فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ

میزبان:

جو طلبہ مدارس سے فارغ ہوتے ہیں، فراغت کے بعد ہر طالب علم امام، خطیب، مصنف یا علمی کام کرنے والا کوئی مدرس نہیں ہوتا، بلکہ زیادہ تر نہیں ہوتے۔ لیکن الحمدللہ مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد کم از کم وہ خود، دین کا ایک فہم اور علم اس کے پاس، اس کے سینے میں اللہ نے رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ کچھ لوگ اس کو بھی بڑی ناشکری یا حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ ’’اِن کو آتا کیا ہے؟ مدرسے میں پڑھا ہے۔‘‘ تو بہرحال، اپنے اندر علم کا ایک سمندر ان کے پاس ہے، وہ کم از کم اور کچھ نہ سہی، اپنی ذات کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی صحیح عبودیت میں لگا سکتے ہیں۔ پھر وہ اپنے خاندان میں بھی  کام کرتے ہیں۔ 

استاذ جی! ایسے طلبہ کے لیے آپ کی کیا نصیحت ہے کہ مدارس سے فراغت کے بعد ان کو کس طرف توجہ کرنی چاہیے؟ اس لیے کہ وہ کسی مسجد یا ادارے کے ساتھ اس طرح منسلک نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کے اندر امامت، خطابت یا تدریس کی خوبیاں اس طرح سے نہیں پائی جاتیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو بالکل ہی کاروبار کی طرف چلے جاتے ہیں، اس کی وجہ سے ان کی علمی کمزوریاں بڑھ جاتی ہیں۔ تو کوئی ایسا درمیانی راستہ ایسے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے آپ بتائیے کہ وہ کیا کریں؟

مولانا پروفیسر محمد یاسین ظفر:

پہلی بات تو یہ ہے کہ جتنے بھی دینی تعلیمی ادارے قائم ہیں، ان کا بنیادی مقصد ایسے رجالِ کار تیار کرنا ہے جو دین کی دعوت دیں۔ ہمارے مدارس کا اولین مقصد اور نصب العین یہی ہے کہ ہم دین کی ترویج کریں، اس کی تبلیغ کا کام کریں اور لوگوں تک دین صحیح پہنچائیں۔ یہ کام ہے ہمارا۔ ہمارے پاس جو بھی لوگ آتے ہیں، ان پر مدرسہ جو خرچ کرتا ہے وہ لوگوں کا دیا ہوا ہی ہوتا ہے۔ اور لوگ اس نیت سے ہی دیتے ہیں کہ ایسے لوگ آپ تیار کریں جو دین کی خدمت کر سکیں۔ ہماری اولین ترجیح یہی ہے۔ اس لیے وہ لوگ جو پڑھتے ہیں، انہیں اپنے دورانِ تعلیم یہ صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ پہلی بات تو میں طلبہ سے کہوں گا، اگر کوئی ایسا نہیں کرتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس کی بہت بڑی کوتاہی ہے، اس نے حق ادا نہیں کیا ہے اور وہ اللہ کا بندہ اپنا وقت ضائع کر کے چلا گیا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ کم از کم اسے اپنے اندر یہ مہارت پیدا کرنی چاہیے کہ وہ اپنے مافی الضمیر کو بیان کر سکے۔ اگر بالفرض وہ بات نہیں کر سکتا ہے، یعنی گفتگو نہیں کر سکتا ہے، شرماتا ہے، یا اس میں کوئی اور کمی ہے، یا زبان میں کوئی مسئلہ ہے، تو بھئی! پھر ایک بہت اچھا طریقہ یہ ہے کہ وہ تصنیف کی طرف آئے۔ آخر اس نے دین پڑھا ہے، جو کچھ اس کے دل و دماغ میں ہے، جو ایک فکر پیدا ہوئی ہے، سوچ پیدا ہوئی ہے، وہ اس سوچ کو کاغذ پر منتقل کرے۔ مضمون نویسی کرے، مختلف مضامین لکھے: اخلاقیات پر، معاملات پر، ادب پر، حدیث کی شروحات پر، یا جو لوگوں کو روزمرہ کے درپیش مسائل ہیں اُن پر۔ بے شمار میدان ہیں۔ وہ کتابوں کے خلاصے کر سکتا ہے، کوئی بڑی کتاب ہے جو لوگ نہیں پڑھ سکتے، اس کا خلاصہ وہ لکھ سکتا ہے تاکہ اس کا نچوڑ لوگوں کے سامنے آئے۔ یعنی وہ تحریر کا کام کر لے، اور یہ تو وہ بیٹھ کر کر سکتا ہے اور اس میں (گفتگو والی مشکل) کچھ نہیں ہے۔ اگر وہ اس میں بھی کمزور ہے تب بھی کچھ وقت کے بعد بہتری آ سکتی ہے، کسی سے وہ رہنمائی لے لے۔ 

