۱۷ محرم الحرام ۱۴۴۷ھ / ۱۳ جولائی ۲۰۲۵م کو یہ غم انگیز خبر ملی کہ عالم ربانی، بزرگ قائد، باحمیت مصنف و مؤرخ، مخدوم و مکرم مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوری اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کے چھوٹے صاحب زادے اور دینی ملی کاموں میں ان کے جانشین، برادر محترم مولانا سعود الحسن صدیقی ندوی نے ایک دن پہلے ہی اطلاع دی تھی کہ والد گرامی سخت علیل ہیں اور اسپتال میں داخل ہیں۔ اس اطلاع کے بعد ان کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری تھا، لیکن اللہ تعالی کو انھیں اپنے پاس بلانا تھا اور وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سچ یہ ہے کہ ان کی وفات ملت اسلامیہ ہندیہ اور خاص طور پر مسلمانان غازی پور کے لیے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ جیسا کہ حضرت ابودردائؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وموت العالم مصیبۃ لا تجبر، وثلمۃ لا تسد، وہو نجم طمس، موت قبیلۃ أیسر من موت عالم۔ (رواہ الطبرانی والبزار و أبو یعلی وابن عساکر)
(عالم کی موت ایک ایسی مصیبت ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں، ایک ایسی دراڑ ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتی، وہ ایک ستارہ ہے جو بجھ گیا، ایک قبیلے کی موت عالم کی موت سے آسان ہے۔)
مولانا عزیز الحسن صدیقی حقیقی معنوں میں ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے متعلق لکھنے یا بولنے کے متعدد پہلو ہو سکتے ہیں۔ تصنیفی خدمات، سماجی خدمات، ملی خدمات، تربیتی خدمات، صحافتی خدمات۔ اس طرح کے متعدد مرکزی عناوین کے تحت کافی تفصیلی گفتگو ہو سکتی ہے۔ ان کی وفات کے بعد اہل علم نے ان گوشوں پر اپنے اپنے انداز سے لکھا بھی ہے۔ لیکن مولانا کے ادنی عقیدت مند اور واقف کار کی حیثیت سے میں نے انھیں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی فکری وراثت کے ایک حقیقی وارث کی حیثیت سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے امتیازی پہلو بھی ہے اور ان کی شخصیت کی وجہ انفرادیت بھی۔
مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوری کو دیوبند کے ابتدائی بزرگوں کی محبت و عقیدت ورثے میں ملی تھی۔ ان کے والد محترم مولانا ابوالحسن صدیقی غازی پوری دارالعلوم دیوبند کے سند یافتہ تھے۔ مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی کے ہم سبق تھے۔ مفتی اعظم مولانا عزیز الرحمٰن عثمانی اور شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوی ان کے خصوصی استاد و مربی تھے۔ مفتی اعظم سے اصلاحی تعلق بھی تھا۔ اس لحاظ سے ان کے صاحب زادے مفکر ملت مفتی عتیق الرحمٰن عثمانی ان کے دوستوں میں تھے۔ مولانا ابوالحسن صدیقی نے دیوبند سے جاری ہونے والے مناہج اصلاح میں سے وہ منہج اختیار کیا تھا جو مسند درس یا مسند خانقاہ پر اکتفا کرنا نہیں سکھاتا تھا۔ بلکہ اس منہج میں سماجی مسائل اور یک گونہ سیاسی سرگرمی کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ یہ منہج شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے ذریعے رائج ہوا۔ اس کو سمجھنے کے لیے مولانا عبیداللہ سندھی کی ذاتی ڈائری، مولانا حسین احمد مدنی کی نقش حیات اور مولانا سید محمد میاں کی اسیر مالٹا کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ غرض یہ کہ مولانا ابوالحسن صدیقی پوری طرح اس نظریے کہ حامی تھے جو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی سے شروع ہوا اور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے ذریعے عروج کو پہنچا۔ خود مولانا عزیز الحسن صدیقی نے لکھا ہے:
