حنفی اصولی منہج (۲)

اب آئیے اصولِ فقہ کے دو مناہج کی طرف، جو ہمیں عام طور پر نصابی کتب میں بتائے جاتے ہیں: 

کہا جاتا ہے کہ ایک متکلمین کا منہج ہے، جس میں ہم اصول سے فروع کی طرف جاتے ہیں۔ اصول بیان کرتے ہیں، عام قطعی ہے یا ظنی ہے؟ ’’حمل المطلق علی المقید‘‘ کریں گے یا نہیں کریں گے؟ امر وجوب کے لیے ہے یا نہیں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اصول سے جاتے ہیں فروع کی طرف۔

کہتے ہیں ایک منہج فقہاء کا ہے، جس میں ہم فروع سے جاتے ہیں اصول کی طرف۔ جس میں ہم کتاب الاصل سے کوئی جزئیہ ذکر کر کے بتاتے ہیں، مثال کے طور پر امام محمدؒ نے لکھا ہے کتاب المضاربہ میں کہ اگر مضارب اور رب المال کا اختلاف ہو جائے اور مضارب کہے کہ اس نے تو مجھے عام اختیار دیا تھا، اور رب المال کہتا ہے کہ نہیں، میں نے تو specify کیا ہوا تھا، مخصوص حکم دیا تھا، اور دونوں کے پاس کوئی بینہ (گواہ) نہ ہو، تو امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ بات اس کی مانی جائے گی جو عموم کا قائل ہے، چاہے وہ مضارب ہو چاہے رب المال ہو۔ ہم اس کو نہیں دیکھیں گے کہ مضارب کون ہے، رب المال کون ہے، ہم اس کو دیکھیں گے کہ عموم کا قائل کون ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مضاربہ کا جو عقد ہے، اس کا مقتضا اس کا تقاضہ کیا ہے؟ اس کا تقاضہ عموم ہے  جب تک اس کی تخصیص نہ کی جائے۔

مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے مضارب سے کہا کہ یہ پیسے لو اور اس سے مضاربہ کرو اور جو منافع ہوا تو وہ ہم دونوں آپس میں تقسیم کر لیں گے، نقصان کا میں ذمہ دار ہوں۔ یہ مضاربہ صحیح ہے یا غلط ہے؟ صحیح ہے۔ اس نے یہ نہیں بتایا اسے کہ ٹماٹر کی خرید و فروخت کرنی ہے یا پیاز کی۔ کراچی میں کرنی ہے یا لاہور میں۔ کوئی تعیین نہیں کی۔ مضاربہ صحیح ہے نا؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو مضاربہ کا عقد ہے اس کا مقتضا عموم کا ہے۔ اگر اس کا مقتضا عموم کا نہ ہوتا تو یہ مضاربہ صحیح نہ ہوتا۔ اچھا، تو اب جب عموم اور خصوص کے قائلین جو ہیں، نہ عموم کے قائل کے پاس کوئی ثبوت ہے اور نہ خصوص کے قائل کے پاس کوئی ثبوت ہے، تو ہم کہتے ہیں عقد کے مقتضا پر فیصلہ کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے نزدیک عموم اور خصوص برابر کی قوت رکھتے ہیں، تب ہی تو ہم عقد کی طرف گئے، ورنہ اگر ہمارے نزدیک خاص عام سے زیادہ قوت رکھتا، تو پھر تو ہم کہتے کہ خصوص کی بات مانی جائے گی، عموم کی نہیں مانی جائے گی۔

تو اس جزئیے سے کیا معلوم ہوا کہ ہمارے نزدیک عموم اور خصوص برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور ہم تو جانتے ہیں اور مانتے ہیں اور اس پر کوئی اختلاف بھی نہیں کہ خاص قطعی ہوتا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ عام تو قطعی ہے ہمارے نزدیک۔ تو ’’عام قطعی ہے‘‘ اس اصول تک ہم پہنچے اِس جزئیے سے، یعنی فروع سے ہم اصول کی طرف گئے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ اس کی مزید تفصیل اگلے سیشن میں کریں گے۔

یہ کہا تو جاتا ہے لیکن بعد میں سارا منہج ہی ایک ہو گیا۔ نہ صرف منہج بلکہ نظریہ بھی ایک ہو گیا۔ اسی لیے تو آپ آج اصولِ فقہ کی کوئی بھی کتاب اٹھائیں، وہبہ زحیلی نے لکھی ہو، عبد الکریم زیدان نے لکھی ہو، حسین احمد حسان نے لکھی ہو، کسی نے بھی لکھی ہو، تو آپ کو اس میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی سب کچھ مکس نظر آئے گا۔ اور کہا جائے گا یہ حکمِ تکلیفی کی مثال کے طور پر ان تینوں کے نزدیک پانچ قسمیں ہیں، ان کے نزدیک سات ہیں۔ خبر واحد سے تخصیص ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی؟ یہ یہ کہتے ہیں، وہ وہ کہتے ہیں۔ قرآن کا نسخ سنت سے ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ متواتر اور غیر متواتر۔ اِن کا موقف یہ ہے، اُن کا موقف وہ ہے۔

اچھا، یہ صرف اِس دور میں لکھی گئی کتابوں کی بات نہیں ہے، دورِ متاخرین میں جو کتابیں ہیں وہ بھی اٹھا کر دیکھ لیں، مسلم الثبوت سے کچھ چیزیں کل پڑھیں گے، ان شاء اللہ۔ بلکہ ذرا پیچھے جائیے تو ابن الہمام کے ہاں بھی، ان کی کتاب کا نام یہی ہے: التحریر فی اصول الفقہ الجامع بین اصطلاحی الحنفیہ والشافعیہ۔ یہ کیسے ہوا؟ اور کیا یہ ممکن ہے؟ 