باقی میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو لوگ کاروبار میں بھی چلے جاتے ہیں، میرا تجربہ یہ ہے کہ وہ کاروبار کے ساتھ ساتھ جمعہ بھی پڑھاتے ہیں۔ اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ بڑی خودداری اور ذمہ داری کے ساتھ پڑھاتے ہیں، انہیں کسی سے کوئی لالچ نہیں ہوتا۔ وہ کسی نہ کسی مسجد میں بلامعاوضہ خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ 

ویسے میں نے یہ دیکھا ہے کہ دینی مدرسے میں پڑھ کر انسان، خواہ وہ کتنا ہی کمزور لڑکا کیوں نہ ہو، اتنا کمزور نہیں ہوتا کہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ یعنی اس وقت پرائیویٹ اسکولوں میں ہمارے بچے بڑی اچھی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ یہ اردو بہت اچھی پڑھاتے ہیں، معاشرتی علوم پڑھا سکتے ہیں، یہ عربی پڑھا سکتے ہیں، اسلامیات پڑھا سکتے ہیں۔ اور خاص طور پر بچوں کو کنٹرول بھی کر سکتے ہیں، ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے۔

میرے تجربے میں ہے، ایک بچہ میرے پاس پڑھا تھا، میں یہ بات تحدیثِ نعمت کے طور پر بھی اور اپنے سننے والے ناظرین کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ مدارس میں جو تعلیم و تربیت کا مرحلہ ہے، ہم بچوں کو اپاہج نہیں کرتے۔ ہمارے اوپر یہ الزام ہے کہ یہ بے روزگاروں کی جماعتیں فارغ کرتے ہیں۔ یہ غلط بات ہے۔ الحمدللہ! آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ جامعہ سلفیہ کا کوئی فارغ التحصیل لڑکا کہیں ایسے فضول پھرتا ہو اور اسے ملازمت نہ ملی ہو، یا وہ یہ شکوہ کرے کہ جی میں بیکار ہوں۔ جس سے بھی پوچھا ہے، وہ کہتا ہے جی ایک مسجد میں خطیب ہوں، ایک میں امام ہوں، فلاں کالج یا فلاں اسکول میں پڑھا رہا ہوں، اور دو چار ٹیوشنیں بھی وہ پڑھاتا ہے جسے وہ بونس کے طور پر لیتا ہے۔ تو ماشاءاللہ، جب ان سے پوچھتے ہیں کہ دیہاڑی یا ماہانہ؟ وہ الحمدللہ ایسی رقم بتاتا ہے کہ ہم حیران ہو جاتے ہیں کہ وہ بڑے مزے میں ہے۔ 

