سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۳)
اصولِ تفسیر کی تدوین میں سلف کی تفسیر کا کردار

تیسرا محور
اصولِ تفسیر کی تدوین میں سلف کی تفسیر کا کردار

اس محور میں درج ذیل موضوعات پر گفتگو کی جائے گی:

  1. اصولِ تفسیر میں تفسیرِ سلف کی حیثیت و مقام
  2. تفسیرِ سلف سے اصول و قواعد کے استنباط میں کمزوریاں: اسباب و وجوہات
  3. سلف کے تفسیری ذخیرے سے اصول کی استخراج کے لیے اہم تجاویز

سوال 1: اصولِ تفسیر میں تفسیرِ سلف کی حیثیت و مقام

علومِ قرآن پر عصری تحقیقی کاوشوں میں اصولِ تفسیر کی تدوین ایک مرکزی موضوع بن چکا ہے۔ آپ کی نظر میں اصولِ تفسیر کی تشکیل و ترتیب میں سلف کی تفاسیر کا کیا کردار ہے؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

بلاشبہ کسی بھی علم کی صحیح بنیاد قائم کرنے کے لیے لازم ہے کہ اس کا آغاز اس علم کی عملی تطبیقات سے کیا جائے، کیونکہ عملی پہلو سے رابطہ کے بغیر صرف نظریاتی پہلو پر انحصار کرنا، لازماً‌ ایسے تصورات اور بنیادیں پیدا کرتا ہے جو حقیقت کے برعکس اور غلط ہوتی ہیں، اور جتنا یہ نظریات عملی تطبیقات سے دور ہوں، اتنا ہی وہ حقیقت سے زیادہ دور ہو جاتی ہیں۔

یہ امر مسلّم ہے کہ سلف کی تفسیر علمِ تفسیر کا قطبِ رحی اور مرکز اور محور ہے، جس کے گرد اس علم کی تمام تر گردش ہوتی ہے۔ اور یہی علمِ تفسیر کی اہم بنیاد ہے۔ محقق جتنا سلف کی تفسیر کے اس بنیادی سرمائے سے دور ہوگا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب کو سمجھنے میں اتنا ہی زیادہ لغزش کا شکار ہوگا، اور جتنا وہ اس سرمائے سے گہری وابستگی رکھے اور اس سے قریب ہوگا، اتنی ہی اللہ کی کتاب کے بارے میں اس کی فہم زیادہ راسخ، درست اور صحیح ہوگی۔

چونکہ اصولِ تفسیر وہ قواعد و ضوابط ہیں جو علمِ تفسیر کو منظم و مرتب کرتے ہیں، اس لیے سلف کی تفسیر لازماً‌ اصولِ تفسیر کی تشکیل و ترتیب اور اس کے مسائل کی تنظیم میں ایک بنیادی ستون ہے۔ اصولِ تفسیر پر لکھی جانے والی تصانیف سلف کی تفسیر کے اس بنیادی سرمائے سے جتنی دور ہوں گی، اتنی ہی کمزور اور علمِ تفسیر سے اتنی ہی بیگانہ ہوں گی، اور ان میں سلف کی تفسیر کا اثر جتنا گہرا ہوگا، وہ اتنی ہی اس علم کی تعریف و تاسیس میں زیادہ مستند اور معتبر ہوں گی۔

حقیقت یہ ہے کہ اصولِ تفسیر پر لکھی جانے والی اکثر تصانیف میں سلف کی تفسیر کسی فعال اور بنیادی عنصر کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی نظر نہیں آتی، بلکہ سلف کی تفسیر ان سے یکسر غائب رہی، جس کی وجہ سے یہ تصانیف کمزور ہو گئیں اور اس علم کے لیے ایک اجنبی مواد بن کر رہ گئیں۔ یہی بات ایک ممتاز تحقیقی مطالعے میں ثابت کی گئی ہے، جس نے اصولِ تفسیر میں معاصر تالیف کی حقیقی کیفیت کو عیاں کیا ہے، اور وہ ہے: "اصول التفسیر فی المؤلفات؛ دراسۃ وصفیۃ موازنۃ بین المؤلفات المسماۃ باصول التفسیر"، جو مرکز تفسیر کی اشاعات میں سے ہے، اور تین محققین خلیل محمود الیمانی، محمود حمد السید، اور باسل عمر مصطفیٰ نے اسے مرتب کیا ہے۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ ایک محقق نے اسی نوعیت کے موضوع پر اپنا مقالۂ ڈاکٹریٹ رجسٹر کرایا، اور مجھ سے مشورہ لینا چاہا تو جب میں نے اس سے مباحث کے طریقۂ کار پر گفتگو کی، تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اصولِ تفسیر کی ایک کتاب اٹھائی، اس کے موضوعات کی فہرست نکالی، انہی مضامین کو بنیاد بنا کر تحقیق کی پوری منصوبہ بندی بنا لی۔ پھر سلف کی تفسیر کا مطالعہ شروع کیا اور ان کا مواد لے کر اس نے انہی عنوانات پر اسے ترتیب دیا جو اس نے اس کتاب سے اخذ کیے تھے۔ غرض یہ کہ اس نے خوب محنت کے بعد وہی کام کیا جو پہلے سے موجود تھا، اس کے باوجود اسے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری اعلیٰ ترین امتیاز کے ساتھ مل گئی۔ افسوس کہ آج بہت سی علمی تحقیقات کا یہی حال ہے، اور اللہ کے سوا کس سے فریاد کریں۔

سوال 2: تفسیرِ سلف سے اصول و قواعد کے استنباط میں کمزوریاں: اسباب و وجوہات

جیسا آپ نے کہا کہ تفسیر السلف اصولِ تفسیر کی بنیاد میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مطالعات، جو سلف کی تفسیر سے اصول اور قواعد کو اخذ کرنے اور انہیں مدون کرنے کا کام کر رہے ہیں، اکثر کیوں کمزور نظر آتے ہیں، ان کی کمزوری کی نمایاں ترین وجوہات کیا ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

اگر میں یہ کہوں تو شاید مبالغہ نہ ہو کہ حالیہ دور میں قرآنی مطالعات اپنی کثرت اور تالیف و تصنیف کے لحاظ سے ایسے نقطے پر پہنچ چکے ہیں جہاں یہ کسی سابقہ دور میں نہیں پہنچے تھے، لیکن افسوس کہ ان میں سے اکثر مطالعات شدید کمزوری کا شکار ہیں، خواہ اصولِ تفسیر کا معاملہ ہو یا قرآنی علوم کی دیگر شاخوں کا۔ یہ ایک حقیقت ہے جو اصلاحِ احوال کی متقاضی ہے، نہ کہ محض اعتراض اور تردید کی۔

سلف کی تفسیر سے اصول و قواعد کے استخراج اور ان کی تدوین کے کام میں لگے ہوئے مطالعات کی کمزوری کی اہم ترین وجوہات یہ ہیں:

  1. بعض معاصرین کا سلف کی تفسیر کی اہمیت کو نا دینا — جیسے کہ اس کے اسناد کی کمزوری پر اعتراض اٹھانا — یہ سمجھے بغیر کہ ائمہ کرام نے اس سے کیسے استفادہ کیا اور کیا طریقہ اپنایا۔ اسی طرح وہ سلف کی تفسیر میں شامل اسرائیلی روایات کے بارے میں شدید احتیاط کی تلقین کرتے ہیں، مگر خود سلف کا ان سے استفادے کا طریقہ کار زیر غور نہیں لاتے۔
  2. اصولِ تفسیر میں تالیف کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تحقیق اصولِ تفسیر میں عموماً‌ — اصول کو عملی تفسیر سے اخذ کرنے کی بجائے — قرآنی علوم اور ان کے نظریاتی مباحث کے دائرے میں گھومتی رہتی ہے؛ اسی لیے ظاہر بات ہے کہ رجحان نہ صرف سلف کی تفسیر سے بلکہ تفسیر اور اس کے تطبیقات سے بھی ہٹ جاتا ہے۔
  3. صرف نقل و تقلید پر انحصار، بغیر تنقیدی یا تحلیلی سوچ کے۔ اور اکثر تصانیف میں جامع مطالعاتی، تجزیاتی اور تنقیدی نقطۂ نظر کا فقدان ہے۔ مثال کے طور پر میں نے جامعہ ازہر — جو کہ قدیم ترین اور اہم ترین جامعہ ہے — میں نصابی کتب کے طور پر پڑھائی جانے والی علومِ قرآن کی اکثر تصانیف کو جمع کیا، تو معلوم ہوا کہ یہ سب ایک ہی دائرے میں گھومتی ہیں، اور ان کا دارومدار زیادہ تر شیخ محمود ابو دقیقہ رحمہ اللہ کی ایک تحریر پر ہے، البتہ انداز بیان میں معمولی فرق اور کچھ غیر اہم اضافے ملتے ہیں۔

سوال 3: سلف کے تفسیری ذخیرے سے اصول کی استخراج کے لیے اہم تجاویز

سلف کے تفسیری ذخیرہ میں تحقیق کو فعال بنانے کے لیے، خاص طور پر اصولِ تفسیر کی تشکیل کے حوالے سے، آپ کی نظر میں اہم ترین تجاویز کیا ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

اولاً‌: محققین کے ہاں سلف کی تفسیر کے مقام و مرتبے کو بلند کرنا، اور انہیں اس کی اہمیت سے آگاہ کرنا۔ تمام دستیاب ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے، جیسے علمی کانفرنسوں، سیمیناروں اور تحقیقی ورکشاپس کا انعقاد۔

ثانیاً‌: عملی و تطبیقی پہلو پر مبنی مہارتی نشستوں کا اہتمام۔

ثالثاً‌: سنجیدہ علمی منصوبوں اور مباحثاتی حلقوں کا قیام، تاکہ سلف کی تفسیر کے گرد اٹھائے جانے والے اشکالات کا حل نکالا جا سکے، جو اس کی اہمیت کو کم کرنے اور بہت سے محققین کا اس میں تحقیق سے رخ موڑنے کی بنیادی وجہ رہے ہیں۔

رابعاً‌: قرآنی مطالعات میں محققین کی رہنمائی کے لیے علمی نشستوں کا انعقاد، تاکہ انہیں اہم تحقیقی سمتوں کی طرف متوجہ کیا جائے، مؤثر علمی تحقیق کے طریقوں سے آشنا کیا جائے، اور سنجیدہ موضوعات ان کے سامنے مطالعے کے لیے پیش کیے جائیں۔

خامساً‌: اصولِ تفسیر اور اس کے قواعد کی خود اپنی سمت کی اصلاح پر توجہ دینا، اور اس سلسلے میں بعض مطالعات کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات کا بغور مطالعہ اور ان پر تامل ضروری ہے، جیسے مرکز تفسیر سے شائع ہونے والے اصول اور قواعد سے متعلق دو مطالعات۔ یہ کام اپنے ثمرات تب ہی دے سکتا ہے جب اسے حقیقی ادارہ جاتی کوششوں کے ذریعے انجام دیا جائے۔

سادساً: سلف کی تفسیر تک رسائی اور اس سے استفادے کے امکانات کو وسیع کرنا، اور اس مقصد کے حصول کے لیے معاون اقدامات اور علمی و تحقیقی منصوبے تشکیل دینا۔

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۳

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۹)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۳)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۳)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

وجودِ باری تعالیٰ: سائنسی تناظر، الحادی فلسفہ اور قرآنی تعلیمات
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

قرآن اور سائنسی حقائق
ڈاکٹر عرفان شہزاد

نمازِ تہجد — تشکر و عبودِیت کی مظہر
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

روزہ کی اہمیت اور فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں
مفتی نصیر احمد

زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور حساب کا طریقہ
مولانا محمد الیاس گھمن

حرمین شریفین میں وِتر کی نماز امام کی اقتداء میں پڑھنے کا حکم
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۲)
پروفیسر خورشید احمد

ہمارا تعلیمی نظام اور استعماری دور کے اثرات
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر شرعی ہے
ڈاکٹر محمد امین
ملی مجلس شرعی

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

ذاتی دفاع اور اس کے نتائج
عرفان احمد خان

ٹرمپ کی غزہ مجلسِ امن — کیا عالمی نظام بکھر رہا ہے؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Islam`s Teachings for Peaceful Coexistence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جسٹس خلیل الرحمٰن کا انتقال
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

آہ! سید سلمان گیلانی
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تمام مکاتبِ فکر کے اتحاد اور مشترکہ اعلامیہ پر تہنیت اور تجاویز
اظہر بختیار خلجی
تنظیمِ اسلامی

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

الشریعہ اکادمی اور معارفِ اسلامیہ اکادمی میں دورہ تفسیر القرآن الکریم
مولانا محمد اسامہ قاسم
مولانا حافظ واجد معاویہ
مولانا محمد رجب علی عثمانی

مطبوعات

شماریات

Flag Counter