سپریم کورٹ کا ۱۴ فروری ۲۰۲۶ء کا ایک فیصلہ سامنے آیا ہے جسے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کی صدارت میں تین رکنی بینچ نے سنا اور فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن صاحب نے لکھا۔ فاضل ججز نے مدعی کو ’’بائیولوجیکل فادر‘‘ قرار دے کر بچے کے نان و نفقے کا فیصلہ دیا ہے۔
ملی مجلسِ شرعی — جو مختلف دینی مکاتبِ فکر کی ایک علمی مجلس ہے — کے مفتیان و علماء کرام مفتی شاہد عبید صاحب (چیف مفتی جامعہ اشرفیہ)، مفتی محمد کریم خان (مفتی و پی ایچ ڈی ڈاکٹر و چیئرمین وفاق المدارس الرضویہ)، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی (مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ و پروفیسر پنجاب یونیورسٹی)، مولانا حافظ محمد عمران طحاوی (درس نظامی و پی ایچ ڈی سکالر)، ڈاکٹر محمد امین (ایم فل فقہ و اصول فقہ سعودی عرب و پی ایچ ڈی اسلامی قانون) نے اس فیصلے کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے اس طرح کا ایک فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی دیا تھا اور اس پر بھی ہم نے یہی تبصرہ کیا تھا کہ جب عدالت ایک شخص کو ’’بائیولوجیکل فادر‘‘ تسلیم کر رہی ہے تو دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے زانی تسلیم کر رہی ہے۔
اس صورت میں شریعت اور پاکستان کے حدود لاز کے تحت اس شخص کو 100 کوڑوں اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں رجم کی سزا دی جانی چاہیے۔ اس شخص نے زنا کر کے معاشرے میں جو فساد پھیلایا اور ایک بے گناہ خاتون اور اس کے خاندان کو زندہ درگور کر دیا (زنا بالجبر کی صورت میں۔ اور اس کیس میں تو اس شخص نے بیوی کی بھتیجی کے ساتھ زنا کیا جس کے ساتھ نکاح حرام تھا، لہٰذا یہ زیادہ شفیع ہے)، تو اس کو تو آپ کوئی سزا نہیں دیتے اور نہ اس کے اس قبیح جرم کا ذکر کرتے ہیں، لیکن آپ کو بچے کے نان و نفقہ کی بہت فکر ہے (جسے ماں بھی پال سکتی ہے، نانا بھی، اور حکومت بھی اس میں مدد کر سکتی ہے)، کیونکہ مغرب کے انسانی حقوق کے چارٹر اور دیگر قوانین میں بچے کے حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن وہاں زنا جرم نہیں ہے۔
علماء کرام نے کہا کہ اسلامی شریعت اور فقہ میں ’’بائیولوجیکل فادر‘‘ کا کوئی ذکر نہیں ہے، نہ اس نام کی وہاں کوئی اصطلاح ہے۔ وہاں یا تو صحیح نکاح کی بات ہے یا نکاح کی عدمِ موجودگی میں زنا (خواہ وہ بالرضا ہو یا بالجبر) کی سزا کا ذکر ہے۔ ہمارے معزز جج صاحبان چونکہ مغربی قانون کے ماہر ہیں اس لیے وہ ’’بائیولوجیکل فادر‘‘ کو اصلی باپ کی جگہ سمجھ کے اسے بچے کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ قرآن و سنت، عربی زبان، اور فقہ و اصولِ فقہ میں عدمِ مہارت کی وجہ سے وہ فیصلے مغربی قانون کی روشنی میں کرتے ہیں، نہ کہ اسلامی احکام کے مطابق۔
پاکستان کے دینی عناصر کو چاہیے کہ اگر حکومت کی توجہ اس طرف نہیں ہے تو وہ اس طرح کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور قانون کے ساتھ شریعت کی تعلیم کا بھی ملک میں انتظام کریں اور موجود وکلاء اور ججز کی اسلامی شریعت میں ٹریننگ کا بھی اہتمام کریں تاکہ عدلیہ فیصلے اسلامی تعلیمات کے مطابق کر سکے۔
ڈاکٹر محمد امین (سیکرٹری جنرل)
۲۳ فروری ۲۰۲۶ء