جس کی میں مثال دینے جا رہا ہوں، وہ بچہ میرے پاس سے فارغ ہوا، جسمانی طور پر بھی وہ کمزور تھا اور علمی طور پر بھی وہ کمزور تھا۔ جاتے ہوئے مجھے کہہ گیا کہ یہ میرے گھر کا نمبر ہے — اس وقت موبائل نہیں ہوتے تھے — تو یہ گھر کا نمبر ہے، اگر کہیں کوئی موقع آئے تو مجھے خدمت کا موقع دے دیں۔ کچھ دن گزرے تو مجھے کہیں سے فون آیا کہ ہمیں ضرورت ہے۔ میرے ذہن میں وہی آیا تو میں نے کہا چلو اس کو بھیج دیتے ہیں، جب تک کوئی اچھا نہیں ملتا۔ اس کو میں نے بھیج دیا۔ وہ وہاں گیا اور جا کر میرے حوالے سے اس نے بات کی۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے آپ آ جائیں۔ اللہ ان لوگوں کو جزائے خیر دے جنہوں نے اس کی ان کمزوریوں کے باوجود اس کو یہ موقع دے دیا۔ اسے احساس تھا کہ میں کئی لحاظ سے کمزور ہوں، لیکن اس نے محنت کی۔ آپ دیکھیں، دنوں میں اس نے پورے محلے کو اپنا گرویدہ کر لیا۔ وہ امامت کے ساتھ وہاں بچوں کو صرف ناظرہ پڑھاتا تھا۔ ایسا کنٹرول اس نے کیا اور ایسا اس نے پڑھایا کہ جن کی تعداد بیس سے نہیں بڑھتی تھی وہ سو تک چلی گئی۔ اچھا، وہ بچے جن سے گھر والے تنگ تھے کہ یہ پڑھتے نہیں ہیں، اِس نے اُن کو سیدھا کر دیا، ان کو قرآن حکیم پڑھا دیا، دعائیں سکھا دیں۔ وہ بچے گھر جا کر والدین کے پیچھے ہوئے کہ آپ کو دعائیں نہیں آتیں، مجھے آتی ہیں، مجھ سے سنو اور آپ بھی سیکھو۔

حتیٰ کہ جب وہ خود مجھے ملا تو اس کی حالت بدلی ہوئی تھی، لباس بڑا اچھا تھا، یعنی ایک عرصے کے بعد جب وہ میرے پاس آیا تو میں نے اس کا نام لے کر کہا  کہ یار! یہ کیا ہو گیا ہے، آپ میں تو انقلاب آ گیا ہے۔ وہ رونے لگا اور کہنے لگا، سر جی! اللہ نے میری بڑی مدد کی ہے اور ایسا ایسا ہوا ہے۔ پھر اس نے یہ بھی بتایا کہ وہاں ایک ایسا بچہ تھا جو کسی ایسی خاتون کا بیٹا تھا جس کا انگلش میڈیم اسکول ہے، اور وہ بچہ قابو نہیں آ رہا تھا، وہ خاتون بھی تنگ تھی۔ اور جب میں نے اس کو پڑھا دیا اور وہ بچہ بالکل ٹھیک ہو گیا، تو وہ کہنے لگی میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہ ٹیچر کون ہے جس نے ایسے بگڑے ہوئے بچے کو ٹھیک کر دیا ہے۔ جب اس نے بلایا اور میں ملا تو وہ حیران رہ گئی — کیونکہ میں نے بتایا نا کہ جسمانی طور پر بھی اس میں کچھ کمزوری تھی — اس نے پوچھا کہ آپ کیا پڑھے ہوئے ہو؟ اس نے بتایا کہ یہ یہ۔ اس نے کہا، اچھا، آپ میرے اسکول میں اسلامیات پڑھائیں، انگلش میڈیم اسکول میں۔ یعنی مسجد کی تنخواہ الگ سے، اسکول کی تنخواہ اس سے زیادہ تھی جو اس نے اس کو آفر کی، لیکن ساتھ یہ کہا کہ بی اے کر لیں۔ اس نے بی اے بھی کر لیا۔

اچھا، آپ حیران ہوں گے کہ اس کی حسنِ کارکردگی اور محبوبیت کا یہ عالم ہے کہ اسی محلے سے اسے رشتہ ملا (میزبان: سبحان اللہ) اسے بیٹی ملی، اس نے نکاح کیا، شادی کی، پھر اسی محلے میں اس نے اپنا گھر بنا لیا۔ یعنی وہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ ایک ایسا بچہ جس کے بارے میں مجھے بھی بدگمانی تھی کہ پتہ نہیں یہ کیا کرے گا، اس نے میرے لیے ایک روشن مثال چھوڑی۔ آج میں کئی جگہ اس کی یہ مثال دیتا ہوں کہ یہ مت سوچیں! کیونکہ مدرسے کا پڑھا ہوا آدمی کتنا بھی کمزور کیوں نہ ہو، اس میں کم از کم یہ صلاحیت ہوتی ہے، اسے موقع ملنا چاہیے۔

https://youtu.be/d3SStTDNtXU


مدارس و جامعات / تعلیم و تعلم

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات