اور احباب کا ممنون ہوں جنھوں نے اس کتاب کی تالیف میں میری سرپرستی فرمائی یا کسی طرح اس کی تدوین میں مدد کی۔ استاد الاساتذہ ڈاکٹر ایس ایم زمان صاحب ’آپ بڑے کھوجی ہیں‘ کہہ کر ہمیشہ ہمت بڑھاتے ہیں۔ عالی قدر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب ’سیکرٹری صاحب آپ کام کے لیے وقت کب نکالتے ہیں‘ کہہ کر سینہ چوڑا کر دیا کرتے ہیں۔ اس دوران اگر کبھی ہمارا کھوج کامیاب نہ ہوتا تو برادر گرامی قدر ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن ساداتی توجہات کے ساتھ مشکل الحصول مواد کہیں نہ کہیں سے نکال لاتے رہے۔ گرامی قدر بیرسٹر ظفر اللہ خان صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے قلم مناسب الفاظ تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ انھوں نے پورا مسودہ پڑھ کر اپنی رائے عنایت فرمائی اور تسلسل کے ساتھ اصلاح کی تجاویز دیتے رہے۔ ان کے ساتھ طویل تبادلۂ خیالات کے دوران علمِ دستوریات (Constitutional Law) اور علمِ سیاست (Political Science) پر بہت کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے ان کی کتاب میں دلچسپی اور توجہ نے تو متاثر کیا ہی تھا، ان کے اندازِ تخاطب نے زیادہ متاثر کیا۔ انہوں نے طویل پیغاماتی تبادلۂ خیالات کے دوران کبھی اکتاہٹ کا اظہار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنی بات دلائل سے کی اور اگر پھر بھی میں نے اپنی کوئی رائے دہرائی تو انہوں نے دوسرے انداز سے اس پر دلائل دیے۔ ظفر اللہ صاحب کی تقریظ سے بھی یقیناً کتاب کے درجۂ اعتبار میں اضافہ ہوا۔ میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل سے مسلسل تبادلۂ خیالات ہوتا رہا اور رہنمائی ملتی رہی۔ میرے محسن پروفیسر ڈاکٹر یوسف فاروقی صاحب نے شریعہ اکیڈمی والی محبت جاری رکھی اور وقتاً فوقتاً اپنے مخصوص انداز میں 'مسودے کا کام کہاں تک پہنچا ہے' کی صدا لگا کر ہمت بڑھاتے رہے۔ میرے مخلص دوست پروفیسر ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں نے اس کتاب کو پڑھ کر مفید علمی اور فنی تجاویز سے نوازا۔ آئی پی ایس سے ہمارے نوجوان محقق ساتھی ’نوفل شاہ رخ‘ نے مسودہ پڑھنے کے بعد Marvelous کا نعرہ لگایا اور جذباتی تاثرات کا اظہار کر کے اس کا انگریزی ترجمہ کرنے اور اشاعت کی خواہش کا اظہار کیا۔ میں ان سب مہربانوں کا ممنون ہوں۔
میرے دفتر کے ساتھی نصیب شاہ حسن زئی، احسان الحق، محمد زوہیب، نائلہ تبسم، عادل لطیف میرے دست و بازو بنے رہے۔ اور لقمان آصف شیروانی کو اللہ تعالیٰ نظرِ بد سے بچائے، اس قدر واقفِ رموز ہو گیا تھا کہ آدھی بات سن کر پورا کام کر کے لے آتا۔ شاہد نعیم اور عبد العدنان کا بھی شکریہ، ان سب نے اپنی اپنی بساط کے کر مطابق میرے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا۔
ہمارے مخلص و مہربان دوست حافظ صفوان محمد چوہان نے املا کی اصلاح اور کتاب کی فنی تدوین میں بہت مدد کی۔ اسی دوران انھوں نے مولانا اسحاق صدیقی سندیلوی کی زیارت، ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب کے لیکچرز (خطباتِ بہاول پور) میں حاضری، اور اپنے نام دونوں حضرات کے مراسلوں کا بتایا اور کئی سال پہلے مولانا سندیلوی کی کتاب کے مطالعہ کا ذکر کیا تو اِس سے ان کی اِس کتاب میں دلچسپی کا راز کھلا۔ میں ان کی اس توجہ فرمائی پر ممنون ہوں۔
