ٹرمپ کی غزہ مجلسِ امن — کیا عالمی نظام بکھر رہا ہے؟

سوئٹزرلینڈ میں برف سے ڈھکے چھوٹے سے قصبے ڈاؤس میں ہر سال ورلڈ اکنامک فورم کا میلہ لگتا ہے۔ جہاں بنیادی طور پر دنیا بھر سے کوئی دو ڈھائی ہزار معاشی ماہرین، بڑے صحافی، سیاست داں اور مفکرین جمع ہوتے ہیں۔ ان کو اور ان کے ذریعہ ساری دنیا کو امریکی ماہرین معیشت، صنعت کار، تاجر اور بینکار اور سیاسی لیڈران اپنے اکیڈمک بیانوں، انٹرویوز، اور نرم معاشی تجزیوں سے خوبصورت انداز میں اپنا نیا بیانیہ دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ ان کو ٹھنڈے ٹھنڈے امریکی معاشی غلامی کا پاٹھ پڑھاتے ہیں۔ ڈاؤس میں ہونے والے مباحثوں کی گرچہ کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی مگر عملاً دنیا کو رُول ڈاؤس میں بننے اور ڈیولپ ہونے والی امریکی معاشی پالیسیاں ہی کرتی ہیں۔

جنگ عظیم دوم کے بعد کی دنیا کو بڑے پانچ فاتحین نے اپنے منطقہائے اثر کے لحاظ سے باہم بانٹ لیا تھا۔ اور اقوام متحدہ کی صورت میں ایک جعلی نظام قائم کر دیا تھا جس کے تحت ساری دنیا کو چلایا جا رہا تھا۔ یو این او کا ادارہ انہی پانچ بڑوں کی اجارہ داری میں چل رہا تھا۔ مگر اب بدلے ہوئے حالات میں فرانس اور برطانیہ تیزی سے اپنا رُول کھو رہے ہیں۔ چین اور روس چونکہ امریکہ بہادر کے لیے چیلنج بن رہے ہیں اس لیے اب امریکہ کو ان دونوں ممالک کی خودسری راس نہیں آ رہی ہے۔ وہ ان کے ساتھ سودے بازی کی کوششیں برابر کر رہا ہے جس میں ابھی کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ دوسری طرف اسے اقوام متحدہ کا وجود بھی کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے اس لیے وہ یو این او کو نشانہ بناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یو این او نے ہمیشہ ہی اس کے مفادات پورے کیے ہیں، اور جب نہیں کیے تو امریکہ نے اسے بائی پاس کرنے میں ایک لمحہ کی بھی دیر نہیں لگائی۔ اس نے عراق، لیبیا، اور افغانستان پر یک طرفہ حملے کرکے ان کو برباد کر دیا۔ اسی طرح روس بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں رہا اور اس نے بھی مختلف بہانوں سے یو این کو بائی پاس کرکے یک طرفہ اقدام کیے۔ مثلاً شام پر بمباری اور اس کے بعد یوکرین پر حملہ۔ 

اب امریکہ بہادر ٹرمپ کی نرگسی قیادت میں یو این کی بساط لپیٹ دینا چاہتا ہے۔ وہ ناٹو سے نکل چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے 60 سے زیادہ ذیلی اداروں سے نکل گیا ہے۔ اسرائیلی دہشت گرد وزیر اعظم بنجامین نتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دینے والے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس پر اس نے پابندی لگا دی۔ اور اب ہر وہ قدم اٹھا رہا ہے جس سے یو این او کی نفی ہوتی ہو۔ چنانچہ اقوام متحدہ کے موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس جن کی مدتِ عہدہ اب ختم ہو رہی ہے اور جو فلسطین کے حق میں اپنی کمزور سی آواز بلند کرتے رہے ہیں، ان کو سزا دینے کے لیے ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو بالکل کالعدم کرنے کے لیے ایک نئی مجلسِ امن کا اعلان کیا، جس کو بظاہر غزہ امن بورڈ کا نام دیا ہے اور جس میں شمولیت کے لیے دنیا کے مختلف سربراہانِ مملکت کو دعوت دی ہے۔ اس نئے پلیٹ فارم کا باضابطہ اعلان انہوں نے ڈاؤس میں کیا اور اس کے مسودے پر دستخط کیے۔ اس کی رکنیت کے لیے اربوں ڈالر کی فیس رکھ دی۔ اس میں اب تک صرف 14 ممالک شریک ہوئے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر تو ٹرمپ کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے گئے ہیں اور بعض عرب اور مسلم ممالک نے اس لیے شرکت کی ہامی بھر لی ہے کہ ان بے چاروں کو فلسطینیوں کی اسرائیل کے ہاتھوں بے محابا خوں ریزی کو روکنے کا اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں سوجھا۔ کیونکہ اور طریقوں میں ہمت اور شجاعت کی ضرورت ہے جو فی زمانہ ان غریبوں میں عنقا ہو چکی ہے۔

؏ حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

ہر ملک میں ایک ڈیپ اسٹیٹ ہوتی ہے۔ ڈیپ اسٹیٹ سے مراد ریاست کے اندر موجود ایسے بااثر اور جڑ پکڑے ہوئے عناصر یا طاقت کے مراکز کا مبینہ نیٹ ورک ہے جو فوج، خفیہ اداروں، بیوروکریسی، عدلیہ یا معاشی اشرافیہ پر مشتمل ہو سکتا ہے، اور جو اس بات کا حامل سمجھا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی منتخب حکومت کے برسرِ اقتدار ہونے سے قطعِ نظر قومی پالیسی پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ یہ اصطلاح ایک ایسے پائیدار اور پسِ پردہ طاقت کے ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنے تزویراتی مفادات اور ادارہ جاتی تسلسل کو ترجیح دیتا ہے اور بعض اوقات عوام کے سامنے جواب دہ سیاسی قیادت کے فیصلوں کی مزاحمت کرتا یا انہیں اپنی سمت میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض سیاق و سباق میں امریکہ جیسے ممالک میں یہ اصطلاح سیاسی مباحث میں نسبتاً وسیع، اور کبھی تجزیاتی تو کبھی سازشی انداز میں بروئے کار لائی جاتی ہے، جہاں اس سے مراد غیر منتخب عناصر کا نظامِ حکمرانی پر دیرپا اثر و کنٹرول لیا جاتا ہے۔

تاہم امریکہ کو اس معاملہ میں ایک استثنا حاصل ہے، وہ یہ ہے اس کی ڈیپ اسٹیٹ اندر اور باہر دونوں جگہ ہے۔ بیرون میں اسرائیل ہی امریکہ کی ڈیپ اسٹیٹ ہے جس کو نظر انداز کرنا کسی بھی امریکی صدر کے لیے ممکن نہیں ہوتا، چاہے وہ رپبلکن ہو یا ڈیموکریٹ۔ اور اندرون میں وہ طاقتور صیہونی لابی جو امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) وغیرہ گروپوں کے ذریعہ کام کرتی ہے جس کے ممبران سینکڑوں صیہونی بلینائرز ہیں جو کروڑوں ڈالرز کا چندہ دونوں پارٹیوں میں صدارتی امیدواران کو دیتے ہیں اور ان کے ذریعہ اسرائیل کے مفادات پورے کراتے ہیں۔

شرقِ اوسط میں اسرائیل کو چیلنج دینے والی کسی بھی ریاست کا ناطقہ بند کرنا اس لابی کا پرانا کھیل رہا ہے۔ فی الحال ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنا صرف اور صرف اسرائیل کے مفادات کو پورا کرنا ہے۔ ایران پر 16 قسم کی شدید اقتصادی پابندیاں امریکہ نے لگا رکھی ہیں جن کی وجہ سے ایرانی معیشت برباد ہو چکی ہے۔ یورپی منافقت بھی کھل کر سامنے آگئی جب یورپی یونین نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا، اور وہ بھی اس وقت جب امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ حالانکہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام ختم ہو چکا ہے۔ وہ کبھی بھی امریکہ یا یورپ کے لیے ڈائرکٹ خطرہ نہیں تھا۔ روس اور چین ابھی بظاہر خاموش ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اقوام متحدہ کی نفی سے ان کے بھی مفادات پورے ہوتے ہوں۔ مگر ایران پر حملے سے ان کے معاشی مفادات بھی خطرے میں پڑیں گے اس لیے ان کو کھل کر سامنے آنا چاہیے۔ اگرچہ وہ دونوں براہ راست امریکہ سے تصادم کبھی مول نہیں لیتے، مگر ایران کو انہوں نے نہ بچایا اور وینیزویلا کی طرح واویلا کرکے رہ گئے تو کل امریکہ ان کو براہ راست اٹیک کرنے سے بھی باز نہیں آئے گا۔ کیونکہ نرگسی مزاج ٹرمپ دنیا میں اپنا کوئی حریف نہیں دیکھنا چاہتے۔ 

