دورہ احکام القرآن کی تقریبِ اعزاز و تکمیل
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ایک ممتاز علمی و تحقیقی اور تربیتی ادارہ ہے جو روایتی دینی علوم اور جدید عصری افکار کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد دینی و عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ علماء کرام اور فضلاءِ مدارس کو جدید دور کے چیلنجز، بین الاقوامی قوانین، سماجیات اور قرآن و حدیث کے محاضرات جیسے موضوعات سے روشناس کرانا ہے۔ اکادمی کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں قدیم صالح اور جدید نافع کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جہاں طلبہ کو نہ صرف قرآن و سنت کی گہرائی فراہم کی جاتی ہے بلکہ انہیں عصرِ حاضر کے فکری و سیاسی تغیرات کو سمجھنے کے قابل بھی بنایا جاتا ہے۔
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام 21 ایام پر مشتمل "دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی" اور ایک سالہ "تخصص فی الدعوہ والارشاد" کی اختتامی نشست 15 فروری بروز اتوار منعقد ہوئی۔ الشریعہ اکادمی میں دورہ تفسیر و احکام القرآن کے علمی دورہ جات کا سلسلہ گزشتہ پندرہ سالوں سے جاری ہے، جو درحقیقت امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے ذوقِ تفسیر کا تسلسل ہے۔ حضرت امامِ اہلِ سنتؒ نے 1943ء میں گکھڑ کی جامع مسجد سے جس درسِ قرآن کا آغاز کیا تھا، وہ پچپن برس تک جاری رہا۔ آپؒ نے اپنے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور امام الموحدین حضرت مولانا حسین علیؒ کے اسلوب پر چالیس ہزار سے زائد تلامذہ کو علومِ قرآن سے بہرہ ور کیا۔ الشریعہ اکادمی آج بھی اسی مشن کو جدید تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔
دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی
دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی میں امامِ اہلِ سنتؒ کے تلامذہ نے ہی اسباق پڑھائے۔ قرآن کریم کے مختلف موضوعات اور پاروں کا درس حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، مولانا فضل الہادی، مولانا محمد یوسف، مولانا مفتی منصور احمد، مولانا ڈاکٹر وقار، میں مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ فراز، مولانا مفتی عبید الرحمٰن، مفتی محمد عثمان اور مولانا محفوظ الرحمٰن صاحب نے دیا۔ شرکاء کی فکری تربیت کے لیے ملک بھر سے ماہرینِ فن نے محاضرات کے درج ذیل اہم علمی و فکری موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی: احکامِ قرآن اور مروجہ بین الاقوامی معاہدات، انسانی حقوق کے اسلامی احکام اور مغربی فلسفہ حقوق کا تقابلی جائزہ، عصرِ حاضر میں علماء کی ذمہ داریاں، اصولِ ترجمہ و تفسیر، تاریخِ تفسیر، مختلف مناہجِ تفسیر، ممتاز عربی و اردو تفاسیر کا تعارف، مشکلات القرآن، جغرافیہ قرآنی و قصص القرآن، علوم القرآن کی کتب کا تعارف، اختلافِ قراءت کے تفسیری اثرات، قرآن اور مستشرقین، عالمِ اسلام کی دینی تحریکات، علم المیراث، علم القوافی و العروض، اصولِ تحقیق۔
التخصص فی الدعوہ والارشاد
التخصص فی الدعوہ والارشاد (آن لائن و فزیکل) کا ایک سالہ پروگرام علومِ اسلامیہ کے اساتذہ اور فضلاء کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ وہ جدید الحادی فتنوں اور مغربی فکر کا علمی سطح پر تعاقب کر سکیں۔ مرکزی مضامین میں حجۃ اللہ البالغہ (سماجیات و سیاسات)، تقابلِ ادیانِ معاصرہ، اسلام کا نظامِ معیشت و سیاست، اور جدید مغربی فکر و فلسفہ کا فہم، دعوت دین کے نبوی اسلوب، اصول تحقیق اور اس کی عملی مشق شامل ہیں۔ ہفتے میں تین دن باقاعدہ کلاسز ہوئیں، جبکہ بقیہ ایام میں مطالعاتی ورک اور منتخب کتب کا جائزہ لیا گیا۔ تخصص کے اختتام پر تمام شرکاء سے ایک تحقیقی مقالہ لکھوایا گیا تاکہ ان کی تحریری صلاحیتوں کو صیقل کیا جا سکے۔
تقریبِ اعزاز و تکمیل
15 فروری کو منعقد ہونے والی تقریبِ اعزاز و تکمیل کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مہمانانِ گرامی کی رسمی تقاریر کے بجائے براہِ راست ان شرکاء کو موقع دیا گیا جنہوں نے یہ علمی مراحل طے کیے۔ تخصص اور دورہ احکام کے شرکاء نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ الشریعہ اکادمی نے انہیں روایتی علوم کو جدید اسلوب میں سمجھنے کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ ان کے نزدیک بین الاقوامی مذاہب سے مکالمے کا طریقہ اور الحاد کے رد جیسے موضوعات آج کے دور کی اشد ضرورت ہیں۔
آخر میں حضرت استادِ گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے تمام شرکاء، اساتذہ اور معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تخصص اور دورہ مکمل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اکادمی اسی طرح علومِ دینیہ کے شائقین کی پیاس بجھاتی رہے گی۔ تقریب کا اختتام مولانا پیر احسان الحق قاسمی صاحب کی دعا کے ساتھ ہوا، جس کے بعد شرکاء میں اسناد کی تقسیم عمل میں آئی۔ ان شاء اللہ عید کے بعد تخصص فی الدعوۃ و الارشاد کے داخلوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔
الشریعہ اکادمی کا شعبہ تخصص فی الدعوۃ والارشاد: تعارف و اہداف
امام ابو حامد الغزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "من لم یعرف أحوال زمانہ فھو جاھل" (دعوۃ الحق ـ مجلۃ شھریۃ، صفر ۱۴۳۴ھ) اور اسی تائید میں علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے "شرح عقود رسم المفتی" میں لکھا ہے "من جھل بأھل زمانہ فھو جاھل" (شرح عقود ص ۹۸) امام غزالی رحمہ اللہ اپنے دور میں "اعتزال، فلسفہ اور الحاد" کے فتنے کے سامنے مجمعِ روایت و درایت کے وہ بحر بے کراں تھے جنہیں وقت کی ضال و مضل طاقتیں اپنے تمام تر وسائل صرف کر کے بھی عبور نہ کر سکیں۔ ان کے اس بحر کے عمق کا راز علوم اسلامیہ میں پختگی اور وقت کے شرور و فتن پر عبور رکھنا تھا اور یہی مزاج ہمیں امام احمد بن حنبل اور امام ابن تیمیہ رحمہمااللہ میں بھی ملتا ہے۔ اسی مزاج کو ذرا تطبیقی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو امام ابو منصور ماتریدی، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور امام شاہ اشرف علی تھانوی رحمہم اللہ میں یہ مزاج یکجا نظر آتا ہے۔ اور ان حضرات کے روایت و درایت اور روحانیت کے منابع ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ امت مسلمہ میں مقبول ترین شخصیات ہیں بلکہ کئی مغربی یونیورسٹیوں میں ان شخصیات اور ان کے علمی و عملی مزاج پر تحقیقات کی جاتی ہیں۔ چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ کے مطالعہ میں مذکورہ شخصیات اور ان جیسے کئی دیگر دعاۃ و مبلغین اسلام، جن کی دعوتِ حق کئی غیر مسلموں کے لیے مشعل راہ اور مسلمانوں کے لیے مرجع بنی، ان سب میں نقطہ اشتراک روایت و درایت اور روحانیت پر عبور اور وقت کے شرور و فتن سے مکمل واقفیت ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں اسی مزاج کے رجال کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔
دورِ حاضر میں مغربی فکر و تہذیب اور استشراقی تحریکات سمیت جدت پسند و تشکیکی اذہان اپنے تمام تر نظریاتی، سیاسی، اقتصادی اور فکری وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اطرافِ عالم میں ہلہ بول رہے ہیں۔ دوسری جانب مدارس دینیہ میں قدیم علومِ اسلامیہ کی وراثت کے تحفظ کا پورا پورا حق ادا کیا جا رہا ہے لیکن وہیں اس بات کی کمی بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ مدارس دینیہ کے فضلاء دورِ حاضر کے فتنوں سے یا تو بالکل واقف ہی نہیں یا پھر تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں مگر کما حقہ اس میدان میں کام کرنے کی صلاحیت سبھی نہیں رکھتے۔ جبکہ اسلام کے نامور دعاۃ و مبلغین کے اقوال و اعمال اور ان کے علمی و عملی مزاج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی دور میں اسلام کی دعوت و ترویج کے لیے ضروری ہے کہ داعی قدیم علوم اسلامیہ پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ وقت کے تقاضوں اور فتن سے پوری طرح واقف ہو۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے "الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ" نے اپنے تعلیمی و فکری منصوبوں میں مفکر اسلام علامہ زاہد الراشدی مدظلہ العالی کی سرپرستی میں علوم اسلامیہ کے فضلاء و فاضلات کے لیے تین سال قبل یک سالہ "تخصص فی الدعوۃ والارشاد" کے شعبہ کا اضافہ کیا تھا۔ گزشتہ 15 فروری کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اس کے شرکاء کی دستاربندی اور تقسیم اسناد کے موقع پر تیسرا سیزن تکمیل کو پہنچا۔
فضلاء و فاضلات کی مصروفیات اور تعلیمی و تدریسی مشاغل کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا اہتمام آن سائیٹ و آن لائن دونوں طریقے سے کیا گیا ہے تاکہ گوجرانوالہ اور گرد و نواح کے طلباء "مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ" میں حاضر ہو کر براہ راست اسباق پڑھ سکیں جبکہ متعلقہ شہر کے علاوہ درون و بیرون ملک کے طلباء آن لائن شرکت کر کے استفادہ کر سکیں۔ تین سالہ دورانیہ میں اس شعبے سے سند فراغت پانے والے حضرات و خواتین کی تعداد تقریباً سوا سو سے متجاوز ہو چکی ہے۔ نہ صرف ملک کے چاروں صوبوں سے بلکہ کئی دیگر ممالک افغانستان، انڈیا، کوریا، کینیڈا، کشمیر، متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بھی اس میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔
اس شعبے کے تعارفی پہلو پر اگر بات کی جائے تو اس میں شامل ہونے کی اہلیت کم از کم علوم اسلامیہ کا فاضل یا فاضلہ ہونا یا پھر کسی یونیورسٹی یا گریجویٹ کالج سے ایم اے یا بی ایس اسلامیات کا ڈگری ہولڈر ہونا چاہیے۔
اس ایک سالہ کورس کو غیر روایتی طریقے سے ایم فل کے طرز پر شروع کیا گیا ہے اور اس کے ایک سالہ دورانیہ کو تین سمسٹروں پر تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا سمسٹر "المدخل الی الدعوۃ والارشاد" کے عنوان سے صرف دو ماہ پر مشتمل ہوتا ہے جس کی کلاسیں شوال کے پہلے عشرے سے شروع ہو کر ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں ختم ہو جاتی ہیں۔ اور اس سمسٹر میں مختلف علوم اسلامیہ کے تعارف و تاریخ اور ارتقاء پر لیکچرز دیے جاتے ہیں تاکہ تخصص میں شامل ہونے والے خواتین و حضرات ایک بار سابقہ پڑھے ہوئے علوم اسلامیہ کا تعارفی مطالعہ کر لیں۔