یہ عجب اتفاق ہے کہ یہ کتاب ایسے وقت میں تکمیل کو پہنچ رہی ہے جب قوم دستورِ پاکستان ۱۹۷۳ء کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ’گولڈن جوبلی‘ کی تقریبات کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس موقع پر سب سے پہلی دستوری کاوش پر یہ کتاب مرتب ہو جانا میرے لیے محض اللہ کا فضل اور بہت بڑا اعزاز ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب میں درج دستوری فکری مباحث سے، وطنیت پر مبنی قومی ریاستوں کے دور میں، دینِ اسلام پر مبنی قومی ریاست کے دستور کی تیاری کے لیے ایک سنجیدہ مطالعاتی سلسلہ شروع ہوا، جس نے روایتی اسلامی نظامِ سیاست اور جدید نظامِ سیاست میں ایک پل کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد کے دستوری مطالعات میں مسلمانانِ پاک و ہند کے ثقافتی، فکری، فقہی اور مکتبی تنوع کو سامنے رکھتے ہوئے اس موضوع پر کئی مطالعات عمل میں لائے گئے جن سے ایک وقیع اسلامی دستوری ادب وجود میں آیا۔ اس مرحلے پر اس کتاب کی اشاعت جہاں مطالعۂ دستوریاتِ پاکستان کے ابتدائی تصورات کو عام قاری تک پہنچانے کا ذریعہ بنے گی، وہیں موجودہ دستور کے مآخذ و مصادر کے تعین میں بھی مددگار ہو گی۔ اللہ کریم اپنی عنایت سے اس عاجزانہ عمل کو قبول فرمائے اور اسے علمِ نافع کا درجہ عطا فرمائے۔ آمین۔
اس موقع پر معزز و محترم قارئین سے درخواست ہے کہ یہ کتاب مطالعۂ دستوریاتِ پاکستان کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ اس کا اور اس کے بعد اس سلسلے کی ہر کڑی کا مطالعہ اس کی ترتیبِ زمانی کو ذہن میں رکھ کر کیا جائے۔ اب تک کے خاکے کے مطابق اس سلسلے کی کئی کتب قیامِ پاکستان سے قبل دستوری کاوشوں پر مشتمل ہوں گی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی متعدد کتب اس خاکے کا حصہ ہیں۔ ان سب سے زمانی ارتقا کے مطابق گزر کر ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے دستور ۱۹۵۶ء کے اندراجات کے اصل مآخذ اور اس سلسلے میں ہونے والی کوششوں، غور و فکر، ٹیم ورک، اجتماعی دانش اور حالات و زمانے کی رعایت کا احوال معلوم ہو سکے گا۔ ان تمام کتب میں عموماً اصل مآخذ کا مطالعہ ہی پیشِ نظر ہے اور اس سلسلے کا مقصد مناظرانہ نہیں طالب علمانہ ہے تاکہ تعمیرِ پاکستان کے سلسلے میں قومی قائدین کی جدوجہد کا مطالعہ کر کے مملکتِ خداداد کی قدر و قیمت کا درس تازہ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر اکرام الحق
اسلامی نظریاتی کونسل، پاکستان، اسلام آباد
۱۱ شعبان المعظم ۱۴۴۴ھ / مطابق ۳ مارچ ۲۰۲۳ء، بروز جمعہ
پیش گفتار
قیامِ پاکستان تاریخ کا، خصوصاً اِس خطے کی تاریخ کا اہم واقعہ ہے۔ یہ ملک ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا، جس کے لیے باضابطہ جمہوری جدوجہد کی گئی۔ اس جدوجہد کا مقصد اور اس کا نظریاتی پہلو امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ چوں کہ یہ پوری تحریک چند مقاصد کے تحت کھڑی ہوئی، اس لیے اس کی کامیابی سے قبل ہی اس کے قائدین اور رہنماؤں کے ہاں اس کے مابعد ناگزیر اقدامات پر غور و خوض شروع ہو گیا۔ یہ بات یقیناً قائدینِ تحریکِ پاکستان کی صداقت کے لیے گھر کی گواہی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاندانہ اسلوب میں اٹھایا جانے والا یہ سوال ازخود غیر متعلق ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے نام سے اسلامی ریاست کے قیام کا نعرہ کوئی سیاسی نعرہ تھا، جس کے پیچھے سچائی موجود نہیں تھی۔ یہ دستاویز بتاتی ہے کہ ۱۹۴۰ء سے ہی، جب کہ ہندوؤں اور انگریزوں کو تو کیا، خود مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اس تحریک کی کامیابی کا یقین نہیں تھا، مسلمان رہنماؤں نے نئی ریاست کے دستور کے اسلامی خدوخال پر نہایت سنجیدہ غور و خوض شروع کر دیا تھا۔
