قرآن اور سائنسی حقائق

قرآن مجید کو سائنس کی کتاب سمجھنا یا اس سے سائنسی معلومات کشید کرنے کی کوشش کرنا اس کے مقصدِ نزول سے انحراف ہے۔ قرآن دین کی کتاب ہے، جس کا بنیادی ہدف انسان کو اس کے خالق سے روشناس کرانا، بندگی کی دعوت دینا اور آخرت میں اعمال کی جواب دہی پر متنبہ کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت وہ انسان کے مشاہدے اور فہم میں آنے والی حقیقتوں کو بنیاد بنا کر استدلال کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں مظاہرِ فطرت پر غور و فکر کی دعوت سائنسی تحقیق کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے ہے کہ انسان اپنے وجود اور کائنات میں بکھری نشانیوں کے ذریعے ایک قادر و حکیم خالق اور روزِ جزا کی حقیقت کو پہچان سکے۔

قرآن کا اسلوب سائنسی نہیں بلکہ ادبی اور محاوراتی ہے۔ وہ اسی زبان میں بات کرتا ہے جس میں انسان اپنے مشاہدات کو بیان کرتا ہے۔ اسی لیے سورج کے غروب ہونے کو کسی مقام پر ڈوبتے ہوئے بیان کرنا یا انسانی تخلیق کے بعض پہلوؤں کو شائستہ استعارات میں بیان کرنا کوئی سائنسی دعویٰ نہیں بلکہ ایک ادبی کلام کا اسلوب ہے۔ جنسی اور جسمانی امور کے بیان میں قرآن وہی تہذیبی اسالیب اختیار کرتا ہے جو باوقار زبان کا حصہ ہوتے ہیں۔ صُلب اور ترائب جیسے الفاظ بھی اسی ادبی اور محاوراتی روایت کے تحت محل بیان میں آئے ہیں۔

یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ قرآن کے بعض بیانات اپنی لفظی جامعیت کے باعث بعد کی سائنسی دریافتوں کے مصداق بن سکتے ہیں، مگر یہ اُن کا اصل مدعا نہیں۔ اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قرآن کے مقصد اور اسلوب کو نظرانداز کر کے اسے جدید سائنس کی عینک سے پڑھا جاتا ہے، جس سے کبھی بے جا اعتراضات اور کبھی غیر ضروری خوش گمانیاں جنم لیتی ہیں۔

قرآن کے بیانات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اُن میں کوئی بات خلاف واقعہ نہیں پائی گئی۔ الفاظ کا انتخاب اس قدر محتاط اور چست ہے کہ سائنسی علم کی بنیاد پر اُن میں کوئی خلل ثابت نہیں کیا جا سکا۔ مثال کے طور پر سورۂ لقمان میں بارش اور رحمِ مادر سے متعلق علم کا ذکر انسانی علم کی نفی کے طور پر نہیں بلکہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ قطعی اور کامل علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ اصل مدعا قیامت کے انکار پر انسانی رویے کی کمزوری کو نمایاں کرنا ہے، نہ کہ سائنسی امکانات کو رد کرنا۔

اسی طرح جنین کی تخلیق کے مراحل کے بیان میں حروفِ عطف کے استعمال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن کہیں ترتیب وار مراحل بیان کرتا ہے اور کہیں ساتھ ساتھ ہونے والے عمل کو، جسے نظرانداز کرنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ قرآن سائنسی حقائق کے خلاف بات کر رہا ہے، حالاں کہ متن کی باریک رعایت سے یہ اعتراض خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔

کائنات میں جوڑوں کی تخلیق، چھ دنوں میں کائنات کی پیدائش، شہابیوں کا ذکر، یا زمین و آسمان کی تخلیق کی ترتیب جیسے معاملات میں بھی قرآن کوئی سائنسی نظریہ پیش نہیں کرتا بلکہ اپنے مخاطبین کے فہم کی سطح پر بات کر کے آخرت اور توحید کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ’’ایام‘‘ کا مفہوم ادوار ہے، اور خدا کے دن انسانی دنوں کے پیمانے پر محدود نہیں۔

بعض مقامات پر قرآن کا بیان اس قدر جامع ہے کہ جدید سائنس کی بعض دریافتیں اس کے ضمن میں سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے زندگی کی ابتدا کا پانی سے تعلق، فضا کا محفوظ چھت ہونا، یا پہاڑوں کا زمین کے توازن میں کردار۔ ان مقامات پر قرآن کا اصل مدعا خدا کی قدرت کا اظہار ہے، اگرچہ سائنسی حقائق اُن کے ممکنہ مصادیق بن جاتے ہیں۔

مزید یہ کہ قرآن میں کچھ ایسی باتیں بھی بیان ہوئی ہیں جو نزول کے وقت انسانی علم سے ماورا تھیں اور بعد میں معلوم ہوئیں، جیسے کائنات کا ابتدائی گیساتی مرحلہ یا میٹھے پانی میں موتیوں کی موجودگی۔ کچھ امور ایسے بھی ہیں جو اب تک انسانی علم میں نہیں آئے، مثلاً متعدد کائناتوں کا وجود یا جنّات کی حقیقت۔ ان معاملات میں علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ نہ قطعی اثبات کا دعویٰ کیا جائے اور نہ انکار میں عجلت کی جائے۔

اس کے برعکس بعض جدید دعوے محض خوش گمانیاں ہیں، جیسے یہ کہنا کہ قرآن نے جنین، آبی چکر، بگ بینگ، کائنات کے پھیلاؤ یا فرعون کی ممی کی پیشگی سائنسی خبر دی ہے۔ ان سب مثالوں میں قرآن کے سیاق، اسلوب اور مخاطبین کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالاں کہ متن پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں سائنسی انکشافات بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ خدا کی قدرت، ربوبیت اور آخرت کی یاد دہانی کرانا اصل ہدف ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن نہ سائنس کی تردید کرتا ہے اور نہ اس کا نعم البدل بنتا ہے۔ وہ انسان کو اُس کے محدود علم کا احساس دلا کر ایک بڑے، بامعنی اور با مقصد کائناتی نظام کی طرف متوجہ کرتا ہے، تاکہ وہ خالق کو پہچانے، اپنی ذمہ داری سمجھے اور اس دنیا کو آخرت کے تناظر میں دیکھے۔

اسلام اور عصر حاضر

(الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۳

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۹)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۳)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۳)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

وجودِ باری تعالیٰ: سائنسی تناظر، الحادی فلسفہ اور قرآنی تعلیمات
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

قرآن اور سائنسی حقائق
ڈاکٹر عرفان شہزاد

نمازِ تہجد — تشکر و عبودِیت کی مظہر
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

روزہ کی اہمیت اور فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں
مفتی نصیر احمد

زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور حساب کا طریقہ
مولانا محمد الیاس گھمن

حرمین شریفین میں وِتر کی نماز امام کی اقتداء میں پڑھنے کا حکم
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۲)
پروفیسر خورشید احمد

ہمارا تعلیمی نظام اور استعماری دور کے اثرات
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر شرعی ہے
ڈاکٹر محمد امین
ملی مجلس شرعی

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

ذاتی دفاع اور اس کے نتائج
عرفان احمد خان

ٹرمپ کی غزہ مجلسِ امن — کیا عالمی نظام بکھر رہا ہے؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Islam`s Teachings for Peaceful Coexistence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جسٹس خلیل الرحمٰن کا انتقال
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

آہ! سید سلمان گیلانی
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تمام مکاتبِ فکر کے اتحاد اور مشترکہ اعلامیہ پر تہنیت اور تجاویز
اظہر بختیار خلجی
تنظیمِ اسلامی

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

الشریعہ اکادمی اور معارفِ اسلامیہ اکادمی میں دورہ تفسیر القرآن الکریم
مولانا محمد اسامہ قاسم
مولانا حافظ واجد معاویہ
مولانا محمد رجب علی عثمانی

مطبوعات

شماریات

Flag Counter