اور کچھ المیہ اُن کا بھی ہے جن کو اصولِ فقہ انگریزی کی کتابوں سے پڑھنے کا موقع ملا، کیونکہ انگریزوں کے دور میں پچھلی سے پچھلی صدی میں جو کچھ لکھا گیا اور پچھلی صدی میں جاری رہا، وہ چاہے انگریزی میں لکھا گیا ہو، چاہے فرانسیسی میں لکھا گیا ہو، یا کسی اور یورپی زبان میں، حتیٰ کہ جو اِس دور میں عربی میں بھی چیزیں لکھی گئیں، اس میں اس طرح کی بحثیں آپ کو نظر آتی ہیں۔ ایک تو انگریزی کی کتابوں میں حنفی، شافعی، مالکی وغیرہ کو سیکٹ کہا جاتا ہے، کہ یہ فرقے ہیں۔ پھر فرقوں سے تو چونکہ تنفر بھی پایا جاتا ہے، تو اس سے اس کے لیے میدان ہموار کیا جاتا ہے کہ فرقوں سے ماورا ہو کر فرقوں سے بالاتر ہو کر خالص قرآن و سنت پر مبنی منہج چاہیے۔ اور پھر چونکہ ان کو فرقے کہا جاتا ہے، اور چونکہ دورِ متاخرین سے لے کر پھر آگے یہاں تک آپ کو اصولِ فقہ کی کتابوں میں سب کچھ نظر آتا ہے، بلکہ متن اِس مذہب کے ماننے والے کا ہوتا ہے تو شرح اُس مذہب کے ماننے والے کی ہوتی ہے، اور حاشیہ اِس مذہب کے ماننے والے کا ہوتا ہے۔ تو پھر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ جو اختلافات ہیں یہ تو بس جزوی قسم کے اختلافات ہیں، بس ایک ہی نوعیت کی چیزیں ہیں، درمیان میں کہیں یہ کہیں وہ۔ تو اس کے نتیجے میں ایک تو تلفیق کی راہ لوگوں کے لیے آسان ہو جاتی ہے، ہموار ہو جاتی ہے، تفصیلات میں جائے بغیر، بس ٹھیک ہے، یہاں ہم اِس کے قائل ہو جائیں گے، وہاں ہم ’’حمل المطلق علی المقید‘‘ میں حنفی موقف کو چھوڑ کر شافعی لے لیں گے، یہ سوچے بغیر کہ بھئی، وہ تو اسی بحث سے نکلا ہوا ایک نتیجہ ہے، اور جب آپ اِس میں اِس کے قائل ہیں تو اُس میں اُس کے قائل کیسے ہو سکتے ہیں؟

اور میرے نزدیک اس کا جو سب سے نقصان دہ اثر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اصولِ فقہ اور فقہ کا آپس میں جو تعلق ہے، وہ منقطع ہو گیا ہے۔ اصولِ فقہ آپ دورِ متاخرین کی کتابوں سے پڑھتے اور پڑھاتے آ رہے ہیں۔ اس میں نظری بحثیں تو آپ کو بہت ساری ملیں گی اور اس میں فقہی جزئیات کی مثالیں بھی ملیں گی، لیکن اصولِ فقہ کو فقہ کے لیے کیسے استعمال کیا جاتا ہے، یہ کام مشکل ہی ہے کہ اِن کتابوں سے سمجھ میں آئے۔ اور نہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جو اتنی ساری فقہ وجود میں آئی ہے، یہ اس اصولِ فقہ سے کیسے وجود میں آئی ہے۔

بلکہ جوزف شاخٹ، جرمنی کا جو بڑا مشہور مستشرق گزرا ہے اور اس نے اسلامی قانون اور اصول پر بہت ساری چیزیں لکھی بھی ہیں، اور یورپ میں اور امریکہ میں حتیٰ کہ پاکستان میں ہر جگہ اس کے متاثرین بہت زیادہ پائے جاتے ہیں، کچھ مانتے ہیں، کچھ نہیں مانتے، کچھ کو پتہ ہے، کچھ کو نہیں، لیکن اثرات جوزف شاخٹ کے بہت زیادہ ہیں۔ اس کا ایک بڑا دلچسپ دعویٰ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ جو فقہ ہے جس کو آج ہم جانتے ہیں، وہ کہتا ہے یہ فقہ ۱۳۲ ہجری میں وجود میں آ چکی تھی۔ بنی امیہ کی حکومت جب ختم ہوئی ۱۳۲ھ میں، بنو عباس کی آئی، وہ کہتے ہیں اس وقت تک یہ فقہ وجود میں آ چکی تھی۔ اچھا، ہمارے لوگ اس سے بڑا لطف بھی اٹھاتے ہیں، حظ بھی اٹھاتے ہیں کہ دیکھیں فقہ کی عظمت کی ایک دلیل ہمیں مل گئی، ۱۳۲ھ میں، عہدِ رسالت سے اتنا قرب بھی ہوا، فقہ وجود میں آ چکی تھی جو اَب ہمارے سامنے ہے۔

یہی صاحب اسی کتاب میں امام شافعی رحمہ اللہ کو اصول الفقہ کا ماسٹر آرکیٹیکٹ کہتے ہیں۔ یہ الفاظ ہیں ان کے، امام شافعی ماسٹر آرکیٹیکٹ آف اصول الفقہ ہیں۔ امام شافعی کی پیدائش کب ہوئی ہے؟ ۱۵۰ھ میں۔ ان کی پیدائش سے اٹھارہ سال پہلے فقہ وجود میں آ چکی تھی۔ اصولِ فقہ کے خالق اس کے بعد پیدا ہوئے۔ گویا فقہ اور اصول کا آپس میں کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے، اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔

جو حنفی اصولی پیراڈائم ہے، اصولی منہج ہے، اور اس کو جس طرح ہم نے اپنے استاذ محترم نیازی صاحب سے سیکھا ہے، اس کی رو سے ہر فقہی مذہب ایک مستحکم اور مستقل اصولی نظام ہے۔ فرقہ نہیں ہے، اصولی نظام (سسٹم آف انٹرپریٹیشن) ہے۔ اندرونی طور پر ہم آہنگ (انٹرنلی کوہیرنٹ) ہے۔ اس لیے جتنے مذاہب ہیں، یوں کہیں اتنے ہی اصولی نظام ہیں۔ شافعی مذہب ایک مستقل شافعی اصولی نظریہ ہے، شافعی اصولی نظام ہے۔ حنفی مذہب ایک مستقل اصولی نظام رکھتا ہے۔ مالکی مذہب ایک مستقل اصولی نظام ہے۔ اسی طرح دیگر مذاہب بھی۔

یہ سوال میں پھر اٹھا رہا ہوں کہ یہ نظریہ بنا کیسے؟ دیکھیں، اس طرح پیش کیا جاتا ہے اور کسی حد تک یہ تاریخ درست بھی ہے کہ ہر مذہب کے اصولوں کی تدوین تو الگ الگ ہوتی رہی۔ اِس مذہب میں یہ آئے، اُس مذہب میں وہ آئے۔ یہاں مثال کے طور پر امام کرخی ہیں، امام جصاص ہیں، پھر آگے امام دبوسی ہیں، پھر امام سرخسی ہیں، امام بزدوی ہیں۔ اسی طرح شافعی مذہب میں یہ ہیں، مالکی میں وہ ہیں۔ پھر بعض اوقات آپ کو مذاہب کے اندر بھی متعدد آراء نظر آتی ہیں۔

عام کی بحث میں ہم خصوصاً اس کو دیکھیں گے کہ یہ جو بعض ناقدین آج کل کہتے ہیں کہ: جس کو حنفی مذہب کہا جاتا ہے کہ عام قطعی ہے، تو یہ تو عیسیٰ بن ابان کی رائے ہے جو امام محمد کے شاگرد تھے، اور امام ابوحنیفہ سے تو اصول مروی ہی نہیں ہے۔ اور یہ اصولوں کے استنباط میں بعض لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔ یا چلیں ایک رائے یہ بھی ہے۔ لیکن ایک رائے وہ بھی ہے جو امام سمرقندی سے روایت ہے۔ بلکہ ایک صاحب نے تو اس پر پورا پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ اب اسی سے خوشہ چینی کر کے ہمارے ہاں بھی لوگ اِدھر اُدھر کچھ چیزیں لکھ رہے ہیں کہ یہ عراقی منہج ہے، یہ سمرقندی منہج ہے۔ اور پہلی تین صدیوں میں سارے کا سارا عراقی جو منہج ہے وہ غالب رہا۔ چوتھی صدی ہجری میں سمرقندی منہج امام ماتریدی کے زیراثر سمرقند اور ماوراء النہر میں رائج ہوا۔ تو پانچویں صدی ہجری میں جاتے جاتے دونوں مل گئے اور ایک حنفی مذہب بن گیا۔ اس پر اگلی نشست میں بات کریں گے کہ یہ بات درست بھی ہے یا نہیں ہے۔ لیکن چلیں، پانچویں صدی ہجری تک جاتے جاتے بالآخر حنفی مذہب بن گیا، اسی طرح شافعی مذہب بن گیا، اسی طرح اور مذہب بن گئے۔ 

اب جب مذہب بن گیا، اور اب ہمیں معلوم ہے کہ ان کے نزدیک عام قطعی ہے، ان کے نزدیک ظنی ہے۔ اچھا، اُن کے نزدیک کیا پوزیشن ہے؟ ظنی ہے تو چلیں اُن کو اِدھر کر لیں۔ اِن کے نزدیک ’’حمل المطلق علی المقید‘‘ نہیں ہو سکتا، اور اِن کے نزدیک ہو سکتا ہے۔ اچھا، ان کے نزدیک؟ ان کے نزدیک ہو سکتی ہے اس لیے ان کو اِدھر کر لیں۔ بھئی، پہلے وہ اُدھر تھے، اب میں ان کو اِدھر کیسے کر لوں؟ چلیں مرحلہ بہ مرحلہ جاتے ہیں۔ یہاں وہ اُن کے ساتھ ہیں، یہاں وہ اِن کے ساتھ ہیں۔ یہاں وہ اِن کے ساتھ ہیں، یہاں وہ اُن کے ساتھ ہیں۔ چلیں، اس معاملے میں یہ تینوں ایک طرف ہیں، اس معاملے میں یہ ایک اس طرف ہیں، اس معاملے میں یہ دو اس طرف ہیں۔ 

یہ کوششیں شروع ہوئیں جس کو ’’تقریب بین المذاہب‘‘ کا عنوان دیا جاتا ہے۔ اس کا ایک پہلو تسہیل کا بھی تھا، تقریب کے علاوہ، کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے تو کیا اب اِدھر حنفی کا پورا پڑھے، اُدھر شافعی کا پورا پڑھے؟ یہ ساری چیزیں ایک ہی جگہ مل جاتی ہیں۔ اور ظاہر ہے اس دوران میں انسان ایک دوسرے سے اخذ و استفادہ تو کرتے رہتے ہیں، تو وہ بھی ہوا۔

تو اس دور کے بعد، آپ یوں کہیں کہ پانچویں صدی ہجری کے بعد جو اصولِ فقہ پر لکھی گئی کتابیں ہیں، تو ان میں آپ کو تسہیل کے فوائد بھی نظر آتے ہیں، اخذ و استفادے کے آثار بھی نظر آتے ہیں، تقریب کی وجہ سے کچھ اچھا اچھا بھی آپ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے نتیجے میں اصولِ فقہ اور فقہ کا تعلق آپس میں منقطع ہو گیا۔ اصل جو آپ کا نظام ہے، وہ کہاں گیا؟ وہ تو پانچویں صدی ہجری کی کتابوں تک محدود رہ گیا۔ موجودہ نصابی کتب سے وہ معلوم نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی متاخرین کی کتابوں سے اسے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ 