والد صاحب مرحوم صرف مدرسہ دینیہ کے مہتمم ہی نہ تھے بلکہ تحریک آزادی کے سرگرم سپاہی اور جمعیت علماء ہند کے فداکار بھی تھے۔ انڈین نیشنل کانگریس سے بھی وابستہ تھے۔ قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلا کرتے تھے۔ (1)
اپنے والد گرامی سے مسلم قومیت اور ہندوستانی وطنیت کا جذبہ گھٹی میں پی کر مولانا عزیز الحسن صدیقی نے ہوش سنبھالا تو گھر میں آزادی اور مسلم علماء و قائدین کا تذکرہ بھی پایا۔ اس سلسلے کے کئی مزے دار واقعات انھوں نے اپنی آپ بیتی میں بیان کیے ہیں۔ ۱۹۲۸م سے ۱۹۶۸م تک مولانا ابوالحسن صدیقی نے غازی پور میں رہ کر ملک و ملت کی خدمت انجام دی۔ مولانا ابوالحسن صدیقی کی عملی زندگی کے آغاز کے چار سال بعد ۱۹۳۲م میں مولانا عزیز الحسن صدیقی کی پیدائش ہوئی۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مولانا اپنے والد گرامی کی دینی و ملی جدوجہد کے ساتھ پروان چڑھے۔ جب ان کے والد محترم اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو وہ پوری طرح میدان میں آگئے۔ یوں وہ اپنے والد کی زندگی میں ہی سرگرم جدوجہد کا حصہ بن چکے تھے۔ مولانا نے اپنے متعلق بہت واضح انداز میں لکھا ہے:
دینی عقائد میں تو ہم اول درجے کے مقلد ہیں، مگر سیاسی اور ملی معاملات میں اپنی راہ خود متعین کرتے ہیں۔ ہم ان لوگوں میں کبھی نہیں رہے جو بلا سوچے سمجھے دریا میں تنکے کی طرح بہتے چلے جائیں۔ جہاں تک علمائے حق اور ان کی تحریک سے تعلق و محبت کا سوال ہے تو وہ ہمارے رگ و ریشے میں پیوست اور خون میں شامل ہے۔
روزے کہ پارہ پارہ شود استخوان من
ماند ہنوز در دل ریشم ہوائے تو
آج میں جس جگہ کھڑا ہوں وہاں مجھے پکڑ کر کوئی نہیں لایا میں خود آیا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ دین وملت کی خدمت کے جتنے بھی راستے ہیں وہ مدرسوں ہی سے ہو کر گزرتے ہیں، رجال کار یہیں ملتے ہیں۔ آج ہمارے اداروں اور جماعتوں میں جو نقائص نظر آتے ہیں، اس کا سبب بھی یہی ہے کہ فی زمانہ مدارس نے اچھا پروڈکشن دینا بند کر دیا ہے۔ یہ تنہا میں نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ سب اس بات پر متفق ہیں۔
میری پرورش و پرداخت جس ماحول میں ہوئی تھی، اس میں اگر تعلیم و تعلم کی ہما ہمی تھی تو سیاست کی گرم بازاری بھی، دینی جلسوں کے ساتھ طوق و سلاسل کی جھنکاریں بھی سنائی دیتی تھیں، کبھی مسلمان ناراض ہوتے تو گالیوں اور پتھروں سے نوازتے اور خوش ہوتے تو ہاتھ چومتے، لیکن ہم صلہ و ستائش کی تمنا سے نکل گئے ہیں اور اس بات کی ذرا پروا نہیں کرتے کہ کون خوش ہے؟ کون نا خوش ہے؟
ہم نے اپنے ادارے کو علماء کی فکر و نظر کا آئینہ دار بنایا اور اس کو کبھی نفع و ضرر اور ضرب تقسیم کے اصولوں پر نہیں چلایا۔ چندے حاصل کرنے کے لیے کبھی اصولوں کا سودا نہیں کیا۔ ہمارا ادارہ ہمیشہ ملی تحریکات سے جڑا رہا۔ سیاست کو کبھی شجر ممنوعہ نہیں سمجھا اور جو لوگ اس سے کنارہ کش ہیں ان کو برا بھلا بھی نہیں کہا۔ آزادی کے بعد ہمارے اکابر نے ہرگز یہ نہیں کہا تھا کہ مسلمان سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں، البتہ یہ ضرور کہا تھا کہ مسلمان مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم اختیار کریں۔ مگر ہوا یہ کہ ان کے مقلدین دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ دامن جھاڑ کر مدرسے میں جا بیٹھا، دوسرا بس دور سے قصر سیاست کے طواف کرتا رہا۔ اب ایک گروہ کا اور اضافہ ہوگیا ہے جو مسلمانوں کی علاحدہ سیاسی تنظیم کے قیام کی بات کرنے لگا ہے، حالاں کہ اس کی مضرتیں ظاہر ہو چکی ہیں۔
سیاست سے کنارہ کشی اور دوسرے لفظوں میں حقائق سے چشم پوشی اور آرام طلبی ہی کی وجہ سے آج علماء و مدارس نشانۂ ستم ہیں۔(2)