بہرکیف اب آتے ہیں اس موضوع پر کہ ٹرمپ اپنے اس امن بورڈ سے کیا کرنے والے ہیں؟

غزہ امن بورڈ: امید یا حقیقت؟ ایک تجزیہ

حماس نے ایک ایک کرکے سبھی زندہ یا مردہ اسرائیلی یرغمالی اسرائیل کو سونپ دیے۔ اس کے بعد غزہ کے لوگوں کو اور باقی سبھی دنیا کو بے صبری سے انتظار تھا کہ کب جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ اسرائیل مسلسل لیت و لعل سے کام لیتا آرہا تھا، لمبی مدت گزرنے کے بعد اب جا کر امریکی صدر نے اس سلسلہ میں نئی پیش رفت کی ہے اور غزہ امن بورڈ کی تشکیل کی ہے۔ ڈاؤس ورلڈ اکنامک فورم میں عالمی سیاست میں یہ نیا تصور سامنے آیا ہے جسے "غزہ امن بورڈ" (Board of Peace) کہا جاتا ہے، جسے مغربی دنیا کی قیادت میں غزہ کی پٹی کی جنگ بندی، امن برقرار رکھنے، سیکیورٹی اور انتظامی امور کے لیے ایک بین الاقوامی عارضی ادارہ کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہاں ہم اس پر سرسری سی روشنی ڈالتے ہیں تاکہ قارئین آسانی سے سمجھ سکیں کہ یہ بورڈ کیا ہے، کیسے قائم ہوا، اس کے مقاصد کیا ہیں، اس کے فائدے و نقصانات کیا ہو سکتے ہیں، اور اسے درپیش اہم سیاسی و عملی چیلنج کیا ہیں۔

۱۔ امن بورڈ کا پس منظر اور قیام

ویسے تو غزہ امن بورڈ کا تصور اِس سال کے وسط میں سامنے آیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے 20 نکاتی امن منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا حصہ یہ تھا کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں عبوری انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جائے، جس کی نگرانی ایک عالمی ادارہ یعنی "Board of Peace" کرے گا۔

اس پلان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2803 کے تحت منظور بھی کیا، جس میں بورڈ آف پیس کو غزہ کے عارضی انتظام و انصرام کے لیے قانونی طور پر تسلیم شدہ ادارہ قرار دیا گیا۔ اس قرارداد کے تحت بین الاقوامی امن فورس (ISF) کو بھی عارضی طور پر غزہ کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

بورڈ آف پیس کا مینڈیٹ فی الحال دو سال کے لیے طے کیا گیا ہے، جس کی مدت قرارداد میں درج ہے۔ یہ ادارہ غزہ کی تعمیر نو، امدادی انتظامات، سیکیورٹی ڈھانچے اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے کی ذمہ داری سنبھالے گا۔

۲۔ ارکان اور قیادت میں کون شامل ہے؟

امن بورڈ کے ابتدائی ارکان میں بعض عالمی سیاسی رہنما، سابق سربراہانِ مملکت، بین الاقوامی شخصیات اور دیگر فیصلے ساز شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ، امریکی نمائندے، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، اور دیگر بین الاقوامی شخصیات کا نام سامنے آیا ہے۔ اور اس امن بورڈ کی صدارت صدر ٹرمپ بذات خود کریں گے۔ اور ویٹو کے تمام اختیارات بھی انہوں نے اپنے ہی پاس رکھے ہیں۔ اس کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ اس میں فلسطینی نمائندگی بالکل نہیں ہے۔ ابتدائی فہرست میں عملی طور پر کوئی فلسطینی نمائندہ شامل نہیں دکھائی دیتا۔ جبکہ بورڈ دنیا بھر کے لیڈروں پر مشتمل ہے، صرف یہی نہیں بلکہ غزہ کے قاتلوں کو بھی اس میں جگہ دے دی گئی ہے۔

۳۔ بورڈ کے اہداف و مقاصد

کیا امن بورڈ صرف غزہ کو سیکیورٹی دینا چاہتا ہے؟ مبینہ طور پر اس کے مقاصد درج ذیل بڑے نکات پر مبنی ہیں:

جنگ بندی کا نفاذ

غزہ میں خونی تصادم کے بعد مستقل جنگ بندی کو برقرار رکھنا، تاکہ مزید خونریزی نہ ہو۔ اس شق کے تحت بہت سے امریکی فوجی غزہ میں تعینات ہیں مگر وہ اسرائیل کے غزہ والوں پر روز روز کے حملوں سے بالکل صرفِ نظر کیے ہوئے ہیں، تو ابھی سے ظاہر ہے کہ وہ غزہ کو کیسی سیکیورٹی دیں گے؟

سیکیورٹی اور امن فورس

بین الاقوامی سیکیورٹی فورس ISF کے تحت غزہ میں امن اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا، بشمول عسکریت پسندوں کی غیر مسلح کاری۔ یعنی حماس اور دوسری مزاحمتی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا۔ اس کے لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ کچھ مسلم ممالک اپنی فوج بھیج کر یہ کام کریں۔ مگر اسرائیل اس کے لیے ترکی اور پاکستانی فوج کو نامنظور کر چکا ہے۔ البتہ انڈونیشیا نے اپنے کچھ فوجی بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔ زبانی یہ ممالک کہہ رہے ہیں کہ وہ حماس سے اسلحہ لینا جیسا کوئی کام نہیں کریں گے، مگر جب ایک بار آپ ٹریپ میں آگئے تو اس کے نتائج سے کیسے بچ پائیں گے؟

انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا

تبدیلی کے دوران نئی ٹیکنوکریٹک فلسطینی کمیٹی کو انتظامی امور سونپنا، اور بعد میں اصلاح و ترمیم شدہ فلسطینی اتھارٹی کو بتدریج اس کا نظم سونپنا۔ جبکہ اسرائیل اس شق کی بھی مخالفت کر رہا ہے۔

تعمیر نو اور معیشت

بنیادی سہولیات جیسے پانی، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے بین الاقوامی فنڈز اور منصوبے ترتیب دینا۔ ظاہر ہے کہ اس میں اصل پیسہ ثروت مند عرب ملکوں سعودی عرب اور یو اے ای و قطر وغیرہ سے لیا جائے گا۔ مگر اس کی کیا ضمانت ہے کہ اربوں ڈالر خرچ کرکے یہ ممالک تعمیرِ نو کریں اور اسرائیل پھر بمباری کرکے اس کو برباد نہ کر دے؟

۴۔ مثبت دعوے اور حکومتی موقف

بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک نے امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہے، جیسے پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر اور اردن وغیرہ۔ پاکستان نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ اس کا مقصد پائیدار امن، انسانی امداد اور غزہ کی تعمیر نو ہے، نہ کہ کسی سیاسی مفاد کو تقویت دینا۔ پاکستانی حکومتی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ شمولیت کا مقصد فلسطینی عوام کی مدد، امن و استحکام اور انسانی بنیادوں پر اقدامات ہے، اور اس سے علاقے میں مستقل جنگ بندی کا نفاذ ممکن ہوگا۔ بظاہر پاکستان کا خیال ہے کہ وہ حماس یا دوسرے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو غیر مسلح کرنے کے کام میں تعاون نہیں کرے گا۔ لیکن اگر اس کی فوج ایک بار وہاں جاتی ہے تو کیا اس کے لیے ممکن ہو گا کہ وہ امریکی احکامات کی خلاف ورزی کرے؟

۵۔ تنقید اور خدشات

امن بورڈ کے بارے میں بعض اہم تنقیدیں نہایت اہم اور قابلِ غور ہیں:

فلسطینی نمائندگی کا فقدان

غزہ کے عوام خود اپنے اداروں اور قیادت کو منتخب کرنے کے مختار نہیں رکھے گئے، اور عالمی بورڈ میں ان کی حقیقی شمولیت مشکل محسوس ہوتی ہے۔

خود مختاری اور مستقبل کی سیاست

اگر بورڈ سیکیورٹی، انتظام اور فنڈنگ کنٹرول کرے، تو سوال اٹھتا ہے کہ فلسطینیوں کی اصلی خود مختاری، سیاسی آزادی اور دو ریاستی حل کہاں سے آئے گا؟ یہ خدشہ بہت سے حلقوں میں واضح ہے۔ اور اسرائیل اس پر بضد ہے کہ حماس تو حماس، غزہ کی آبادکاری میں فلسطینی مقتدرہ کا بھی کوئی رُول نہیں ہو گا۔

غیر واضح مدت اور شرائط

دو سال کی مدت کے بعد کیا ہوگا؟ فلسطینی اتھارٹی کا مؤثر انتظام کب شروع ہوگا؟ یہ واضح نہیں ہے اور اس پر سیاسی اختلافات برقرار ہیں۔

مقامی حمایت کا مسئلہ

جو بورڈ قائم کیا جا رہا ہے کیا اس کو غزہ کے عوام قبول کر لیں گے؟ یہ ایک سوال ہے، کیونکہ مقامی مزاحمتی قوتوں اور عام عوام کی توقعات مختلف ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ تعمیرِ نو کا مطلب کیا ہے؟ دنیا کے لوگ یہی سمجھ رہے ہیں کہ اہل غزہ کو ہی تعمیرِ نو کے بعد اس میں آباد کیا جائے گا، مگر بعض تبصرہ نگار کہہ رہے ہیں کہ امریکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے جا رہے ہیں کہ وہ غزہ کے ساحل پر بیچز بنائیں، تفریح گاہیں قائم کریں، ریستوراں بنائیں، ہوٹل تعمیر کریں اور ایک جدید ریویرا وہاں ابھر کر آجائے۔ ظاہر ہے کہ اس سب میں لٹے پٹے فلسطینیوں کے لیے جگہ کہاں ہو گی؟

۶۔ مجموعی انداز اور مستقبل کیا ہے؟

غزہ امن بورڈ ایک عالمی فریم ورک کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کا مقصد یہ دکھایا جا رہا ہے کہ غزہ کو امن و استحکام کی راہ پر لایا جائے۔ تاہم، اب تک جو خاکہ سامنے آیا ہے وہ زیادہ تر انتظامی، سیکیورٹی اور تکنیکی کردار تک محدود نظر آتا ہے، غزہ کی حقیقی سیاسی آزادی یا خود مختاری کے سوالات ابھی بھی حل طلب ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کہنا درست ہوگا کہ امن بورڈ ایک عبوری انتظامی ادارہ کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے، جس میں فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، مقامی نمائندگی، سیاسی حل اور دیرپا امن کے حقیقی عوامل کے حوالے سے بہت سے سوالات ابھی حل طلب اور تشنۂ جواب ہیں۔

غزہ امن بورڈ کے مقاصد بظاہر بڑے بتائے گئے ہیں: امن، انسانی امداد، تعمیر نو اور سیکیورٹی کا قیام۔ مگر عملی طور پر اس کے اثرات، مقبولیت، اور مستقل سیاسی حل کے بغیر یہ منصوبہ شاید صرف ایک عارضی انتظامی ڈھانچہ ثابت ہو، نہ کہ حقیقی امن و آزادی کا ذریعہ۔ چنانچہ فلسطینی اسکالر محسن محمد صالح اس امن بورڈ کے خطہ میں پڑنے والے کئی سیاسی سیناریوز کا جائزہ لیتے ہوئے یہ خلاصہ کرتے ہیں:

"بہرحال، امن کونسل کے اپنے وجود کے اندر ہی ناکامی کے کئی بیج موجود ہیں اور یہ ایک نئی طاقت کی کشمکش کے لیے میدان ہموار کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو فلسطینی آزادی کی جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گی، مگر اس بار مختلف ذرائع اور طریقوں کے ساتھ۔ یوں یہ ادارہ دراصل ایک 'بحران کے انتظام' کی کونسل کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔ اور درمیانی مدت میں اس کے بکھر جانے کا خدشہ برابر رہے گا۔ کسی زور دار یا ڈرامائی انہدام کے ذریعے نہیں بلکہ بتدریج زوال، اندرونی کھوکھلے پن سے، اور اس لیے بھی کہ ایسے کسی بھی بورڈ کا دراصل کوئی جواز ہے ہی نہیں"۔

غزہ امن بورڈ میں اسرائیل کو بھی شامل کر لیا گیا ہے یعنی جو غزہ کا قاتل ہے جس نے اس کو تباہ و برباد کیا اب وہی اس کی باز آبادکاری کرے گا! چہ معنی دارد؟ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ غزہ امن بورڈ میں امریکہ کی چھتری تلے اسرائیل اپنے مقاصد پورے کرے گا۔ وہ حماس کا خاتمہ کروائے گا، غزہ کو اسلحہ سے خالی کرائے گا، اور مزاحمت کی کسی بھی ممکنہ شکل کا خاتمہ کرے گا۔ اسی طرح اس کی کوشش ہوگی کہ غزہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا انخلاء کروا لیا جائے جس کے لیے اس نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا ہے جو صومالیہ سے کٹ کر الگ ملک بننا چاہتا ہے، اور اس کو ابھی نہ اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے نہ عرب لیگ نے اور نہ او آئی سی نے۔ صاف ظاہر ہے کہ صومالی لینڈ کے لیڈروں کو بھاری مالی مدد اور عالمی طور پر تسلیم کر لیے جانے کی رشوت اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے دی گئی ہے، اور اس کو رام کیا جا رہا ہے کہ وہ چند لاکھ غزہ والوں کو قبول کر لے اور ان کے لیے الگ بستیاں بسا دے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فلسطینی سرکاری موقف یہی ہے کہ اس مجلس امن کو کام کا موقع دیا جائے اور اس کا ساتھ دیا جائے تاکہ جتنا بھی تعمیر نو ممکن ہو وہ ہو سکے۔ جبکہ اسرائیل پوری کوشش کرے گا کہ تعمیرِ نو کے پورے عمل پر اس کا کنٹرول رہے اور وہ اس میں اڑچنیں ڈالتا رہے گا تاکہ یہ بورڈ اپنے تمام مبینہ مقاصد حاصل نہ کر سکے بلکہ اس کے پس پردہ اسرائیلی مقاصد پورے ہوں۔

فی الحال اسرائیل نے مغربی کنارہ اور غزہ کو ایک دوسرے سے کاٹ دیا ہے اور فلسطینی وجود کے ٹکڑے کر دیے ہیں اور اس پر نہ امریکہ کچھ کہہ رہا ہے اور نہ عرب و اسلامی ممالک نے کوئی اعتراض کیا ہے۔ فلسطینی اپنی کمزوری کے باعث کسی پوزیشن میں نہیں۔ آئندہ چل کر اسرائیل کی پوری کوشش ہوگی کہ یہ سیٹلمنٹ جوں کا توں برقرار رہے اور وہ مغربی کنارہ (جس کو اسرائیلی جوڈیا سمیرا کہتے ہیں) کو پورا ہڑپ کر جائے۔ اس کی پارلیمان پہلے ہی مغربی کنارہ کو اسرائیل میں ضم کرنے کا بل پاس کر چکی ہے۔ سردست تو اس نے غزہ کے بھی نصف حصہ پر قبضہ جمایا ہوا ہے، وہاں پیلی پٹیاں (خط اصفر) قائم کر دی ہیں اور وہ اپنے فوجیوں کو وہاں سے پیچھے ہٹانے کو حماس سے اسلحہ لے لینے سے مشروط کرتا ہے جو کہ مزاحمتی تنظیموں کو قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہ فریقین کے درمیان نزاع کی بہت بڑی وجہ بننے والی ہے۔

5 فروری 2026ء کو ترکی صدر رجب طیب اردگان سعودی عرب کا دورہ کرنے کے بعد مصر پہنچے۔ اور انہوں نے صدر سیسی سے ملاقات میں اسرائیل کی مذمت کی کہ شرم الشیخ میں امریکی سرپرستی میں جو جنگ بندی ہوئی تھی اس کی خلاف ورزی اسرائیل روز کرتا ہے اور لگاتار نہتے فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے اور اس نے اب تک 500 لوگ شہید کر دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب یہ سب اپنے بیانات میں اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں۔ یہی لوگ معاہدے کے ضامن ہیں تو یہ اسرائیل کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑ سکتے؟ یہی ملین ڈالر کا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

غزہ امن بورڈ کا ڈاؤس میں اعلان کرتے ہوئے اور اس کے مسودہ پر دستخط کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کا ایک بار بھی نام نہیں لیا بلکہ امید ظاہر کی کہ اس بورڈ کا دائرہ کار صرف شرق اوسط نہیں ہوگا بلکہ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی اس کو آزمایا جا سکے گا۔ مبصرین نے ان کے اس بیان سے یہ اٹکلیں لگائی ہیں کہ اس سے غالباً ان کی مراد یہ ہے کہ یہ نئی مجلس جس کی قیادت خود ٹرمپ کر رہے ہیں، خاموشی سے اقوام متحدہ کی جگہ لے لے گی اور امریکہ کی سپریم اتھارٹی دنیا بھر میں ڈائرکٹ قائم ہو جائے گی۔ اس طرح یہ ایک نئے امریکی عالمی نظام کا پیش خیمہ ہو گی جس میں موجودہ پانچ بڑوں کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہو گی جن کو سلامتی کونسل میں فی الحال ویٹو پاور حاصل ہے۔ 19 فروری کو ٹرمپ کے اس غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا جس سے کچھ خاص نہیں نکلا۔

