ایران نہ صرف اپنا بلکہ فلسطین کا بھی دفاع کر رہا ہے
اسلام آباد (3 مارچ 2026ء) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نہ صرف اپنا دفاع کر رہا ہے بلکہ فلسطین کا بھی دفاع کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں عالمِ اسلام کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں واقع ایرانی سفارت خانے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔ ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے بقول ایک صہیونی یورپی اتحاد نے پہلے فلسطین پر قبضہ کیا اور فلسطینی آج تک شدید دباؤ اور طویل تنازع کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کی بھرپور حمایت کے بعد ایران کے خلاف جنگ کا “دوسرا مرحلہ” بے بنیاد الزامات کے تحت شروع کیا گیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کو باہمی اختلافات میں الجھنے کے بجائے متحد ہونا چاہیے اور اجتماعی طور پر بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انسانیت کا دشمن قرار دیا۔
سفیر رضا امیری مقدم نے مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بالآخر فتح عالمِ اسلام کی ہی ہوگی۔
پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
سٹی 42 (3 مارچ 2026ء) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ صورتحال ہر طرف سے گمبھیر ہے، مسلم دنیا کی وحدت متاثر ہو رہی ہے، پاکستان افغانستان حالت جنگ میں ہیں، ایران پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں، ایران اپنے اوپر ہونے والے حملے کا جواب دے رہا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال پر حکومت کو پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے، پاکستان کی داخلی اور بین الاقوامی واضح سمت کا تعین ہونا چاہیے، کل وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے، موجودہ صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے یہ اہم سوال ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایران یہ تاثر دے رہا ہے کہ سپریم لیڈر (رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای) کی شہادت کے بعد ان کے عزائم میں فرق نہیں آیا، ایران جنگ کے اثرات عالم اسلام تک پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں ایرانی سفارت خانے سے آرہا ہوں، وہاں تعزیت کرنے گیا تھا، جمعیت علماء اسلام کسی مسلک کی تفریق پر یقین نہیں رکھتی۔
قبل ازیں وفاقی حکومت نے اپوزیشن سے رابطہ کرتے ہوئے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو بریفنگ وزیر اعظم ہاؤس میں دی جائے گی۔
رہبرِ معظم نے اپنی جان نچھاور کر دی
یکم مارچ 2026ء: بالآخر وہی ہوا جس کی امریکی اسرائیلی گٹھ جوڑ سے توقع تھی کہ ان کی کاروائیوں کے خلاف جرأت مندانہ مزاحمت کی قیادت کرتے ہوئے ایرانی رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای نے بھی اپنی جان نچھاور کر دی، اللہ پاک امت کو درپیش تاریخ کے اس سنگین ترین بحران سے نمٹنے کے لیے مسلم حکمرانوں کو حمیت اور ہدایت دیں۔
ایران کے خلاف جارحیت اور بین الاقوامی قانون
بین الاقوامی قانون کی رو سے
- اسرائیل اور امریکا کے پاس جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے، نہ ہی امریکا کو اڈے دینے والوں کے پاس کوئی جواز ہے۔ اسرائیل نے پیش بندی کے اقدام (pre-emptive strike) کا عذر پیش کیا ہے، لیکن ایک تو اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت ایسے اقدام کا کوئی جواز نہیں ہے، دوسرے، اقوامِ متحدہ سے پہلے کے بین الاقوامی عرف سے اسرائیل استدلال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ عرف اب بھی اس کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس عرف میں ایسی کارروائی کے جواز کے لیے تین شرائط تھیں جن میں ایک بھی نہ ہو، تو کارروائی کو ناجائز مانا جاتا (یہ شرائط امریکی وزیرِ خارجہ ویبسٹر نے برطانیہ کو سرکاری خط میں لکھی تھیں):
- ایک یہ کہ خطرہ فوری نوعیت کا ہو،
- دوسرا یہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مسلح کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہ ہو،
- اور تیسرا یہ کہ مسلح کارروائی صرف اتنی ہی کی گئی جتنی اس خطرے سے بچنے کے لیے ضروری تھی۔
بالکل واضح ہے کہ ان میں کوئی بھی شرط اس وقت ایران کے خلاف پائی نہیں جاتی تھی۔ - ایران کو حقِ دفاع حاصل ہے، حملہ آوروں کے خلاف بھی اور حملے کے لیے اڈے فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی۔ ایران کی جوابی کارروائی "بدلہ" نہیں، "دفاع" ہے کیونکہ یہ اس پر مسلط کی گئی اسی جنگ کے خلاف ہے جو اس وقت جاری ہے، نہ کہ اس پر کیے گئے حملے کے بعد انتقام کے لیے۔ بین الاقوامی قانون ایسی صورت میں حملے کے شکار ملک کو دفاع کا حق دیتا ہے، لیکن حملے کے بعد بدلے کا معاملہ مختلف ہے۔ کئی لوگ اس فرق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
- البتہ حق دفاع میں بھی جنگ کے قانون کی پابندی لازم ہے اور اس وجہ سے شہری آبادی اور شہری تنصیبات پر حملہ ناجائز ہوگا، خواہ اس کا ارتکاب دفاع کے نام پر کیا جائے۔ تاہم اگر ہدف چننے اور ہتھیار اور وقت کے انتخاب میں ضروری احتیاطی تدابیر کی گئی ہوں اور حتی الامکان کوشش کی گئی ہو کہ حملے کے اثرات کو صرف فوجی تنصیبات تک محدود کیا جائے، اور اس کے باوجود شہری آبادی کو نقصان پہنچے، تو اسے غیر ارادی ضمنی نقصان کے طور پر برداشت کیا جا سکتا ہے۔