آگے چل کر مولانا عزیز الحسن صدیقی اور ان کے ساتھ کئی غیر معمولی شخصیات کو جمعیت علمائے ہند سے نکال دیا گیا۔ اگر مولانا صرف تنظیم کے آدمی ہوتے تو وہ بکھر جاتے یا اپنے موقف سے دست برداری اختیار کر کے معافی تلافی کرتے اور کسی بھی صورت میں تنظیم سے جڑے رہنے کی کوشش کرتے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے بزرگوں سے جہد و عمل کا جو عہد باندھا تھا وہ کسی تنظیمی حد بندی کا محتاج نہ تھا۔ وہ اپنے عہد کو بہ سہولت نبھانے کے لیے تنظیم سے وابستہ ہوئے تھے۔ لیکن تنظیم سے وابستگی کو ایفائے عہد کی شرط کبھی نہیں بنایا تھا۔ اس لیے ان کے ساتھ تنظیم سے نکالے گئے بہت سے لوگ تقریبا ختم ہوگئے، لیکن مولانا عزیزالحسن صدیقی غازی پوری استقامت اور پوری افادیت کے ساتھ ملت کے لیے وقف رہے۔ قربان جائیے ان کی استقامت، ذہنی وسعت اور کشادہ ظرفی پر۔ جمعیت سے نکالے جانے کے بڑے واقعے کو انھوں نے ’’ایک فضول بحث‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ اس کے بعد نہایت متانت اور توازن کے ساتھ لکھا ہے:
’’ہمارے نزدیک اب یہ ایک فضول سی بحث ہے کہ ہم جمعیۃ سے نکل گئے یا نکالے گئے؟ یقینا ہم جمعیۃ کے اندر نہیں ہیں مگر وہ اب تک ہمارے اندر موجود ہے اور یہ وہ نسبت ہے جو ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ شیخ الاسلام اور مجاہد ملت کی محبت اور ان کا اسوہ و طریق بھلا کون ہم سے چھین سکتا ہے؟ بے شک ایک موقع ایسا آیا جب غلط فہمی کی بناء پر ہمارے خلاف ’’ڈسپلینری ایکشن‘‘ لیا گیا، جب کہ ہم نے جماعت کے خلاف نہ سازش کی تھی، نہ علم بغاوت بلند کیا تھا، بلکہ صرف یہ بات اٹھائی تھی کہ حکومت اور عوام کے بیچ علماء کی آواز کیوں کمزور پڑتی جا رہی ہے؟ ہم نے اس وقت یہ سوال اٹھایا تھا غازی پور کے ایک مختصر سے اجتماع میں، جس میں کوئی غیر نہیں تھا، مگر اس کو دیکھا گیا ایسی عینک سے جس میں صرف ایک ہی رنگ نظر آتا ہے اور وہ ہوتا ہے اختلاف کا رنگ۔ فی الاصل کچھ دن پہلے ہم نے قیام امارت سے اختلاف کیا تھا اور ہم ہی کیا؟ جماعت کے بہت سے حضرات نے کیا تھا۔ اس موضوع پر جمعیۃ ہی کے حلقے سے ایک کتاب بھی چھپ چکی تھی، جس میں اسی موقف کی وکالت کی گئی تھی جو ہم نے اختیار کر رکھا تھا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ حضرت مولانا اسعد مدنی کی غیر موجودگی میں (ممدوح ان دنوں غیر ملکوں کے دورہ پر تھے) امارت کا مسئلہ طے کر دینے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور اس کے لیے جو اجتماع طلب کیا گیا تھا وہ محض رسمی تھا۔ اعلان بہر حال ہونا طے تھا۔ ہم سے یہ غلطی ضرور سرزد ہوئی کہ ہم نے اس تجویز کی مخالفت کی۔‘‘ (3)
یہ بات الگ ہے کہ اس معاملے میں مولانا کو اس بات کا احساس تھا کہ ان کی عقیدت و جدوجہد کے مرکز میں ان کی بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ انھوں نے لکھا ہے:
۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء کی وہ مشاورتی میٹنگ جو چند اہل جنوں نے شوکت منزل غازی پور میں بلائی تھی، اس کے دعوت نامے میں یہی کہا گیا تھا کہ ’’ملک میں سیاست اور ایوان حکومت میں علماء کی ایک آواز تھی، ان کی رائے اور جدوجہد کی قدر کی جاتی تھی لیکن ۱۹۴۷ء سے ۱۹۸۷ء تک کے چالیس برسوں میں تدریجا وہ آواز ختم (بے اثر) ہو گئی۔‘‘ ہم نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا تھا۔ ضرورت تھی اس پر دھیان دینے کی، اس لے کو آگے بڑھانے کی، ملنے اور ملانے کی اور جوڑنے کی، مگر ہمارے دل کے درد کو محسوس کیا گیا، نہ ہمارے جذبات کی قدر کی گئی، ہم تو آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں کل تھے، ہمارا نہ دل بدلا ہے نہ دل بدلا ہے، نہ روش بدلی ہے، نہ ڈگر بدلی ہے، اپنے ہی بزرگوں کی مخالفت کر کے ہم اپنا نقصان کیوں کریں گے؟ اعتراف کرنا چاہیے کہ نوا کی تلخی نے کچھ تو فائدہ پہنچایا ہی ہے۔ (4)
مولانا عزیز الحسن صدیقی کے اس اعلان کے بعد کہ ان کا نہ دل بدلا ہے اور نہ دل، یہ بات پوری طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ فکر شیخ الہند کی سب سے نمائندہ تنظیم سے ان کی علاحدگی تنظیمی اور ظاہری تھی۔ ذہنی، قلبی یا منہجی نہ تھی۔ لہٰذا انھوں نے اپنے شہر اور اپنے مدرسے کو میدان عمل قرار دیا اور پوری زندگی اسی کے لیے وقف کر دی۔
آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کا پر زور اظہار ضروری ہے کہ مولانا عزیز الحسن صدیقی نے غازی پور کو میدان عمل بنا کر زمانے کے لحاظ سے اپنا بڑا نقصان کیا تھا۔ وہ چاہتے تو بہت آسانی سے دہلی یا لکھنؤ کو اپنا مرکز بنا سکتے تھے۔ ان کی باوقار شخصیت ایک قومی شخصیت بن چکی تھی۔ لوگ ان کے مزاج اور طریقۂ کار سے بھی واقف تھے۔ اس لیے وہ بہ آسانی کسی بھی بڑی تنظیم یا ادارے میں معزز مقام حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ غازی پور میں رہے اور وہیں بیٹھ کر پوری آزادی، یکسوئی اور توازن کے ساتھ ملک و ملت کی اصلاح و تعمیر کی کوشش کرتے رہے۔ ان کے اخلاص کا نتیجہ تھا کہ ان کی آواز پورے ملک میں سنی گئی اور ان کو ہر حلقے میں ملت کے ایک نہایت سنجیدہ اور باوقار قائد کی حیثیت سے دیکھا جاتا رہا۔ مولانا کی زندگی کے اس پہلو میں ہم سب کے لیے بڑا سبق ہے۔
بات چل رہی تھی مولانا عزیز الحسن صدیقی کے منہج شیخ الہند اختیار کرنے کی۔ غور کیا جائے تو شیخ الہند کی مابعد مالٹا جدوجہد کے دو حصے ہیں۔ ایک ہندو مسلم اتحاد پر زور اور سیاسی وزن پیدا کرنے کی کوشش۔ دوسرے مسلمانوں کی اندرونی اصلاح اور انھیں حقیقی مسلمان بنانے کی فکر۔ مالٹا سے واپس آنے کے بعد شیخ الہند کی زندگی کے یہی دو محور تھے۔ جب انھوں نے محسوس کر لیا کہ انگریز بوریا بسترا باندھنے کی تیاری کر رہا ہے تو انھوں نے اسے جلد از جلد ملک سے نکالنے اور اس کے جانے کے بعد پرامن ہندستان کی تعمیر کرنے کے لیے ہندو مسلم اتحاد بلکہ مسلم و غیر مسلم اتحاد کی کوشش شروع کی۔ انھوں نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا تھا:
اس لیے ہندستان کی آبادی کے یہ دونوں بلکہ سکھوں کی جنگ آزما قوم ملا کر تینوں عنصر اگر صلح و آشتی سے رہیں گے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی چوتھی قوم خواہ وہ کتنی ہی بڑی طاقت ور ہو، ان اقوام کے اجتماعی نصب العین کو محض اپنے جبر و استبداد سے شکست کر سکے گی۔ ہاں یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور آج پھر کہتا ہوں کہ ان اقوام کی باہمی مصالحت اور آشتی کو اگر آپ پائے دار اور خوش گوار دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی حدود کو خوب اچھی طرح دل نشین کر لیجیے اور وہ حدود بھی یہی ہیں کہ خدا کی باندھی ہوئی حدود میں ان سے کوئی رخنہ نہ پڑے۔ جس کی صورت بجز اس کے کچھ نہیں کہ اس صلح و آشتی کی تقریب سے فریقین کے مذہبی امور میں سے کسی ادنی امر کو بھی ہاتھ نہ لگایا جائے اور دنیوی معاملات میں ہرگز کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس سے کسی فریق کی ایذا رسانی اور دل آزاری متصور ہو۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک بہت جگہ عمل اس کے خلاف ہو رہا ہے۔ مذہبی معاملات میں تو بہت لوگ اتفاق ظاہر کرنے کے لیے اپنے مذہب کی حد سے گزر جاتے ہیں لیکن محکموں اور ابواب معاش میں ایک دوسرے کی ایذا رسانی کے درپے رہتا ہے۔ میں اس وقت جمہور سے خطاب نہیں کر رہا ہوں بلکہ میری گزارش دونوں قوموں کے زعما (لیڈروں) سے ہے کہ ان کو جلسوں میں ہاتھ اٹھانے والوں کی کثرت اور ریزولیشنوں کی زبانی تائید سے دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ یہ طریقہ سطحی لوگوں کا ہے، ان کو ہندو مسلمان کے نجی معاملات اور سرکاری محکموں میں متعصبانہ رقابتوں کا اندازہ کرنا چاہیے۔ اگر فرض کرو ہندو مسلمان کے برتن سے پانی نہ پیے یا مسلمان ہندو کی ارتھی کو کندھا نہ دے تو یہ ان دونوں کے لیے مہلک نہیں۔ البتہ دونوں کی وہ حریفانہ جنگ آزمائی اور ایک دوسرے کو ضرر پہنچانے اور نیچا دکھانے کی وہ کوششیں جو انگریزوں کی نظروں میں دونوں قوموں کا اعتبار ساقط کرتی ہیں، اتفاق کے حق میں سم قاتل ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ حضرات میرے اس مختصر مشورے کو سرسری نہ سمجھ کر ان باتوں کا عملی انسداد کریں گے۔ (5)
دوسری طرف مسلمانوں کے حالات سدھارنے کے لیے شیخ الہند نے قرآن سے وابستگی اور انتشار کے خاتمے کو بنیادی ضرورت قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں مفتی محمد شفیع عثمانی کا یہ بیان ہماری رہنمائی کرتا ہے:
شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب قدس اللہ سرہ مالٹے کی چار سالہ جیل سے رہائی کے بعد دارالعلوم دیوبند میں تشریف لائے تو علماء کے ایک مجمع کے سامنے آپ نے ایک اہم بات ارشاد فرمائی۔
جو لوگ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے واقف ہیں وہ اس سے بھی بے خبر نہیں ہیں کہ ان کی یہ قید و بند عام سیاسی لیڈروں کی قید نہ تھی۔ جنگ آزادی میں اس درویش کی ساری تحریکات صرف رضائے حق سبحانہ و تعالی کے لیے امت کی صلاح و فلاح کے گرد گھومتی تھیں، مسافرت اور انتہائی بے کسی کے عالم میں گرفتاری کے وقت جملہ جو ان کی زبان مبارک پر آیا تھا، ان کے عزم اور مقاصد کا پتہ دیتا ہے۔ فرمایا:
الحمد اللہ بمصیبتے گرفتارم نہ بمعصیتے
جیل کی تنہائی میں ایک روز بہت مغموم دیکھ کر بعض رفقاء نے کچھ تسلی کے الفاظ کہنا چاہے تو فرمایا: ’’اس تکلیف کا کیا غم ہے جو ایک دن ختم ہو جانے والی ہے، غم اس کا ہے کہ یہ تکلیف و محنت اللہ تعالی کے نزدیک قبول ہے یا نہیں۔‘‘
مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد ایک رات بعد عشاء دارالعلوم میں تشریف فرما تھے۔ علماء کا بڑا مجمع سامنے تھا۔ اس وقت فرمایا کہ ’’ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں۔‘‘ یہ الفاظ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہوگیا کہ اس استاذ العلماء درویش نے اسی سال علماء کو درس دینے کے بعد آخر عمر میں جو سبق سیکھے ہیں وہ کیا ہیں؟ فرمایا کہ ’’ میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا، دوسرے ان کے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی، اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے۔ بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی بستی میں قائم کیے جائیں۔ بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔ (6)
بالکل اسی منہج پر چلتے ہوئے مولانا عزیز الحسن صدیقی نے غیر مسلموں سے روابط کی بحالی اور امت کی اندرونی اصلاح کو اپنا مشن بنایا۔ اس سلسلے کے نہ جانے کتنے واقعات ان کی آپ بیتی اور تذکیر کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں۔ نمونے کے طور پر دو تین واقعات ملاحظہ کیجیے۔
انڈین نیشنل کانگریس سے وابستگی کو ہمارے بزرگوں نے اس لیے اختیار کیا تھا کہ ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ ملک کی آزادی اور تعمیر کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔ یہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ فیصلہ درست بھی تھا۔ مولانا عزیزالحسن صدیقی دور آخر کے ان بزرگوں میں تھے جنھوں نے دور اول کے بزرگوں کو اس معاملے میں اپنا مقتدی بنایا تھا۔ اس سلسلے میں ان کا نظریہ اپنے بزرگوں کی طرح بالکل واضح تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