اس تمہیدی سمسٹر کے بعد کورس ورک دو سمسٹروں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ایک سمسٹر کا دورانیہ ساڑھے تین ماہ ہوتا ہے۔ تمہیدی سمسٹر کے اختتام پر شرکاء سے تعارفی لیکچروں پر مشتمل پریزنٹیشن لی جاتی ہے جبکہ کورس ورک کے ہر سمسٹر کے بعد ہر کورس کا پچاس نمبروں کا پیپر لیا جاتا ہے۔ یوں دو سمسٹروں کی تکمیل پر ہر کورس کا سو نمبروں پر مشتمل امتحان ہو چکا ہوتا ہے۔ پہلے سمسٹر میں کورس ورک کے دیگر کورسز کے ساتھ ساتھ "اصول تحقیق و مقالہ نگاری کی عملی مشق" کا کورس بھی پڑھایا جاتا ہے۔ دوسرا سمسٹر شروع ہوتے ہی شرکاء سے عنوانات کا انتخاب کرا کر ان سے پچاس سے ساٹھ صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالہ لکھوانے کا کام شروع کر دیا جاتا ہے۔ ہر کورس کا لیکچرار اپنے کورس سے متعلق موضوع منتخب کرنے والے طلباء و طالبات کا سپر وائزر ہوتا ہے اور مقالہ کی تکمیل تک مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ رواں سال میں جن موضوعات پر مقالات لکھوائے گئے وہ درج ذیل ہیں:
- سیرت النبی میں انسانی حقوق کے نظریاتی و عملی پہلو، ایک تجزیاتی مطالعہ
- سورہ حم سجدہ کی روشنی میں دعوتی اسالیب و اصول کا تجزیاتی مطالعہ
- دور جدید میں دعوتی میدانوں کے چیلنجز اور ان کے تدارک کے لیے علماء کی ذمہ داریاں
- مقاصد شریعت کی روشنی میں درس قرآن کے مناہج
- جدید تحریک نسواں کا تعارفی و تجزیاتی مطالعہ
- اسلام کے تصور حجاب پر مغربی اعتراضات کا تفہیمی و تنقیدی مطالعہ
- علم الدعوۃ والجدل ایک تعارفی مطالعہ
- دعوت دین میں جدید میڈیا کا کردار اور اس کا مثبت استعمال
شعبہ تخصص کے کورس ورک میں شامل کورسز درج ذیل ہیں:
- شرعی احکام و قوانین سماجی تناظر میں (حجۃ اللہ البالغہ سے منتخبات)
- معاصر مذاہب و افکار کا تعارفی و تقابلی مطالعہ
- علم الدعوۃ والجدل کا تجزیاتی و تطبیقی مطالعہ (دعوت دین کا نبوی اسلوب اور جدید تقاضے وغیرہ)
- اسلام کا نظام حکومت و سیاست مع بین الاقوامی معاہدات و سیاسات
- جدید مغربی فکر و فلسفہ کا تفہیمی و تنقیدی مطالعہ
ان پانچ بنیادی کورسز کے ساتھ پانچ ذیلی کورسز بھی شامل ہیں جو حسب ضرورت طلباء و طالبات کو پڑھائے جاتے ہیں۔ اور وہ درج ذیل ہیں:
- اصول تحقیق اور مقالہ نگاری کی عملی مشق
- سیرت و تاریخ کی علمی و فکری تفہیم
- اسلام کا نظام معیشت و تجارت اور اسلامک بینکنگ کا تعارف
- تحریک استشراق اور اس کے اثرات
- نظریاتی جنگ کے اصول
ہر کورس کا لیکچرار اپنے تجربے اور علمی ذوق کے مطابق دو سمسٹروں میں اپنے کورس کو پڑھاتا ہے اور کورس کی مناسبت سے اہم کتب، جرائد اور تحریرات کا مطالعہ بھی کراتا ہے۔
ان شاءاللہ! اسی جذبے اور مساعی کے ساتھ اس شعبے کو آئندہ سالوں میں ایم فل کے لیول پر متعارف کرنا اور اس کی تعلیم دینا منتظمین کا ہدف ہے۔
امامِ اہلِ سنتؒ کے مرکز میں سالانہ دورۂ تفسیر القرآن کے احیاء کی مختصر روداد
قرآنِ کریم ہر زمانے میں رشد و ہدایت اور دعوت و ارشاد کا سب سے مؤثر اور ہمہ گیر ذریعہ رہا ہے۔ فرد کی اصلاح و تربیت سے لے کر معاشرے کی فلاح و بہبود اور نظام کی درستی تک، یہ کتابِ الٰہی ایک ایسا جامع اور ہمہ جہت تصور پیش کرتی ہے جو نہ صرف دیگر افکار و تہذیبی تصورات سے ممتاز ہے بلکہ موجودہ عالمی منظرنامے میں بآسانی قابلِ عمل اور امنِ عالم کی بقا کا واحد حل بھی ہے۔
حضرت شیخ الہند رحمۃ اللّٰہ علیہ نے، جو حضرت مجدّد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی جد و جہد کے حقیقی وارث ، ولی اللّٰہی فکر کے سچے ترجمان ، اسلام کے جامع تصور اور امت کے اجتماعی مفاد کے بے باک علمبردار تھے ، قید و بند کی صعوبتوں میں امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر گہرے غور و فکر کے بعد جو نتیجہ اخذ فرمایا، وہ آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی تباہی کے دو بنیادی اسباب ہیں: قرآن سے دوری اور باہمی اختلاف۔ چنانچہ آپ نے عزم کیا کہ قرآنِ کریم کو لفظاً و معنیً عام کیا جائے، بچوں کے لیے مکاتبِ قرآنی قائم ہوں اور بڑوں کے لیے عوامی دروسِ قرآن کا اہتمام ہو، تاکہ امت دوبارہ کتابِ الٰہی سے وابستہ ہو سکے۔
اسی فکری تسلسل کی ایک روشن کڑی قرآنی مکاتب اور دروسِ قرآن کے اُن سلسلوں کا قیام ہے جن کا انتساب اس خطے میں بالخصوص حضرت امامِ اہلسنت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللّٰہ علیہ اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے ہے۔
حضرت امامِ اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ کی حیاتِ ستودہ صفات قرآنی علوم کی علمی و عوامی حلقوں میں اشاعت اور ملت کی فکری و اخلاقی تربیت سے عبارت ہے۔ آپ کی دینی و ملی خدمات میں ایک نمایاں اور وقیع خدمت سالانہ دورۂ تفسیر القرآن کا آغاز تھا، جو آپ کی حیاتِ مبارکہ میں تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ شعبان المعظم کے آغاز سے لے کر رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ تک معارفِ اسلامیہ اکادمی گکھڑ میں یہ مبارک سلسلہ قائم رہتا۔ صبح کے اوقات درسِ تفسیر کے لیے مختص ہوتے اور بعد از ظہر مختلف علماء و مشائخ اپنے علمی و تربیتی بیانات سے طلبہ کے قلوب و اذہان کو تازگی بخشتے۔ ملک بھر سے تشنگانِ علومِ قرآن اس چشمۂ ہدایت سے فیض یاب ہونے کے لیے حاضر ہوتے۔
تقریباً 2005 تک یہ سلسلہ مرکز میں تسلسل کے ساتھ جاری رہا، تاہم 2006 میں ادارے کی مخدوش عمارت کے پیشِ نظر یہ سالانہ دورۂ تفسیر ، مدرسہ تعلیم القرآن باگڑیاں نو میں منتقل ہوگیا، جہاں حضرت الشیخ مولانا محمد نعیم بٹ صاحب دامت برکاتہم کے زیرِ انتظام یہ روایت بحمد اللہ تاحال برقرار ہے۔ پہلے اس دورۂ تفسیر القرآن کی تدریس کی خدمت حضرت امامِ اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے تلمیذِ رشید ، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا داؤد صاحب دامت فیوضھم سر انجام دے رہے تھے ، اب آپ کی علالت کے بعد ، مولانا عبیداللہ صاحب ، مولانا سیف اللہ صاحب اور مولانا شیخ محمد نعیم بٹ صاحب کے زیرِ تدریس یہ مبارک سلسلہ جاری و ساری ہے۔
تاہم ، حضرت مولانا داؤد صاحب دامت فیوضھم (اللّٰہ تعالیٰ حضرت کو کامل صحت و تندرستی عطاء فرمائے اور پھر سے درس و ارشاد کی مجالس کی رونق بناۓ) کی علالت کے بعد ، خانوادۂ حضرت امامِ اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ اور حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے متعلقین و متوسلین کی طرف سے اس خواہش کا اظہار ہونے لگا کہ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے براہِ راست تلامذہ کے ذریعے (جیسا کہ مولانا داؤد صاحب کی وجہ سے یہ روایت قائم تھی) دوبارہ اس مبارک تسلسل کا اجراء کیا جاۓ ۔ یہ بھی طے ہوا کہ دوبارہ یہ سلسلہ اپنے اصل مرکز، معارفِ اسلامیہ اکادمی گکھڑ، میں شروع ہو اور یہاں ایک بار پھر درسِ قرآن کی رونقیں بحال ہوں۔ ایک عرصے تک یہ خواہش خیال کی صورت رہی، پھر عزم میں ڈھلی، اور امسال اس عزم نے عملی شکل اختیار کرلی۔ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نورِ چشم ، حضرت الاستاذ قاری حماد الزہراوی صاحب دامت فیوضہم نے 4 شعبان المعظم سے 25 شعبان المعظم تک مختصر دورانیے کے دورۂ تفسیر القرآن کا اعلان فرما دیا۔
ابتدا میں رجوعِ خلق کے بارے میں اندازے محتاط تھے۔ بعض احباب کا خیال تھا کہ اگر بیس پچیس طلبہ بھی جمع ہو جائیں تو اسے بہترین آغاز سمجھا جائے گا۔ طویل تعطل اور قرب و جوار میں جاری دیگر دروس کی موجودگی کے باعث یہ اندازہ غیر فطری بھی نہ تھا ، لیکن داخلوں کے آغاز کے ساتھ ہی صورت حال توقعات سے مختلف دکھائی دینے لگی۔ ملک کے طول و عرض سے فضلاءِ کرام، طلبۂ عظام اور عوام الناس کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مجموعی طور پر مرد و خواتین کی تعداد تقریباً ایک سو پچیس رہی۔ ملک کے چاروں صوبوں سندھ ، پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے بھرپور حاضری رہی۔ گکھڑ، گوجرانوالہ اور وزیرآباد کی مقامی آبادی کے علاوہ نوشہرہ، بھکر، سکھر، بہاولپور، ملتان، مظفرگڑھ، راجن پور، ڈیرہ اسماعیل خان، شانگلہ، دیر، مردان، بٹگرام، ہنگو، کوہاٹ، بنوں، چترال، لکی مروت، باجوڑ ، کوئٹہ ، گلگلت بلتستان اور آزاد کشمیر تک کے شرکاء اس احیائے نو کے گواہ بنے۔
مقامی خواتین کے لیے باپردہ شرکت کا علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔
درسِ تفسیر کی ذمہ داری حضرت امامِ اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے براہِ راست شاگرد، شیخ التفسیر حضرت مولانا مفتی عبد القیوم حسن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت محنت، استقامت اور اخلاص سے ادا کی۔ جانشینِ امامِ اہلسنت، شیخ الحدیث و التفسیر حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ بھی گاہے بگاہے تشریف لاکر علمی و فکری گفتگو سے شرکاءِ دورہ کو مستفید فرماتے رہے ، آپ نے حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں دینی رہنمائی کی ضرورتوں کو اجاگر کیا اور فکری جد و جہد کے میادین کے حوالے سے ، اسلام کا خاندانی نظام ، اسلام کا سیاسی نظام اور انسانی حقوق اور عالمِ اسلام جیسے وقیع اور عصرِ حاضر سے مطابقت رکھنے والے متعدد عنوانات پر جامع رہنمائی فرمائی۔ اختتامی درس بھی آپ ہی نے ارشاد فرمایا ۔ علاوہ ازیں مدیرِ ادارہ صاحبزادہ حضرت الاستاذ قاری حماد الزہراوی صاحب ، استاذ العلماء صاحبزادہ حضرت مولانا عزیز الرحمن شاہد صاحب اور مقررِ دلپذیر صاحبزادہ حضرت مولانا منہاج الحق خان راشد صاحب بھی وقتاً فوقتاً شریک ہو کر علمی و فکری رہنمائی فرماتے رہے۔
مغرب سے عشاء تک کا وقت عمومی طور پر درسِ تفسیر کے لیے ہی مخصوص رہا، اگرچہ بعض ایام میں اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ فکری و تربیتی دروس اور دوسرا طلباءِ کرام کی مشقِ خطابت کے لیے مختص کیا گیا، تاہم وقت کی قلت کے باعث یہ سلسلہ تسلسل سے جاری نہ رہ سکا۔
ایک چشم دید گواہ ہونے کی وجہ سے بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ مختصر دورانیے کے باوجود یہ احیاء محض ایک روایتی سالانہ دورہ نہیں بلکہ ایک تسلسل کی بازیافت اور ایک روایت کی دریافت ہے۔ حاضری کی حوصلہ افزا تعداد اور مختلف علاقوں سے شرکت اس امر کی علامت ہے کہ قرآنی دروس کی طلب اور ضرورت آج بھی زندہ ہے۔
امید واثق ہے کہ ان شاء اللہ آئندہ برسوں میں زیادہ بہتر نظم، وسیع تر دورانیے اور مزید کثیر حاضری کے ساتھ دورۂ تفسیر کا یہ مبارک سلسلہ عوام و خواص کے لیے زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر فائدے کا سبب بنے گا۔ اللہ تعالیٰ دینِ متین کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور اسے ہم سب کے لیے خیر و برکت کا دائمی ذریعہ بنائے۔ آمین ثم آمین۔