اصل منہج کی بازیافت کیسے کرنی ہے؟ 

اس کے لیے پہلا کام یہ کرنا ہے کہ ’’تقریب بین المذاہب‘‘ سے پہلے کی دنیا کی طرف واپس جانا ہے۔ یعنی میں یہ نہیں چاہتا کہ حنفی، شافعی، مالکی آپس میں لڑ پڑیں، لیکن اصولی منہج کو سمجھنا ہے تو یہ جو بعد میں مکس اَچار ہم نے بنا دیا ہے، اس سے پہلے جو اصل پوزیشن تھی، اُس دنیا میں جائیں اور اُس دور میں لکھی گئی کتابیں دیکھ لیجیے۔

پانچویں صدی ہجری اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ سارے یہ مانتے ہیں کہ یہاں تک آتے آتے پورا حنفی نظام بھی ہمارے سامنے آ گیا، یہ بھی آ گیا، وہ بھی آ گیا۔ اور آپ کو بڑے بڑے اساطین اس دور میں نظر آتے ہیں ہر مذہب میں۔ یوں کہیں کہ علمی لحاظ سے، ہماری علمی تاریخ میں ہم اس مقام تک پہنچے اور یہاں تک فقہ اور اصول آپس میں جڑے ہوئے تھے۔

تو اس ساری بحث کی روشنی میں اس سیشن کے اختتام پر جو میں آپ کے سامنے نتیجہ رکھنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جو ظاہر الروایہ ہے، اس کو بطورِ فقہ ہی نہیں، بطورِ اصول بھی پڑھائیے۔ کیسے؟ اگلی نشست میں ہم ان شاء اللہ اس پر بات کریں گے۔ لیکن میری تھیسس سٹیٹمنٹ (بنیادی موقف) یہ ہے کہ جو ظاہر الروایہ ہے، یہ صرف ہماری فقہ کی کتب نہیں ہیں بلکہ یہ ہماری اصول کی کتب ہیں۔ اور اسی وجہ سے تو ہمارے فقہاء ان کو مسائل الاصول کہتے ہیں۔ کیسے؟ یہ ہم اگلی نشست میں دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔

حنفی مسائل ہمیں آج بھی الگ نظر آتے ہیں، شافعی مسائل آج بھی الگ نظر آتے ہیں، اور باقی بھی، لیکن اصولِ فقہ کی کوئی بھی کتاب اٹھائیں تو حنفی، شافعی، مالکی سب اکٹھے نظر آتے ہیں۔ الگ الگ جزئیہ میں ان کا اختلاف نظر آئے گا لیکن آپ کو عمومی طور پر وہ ایک ہی لائن میں جا رہے ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے، ظاہر ہے سارے جو مناہج ہیں وہ شریعت کو سمجھنے کے لیے ہیں۔ اور اس میں جیسے امام شاطبی نے اپنی کتاب کا نام بھی الموافقات رکھا، تو موافقات تو فی اصول الشریعہ بہت کچھ ہیں۔ لیکن یہی بات جو یہاں پائی جاتی ہے اور وہاں بھی پائی جاتی ہے، وہ اِس نظام میں کیسے ہے اور اُس نظام میں کیسے ہے؟ اس سے بہت بڑا فرق واقع ہوتا ہے۔ یعنی بظاہر تو آپ کو یہ بات اور وہ بات ایک نظر آتی ہے — اور وہ ہے بھی ایک بات —  لیکن یہ بات اِس نظام میں یہاں رکھی ہوئی ہے، اور اُس نظام میں وہاں رکھی ہوئی ہے،  دونوں کا اپنے اپنے اصولوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس سے ایک الگ دنیا بن جاتی ہے، اسی وجہ سے تو پھر نتائج میں اختلاف ہوتا ہے۔

سوالات اور تعلیقات

سوال: 

جیسے ہم اصولِ فقہ پہ غور کریں تو عام خاص وغیرہ، یہ جتنی مباحث ہیں، ان کا تعلق ہمیں عربی سے نظر آتا ہے، یہ گویا عربی کو سمجھنے کے لیے یہ سارے مباحث کے نام رکھے گئے ہیں، ڈیفائن کیے گئے ہیں، تو ان میں تو سب مل نہیں جائیں گے؟ ان میں کیسے جدا؟

جواب:

دیکھیں، شاید سوال میں پوری طرح نہیں سمجھا، لیکن جو میں سمجھا ہوں اس کی روشنی میں بتا دیتا ہوں۔ ایک تو یہ بات بھی پوری درست نہیں ہے، بڑی حد تک درست ہے، لیکن یہ سارے اصول صرف عربی سمجھنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ درست ہے کہ قرآن و سنت ظاہر ہے عربی میں ہیں، آثارِ صحابہؓ عربی میں ہیں، بنیادی مسئلہ تو یہ ہے کہ متن کو کیسے سمجھا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سارے اصول ہیں جو اس لیے ہوتے ہیں کہ اِس کا اُس کے ساتھ تعلق کیا ہے، اور جب یہ دونوں بھی ہوں تو اُس تیسرے کے ساتھ ان کا تعلق کیسے بنتا ہے؟ تو وہ تو ساری عقلی استدلال کی بحث ہے۔ اور اس میں ہم اِس کو کیوں ترجیح دیتے ہیں اور وہ اُس کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ 

استصحاب الحال کو لے لیجیے کہ ہم بھی مانتے ہیں، وہ بھی مانتے ہیں، لیکن ہم صرف دفع کے لیے مانتے ہیں، وہ استحقاق کے لیے بھی مانتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مثال کے طور پر مفقود الخبر (لاپتہ شخص) ہے، اب اس کو زندہ فرض کیا جائے یا مردہ؟ تو اگر آپ اس کو استحقاق کے لیے بھی مانتے ہیں اور دفع کے لیے بھی مانتے ہیں، اس کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے، تو اب اس مفقود الخبر کو اس کا وارث مانا جائے گا، کیونکہ وہ زندہ ہے جب تک اس کی موت کا ثبوت نہ ملے۔ لیکن حنفی کہیں گے کہ نہیں، دفع کے لیے تو ہم اسے مانتے ہیں، کیونکہ ’’ابقاء ما کان علیٰ ما کان‘‘ ہے، تو جو تھا اس کو ہم جاری رکھیں گے، لیکن جو نہیں تھا اس کو کیسے مانیں؟ یعنی اس وقت تو یہ وارث نہیں تھا، اب اس کے لیے نیا حق پیدا کیا جا رہا ہے، اس کے لیے تو اس کی زندگی کا ثبوت چاہیے۔ تو یہ صرف لفظ یا لغت کا مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: 

سر، قانون کے متعلق ایک سوال تھا کہ قانون اور انصاف میں کیا فرق ہے؟ اور اگر انصاف قانون کے تحت ہی آتا ہے، تو اگر کوئی قانون کسی کے ساتھ ناانصافی کرے، تو کیا اس قانون کو ماننا اور اس کی پیروی کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب: 

یہ بہت اچھا سوال کیا آپ نے اور یہ تو وہی مسئلہ ہے جس کی وضاحت کے لیے ہم نے اصولِ قانون میں دو مختلف مذاہب کا ذکر کیا: ایک وضعیت پسندوں (پازیٹوسٹ) کا اور ایک فطرت پسندوں (نیچرلسٹ) کا۔ 

وضعیت پسندوں کا تو یہ کہنا ہے کہ انصاف، عدل، اچھائی، برائی اور اس طرح کی اور خوبصورت اصطلاحات، ان چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بس قانون، قانون ہے۔ اس کو جوں کا توں ماننا لازم ہے۔ بہتر ہے کہ اس کے نتیجے میں آپ کو یہ فائدہ ہو، وہ فائدہ ہو، لیکن قانون اور اخلاق کا آپس میں کوئی لزوم کا تعلق نہیں ہے۔ انصاف کا جہاں تک تعلق ہے، وہ کہتے ہیں ہم لیگل جسٹس کے قائل ہیں۔ لیگل جسٹس اسے کہا جاتا ہے کہ justice in accordance with law۔ قانون میں جو کچھ ہے ہم نے وہ آپ کو دینا ہے اور وہی انصاف ہے۔ افلاطون کی جو تعریف ہے عدل کی،   to give everyone his due، ہر کسی کو اس کا حق دیا جائے، لیکن  everyone's due  کہاں سے معلوم ہوگا؟ پازیٹوسٹ کہتے ہیں وہ قانون سے معلوم ہوگا۔ ہر کسی کو اس کا حق دیں، تو ہر کسی کا کتنا حق ہے؟ یہ ہمیں قانون بتائے گا۔ تو وضعیت پسندوں کے نزدیک جو قانون نے دیا ہے وہ انصاف ہے۔

فطرت پسندوں کے نزدیک البتہ انصاف ایک الگ تصور ہے، ایک آئیڈیل ہے۔ وہ قانونِ فطرت سے معلوم ہوتا ہے، انسان کے دل میں بھی اس کی بنیادیں ودیعت کی گئی ہیں۔ تو عقل و فطرت کے اصول استعمال کرتے ہوئے ہر بندہ عدل اور ناانصافی کا کچھ نہ کچھ تصور رکھتا ہے، اس کی بنا پر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ قانون عادلانہ ہے، یہ ظالمانہ ہے۔ تو جو قانون غیرعادلانہ ہے اس کو تو فطرت پسند قانون ہی نہیں مانتے۔

ہمارے نزدیک کیا پوزیشن ہو سکتی ہے؟ اب دیکھیں، قانون سے ہماری مراد کیا ہے؟ اگر ہماری مراد شریعت ہے تو ہم تو کہیں گے کہ شریعت نے جو دیا وہ انصاف ہے۔ اس لیے جب مجھ سے کوئی سوال پوچھتا ہے وراثت کے مسئلے میں، مثال کے طور پر، کہ عورت کا اتنا کیوں ہے اور مرد کا اتنا کیوں ہے؟ میں کہتا ہوں، مجھے کیا معلوم، اللہ نے دیا ہے تو بس دیا ہے، اور جو دیا ہے صحیح دیا ہے، بالکل یہی ہونا چاہیے، یہی انصاف ہے، کیونکہ اللہ عادل ہے اور اس کا جو نظام ہے وہ حق پر مبنی ہے۔ اس میں بہت ساری حکمتیں میں تلاش کر کے آپ کو بتا سکتا ہوں، کیونکہ انسان کو اللہ نے جو عقل دی ہوئی ہے، اس کو آپ چاہیں تو اُس طرف استعمال کریں، چاہیں تو اِس طرف استعمال کریں، لیکن حکمت کی بحث الگ ہے۔ جہاں تک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بالکل منصفانہ قانون ہے، کیونکہ شریعت ہے، کیونکہ اللہ کا قانون ہے۔

لیکن وضعی قانون کے متعلق تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ لازماً منصفانہ ہے کیونکہ وہ قانون ہے۔ نہیں! انسانی قانون ہے، اس میں کمی بیشی غلطی سب کچھ ہو سکتی ہے۔