  • اس پیس بورڈ کو عالمی میڈیا ٹرمپ کا بورڈ کہتا ہے کیونکہ یہ انہیں کا انیشیٹو ہے اور ان کے بعد خود امریکہ میں کوئی اس کو Take up کرنے والا نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ٹرمپ ہمیشہ تو صدر رہیں گے نہیں۔ 
  • جو ممالک اس میں شامل ہوئے ہیں کوسوو، بولیویا، ہنگری وغیرہ ان میں امریکہ کے علاوہ کوئی بھی عالمی اثر و رسوخ نہیں رکھتا۔ 
  • یورپ کے تمام بڑے ممالک نے اس سے دوری اختیار کی ہے کیونکہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کے ذریعہ اقوام متحدہ کو By pass کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 
  • 8 مسلم اور عرب ممالک بشمول پاکستان کے جو اس میں شامل ہوئے ہیں ان کے سامنے کوئی واضح مقصد نہیں۔ وہ ٹرمپ کے جال میں پھنس چکے ہیں اور مستقبل میں اپنے اس اقدام کے نکل سکنے والے خطرناک مضمرات کے بارے میں اندازہ نہیں رکھتے۔ اسرائیل خود ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا تھا مگر ٹرمپ نے انہیں اس کے ساتھ ایک میز پر بٹھا دیا ہے۔ یوں انہوں نے خود ہی گویا اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم سے بری کر دیا ہے۔ اب ان میں سے کسی کی جرات ہو گی کہ وہ اس سے دو ریاستی حل کی بات کرے۔ 
  • اس طرح ٹرمپ کا یہ بورڈ فوری طور پر اسرائیل کے مقاصد پورے کر رہا ہے۔ اسی سے حوصلہ پا کر تو اس نے مغربی کنارہ کو اسرائیل میں ضم کر لینے کا یک طرفہ فیصلہ اقوام متحدہ کی بے شمار قراردادوں کے خلاف جا کر لے لیا ہے جس کو عرب ممالک نے زبانی تو مسترد کر دیا ہے مگر عملاً کیا وہ اس وقوعہ کو روک سکیں گے؟ اس میں بہت شک ہے!

مسئلہ فلسطین

(الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۳

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۹)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۳)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۳)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

وجودِ باری تعالیٰ: سائنسی تناظر، الحادی فلسفہ اور قرآنی تعلیمات
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

قرآن اور سائنسی حقائق
ڈاکٹر عرفان شہزاد

نمازِ تہجد — تشکر و عبودِیت کی مظہر
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

روزہ کی اہمیت اور فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں
مفتی نصیر احمد

زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور حساب کا طریقہ
مولانا محمد الیاس گھمن

حرمین شریفین میں وِتر کی نماز امام کی اقتداء میں پڑھنے کا حکم
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۲)
پروفیسر خورشید احمد

ہمارا تعلیمی نظام اور استعماری دور کے اثرات
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر شرعی ہے
ڈاکٹر محمد امین
ملی مجلس شرعی

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

ذاتی دفاع اور اس کے نتائج
عرفان احمد خان

ٹرمپ کی غزہ مجلسِ امن — کیا عالمی نظام بکھر رہا ہے؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Islam`s Teachings for Peaceful Coexistence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جسٹس خلیل الرحمٰن کا انتقال
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

آہ! سید سلمان گیلانی
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تمام مکاتبِ فکر کے اتحاد اور مشترکہ اعلامیہ پر تہنیت اور تجاویز
اظہر بختیار خلجی
تنظیمِ اسلامی

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

الشریعہ اکادمی اور معارفِ اسلامیہ اکادمی میں دورہ تفسیر القرآن الکریم
مولانا محمد اسامہ قاسم
مولانا حافظ واجد معاویہ
مولانا محمد رجب علی عثمانی

مطبوعات

شماریات

Flag Counter