۱۹۶۰ سے ۱۹۷۷ تک میں ضلع کانگریس کمیٹی کا سرگرم ممبر رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کانگریس میں نیا خون داخل کیا جارہا تھا۔ ۱۹۶۹ میں جب کانگریس تقسیم ہوئی تو نجلنگ اپا صدر تھے، جو بعد میں سنڈی کیٹ کے صدر بنائے گئے اور سنڈی کیٹ پر اندرا کا قبضہ و اقتدار قائم رہا۔ ہم نے سوچا کہ شاید بوڑھی کانگریس میں نیا خون داخل ہو تو جوان ہو جائے، اس لیے ہم پرانے ساتھیوں اور دوستوں کو لے کر اس میں داخل ہوگئے۔ ضلع کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اودھیش نرائن سنگھ دل سے چاہتے تھے کہ پرانے نیشنلسٹ مسلمانوں کو تنظیم میں جگہ ملے، مگر سیاسی فیصلوں کے وقت ہائی کمان کی پرانی روش اور فرقہ واریت کے مقابلے میں نرم پالیسی ہماری بے اطمینانی کا سبب بنتی گئی اور ہم آہستہ آہستہ کانگریس سے دور ہوتے چلے گئے اور سرگرم ممبری کا طوق بھی گلے سے اتار پھینکا۔ (7)
غیرمسلموں کے ساتھ مولانا عزیز الحسن صدیقی کا رابطہ نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ بے باکانہ بھی تھا اور تعقلانہ بھی۔ چنانچہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سخت فرقہ وارانہ ماحول میں ہندؤں کو رواداری کا سبق یاد دلانے کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
غازی پور میں غیرمسلموں کے ایک اجتماع میں خادم نے کہا تھا: کوئی بتائے کہ ہندو بھائیوں کے نزدیک ہندستان کے دو مقدس ترین مندروں (بنارس کے وشوناتھ مندر اور جنوبی ہند کے سوم ناتھ مندر) میں کیا کبھی کسی نے کسی ہندو عورت کو اپنے لال کو پجاری سے دم کراتے دیکھا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے اور شام کے جھٹ پٹے میں ایک ہندو عورت اپنے جگر کے ٹکڑے کو لے کر گاؤں کی سفالہ پوش مسجد کے دروازے پر کھڑی ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی آستھا مسجد میں ہے اور جب تک یہ آستھا باقی ہے، عزیز ہندستان سے رخت سفر نہیں باندھ سکتا۔ (8)
غیرمسلموں کے ساتھ مولانا عزیز الحسن صدیقی کے روابط صرف نظریاتی یا صرف اعلی سطحی نہ تھے، بلکہ وہ ان کے ساتھ زمینی روابط رکھنے کی بھی پوری کوشش کرتے تھے۔ اس ذیل میں مولانا کے ذریعے ڈاکٹر وبھوتی نرائن رائے (سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس، یوپی) کو دیے گئے ایوارڈ کا تذکرہ بھی کیا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود خالص زمینی رابطے کی مثال دیکھنی ہو تو یہ واقعہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ مولانا نے لکھا ہے:
شیرپور غازی پور کا ایک مشہور گاؤں ہے۔ اس گاؤں میں ہندؤں کی ایک بڑی ذات بھومی ہار بستی ہے۔ گاؤں کے کنارے ہریجن بھی آباد ہیں۔ دوسری بستیوں اور علاقوں کی طرح یہاں کے ہریجن بھی بھومی ہاروں کی خدمت میں لگے رہتے تھے، مگر اب یہ لوگ سر اٹھا کر چلنا چاہتے ہیں، جو بڑی ذات والوں کو پسند نہیں۔ ۱۹۷۵م میں کسی بات پر دونوں برادریوں میں جھگڑا ہوگیا اور یہ جھگڑا اتنا بڑھا کہ بھومی ہاروں نے ہریجنوں کی بستی کو جلا ڈالا اور اپنی ہی جھونپڑیوں میں کئی ہریجن جل کر راکھ ہوگئے۔
یہ ایک خالص انسانی مسئلہ تھا، اس لیے ہم اور ہاشمی صاحب وہاں گئے۔ ہم نے دونوں برادریوں کے سرداروں اور عام لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ ہم پہلے بھومی ہاروں سے ملے۔ وہ سمجھے کہ ہم ان کے حمایتی بن کے آئے ہیں۔ فورا ہی ایک خوش پوشاک اور دراز قد رائے صاحب نمودار ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں ایک خط تھا، جو کلکتہ سے آیا تھا۔ ہم نے خط پڑھا، خط انگریزی زبان میں تھا اور کمسار کے کسی مسلمان نے بھیجا تھا۔ خط میں شیرپور کے بھومی ہاروں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ہمارا اور تمھارا خون ایک ہے۔ اس لیے ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ ہم نے خط پڑھ کر لوٹا دیا اور اس کے بعد ہریجنوں سے ملنے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ہریجنوں کی پوری بستی جل چکی ہے اور وہ میدان میں پڑے ہوئے ہیں۔ شاید ہم پہلے مسلمان تھے جو ان سے ملنے گئے تھے۔ وہ گھبرائے ہوئے تھے۔ ہم نے انھیں اطمینان دلایا، زمین پر جس طرح وہ اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی ان کے پاس بیٹھ گئے۔ ان کی بپتا سنی، ڈھارس دی، پھر کلکٹر دیوی دیال سے ملے۔ دیوی دیال چوں کہ ہریجن برادری سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے وہ بھی مجرم تھے۔ بے چارے شیرپور نہیں جا سکے تھے۔ ہم نے ان کو بھی ڈھارس دی۔ اخبارات میں ان کی حمایت میں مضامین چھپوائے۔
صورت حال یہ تھی کہ بابو جگ جیون رام جو اس وقت ہریجنوں کے مسیحا تھے اور کانگریس ہائی کمان سے تعلق رکھتے تھے، دیوی دیال کا ٹرانسفر کرانا چاہتے تھے۔ میں نے وزیر اعلی بہوگنا جی سے کہا کہ دیوی دیال کو غازی پور سے مت ہٹائیے۔ بہوگنا جی نے جواب دیا: جب تک یہ چمار (خود کو کہا) کرسی پر بیٹھا ہے، غازی پور کے چمار کلکٹر کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔ لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد دیوی دیال کو غازی پور سے چلتا کر دیا گیا۔ ایک دن میں دیوی دیال کے چیمبر میں بیٹھا ہوا تھا کہ بریلی کے کمشنر سے فون پر دیوی دیال کی بات شروع ہو گئی، گفتگو سے فارغ ہو کر دیوی دیال نے کہا: میں خوش ہوں کہ ایک مسلمان کمشنر کی ماتحتی میں جا رہا ہوں۔ (9)
اوپر پیش کی گئی تینوں مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مولانا عزیز الحسن صدیقی اپنے بزرگوں کے راستے پر چلتے ہوئے مسلم غیرمسلم تعلقات کو ملک کی بقا کے لیے لازمی سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ کسی ایک نوعیت کے تعلق پر اکتفا کرنے کو درست نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ہر نوعیت اور ہر سطح کے تعلقات قائم کرنے کے علم بردار تھے۔ ان تعلقات کے ذریعے وہ سماجی خدمات اور سیاسی وزن پیدا کرنا چاہتے تھے۔ منقسم ہندستان میں باوقار انداز میں زندگی گزارنے کا یہ وہ نسخہ تھا، جو انھوں نے براہ راست اپنے بزرگوں سے حاصل کیا تھا اور ان کے بزرگوں نے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی سے۔
ہندو مسلم تعلقات کے بعد ہم مسلمانوں کے دینی و ملی شعور کی بے داری کی طرف آتے ہیں۔ مولانا عزیز الحسن صدیقی جانتے تھے کہ آزاد ہندستان میں ہمارے مسائل کی جڑ ہمارے اپنے ہی آنگن میں ہے۔ اسے دوسرے کے آنگن میں تلاش کرنا بے وقوفی ہوگی۔ اسی لیے وہ اپنی تحریروں، تقریروں اور مجلسوں میں مسلمانوں کو ہمیشہ ایمان راسخ، اخلاق فاضلہ، بلند ہمتی، علم کے حصول اور عمل صالح کی تلقین کرتے تھے۔ وہ سستی، غفلت، کاہلی اور بے شعوری کے سخت مخالف تھے۔ فضول خرچی خصوصا شادیوں میں اسراف پر سخت تنقید کرتے تھے۔ بے مقصد کانفرنسوں اور رسمی اجتماعات کو وقت کا ضیاع قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک امت کی اصل ضرورت عملی جدوجہد اور میدانی خدمت تھی، نہ کہ نعرے اور دعوے۔
مجھے ۲۰۱۵م میں مولانا عزیز الحسن صدیقی کی دہلی تشریف آوری کے موقعے پر ان کا انٹرویو لینے کا موقع ملا تھا۔ کافی بات چیت کے بعد میں نے مولانا سے امت کے لیے عمومی پیغام جاننا چاہا تو انھوں نے فرمایا تھا:
پیغام بس یہی ہے کہ آپ سچے مسلمان کا کردار ادا کریں۔ انسانیت کے خادم بنیں۔ انسانوں کے لیے نفع بخش بنیں۔ سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط بنائیں۔ سماجی خدمات انجام دیں۔ پیام انسانیت کے مشن کو اختیار کریں۔ موجودہ دور میں اس کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انسانیت کو اور ملک کو ہماری سخت ضرورت ہے۔ ایک اہم بات یہ کہ ہم خود اپنے ناقد بنیں۔ اپنے تمام معاملات پر سخت تنقیدی نگاہ ڈالیں، کڑا محاسبہ کریں اور پھر ہر میدان میں منظم ہو کر آگے بڑھنا شروع کریں۔ اگر ہم ایسا کرنے لگے تو ان شاء اللہ ہمارے تمام مسائل بہ خوبی حل ہونے لگیں گے۔ ہمیں دوسروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔ سرکاری مراعات کی بھیک نہیں مانگنی پڑے گی۔ مثال کے طور پر ایک مسلم انگریزی روز نامہ ہماری بہت اہم ضرورت ہے۔ لیکن احساس اور نظم و ضبط نہ ہونے کی وجہ سے ہم آج تک اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ اردو کو عام کریں۔ اپنے بچوں کو چاہے کسی بھی اسکول میں پڑھائیں، لیکن ان کے لیے کم از کم اتنی اردو سیکھنے کا انتظام ضرور کریں کہ وہ اردو لکھ پڑھ سکیں۔ ہندستان میں اردو کا تحفظ اسلامی تشخص کے تحفظ جیسا ہے۔ اس لیے اس طرف سخت توجہ کی ضرورت ہے۔ (10)
اپنی آپ بیتی میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
ہمارے مدرسوں کی شان دار عمارتیں دیکھ کر فرقہ پرست بوکھلا گئے ہیں، اس لیے ہم کہیں گے کہ اب مدرسوں کی عمارتیں کم خرچ والی بنائی جائیں، مگر رفاہی کام بڑے پیمانے پر ہوں۔ شفا خانے اور اسکول زیادہ کھولے جائیں۔ برادران وطن نفع کی طرف خوب لپکتے ہیں، جب ان کو فائدہ نظر آئے گا تو بدل جائیں گے اور فرقہ پرست ٹرٹراتے رہ جائیں گے۔ (11)
خلاصۂ کلام یہ کہ مولانا عزیزالحسن صدیقی غازی پوری قائدین ملت کے اس کاروان کے آخری مسافروں میں تھے، جس نے جنگ آزادی کے دور میں اور حصولِ آزادی کے بعد پورے عزم و استقلال کے ساتھ ہندستان میں رہنا پسند کیا۔ یہاں باوقار زندگی گزارنے کا خواب دیکھا۔ اس خواب کو تعبیر کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی۔ پھر پوری زندگی اس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے گزار دی۔ ہم نے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا زمانہ نہیں پایا۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد، سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی، سیدالامت مولانا سید محمد میاں دیوبندی اور اس صف اور منہج کے دوسرے علماء کو نہیں دیکھا، لیکن ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم نے عزیز ملت مولانا عزیزالحسن صدیقی غازی پوری کو دیکھا ہے۔ ان کی صحبتیں اٹھائی ہیں۔ ان کی سوچ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے مولانا عزیزالحسن صدیقی غازی پوری کی شکل میں ایک ایسی شخصیت کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کی ہیں، جسے عہد حاضر میں فکرِ شیخ الہند کا آخری حقیقی وارث و امین بھی کہا جا سکتا ہے۔
حواشی
(1) ہماں خاکم کہ ہستم، عزیزالحسن صدیقی، مکتبہ حسن، غازی پور، 2017، ص 14
(2) حوالۂ سابق، ص 195, 196
(3) حوالۂ سابق، ص 203
(4) حوالۂ سابق، ص 168
(5) نقش حیات، سید حسین احمد مدنی، مکتبہ شیخ الاسلام، دیوبند، 2007، ج 2، ص 322, 323
(6) وحدت امت، محمد شفیع عثمانی، مرکزی انجمن خدام القرآن، لاہور، 1997، ص 39, 40
(7) ہماں خاکم کہ ہستم، عزیزالحسن صدیقی، مکتبہ حسن، غازی پور، 2017، ص 162
(8) حوالۂ سابق، ص 241
(9) حوالۂ سابق، ص 170, 171
(10) ماہ نامہ المؤمنات، لکھنؤ، شمارہ: دسمبر 2015
(11) ہماں خاکم کہ ہستم، عزیزالحسن صدیقی، مکتبہ حسن، غازی پور، 2017، ص 25