آپ کے سوال کا اگلا حصہ یہ تھا کہ اگر غیر منصفانہ قانون ہے، ظالمانہ قانون ہے، تو کیا اس کی پابندی لازم ہے یا نہیں؟ اب یہاں سے مسئلہ دیگر مسائل کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک پہلو اس کا یہ ہے کہ ’’لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق‘‘ یا ’’فی معصیۃ اللہ عزوجل‘‘، جیسے مسند احمد کی روایت ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے۔ تو کیا یہاں ’’لا طاعۃ‘‘ سے مراد صرف یہ ہے کہ میں نہیں مانوں گا، یا اس سے آگے بڑھ کر میں اسے بدلنے کی بھی کوشش کروں گا؟ اب وہ جو بدلنے کی کوشش کروں گا، کیا وہ انفرادی سطح پر ہوگی یا اس کے لیے اجتماعی کوشش ہوگی؟ کیا پھر وہ صرف پرامن ذرائع سے ہوگی یا مزاحمت کے لیے مسلح جدوجہد بھی کی جائے گی؟ وہاں سے بات خروج کے جواز و عدم جواز اور شرائط کی طرف چلی جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کے ساتھ اور بھی بہت سارے مسائل منسلک ہو جاتے ہیں۔

اس کا ایک پہلو اور بھی ہے، جیسے کچھ دیر پہلے میں نے ذکر کیا کہ کیا قضاء صرف ظاہراً نافذ ہوتی ہے یا باطناً بھی؟ فقہاء بعض امور میں اس کو ظاہراً نافذ مانتے ہیں، بعض میں باطناً بھی نافذ مانتے ہیں۔ اس کی تفصیلی وجوہات ہیں، تفصیلی دلائل ہیں۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے ایک خاتون اور ایک مرد کا تنازعہ تھا۔ وہ کہتا تھا یہ میری بیوی ہے، یہ کہتی تھی کہ نہیں ہوں۔ گواہ پیش ہوئے، گواہ کا تزکیہ بھی ہوا اور وہ عادل ثابت ہوئے، اور ان کی گواہی پر آپ نے مرد کے حق میں فیصلہ دیا۔ تو خاتون نے کہا کہ اس کے ساتھ بھیجنا ہی ہے تو نکاح پڑھوائیے۔ تو آپؓ نے کہا ’’شاھداک زوّجاک‘‘۔ امام سرخسی کے الفاظ ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اب میں نکاح کیسے پڑھاؤں، فیصلہ تو ہو چکا ہے، فیصلے کے مطابق تم اس کی بیوی ہو۔ تو وہ ظاہراً ہی نہیں، باطناً بھی نافذ ہے۔

اور اس کا ایک پہلو وہ بھی ہے، جو میں نے سقراط کی مثال ذکر کی، پتہ نہیں آپ لوگوں کے ذہن میں وہ مثال آئی یا نہیں؟ اور نہیں آئی تو میں پوچھوں گا کہ کیوں نہیں آئی؟ کہ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام نے جب اس بندے کو مکا مارا اور وہ مر گیا، اور پھر دور سے ایک بندہ دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ ’’ان الملأ یاتمرون بک لیقتلوک‘‘ اور آپؑ وہاں سے نکلے۔ تو ان کو نکلنا چاہیے تھا یا نہیں نکلنا چاہیے تھا؟ ظاہر ہے وہ نبی ہیں۔ ہم تو کہیں گے کہ ان کو نکلنا چاہیے تھا، لیکن آپ سوچیے کہ کیوں؟ 

سوال:

السلام علیکم سر، پہلے تو آپ کو کراچی میں خوش آمدید۔ اچھا سر، آپ کا ایک مقالہ ہے جس میں آپ اسلامی نظریاتی کونسل … کہ اس کا کوئی مربوط موقف نہیں ہے … کیا ہمارے پاس فقہ کا کوئی ایسا نظام ہے جو حنفی اصولوں پر قائم ہو؟ کیونکہ فقہ حنفی کا واحد مظہر  جو ہمارے پاس بہت نمایاں ہے، وہ تب ہوتا ہے جب پاکستان میں رمضان کا چاند دیکھا جاتا ہے کہ حنفی فقہ کے مطابق سحری اور افطاری کا وقت یہ ہے، اور فقہ جعفریہ کے مطابق یہ ہے۔ اس کے علاوہ کہیں ہم اس کا مظہر نہیں دیکھتے۔ تو اس بارے میں کیا ہونا چاہیے؟ جیسا کہ غامدی صاحب کی ڈاکٹرائن ہے کہ یہ سب بے کار (ریڈنڈنٹ) ہے۔ تو سر ہمیں ان سب مکاتب فکر کے حوالے سے کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہیے؟

جواب:

شکریہ ثناء۔ بہت اچھا سوال ہے۔ دیکھیں، آپ نے جو میرے مقالے کا ذکر کیا ہے، تو میں دوستوں کو بتاؤں کہ یہ دراصل اس مقالے کا حوالہ دے رہی ہیں جس میں میں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے اصولِ فقہ معلوم کرنے کی کوشش کی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ کوئی اصولِ فقہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو کونسل کی کمپوزیشن بدلتی رہتی ہے، آج یہ ممبرز ہیں، کل وہ ہیں، پھر وہ ہیں۔ ایک تو یہ وجہ ہے۔ پھر یہ کہ جو کونسل کے ممبرز ہیں، تو ظاہر ہے کوئی اس مکتبِ فکر سے ہے، کوئی اس مکتبِ فکر سے ہے، اور ہر بندے کو اپنے مخصوص اپروچ (نظریے) کے مطابق رائے دینے کا حق بھی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، چونکہ ہم نے اس ادارے کو کام سونپا ہے، تو اس ادارے کو کچھ اصول اور کچھ قواعد اور کچھ ضوابط تو اپنے سامنے رکھنے چاہئیں۔ یہ کیا ہوا کہ اگر شیرانی صاحب چیئرمین ہوں تو ہلکا پھلکا ’’تشدد‘‘ اخبارات کی زینت بنے گا، اور اگر خالد مسعود صاحب چیئرمین ہوں تو پورے حدود قوانین کو لپیٹ دیا جائے گا، بالخصوص جب غامدی صاحب بھی ان کے ساتھ ممبر ہوں؟ تو اس طرح نہیں ہونا چاہیے۔ ایک تو یہ ہے۔

