جسٹس خلیل الرحمٰن کی یاد میں
ابھی ابھی معلوم ہوا کہ جسٹس خلیل الرحمٰن سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور ریٹائرڈ جسٹس سپریم کورٹ آج اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ پاکستان کے متشرع ججز میں تھے اور اہلِ حدیث فکر سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ اپنی فکر سے مخلص ہونے کی وجہ سے اپنے دائرہ کار میں فکری وابستگی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ ان کی وفات پر مجھے یاد آیا کہ یوں تو میری بہت سی نگارشات شائع ہوئی ہیں تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ اپنے تحقیقی نتائجِ فکر کو پیش کرنا اس ملک میں شہادت گہ رستخیز میں قدم رکھنا ہے۔
ایک کتاب لکھنے کا تجربہ کیا تھا "حدود آرڈیننس، کتاب و سنت کی روشنی میں"، صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت تھی، اسمبلی میں طوفان کھڑا ہو گیا کہ طفیل ہاشمی نے اسلام کے خلاف کتاب لکھ دی ہے، اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اسمبلی کی کاروائی ملتوی کر دی گئی، بحث کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ ہم نے تمام ممبران کو ایک خط لکھا کہ آپ کی خدمت میں کتاب پیش ہے، پڑھ کر تبصرہ فرمائیں تو ہمیں اپنے افکار پر نظرثانی کا موقع ملے گا۔ مقررہ تاریخ پر جن ممبران نے پڑھی تھی انہوں نے اعتراف کیا کہ ہمیں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ملی۔ لیکن جن سیاسی جماعتوں یا شخصیات کا ساری زندگی کا خدمتِ دین کا اثاثہ وہی قوانین تھے، ان کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی تھی.
اسلامک یونیورسٹی میں سہ روزہ کانفرنس رکھی گئی جس کا آغاز جسٹس خلیل الرحمان نے میرے خلاف خطبہ سے کیا، لیکن شرکاء کو میں پہلے سے کتاب بھجوا چکا تھا اور وہ نہ صرف پڑھ کر بلکہ اکثر حضرات میری تائید میں مقالہ لکھ کر لائے تھے۔ پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ ہمیں ڈاکٹر ہاشمی کی کتاب سے معلوم ہوا کہ قانون میں کچھ غلطیاں ہیں، ہم ان کے تعاون سے اصلاح کریں گے۔ محترمہ سمیحہ راحیل قاضی نے خوبصورت گفتگو کی کہ ہم اسلام کے سپاہی ہیں اور قانونی باریکیوں سے ناواقف، ہمیں جیسا بتایا جائے گا ہم جدوجہد کریں گے، البتہ جسٹس صاحب نے آخری تقریر بھی بھر پور انداز میں میرے خلاف فرمائی اور اپنے سکالرز کو انگیخت کیا کہ خلافِ اسلام کوششوں کے مقابلے میں نکل آئیں۔
مولانا حنیف جالندھری، جناب حافظ حمد اللہ اور کئی مجہول الاسم سپیکر شام کو ٹی وی پروگرام میں کتاب دکھا دکھا کر مجھے برا بھلا کہہ کر اپنی شہرت کا چراغ جلانے کی کوشش کرتے۔ حنیف جالندھری کو ایک دن سنجیدہ پروگرام کرنا تھا، مجھے فون کیا، کتاب منگوائی اور اس کے بعد وہی باتیں کرنے لگ گئے جو میری کتاب میں لکھی تھیں، کوئی پوچھے اب تک پڑھے بغیر جو بولتے رہے کس حساب میں تھا؟
اس کے بعد میرے بڑے بھائی نے مجھے نصیحت کی کہ جو لکھنا چاہو لکھ رکھو اور وصیت کر جانا کہ میرے مرنے کے بعد چھاپا جائے۔ اب بھی میرے پاس لکھا ہوا بہت کچھ ہے لیکن بعد میں میری زیادہ توجہ ایسے سکالرز کی جماعت تیار کرنے پر رہی جو اتنی تعداد میں ہو جائے کہ میری طرح اس کے لیے بات کرنا مشکل نہ ہو۔ مثلاً سنت کے جس تصور نے قرآن کو زندگی سے بے دخل کر دیا ہے اس پر کچھ کام ہو چکے ہیں اور کچھ ہو رہے ہیں۔ اسلامی بنکاری کی حقیقی تصویر اور اس کے متبادلات پر چند چیزیں آگئی ہیں اور کچھ آجائیں گی، تلفیق پر جو ریسرچ آئی ہے اس کے بعد خروج عن المذہب کو ارتداد کے ہم پلہ سمجھنے والے کہاں جائیں گے۔
آج بہت سی گزری ہوئی باتیں یادداشت کو کچوکے دے رہی ہیں تاہم میرا حسن ظن ہے کہ جسٹس صاحب نے جو کہا اور کیا نیک نیت سے کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، آمین۔
facebook.com/share/p/18c1wfvczX
جسٹس خلیل الرحمان خان بھی اللہ کے حضور پیش ہوگئے
اسلامی یونیورسٹی کے سابق ریکٹر جسٹس خلیل الرحمان خان بھی اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت کرے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔
میں جب اکتوبر 2005ء میں پہلی بار اسلامی یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ کے سامنے قانون کے لیکچرر کے لیے انٹرویو دینے کے لیے پیش ہوا، تو مرحوم اس وقت ریکٹر تھے اور سلیکشن بورڈ کی سربراہی کر رہے تھے۔ استاذ گرامی ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ اس وقت صدرِ جامعہ تھے۔ استاذِ گرامی پروفیسر عمران احسن خان نیازی (اللہ تعالیٰ انھیں صحت و عافیت اور برکتوں کے ساتھ لمبی زندگی دے) بھی سلیکشن بورڈ میں بیٹھے تھے۔ جسٹس خلیل الرحمان صاحب کے ساتھ بحث کا میرے لیے وہ پہلا موقع تھا۔ بعد میں بھی ان سے استفادے کے کئی مواقع ملے۔
اسلامی یونیورسٹی کے لیے عموماً اور فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کے لیے وہ ایک سنہرا دور تھا جب سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ریکٹر تھے، ایک بڑے صاحبِ علم صدرِ جامعہ تھے، مایہ ناز فقہاء اور قانون دان فیکلٹی کا حصہ تھے اور استاذِ گرامی پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر جیسی متحرک شخصیت کو ڈپٹی ڈین کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔
جسٹس خلیل الرحمان کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق بھی دی کہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں بیٹھ کر انھوں نے 1999ء میں ربا کے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو سودی قوانین کے ختم کرنے کا حکم دیا۔ پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ متفقہ تھا، لیکن تین ججوں نے الگ الگ فیصلے لکھے: ایک فیصلہ جسٹس وجیہ الدین احمد نے لکھا اور جسٹس منیر اے شیخ نے ان سے اتفاق کیا؛ دوسرا فیصلہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے لکھا؛ تیسرے فیصلے پر استاذ گرامی ڈاکٹر محمود احمد غازی اور جسٹس خلیل الرحمان نے کام کیا، لیکن فیصلہ سنانے سے قبل ڈاکٹر غازی صاحب بنچ سے الگ ہوچکے تھے، اس لیے اس پر صرف جسٹس خلیل الرحمان کا نام ہی آیا۔
بعد میں جنرل مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے اپنی وفاداری کا حلف لیا، تو جن ججوں نے یہ حلف نہیں اٹھایا ان میں جسٹس وجیہ الدین احمد اور جسٹس خلیل الرحمان بھی شامل تھے۔
تاریخی دلچسپی اور عبرت کے لیے یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ 2002ء میں شریعت اپیلیٹ بنچ نے سود کے متعلق اپنا 1999ء والا فیصلہ ختم کر کے سارا مقدمہ واپس وفاقی شرعی عدالت میں بھیج دیا تو اس وقت ان پانچ ججوں میں، جنھوں نے 1999ء میں یہ مقدمہ سنا تھا، صرف جسٹس منیر اے شیخ ہی اس بنچ میں باقی رہ گئے تھے (کیونکہ غازی صاحب پہلے ہی الگ ہوچکے تھے اور تقی عثمانی صاحب کو بھی بعد میں مشرف نے نیا کنٹریکٹ نہیں دیا، نیز جسٹس وجیہ الدین اور جسٹس خلیل الرحمان نے مشرف کی وفاداری کا حلف نہیں اٹھایا)۔ تو جسٹس منیر اے شیخ کے ساتھ 2 علماء اور 2 ججوں (جن میں چیف جسٹس شیخ ریاض احمد بھی شامل تھے) کو شامل کر کے یہ کارنامہ ان سے کروایا گیا۔ عبرت کا مقام یہ ہے کہ سودی قوانین کے خلاف فیصلہ لکھنے کی توفیق تو ان صاحب کو حاصل نہیں ہو سکی تھی، گو جسٹس وجیہ الدین کے فیصلے پر تائیدی دستخط انھوں نے کر لیے تھے، لیکن اب جب سودی قوانین کو بچانے کی باری آئی، تو یہ صاحب اس کے بچانے والوں میں شامل ہوگئے تھے! ان کے متعلق اور بھی افسوسناک باتیں معلوم ہیں لیکن وہ کسی اور وقت سہی۔
اللہ تعالیٰ سے حسنِ خاتمہ کی دعا ہر وقت مانگنی چاہیے۔ اللھم اغفر لنا وارحمنا وعافنا واعف عنا۔
