بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، السلام علیکم۔ عرفان خان آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ آج جس موضوع پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں وہ ہے Self Defense اور اس کے Consequences (ذاتی دفاع اور اس کے نتائج)۔
سب سے پہلے تو یہ بات آپ سمجھ لیں کہ ذاتی دفاع ہوتا کیا ہے۔ ذاتی دفاع یہ ہوتا ہے کہ آپ پُر امن ہیں، آپ پر کسی نے غیر قانونی طور پر بلا وجہ بلا اشتعال حملہ کر دیا ہے، اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے آپ اپنا دفاع کرتے ہیں، اس کو ذاتی دفاع کہتے ہیں۔ یہ تو موٹی سی ڈیفینیشن ہے سیلف ڈیفنس کی۔ اب قانون کی کتابوں میں، عملی زندگی میں، اور عدالتوں میں اِس کو کس تناظر میں لیا جاتا ہے اور اعلیٰ عدالتوں نے اس کی ڈیفینیشن کس حد تک ریفائن کی ہے، اس کو سمجھنے کے لیے دو تین چیزیں آپ نے ذہن میں رکھنی ہیں۔
اس کے لیے میں آپ کو ایک مثال دے دیتا ہوں کہ ایک شخص ڈنڈے کے ساتھ آپ کے اوپر حملہ آور ہوتا ہے، للکارتا ہوا کہ میں اس کو نہیں چھوڑوں گا، اور آپ اپنا دفاع کرنے کے لیے پستول نکال کر اس پر فائر کر کے اس کو مار دیتے ہیں۔ یہ سیلف ڈیفنس نہیں کہلاتا۔ ذاتی دفاع کو متناسب طور پر متوازن ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک شخص آپ کو گالی نکالے اور آپ اس کا دانت توڑ دیں۔ ایک شخص خالی ہاتھ آپ کو صرف للکارے اور آپ اس کی ٹانگ توڑ دیں۔ سیلف ڈیفنس میں بیلنس ہونا چاہیے، اور بیلنس ان حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایک شخص آپ پر ڈنڈے سے حملہ آور ہوتا ہے اور آپ اپنے ذاتی دفاع میں ڈنڈے سے ہی اس کو جواب دیتے ہیں، یا پاس پڑی ہوئی کسی ایسی ہی چیز سے (جو تیز دھار نہ ہو) آپ اس کو جواب دیتے ہیں، یہ سیلف ڈیفنس کہلاتا ہے۔
اب اس حوالے سے طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے تو آپ نے اس کو روکنے کی کوشش کرنی ہے۔ عدالت میں آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ میں نے پہلے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رکا نہیں۔ کیونکہ وہ رک نہیں رہا تھا، اگر میں اپنا دفاع نہ کرتا تو جو ضرب اُس کو لگی ہے وہ ضرب اس سے زیادہ سنگین نوعیت سے مجھے لگ سکتی تھی۔ اگر آپ یہ ثابت کر دیتے ہیں تو پھر آپ کا ذاتی دفاع تسلیم ہو گا اور آپ ایک معصوم شہری تصور ہوں گے، آپ مجرم نہیں قرار پائیں گے۔ آپ کے اوپر لگا الزام عدالت ختم کر دے گی کہ اِس شخص نے ہر لحاظ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حملہ آور، جو زخمی یا مقتول ہوا تھا، جس انداز سے وہ حملہ آور ہوا تھا، اس میں اس طریقے سے اس کو روکنے کی کوشش کی گئی، جب وہ نہیں رکا تو پھر ذاتی دفاع کی خاطر اِس نے یہ اقدام کیا، اگر وہ یہ اقدام نہ کرتا تو جو ضرب زخمی کو یا مقتول کو لگی ہے وہ اِس کو لگ سکتی تھی۔ چنانچہ سیلف ڈیفنس میں آپ نے یہ چیزیں بڑی وضاحت کے ساتھ ثابت کرنی ہیں۔
اب ایک سوال جو مجھے آیا ہے کہ سیلف ڈیفنس (کے مقدمہ) میں جو حملہ آور ہے اُس کو کس حد تک فائدہ ہو سکتا ہے، یا کس حد تک نقصان ہو سکتا ہے؟
- نقصان تو اس حد تک ہو سکتا ہے کہ دوسرا بندہ اگر اپنا ذاتی دفاع ثابت کر گیا کہ ’’حملہ آور یہ ہے اور میں نے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے اس کو روکا‘‘، تو نقصان حملہ آور کا ہے کہ اس کو اپنی لگی ہوئی چوٹ کا کوئی صلہ نہیں ملے گا۔ یہی تصور ہو گا کہ یہ چوٹ تمہارے اقدام کی وجہ سے تمہیں لگی ہے۔
- فائدہ تب ہو گا جب حملہ آور یہ ثابت کر دے کہ ’’میں نے حملہ نہیں کیا، حملہ اُس نے ہی کیا ہے، اگر میں نے حملہ کیا ہوتا تو اس کو بھی کوئی چوٹ آتی، اُس کو کوئی چوٹ نہیں آئی، چوٹیں ساری مجھے آئی ہیں‘‘۔ یا مقتول کے جو گواہان ہیں، وہ یہ ثابت کر دیں کہ ’’جناب اس کو تو خراش تک نہیں آئی اور مقتول مر گیا ہے‘‘، تو پھر اس کا فائدہ مقتول پارٹی کو ہو گا، اور جو قاتل پارٹی ہو گی اس کو سزا ملے گی۔
امید کرتا ہوں کہ سیلف ڈیفنس (ذاتی دفاع) کے حوالے سے جو میرے پاس معلومات تھیں وہ بتا دی ہیں۔