دوسرا یہ کہ اسلامی نظریاتی کونسل ہو، وفاقی شرعی عدالت ہو، یا کوئی اور اس طرح کا اجتماعی ادارہ ہو، اصل میں اُن کا کام اس دائرے میں ہے جس میں بڑی حد تک یوں کہیں کہ مذاہب کا اختلاف مدہم ہو جاتا ہے۔ دیکھیں، تین دائرے اگر میں بتاؤں: 

  1. اگر آپ متن کے بالکل قریب ہیں، جو پہلا دائرہ ہے اجتہاد کا، کہ نص کا جو مفہوم ہے وہ متعین کرنا ہے، اس کی لٹرل انٹرپریٹیشن کرنی ہے، وہاں کافی ساری بحث پائی جاتی ہے۔ 
  2. پھر دوسرا دائرہ اس کے بعد یہ ہے کہ نص سے میرے نزدیک یہ دس رولز معلوم ہوئے، ان کے نزدیک یہ بارہ رولز معلوم ہوئے۔ اب ان میں کون سے وہ ہیں جن کی ہم علت کی بنیاد پر آگے توسیع کر سکتے ہیں، اور کن کی نہیں کر سکتے۔ اس مسئلے پر اختلاف ہے۔ پھر معلوم ہوا، چلیے، یہ یہ علتیں ہو گئیں۔ یہ دوسرا دائرہ ہے، یہاں اختلاف اس پہلے دائرے کی بنسبت تھوڑا کم ہو جاتا ہے۔ 
  3. پھر یہاں دلالات سے یہ سارا کچھ معلوم ہوا، علت سے یہ سارا کچھ معلوم ہوا۔ اب اتنا ڈیٹا میرے پاس بھی آ گیا، اتنا ڈیٹا ان کے پاس بھی آ گیا ہے۔ اس کی بنیاد پر اب شریعت کا عمومی مزاج اور مقاصد الشریعۃ کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نئے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ جو مسائل اس دائرے میں تھے وہ بھی ہو چکے، اور جو اس دائرے میں تھے وہ بھی ہو چکے۔ اب جو وسیع دائرہ ہے یعنی شریعت کے عمومی اصولوں اور مقاصد کی روشنی میں نئے مسائل کا حل، تو اس میں بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ تو اصل میں توجہ ان مسائل کی طرف ہونی چاہیے۔ مسئلہ یہ ہوا ہے کہ وہاں تک پہنچنے کے بعد ہم نے مقاصد کی توپوں کا رخ ان احکام کی طرف کر دیا ہے اور اب ہم مقاصد کی روشنی میں نصوص کی تعبیرِ نو کی باتیں کرتے ہیں۔ بھئی، مقاصد تو نکلے ہی ان نصوص سے ہیں۔ فرینکنسٹائن بن گئے ہیں یہ مقاصد ہمارے لیے۔ (فرینکنسٹائن: جب ایجاد اپنے موجد کے خلاف ہو جائے)

پاکستان میں البتہ، ایک تو آئین کا آرٹیکل 227 ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ کوئی قانون اسلامی حکم سے متضاد نہیں بنایا جائے گا۔ اس میں ایک وضاحت 1981ء یا 1982ء میں شامل کی گئی ہے، اس میں یہ لکھا ہے کہ قرآن و سنت کی تعبیر کرتے ہوئے ہر فرقہ (سیکٹ کا لفظ وہاں آئین میں ڈالا ہوا ہے) کا جو مخصوص نقطہ نظر یا تصور ہے قرآن و سنت کا، وہی ان کے لیے مانا جائے گا۔ یعنی سیکٹس کہیں یا سکولز آف لاء (مکاتب فکر) کہیں، جو اُن کا اندرونی نظام ہے اسے آئینی تحفظ دے دیا گیا ہے۔ اسی لیے تو شرعی عدالت میں کوئی اس بنا پر پٹیشن نہیں لا سکتا کہ مثال کے طور پر نکاحِ متعہ جائز ہے یا ناجائز ہے، اسی طرح دیگر مسائل بھی ہیں۔

فیملی لاء کے معاملات میں تو انگریزوں کے دور میں جو قانون بنا تھا، پھر 1962ء میں اس کا جو آخری ورژن ہم نے نافذ کیا تھا جو اب تک نافذ ہے — ’’مسلم پرسنل لا شریعت ایپلیکیشن ایکٹ 1962ء — اس میں کہا گیا ہے کہ نکاح، طلاق، وراثت، ہبہ، وقف اور ایک لمبی فہرست ہے، ان مسائل میں سبجیکٹ ٹو لیجسلیشن (قانون سے مشروط) — جبکہ لیجسلیشن تو ہے ہی نہیں — تو یہ سبجیکٹ ٹو لیجسلیشن والی فہرست تو یوں کہیں کہ بیکار (ریڈنڈنٹ) ہے کیونکہ بہت کم ہوئی ہے۔ تو ان مسائل میں Shariah is the rule of the dicision، اب اس کو آئین کے آرٹیکل 227 کی وضاحت کے ساتھ شامل کریں تو ڈاکٹر محمود الرحمان فیصل کیس ہے 1993ء کا، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے، اس میں انہوں نے کہا کہ یہ جو مختلف مذاہب کا مخصوص پرسنل لاء ہے this is beyond the scope of the authority of the state، الفاظ اس طرح کے نہیں ہیں لیکن مفہوم یہ ہے کہ اس میں تو شریعت کورٹ بھی مداخلت نہیں کر سکتی۔ 

انگریزوں کے دور میں پریوی کونسل تک کیسز جاتے تھے، اور وہ اگر حنفی فریق ہیں تو ہدایہ اور ہندیہ کو دیکھ کر فیصلہ کرتے تھے، ان کے ترجمے دیکھ کر، کبھی کبھی غلط سلط ترجمہ پڑھ کر، کبھی اسے غلط سمجھ کر، لیکن کوشش کرتے تھے۔ اور اگر اثنا عشری ہے تو مثال کے طور پر شرائع الاسلام دیکھ کر کریں گے۔ اور اگر ایک حنفی ہے اور ایک شافعی ہے تو مدعا علیہ (ڈیفنڈنٹ) کے مذہب کو دیکھیں گے۔

