رفیق اعظم بادشاہ:
آپ نے کچھ عرصے پہلے ذکر کیا تھا، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اگر کوئی شریعت ایپلیٹ بینچ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دیتا ہے، تو وہ فیصلہ معطل ہو جاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں آپ ہی کی ایک اور تحریر پڑھ رہا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اس میں یہ فرق آیا ہے کہ اتنے مہینوں تک اگر اس کیس کے اوپر کوئی سنوائی نہیں ہوتی تو وہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے بھی رہنمائی دیں کہ عائلی قوانین کے متعلق فیصلہ جو شریعت ایپلیٹ بینچ میں ابھی تک معلق ہے، کیا اس پر بھی 26ویں ترمیم کی اس شق کا اطلاق ہوگا، یا یہ مقدمہ پرانا ہے؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے متعلق آئین کی دفعہ 203 ڈی، ذیلی دفعہ 2 میں جنرل ضیاء الحق نے 1984ء میں ایک شرط کا اضافہ کیا ۔ وفاقی شرعی عدالت بھی انھوں نے 1980ء میں بنائی، پھر اس شرط کا اضافہ بھی انھوں نے کیا کہ شریعت کورٹ کا فیصلہ تب نافذ ہوگا جب سپریم کورٹ کا شریعت ایپلیٹ بینچ اس کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں کا فیصلہ کر لے، یعنی تب تک یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔
یہ دنیا میں شاید واحد مثال ہے۔ پاکستان میں تو بالکل واحد ہے، لیکن میرے علم کے مطابق دنیا میں کسی بھی عدالت کے فیصلے کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوا کہ وہ فیصلہ کر لے اور اس کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل جائے تو نچلی عدالت کا فیصلہ ازخود معطل ہو جائے۔ اگر اعلی عدالت، جو سپریم کورٹ کا بینچ ہے، اس فیصلے کو معطل کر دے، تو وہ الگ بات ہے؛ لیکن صرف اپیل دائر کرنے پر ہی وہ معطل ہو جائے، تو یہ حیران کن بات ہے۔
سودی قوانین کے خلاف اپیلیں دیکھ لیں۔ شریعت کورٹ نے 2022ء میں پھر فیصلہ دے دیا۔ اس کے خلاف حکومت نے بھی اپیلیں کیں اور یونائیٹڈ بینک اور دیگر بینکوں نے بھی کیں، کچھ افراد نے بھی کیں۔ اب جو اپیلیں بعد میں حکومت نے واپس لے لیں، تو اس کے بعد بھی ایک اپیل بھی موجود ہے تو وہ فیصلہ معطل ہے۔
جب 26ویں ترمیم کا غلغلہ اٹھا تو میں نے اس پر لکھا بھی، اور کچھ دوستوں کے ذریعے جہاں تک میں بات پہنچا سکتا تھا وہاں بات پہنچائی بھی، کہ یہ جو شق ہے اس کو حذف کروائیں۔ سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے بھی کوئی دو سال پہلے سینٹ میں اس شق کے خاتمے کے لیے ترمیمی بل پیش کیا تھا، لیکن آئین میں ترمیم کا بل ایک فرد کی جانب سے آئے اس کا منظور کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس کو تو کمیٹی کی سطح پر ہی انھوں نے روک دیا، ختم کر دیا۔ اب جب یہ 26ویں ترمیم کا مرحلہ آیا تو میں نے اس پر لکھا بھی، اور علماء کرام کی خدمت میں بھی پیش کیا، دیگر دوستوں کو بھی پہنچایا، کہ یہ شق ختم کروائیں۔
ترمیم کی جو آخری صورت ہوئی، اس میں یہ شق ختم تو نہیں ہوئی لیکن اس میں کچھ باتوں کا اضافہ کر لیا گیا ہے۔ ایک یہ کہا گیا کہ جب شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینچ میں اپیل دائر ہو جائے، تو اس کا فیصلہ 12 مہینوں میں، یعنی ایک سال میں، کرنا ضروری ہے ۔ اگر ایک سال میں اس کا فیصلہ ہوا تو ٹھیک، ورنہ شریعت کورٹ کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔ یہ بہت اچھی بات ہوئی۔ چلیں کچھ پیشرفت تو ہوئی کہ اب ایک سال بعد ہی سہی، شریعت کورٹ کا فیصلہ نافذ ہوگا، الّا یہ کہ شریعت ایپلیٹ بینچ اسے معطل کر دے۔ ٹھیک ہے، اگر ایپلیٹ بینچ اس کو معطل کرنا چاہے تو وہ اس کا اختیار ہے، اس پر مجھے اعتراض نہیں ہے، کیونکہ اب سٹے دینے کے لیے ہی سہی عدالت کم از کم ایک دفعہ تو بیٹھے گی۔ شریعت ایپلیٹ بینچ اسے سن کر ہی سٹے دے گی نا، ایسے تو نہیں دے گی۔ لیکن اس کے بعد انھوں نے ڈنڈی یہ ماری ہے کہ اس کا اطلاق 26ویں ترمیم کے بعد دائر ہونے والی اپیلوں پر ہوگا ۔ پہلے سے دائر شدہ اپیلیں بدستور معلق رہیں گی۔
ہم نے اس پہ کام کیا تھا۔ شریعت کورٹ کے فیصلوں کے خلاف شریعت ایپلیٹ بینچ میں 1989ء میں دائر کی گئی اپیلیں بھی موجود ہیں، یعنی 35 سال پرانی اپیلیں۔ اسی طرح عائلی قوانین کا فیصلہ دسمبر 1999ء میں آیا، 25 سال سے بھی وہ معلق ہیں۔ اسی طرح سودی قوانین والی اپیلیں ہیں۔ یہ ساری اپیلیں معلق رہیں گی اور ان پر دیے گئے فیصلے بھی معلق رہیں گے۔ 26ویں ترمیم کا اطلاق ان اپیلوں پر ہوگا جو اس ترمیم کے بعد دائر ہوں گی۔ اب اگر شریعت کورٹ کوئی فیصلہ دے، اس کے خلاف اپیل آئے، اور 12 مہینوں میں شریعت ایپلیٹ بینچ اس کا فیصلہ نہ دے تو شریعت کورٹ کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا، الّا یہ کہ شریعت ایپلیٹ بینچ اسے معطل کر دے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
جب آپ سپریم کورٹ میں تھے تو قاضی صاحب نے بڑا زبردستی کر کے شریعت اپیلیٹ بینچ کے کچھ مقدمات لگوائے۔ کوئی بندہ جیل میں تھا، فریقین کی صلح ہو گئی تھی ، اور اس کے باوجود بھی وہ پانچ سال جیل میں پڑا رہا۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
قاضی صاحبنے جب چیف جسٹس کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں، تو ابتدا سے ہی ان کی خواہش تھی کہ شریعت ایپلیٹ بینچ میں سالہا سال سے معلق اپیلوں کا فیصلہ ہو۔ ابتدا میں مسئلہ یہ تھا کہ بینچ بنانے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ پہلے یہ اختیار چیف جسٹس کے پاس ہوتا تھا لیکن سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023ء) نے اس کے لیے کمیٹی بنائی۔ اس ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواستوں پر ابھی فیصلہ ہونا تھا۔
استاذ محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی ان دنوں شریعت ایپلیٹ بینچ کے عالم رکن تھے۔ انھوں نے شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے زیرِ التوا مقدمات پر اپنا ایک تفصیلی نوٹ لکھا تھا۔ جب پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ ہوا اور طے پایا کہ بنچ کی تشکیل اور اس کے سامنے مقدمات لگانے کا کام کمیٹی کرے گی، تو قاضی صاحب مجھے کہا کہ آپ غزالی صاحب کے اس نوٹ کی روشنی میں شریعت ایپلیٹ بینچ کے سامنے معلق مقدمات کے بارے میں بریف تیار کر لیں۔ وہ تمام فائلیں ہم نے منگوائیں، پھر ڈاکٹر غزالی صاحب مرحوم کے مشورے سے اور ان کی رہنمائی میں میں نے اس پر کام کیا اور ہم نے ایک پوری فہرست ہم تیار کی کہ کُل ملا کر یہ کوئی 100 کے لگ بھگ مقدمات ہیں، لیکن ان میں مشترک سوال والے مقدمات کو ہم نے اکٹھا کیا، تو ان کی تعداد 30 تک آگئی۔ اگر ان 30 مقدمات کو سنا جائے، یہ سارے مقدمات ختم ہو جائیں گے۔ بدقسمتی سے اس کے بعد اچانک ڈاکٹر غزالی صاحب کا انتقال ہوا (اللہ مغفرت فرمائے۔ رفیق) اور اس کے بعد نئے عالم رکن کی تعیناتی میں بھی وقت لگا۔ بالآخر جون میں استاذ محترم پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب کی بطور عالم رکن تعیناتی ہو گئی ۔
جیسے میں نے عرض کیا، 15 جولائی سے کورٹ کی چھٹیاں ہوگئیں ، لیکن قاضی صاحب نے کہا کہ چونکہ وہ خود چھٹی نہیں کر رہے اور اسلام آباد میں وہ اور چند دیگر جج موجود ہیں، نیز شریعت ایپلیٹ بینچ کے دونوں ارکان بھی اب موجود ہیں، ڈاکٹر خالد مسعود صاحب پہلے سے تھے اور اب ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب بھی ہو گئے، تو ہم یہ مقدمات سن سکتے ہیں۔ تاہم جب کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تو اس میں باقی دو جج صاحبان کا خیال کچھ اور تھا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ مقدمات گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد سنے جائیں۔ کافی بحث مباحثے کے بعد بالآخر یہ مان لیا گیا کہ چلیں ایک ہفتہ یہ سن لیں۔ یوں پھر ایک ہفتے کے لیے اگست میں شریعت ایپلیٹ بینچ کے مقدمات سنے گئے۔ قاضی صاحب نے خود اس بینچ کی کی سربراہی کی، دو جج صاحبان اور دو عالم ارکان ان کے ساتھ ہوئے۔
شریعت ایپلیٹ بینچ میں دو طرح کی اپیلیں آتی ہیں: ایک تو حدود قوانین میں اگر شریعت کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا ہے، تو اس کے خلاف اپیل آ جاتی ہے؛ اور دوسرا، اگر کسی قانون کو اسلامی احکام سے تصادم کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے، اس پر شریعت کورٹ کا فیصلہ آگیا، تو اس کے خلاف اپیلیں آجاتی ہیں۔ ہم نے دونوں طرح کے مقدمات لگائے۔ قدیم ترین اپیل جو کسی قانون کے خلاف تھی وہ 1989ء کی تھی بیگم رشیدہ پٹیل کیس کے نام سے۔ حدود قوانین میں یہ کہا گیا تھا کہ خواتین کی گواہی پر حد کی سزا نہیں دی جائے گی۔ بیگم رشیدہ پٹیل نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ شریعت کورٹ نے حدود قوانین کی ان شقوں کو برقرار رکھا تھا۔ بیگم رشیدہ پٹیل نے اس کے خلاف اپیل کی تھی۔ اس دوران میں ان کا انتقال ہو چکا ہے لیکن اپیلیں موجود ہیں۔ اسی طرح اس کیس میں زنا بالجبر کے متعلق شریعت کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ یہ زنا کے بجاے حرابہ کی قسم ہے۔ اس کے خلاف بھی اپیلیں آئی تھیں۔ ہم نے چار دن ایسے مقدمات لگائے، پیر سے جمعرات تک۔ ان میں کورٹ فیس ایکٹ کے متعلق بھی اپیل تھی، 1992ء سے معلق تھی ۔ ظاہر ہے کہ ایسی اپیلوں کا فیصلہ ایک سماعت میں نہیں ہو سکتا۔ آپ نے دوسروں کو بھی سننا ہوتا ہے۔ تو نوٹس جاری کیے گئے۔ اس کے بعد اس کی سماعت کی نوبت نہیں آئی۔
البتہ جو دوسری قسم کی اپیلیں تھیں، فوجداری اپیلیں ، تو ان میں سے بھی روزانہ تین تین یا چار چار اپیلیں لگائی جاتی تھیں، ان کے فیصلے سنائے گئے۔ ان میں ایک فیصلہ یہ تھا جس میں فریقین کے درمیان صلح بھی ہو گئی تھی، ماتحت عدالت نے وہ صلح قبول بھی کر لی تھی، لیکن وہ صلح نامہ شریعت ایپلیٹ بینچ میں پیش کرنا تھا کیونکہ مقدمہ یہاں زیر التوا تھا۔ یہاں شریعت ایپلیٹ بینچ ہے نہیں تو کہاں پیش کریں؟ تو 2019ء سے وہ بندہ جیل میں صرف اس وجہ سے پڑا رہا کہ شریعت ایپلیٹ بینچ نہیں ہے۔ قاضی صاحب نے عدالت میں بھی سب کے سامنے برملا اعتراف بھی کیا کہ یہ ہماری جانب سے کوتاہی ہے، اس پر معذرت کی، پھر فیصلے میں بھی لکھا کہ یہ جو پانچ سال اس نے جیل میں گزارے ہیں یہ ہمارا قصور ہے، تو ان سے معذرت بھی کی۔ تو اس طرح کے مسائل ہمارے بہت سارے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم پہ رحم کرے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
اچھا سر آپ کے خیال میں 26ویں آئینی ترمیم سے عدالتی نظام میں کوئی حقیقی تبدیلی آئے گی؟ اور اسی طرح اس ترمیم میں سود کے حوالے سے بھی جو وقت دیا گیا ہے تو کیا وہ بھی حقیقت پر مبنی ہے؟ کیونکہ وفاقی شرعی عدالت کا بھی ایک فیصلہ اس حوالے سے موجود ہے۔ ان دونوں باتوں میں آپس میں کیا فرق ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ زیادہ اہم بات تھی، یا اس ترمیم میں سود کے حوالے سے جو ٹائمنگ دی گئی وہ زیادہ اہم ہے؟ اور اسی طریقے سے کیا اس ترمیم میں اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے بھی کوئی بات کی گئی ہے؟ اس حوالے سے اگر آپ رہنمائی فراہم کریں۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
26ویں ترمیم میں بہت ساری چیزیں ہیں، جیسے آپ نے ذکر کیا۔ وفاقی شرعی عدالت کی بات ابھی ہم نے کی کہ اس کے فیصلے تو معلق رہتے تھے۔ اب اس میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ 12 مہینے تک معلق رہیں گے۔ بارہ مہینے میں اگر ان کا فیصلہ نہیں ہوا تو وہ نافذ رہیں گے الا یہ کہ شریعت ایپلیٹ بینچ ان کے خلاف سٹے دے دے۔ البتہ اس کا اطلاق آئندہ اپیلوں پر ہوگا، پچھلی اپیلوں پر نہیں ہوگا۔ سودی قوانین سے متعلق اپیلیں چونکہ جو 26ویں ترمیم سے پہلے کی ہیں، تو وہ معلق ہی رہیں گی، اور شریعت کورٹ کا فیصلہ معلق رہے گا جب تک شریعت ایپلیٹ بینچ ان کا فیصلہ نہ کرے۔ تو اس فیصلے میں بھی ویسے جو پانچ سال کا ٹائم دیا گیا ہے، جو 2027ء تک ہے، اس لحاظ سے بھی یکم جنوری 2028ء کی تاریخ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
تاہم یہ یکم جنوری 2028ء والی بات پالیسی کے اصولوں والے باب میں لکھی گئی ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پالیسی کے اصولوں والے باب کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ محض اقوالِ زریں ہیں کیونکہ اس باب میں جو اصول متعین کیے گئے ہیں اگر ان کی خلاف ورزی پر کوئی انتظامی حکم جاری کیا جاتا ہے، یا کوئی قانون سازی کی جاتی ہے، تو آپ اس کو عدالت کے ذریعے نہیں روک سکتے، یا اس کے خلاف عدالت میں نہیں جا سکتے۔ مثال کے طور پر اگر سود کے خاتمے کے لیے یکم جنوری 2028ء کی تاریخ رکھی گئی ہے لیکن اگر حکومت اس کے خلاف جاتی ہے تو آپ حکومت کے اس اقدام کو عدالت میں نہیں چیلنج کر سکتے۔
لیکن یہ آدھی بات ہے، پالیسی کے اصولوں کی اپنی اہمیت بہرحال ہے کیونکہ اس باب میں یہ طے کیا گیا ہے کہ تمام حکومتی اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اصولوں پر گامزن رہیں، اور ان کے متعلق صدر اور گورنر پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ رپورٹیں بھی مرتب کرائیں کہ وفاق میں اور صوبے میں ان اصولوں پر کیا کام ہوا ہے اور کیسے جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عدالت میں نہ سہی لیکن پارلیمان میں، صوبائی اسمبلی میں، اور دیگر فورمز پر اس ضمن میں کوشش کی جا سکتی ہے، کی جانی چاہیے۔ بہرحال ریاست نے اپنے لیے ایک ہدف مقرر کر لیا ہے، اس حد تک یہ بات خوش آئند ہے، ہدف کے لیے ٹائم مقرر کر لیا، یہ بھی خوش آئند ہے، لیکن اس پر اب آرام سے بیٹھ نہیں جانا چاہیے، اب اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوشش کرنی چاہیے، جاگتے رہنا چاہیے اور جگاتے رہنا چاہیے، اور مختلف جو فورم ہیں عدالت کے ماسوا، تو ان پر بات کرنی چاہئیں۔
عدالت کا فورم شریعت ایپلیٹ بینچ کی صورت میں موجود ہے، تو اس ضمن میں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپیلیں سنی جائیں۔ 26ویں ترمیم میں آئینی مقدمات کے لیے آئینی بینچ بنا دیا گیا ہے۔ میری رائے یہ تھی، اور یہ میں نے کئی علماء کرام تک اور دیگر دوستوں تک بھی پہنچائی، کہ جو شریعت کورٹ سے دو طرح کی اپیلیں آتی ہیں: (1) فوجداری اپیلیں (2) اور قوانین کے اسلامی احکام سے تصادم والی اپیلیں۔ تو فوجداری اپیلیں تو چلیں عام شریعت ایپلیٹ بینچ میں جائیں، لیکن قانون اسلامی احکام سے متصادم ہے یا نہیں، گویا قانون جائز ہے یا ناجائز، یہ تو آئینی سوال ہے، اس لیے اس کو آئینی بینچ میں جانا چاہیے۔ اس لیے آئینی بینچ میں عالم جج کا ہونا ضروری ہے، یہ میری تجویز تھی۔ مزید یہ کہ چونکہ اسلام ہمارا دین ہے اور ہمارا آئین اسلامی ہے تو اس لیے بھی آئینی بینچ میں کسی عالم جج کا ہونا ضروری ہے تاکہ آئین اور قانون کی تعبیر و تشریح اسلامی اصولوں پر کی جا سکے۔ یہ باتیں بہرحال 26ویں ترمیم میں شامل نہیں ہیں۔ اگر آئندہ کوئی کوشش کی جاتی ہے 27ویں ترمیم کی تو اس مرحلے پر دیکھا جائے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا آپ نے پوچھا تو اس کے حوالے سے دو اہم باتیں اس میں آگئی ہیں: ایک تو اسلامی نظریاتی کونسل کی جو سفارش یا رپورٹ پارلیمان میں جاتی ہے ، تو پارلیمان ان رپورٹوں کو دیکھتی نہیں ہے، حالانکہ آئین کی رو سے یہ پارلیمان کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان رپورٹوں پر، ان سفارشات پر غور کرے، اور ان کی روشنی میں قوانین میں تبدیلی کرے جہاں ضروری ہو، لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اب انھوں نے اس میں شق شامل کر لی ہے کہ جب رپورٹ دے دی جائے تو ایک سال کے اندر اس کو زیر بحث لانا ضروری ہوگا۔ لیکن پھر سوال وہی ہوگا کہ اگر ایک سال میں زیربحث نہیں لایا گیا تو کیا ہوگا؟ تو وہاں پھر خلا ہے۔
دوسرا اہم کام یہ کیا گیا ہے کہ بعض اوقات پارلیمان کا کوئی ایوان، سینٹ، قومی اسمبلی، یا صوبائی اسمبلی، اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لینے کے لیے سوال بھیج دیتی ہے کہ فلاں قانون، فلاں شق، شریعت سے متصادم ہے یا نہیں ہے، آپ اس پر ہماری رہنمائی کریں۔ ایسی رہنمائی جب اسلامی نظریاتی کونسل ان کے پوچھنے پر دے تو کونسل کی رائے پر غور ان کے لیے لازم ہو جاتا ہے۔ ایسی رائے پوچھنے کے لیے پہلے کم از کم 40 فیصد ارکان کا ووٹ چاہیے تھا، اب اس کو ایک چوتھائی کر دیا گیا ہے، یعنی 25 فیصد۔ تو اب اگر صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی یا سینٹ کے صرف 25 فیصد ارکان قرارداد لے آئیں کہ یہ سوال اسلامی نظریاتی کونسل سے پوچھنا چاہیے، تو اب وہ سوال اسلامی نظریاتی کونسل سے پوچھا جائے گا، اور اگر وہ رائے دے تو اس رائے پر غور کرنا لازم ہوگا۔ یہ میرے نزدیک ایک اہم قدم ہے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
اس کا مطلب کہ سیاستدان جو ہیں وہ اب یہ بہانہ نہیں بنا سکتے کہ ہم اپوزیشن میں ہیں اور ہم تھوڑے ہیں۔ پچیس فیصد ہی چاہیے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
بالکل ۔۔۔ اچھا، یہ جو آپ نے سیاستدان کی بات کی، تو صرف چار امور ایسے ہیں جن میں سیاسی پارٹی کے منتخب اراکین اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتے: (1) وزیراعظم کا انتخاب کا مسئلہ ہو (2) یا عدمِ اعتماد کا ہو (3) یا بجٹ کا ہو (4) یا آئین میں ترمیم کا ہو، ان چار امور کے علاوہ باقی سارے امور میں وہ آزاد ہیں اور وہ ان میں اپنی پارٹی لائن کے خلاف بھی ووٹ دے سکتے ہیں ۔ اگر آپ کے پاس مثال کے طور پر بیس فیصد ارکان ہیں، تو آپ باقی پارٹیوں سے بھی، حتی کہ سرکاری پارٹیوں سے بھی چند افراد ملا کر پچیس فیصد کر سکتے ہیں، تو یہ ایک اچھا راستہ کھل گیا ہے (بالکل زبردست ایک اچھا راستہ کھل گیا ہے۔ رفیق) یعنی راستہ تو پہلے ہی سے موجود تھا لیکن ذرا مشکل تھا، پہلے آپ چالیس فیصد ارکان پورے کرتے، اب پچیس فیصد کرنے ہوں گے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
اچھا ایک مختصر سوال، کیا عدلیہ کو ماضی میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور کیا اب بھی ایسا ہوتا ہے؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
سیاست کی تعریف بھی متعین کرنی ہو گی، تو اس کے بعد اس سوال کا جواب آسان ہو جائے گا۔ اگر سیاست کا مطلب منہ زور گھوڑے کو لگام دینا ہے، جس سے سائس کا لفظ بھی نکلا ہے، تو سیاست تو پوری زندگی پر حاوی ہے، تو وہ عدالت پر بھی حاوی ہے۔ اور سیاست کا اگر کوئی مخصوص مفہوم ہے تو اس میں بھی یہ بات کہی جاتی رہی ہے، اور میں نے بھی کئی دفعہ لکھی ہے، بطور قانون کے طالب علم کے بھی میں کہا کرتا ہوں کہ دو طرح کے قوانین ایسے ہیں: (1) ایک بین الاقوامی قانون (2) اور ایک آئینی امور یعنی دستوری قانون، جن میں آپ قانون اور سیاست کو الگ نہیں کر سکتے۔ بس صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس میں سیاست کا عنصر کچھ زیادہ نہ آ جائے۔ تھوڑی بہت سیاست بین الاقوامی قانون میں بھی ہمیشہ ہوتی ہے، اور تھوڑی بہت سیاست دستوری قانون میں بھی ہمیشہ ہوتی ہے۔ بس ججوں کو فیصلہ آئین اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔ اسی کا انھوں نے حلف اٹھایا ہوا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے اور آئین کو برقرار رکھیں گے، اس کا دفاع کریں گے، اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ ان پر لازم ہے۔ باقی ناقدین تو کہتے رہیں گے اور کسی حد تک اس تنقید میں وزن بھی ہوگا کہ یہاں سیاست زیادہ تھی، قانون کم تھا، وہاں قانون زیادہ تھا سیاست کم تھی، یہ سلسلہ تو جاری رہے گا۔
رفیق اعظم بادشاہ:
سر، موضوعات تو بہت زیادہ ہیں اور آپ سے سوالات بھی بہت زیادہ ہیں، لیکن وقت کی تنگی کے باعث آج ہم اس کو ختم کرتے ہیں، اس وعدے کے ساتھ کہ مستقبل میں آپ ہمیں اپنے علم سے استفادہ کے مواقع فراہم کرتے رہیں گے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
ان شاء اللہ میری بھرپور کوشش ہو گی کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے اور مزید بھی اس پر ہم ان شاء اللہ، جو مجھ سے ہو سکتا ہے، میں ضرور کروں۔
رفیق اعظم بادشاہ:
بہت شکریہ سر۔
سپریم کورٹ میں تعیناتی کا پہلا دن تھا اور بہت ہی مصروف دن تھا کیونکہ قاضی صاحب نے پہلے دن ہی فل کورٹ کا اجلاس بلایا اور پھر اسی دن فل کورٹ بنچ تشکیل دے کر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے متعلق درخواستوں کی سماعت شروع کی جو رات تک جاری رہی اور پی ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی۔
اس مصروفیت کے دوران میں جب کچھ دیر کےلیے دفتر آیا، تو سپریم کورٹ کے عملے کے کچھ سینیئر افراد آئے ہوئے تھے جو مجھ سے پوچھنا چاہ رہے تھے کہ میں سرکاری گاڑی لوں گا یا اپنی گاڑی استعمال کروں گا؟ اور سرکاری ڈرائیور لوں گا یا خود گاڑی چلاؤں گا؟ میں نے پوچھا کہ قانون کیا کہتا ہے کہ سرکاری گاڑی کون لے سکتا ہے اور کن شرائط پر؟ انھوں نے مختصر جواب دیا کہ سرکاری گاڑی تو سب افسران لے سکتے ہیں اور وہی معمول کے شرائط ہیں۔ میں نے کہا کہ گاڑی کے استعمال کے متعلق رولز مجھے دیں اور اگر کوئی پالیسی ہو، تو وہ بھی دیں۔ میں ان کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کو بتاسکوں گا کہ میں نے کیا کرنا ہے۔ یہ بات ان کےلیے تھوڑی حیران کن تھی، لیکن انھوں نے مذکورہ رولز اور پالیسی دینے کا وعدہ کیا۔
اگلے دن مجھے میرے پرسنل اسسٹنٹ نے رولز اور پالیسی کی نقول دے دیں، لیکن مجھے اس دن بھی مطالعے کا موقع نہیں مل سکا کیونکہ اس دن بھی سماعت شام تک جاری رہی اور اس دوران میں قاضی صاحب نے جیوڈیشل اکیڈمی کے علاوہ ان جامعات کے متعلق کام سونپ دیا جن کے بورڈ کے وہ رکن تھے (قائد اعظم یونیورسٹی، علامہ اقبال یونیورسٹی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی)۔ اگلے چند دن بھی موقع نہیں مل سکا کیونکہ جیوڈیشل کمیشن اور سپریم جیوڈیشل کونسل کا اجلاسوں کی تیاری بھی شروع ہوگئی اور ہفتے کے اختتام سے قبل قائد اعظم یونیورسٹی کے بورڈ کا اجلاس بھی بلایا گیا۔
ویک اینڈ پر مجھےموقع ملا اور میں نے پڑھا، تو معلوم ہوا کہ کئی برسوں سے سرکاری پالیسی یہ ہے کہ سرکاری افسران سرکاری گاڑی نہ لیں اور اس کی جگہ ان کو تنخواہ میں اضافی رقم دی جائے (اسے "مونیٹائزیشن" کہتے ہیں، یعنی سرکاری گاڑی کے استعمال کا حق چھوڑ کر اس کے عوض میں رقم لینا)۔ پالیسی میں اسے لازمی قرار دیا گیا تھا، یعنی سرکاری افسران کو یہ اختیار دیا ہی نہیں گیا تھا کہ وہ چاہیں تو یہ لیں، چاہیں تو وہ لیں، بلکہ ان پر لازم کیا گیا تھا کہ وہ سرکاری گاڑی نہ لیں اور اس کی جگہ یہ رقم لیں۔ اس کو لازم کرنے کا سبب یہ ذکر کیا گیا تھا کہ سڑکوں پر سرکاری گاڑیاں کم سے کم نظر آنی چاہئیں۔
کئی سالوں سے رائج اس پالیسی کے باوجود سڑکوں پر سرکاری گاڑیوں کی تعداد میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی تھی۔ میں نے متعلقہ افسران کو بلا کر ان سے کہا کہ یہ پالیسی تو لازمی ہے، تو آپ کیسے رہے تھے کہ میں سرکاری گاڑی لے سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا کہ ہاں، یہ لازمی تو ہے لیکن آپ چاہیں تو لے سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر لازمی ہے، تو پھر چاہیں تو لے سکتے ہیں کا کیا مطلب ہوا؟ انھوں نے کہا کہ کئی دیگر افسران نے بھی لی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے؟ تو معلوم ہوا کہ چیف جسٹس کو رولز میں تخفیف کا اختیار ہے، اس لیے بعض مخصوص حالات میں وہ تخفیف کرکے کسی کو سرکاری گاڑی لینے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اچھا تو مجھے بھی آپ یہی تجویز کررہے تھے؟ انھوں نے کہا کہ ہاں، اگر آپ سرکاری گاڑی لینا چاہتے ہیں تو ہم چیف جسٹس کو ایک نوٹ "پٹ اپ" کریں گے اور وہ اجازت دیں، تو آپ گاڑی لے سکیں گے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں اپنے لیے کوئی خصوصی اجازت نہیں لوں گا، میری اپنی گاڑی ٹھیک ہے۔
ویسے بھی قاضی صاحب کے ساتھ کام کرنے میں تو دن اور رات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا اور بہت کم ایسا ہوا کہ میں رات 8 بجے سے پہلے گھر پہنچا ہوں، بعض اوقات 10 اور 11 بھی بج جاتے، چھٹی کا بھی کوئی تصور نہیں تھا اور بعض اوقات اتوار کے دن بھی ہم کام کرتے تھے۔ ایسے میں اگر کہیں رات گئے یا چھٹی کے دن کسی نے سرکاری گاڑی استعمال کرتے ہوئے دیکھا، تو یہ سوچے بغیر اور معلوم کیے بغیر کہ رات کے وقت یا چھٹی کے دن سرکاری کام سے دفتر یا سرکاری کام ختم کرکے گھر جایا جاسکتا ہے، ایک اچھا خاصا سکینڈل بنایا جائے گا، اور شریعت کا حکم ہے کہ "مواضعِ تہمت" سے بچا جائے، یعنی ان جگہوں اور ان کاموں سے گریز کیا جائے جن سے خواہ مخواہ لوگوں کو بدگمانی ہوتی ہے۔
اس لیے میں نے سرکاری گاڑی لینے سے انکار کیا اور بعد میں اگر کسی وقت میری گاڑی دستیاب نہ ہوتی، یا ورکشاپ میں ہوتی، اور مجھے جلدی میں سرکاری گاڑی لینے کی ضرورت پڑتی، تو باقاعدہ فارم بھر کر گاڑی لی اور اس کے استعمال کے عوض میں تنخواہ سے کٹوتی کروائی۔
البتہ ڈرائیور میں نے سرکاری لیا کیونکہ ایک تو میں ڈرائیونگ کی زحمت سے بچنا چاہتا تھا اور دوسرے عموماً صبح دفتر جاتے ہوئے راستے میں قاضی صاحب کے ساتھ فون پر بات چیت ہوتی یا پیغامات کا تبادلہ ہوتا یا وہ مجھے کچھ کام سونپتے یا میں انھیں ایسی اطلاع دیتا جو عدالت میں جانے سے قبل ضروری ہوتی۔ نیز بے انتہا دفتری مصروفیت کی وجہ سے گاڑی کا خیال رکھنا اور وقتاً فوقتاً ورکشاپ لے جانا بھی میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ سرکاری ڈرائیور لینے کی اجازت رولز اور پالیسی میں تھی اور اس کے عوض پالیسی کے مطابق میری تنخواہ میں کچھ حصہ کٹ جاتا تھا۔
یہ تفصیلات خود نمائی کےلیے نہیں، بلکہ اس لیے ذکر کیں کہ ایک تو سرکاری گاڑی کے استعمال کے متعلق لوگوں کو کچھ بنیادی باتوں کا علم ہوجائے، دوسرے یہ بھی معلوم ہو کہ ہمارے افسران کیسے خود بھی رولز اور پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نئے آنے والوں کو بھی اس کی لت لگاتے ہیں، اور تیسرے یہ بھی واضح ہو کہ "دفتری اوقات کے بعد" سرکاری گاڑی کا استعمال ہمیشہ ناجائز نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات سرکاری کام کےلیے ہی اس کی واقعی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
facebook.com/share/p/1Ca9cwxE5v
(مکمل)