یہ کتاب ۱۹۴۰ء کی قراردادِ پاکستان کے بعد کی جانے والی دستوری اور فکری کاوشوں کا دستاویزی اور تاریخی ریکارڈ ہے۔ اس ریکارڈ کی بازیابی، اور ہم جیسے طلبہ کے لیے اس کی مدوّن صورت میں دستیابی دراصل تاریخ کا قرض تھا۔ کسی اور ملک کا قصہ ہوتا تو یہ قرض عرصہ پہلے وہ ریاست خود ادا کر چکی ہوتی، لیکن ہمارے ہاں چونکہ بہت سی ریاستی ذمہ داریوں میں انفرادی شرکت اور ریاست کا ہاتھ بٹانے کی روایت نہایت پختہ ہے، اس لیے یہ سعادت بھی ہمارے فاضل اور بزرگ مہربان جناب مولانا ڈاکٹر اکرام الحق یاسین کے حصے میں آئی ہے، جنھوں نے پاکستان میں دستور سازی اور قوانین سازی کے اسلامیانے کے عمل اور اس کی تاریخ پر پے در پے متعدد حوالہ جاتی کتب مرتب کر کے اس موضوع کا علمی اختصاص اپنے نام کر لیا ہے۔
اس کتاب کی اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ اس موضوع کو پھیلاتی بھی ہے اور خود ہی سمیٹتی بھی ہے۔ اس کا اصل موضوع تو قراردادِ پاکستان کے بعد مجوزہ ریاست کے لیے دستوری اور فکری کاوش ہے، مگر اس میں تنوع اس قدر ہے کہ مسلم لیگ کے قیام کا مقصد، ہندوستانی دستور کی تشکیل، مسلم قومیت کی تشکیل اور اس کے ثمرات، نظامِ تعلیم کی تعمیرِ نو، مسلم لیگ کا تصورِ دستور، اس ضمن میں سامنے آنے والی تجاویز اور بحثیں، پھر اس ساری کاوش میں شریک علما کا تعارف وغیرہ، دستور سے متعلقہ بہت سے اہم مباحث کے حوالے اس کتاب میں آگئے ہیں۔
اس کتاب کے مباحث اصل مصادر اور دستاویزات کی روشنی میں درج کیے گئے ہیں، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس مقصد کے لیے کس قدر لائبریریوں کو کھنگالا گیا ہو گا، اور ان صفحات کو جوڑنے میں کتنے شب و روز صَرف ہوئے ہوں گے۔
یہ مباحث پاکستان میں دستوری مسائل اور مباحث سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے تو اپنی جگہ پر نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں موجود مسلم مفکرین کے لیے بھی اس میں سیکھنے کا بہت کچھ سامان موجود ہے کہ اس عنوان پر ہونے والی بحثوں میں بہت سے ایسے نظریاتی اور فکری سوالات پر بات کی گئی ہے، جو مسلم اذہان میں ہمیشہ موجود رہے ہیں، اور جن پر غور و فکر کی روایت کم و بیش اتنی ہی قدیم ہے، جتنی خود اسلام کی تاریخ۔
دیکھا جائے تو یہ کاوش کسی ایک فرد کی کاوش محسوس نہیں ہوتی، یہ تو کسی ادارے کا کام معلوم ہوتا ہے اور در حقیقت یہ ایک فرضِ کفایہ ہے، جو ہمارے دستوری اداروں کی جانب سے ڈاکٹر صاحب نے ادا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک تاریخ ہے، جو مرتب ہو گئی ہے، اب اس امر کی ضرورت ہے کہ اس تاریخ کو ہر ہر فرد تک پہنچایا جائے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ دستاویز ایک ایسے موقع پر منظرِ عام پر آرہی ہے جب قوم پاکستان کے متفقہ دستور کی نصف صدی مکمل ہونے پر جشن کے اہتمام میں مصروف ہے۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ اس موضوع کو ہماری جامعات کے نصاب کا حصہ بنایا جائے، پاکستان کی دستوری تاریخ اور قوانین کے اسلامیانے کے عمل کو ایک خاص موضوع قرار دے کر کم از کم ایم ایس کی سطح پر متعارف کرایا جائے۔ نیز اس موضوع کو بنیاد بنا کر اس پر ڈاکومنٹریز تیار کی جائیں، اور دستوری تاریخ پر مبنی ایسے کسی میوزیم کی بنیاد رکھی جائے جو نسلِ نو کو ان کے رجحان کے مطابق پون صدی پر پھیلے اس عمل کی تاریخ سے روشناس کرا سکے۔ ڈاکٹر صاحب اپنا کام کر چکے، اب یہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے کو آگے بڑھائیں۔
ہم اس خالص علمی اور تحقیقی کاوش پر ڈاکٹر صاحب کو تبریک و تحسین پیش کرتے ہیں اور بہ حیثیت پاکستانی قوم ان کے شکر گزار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور ان کے سیال قلم کو مزید سیال بنائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین و علیٰ آلہ و صحبہ اجمعین، و من تبعھم باحسان الیٰ یوم الدین۔
ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن
۲۱ رمضان المبارک ۱۴۴۴ھ / ۱۲ اپریل ۲۰۲۳ء