لیکن ہم نے یہاں پھر یہ سلسلہ شروع کیا کہ ہم براہِ راست قرآن و سنت سے استدلال کریں گے۔ تو جب ہم نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہم مذاہب کو چھوڑ کر براہِ راست قرآن و سنت سے استدلال کریں گے، تو وہاں سے مسائل پیدا ہوئے۔ اچھا، عملاً اب بھی عدالتیں کرتی کیا ہیں؟ کہتی تو ہیں کہ ہم براہِ راست قرآن و سنت کی انٹرپریٹیشن (تعبیر) کریں گے، عملاً کرتی یہ ہیں کہ بس کبھی فلاں کو اور کبھی فلاں کو شرعی مشیر یا عدالتی معاون (یورس کنسلٹ یا ایمیکس) بنا کر اس سے پوچھا کہ قرآن کیا کہتا ہے، سنت کیا کہتی ہے، فقہاء کیا کہتے ہیں، پھر اس میں سے کوئی رائے چن لی۔ تو عملاً‌ اس طرح کرتے ہیں۔ 

حتیٰ کہ جو آپ کا قانونِ قصاص و دیت ہے، اس میں یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ یہ حنفی فقہ پر مبنی ہے یا یہ حنفی فقہ کے مطابق ہے، لیکن وہ سارا دراصل حنفی فقہ سے ماخوذ ہے اور اس میں کہیں کہیں انہوں نے ڈنڈی ماری ہے، باقی بنیادی طور پر وہ حنفی قانون ہے۔ اور سب سے بڑا ظلم وہاں کیا ہے جہاں دیت کا سارا قانون تو دیا ہوا ہے جبکہ عاقلہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ (عاقلہ: بیت المال، برادری، اجتماعی فنڈ)۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دیت کی رقم کے لیے اس سال جو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق کوئی اکیاسی لاکھ روپے سے اوپر ہے۔ اب مثال کے طور پر کوئی بندہ ایکسیڈنٹ میں غلطی سے مارا گیا ہے تو اس نے اکیاسی لاکھ دینا ہے۔ اگر دو بندے مارے گئے ہیں تو اکیاسی لاکھ کو دو سے ضرب دیں، تین مارے گئے ہیں تو تین سے ضرب دیں۔ اس کے نتیجے میں بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ بندہ باقی سزا بھگت چکا ہے لیکن دیت ادا نہ کرنے کی بنا پر وہ جیل میں پڑا ہوا ہے۔ تو عاقلہ نہیں ہے۔ اسی طرح اور چیزیں ہیں۔ میں نے اس میں سپریم کورٹ کی کچھ معاونت کی تھی لیکن خیر وہ ایک الگ کہانی ہے۔

اسی طرح ایک قانون ہے ہمارے پاس Enforcement of the Shariah Act 1991، اس کا سیکشن 2 یہ کہتا ہے کہ شریعت کی تعریف یہ ہے: Injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah (اسلامی احکام جیسا کہ وہ قرآن و سنت میں دیے گئے ہیں)۔ سیکشن 4 یہ کہتا ہے کہ تمام قوانین کی تعبیر و تشریح قرآن و سنت کے مطابق کریں گے۔ اور قرآن و سنت کے مطابق جب ہم قوانین کی تعبیر و تشریح کریں گے تو ان مآخذ کو دیکھ کر کریں گے۔ تو وہاں صحابہ کرامؓ کے اقوال اور اس کے ساتھ کچھ اس طرح کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ opinions of the eminent/recognized jurists تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گنجائش تو بہت زیادہ ہے، چاہے صراحتاً حنفی فقہ یا شافعی فقہ کا نام نہ ذکر کیا گیا ہو، لیکن ججز کے پاس جو اتھارٹی چاہیے وہ تو موجود ہے، لیکن وہ اس پر عمل نہیں کرتے یا نہیں کر سکتے، وہ الگ بات ہے۔ 

اس لیے ہم تو کوشش کرتے ہیں، اپنے طلباء کے ذریعے بھی، اور جہاں تک ججز کی ٹریننگ وغیرہ ہم کر سکتے تھے اور ہم نے کی، تو اس میں تو ہم نے ان کو مسلسل یہی بات یاد دلائی ہے۔ الحمدللہ ایک نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ جب 2023ء میں  Supreme Court (Practice and Procedure) Act, 2023 کے متعلق سپریم کورٹ میں مقدمہ تھا، تو اس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے چیف جسٹس کی حیثیت سے جو فیصلہ لکھا، اس میں صراحت کے ساتھ یہ کہا کہ تمام قوانین اور آئین کی ایسی تعبیر اختیار کرنا لازم ہے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ ایک سوال اس میں یہ تھا کہ کیا اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ دیا جانا چاہیے کیونکہ قرآن و سنت کے مطابق شرعی عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہے۔ تو اس لیے  اگر دو تعبیریں ممکن ہیں تو ہم وہ تعبیر لیں گے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو، آئین کی بھی اور قانون کی بھی۔ اس فیصلے کے ساتھ نو دیگر ججز نے دستخط کیے، دس ججز کا اس پہ اتفاق تھا۔ پانچ ججز نے جو الگ رائے لکھی، اس میں دیگر چیزوں پر اختلاف کیا، اس اصول پر اختلاف نہیں کیا۔ تو یوں کہیں کہ اس فیصلے کو تو اب فل کورٹ کے فیصلے کی حیثیت حاصل ہے۔ اب بھی اگر ہم اسے استعمال نہیں کر سکتے تو یہ تو بڑے افسوس کی بات ہے۔

https://youtu.be/Lku2jpF9zeU

https://youtu.be/OYuXJdZqmJo

فقہ / اصول فقہ

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات