زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور حساب کا طریقہ

اسلام کے بنیادی ارکان پانچ ہیں: زبان سے کلمہ پڑھنا ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ‘‘، نماز کی پابندی کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، استطاعت اور طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا۔ تو زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے تیسرا اہم ترین رکن ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی میں ہرگز غفلت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ زکوٰۃ کا مطالبہ جو فرماتے ہیں، اللہ اکبر، مال دیا بھی اللہ نے ہے، فورً‌ا نہیں مانگا، آپ کے پاس پورا سال پڑا ہوا ہے تو پھر مطالبہ کیا ہے۔ پھر سارا، آدھا، چوتھا حصہ نہیں مانگا۔ چالیسواں حصہ، سو میں سے اڑھائی روپے۔ پھر جو لیا ہے، اس کو کئی گنا بڑھا کر واپس دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اللہ کی رحمت، اللہ کا کرم، اللہ کا فضل تو دیکھیں۔ 

زکوٰۃ کو بوجھ نہ سمجھیں، بس زکوٰۃ ادا کرنی ہے، دل نہ مانے تب بھی کرنی ہے، شیطان ہزار بار بہکائے تب بھی کرنی ہے۔ ہاں، لیکن زکوٰۃ کے مسائل کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کہیں زکوٰۃ کی ادائیگی میں غفلت ہو، یہ بھی جرم ہے، اور زکوٰۃ ادا کرتے وقت شریعت کے مطابق ادا نہ کی تو بھی نقصان اور خسارہ ہے۔

ایک بات تو یہ سمجھیں کہ زکوٰۃ کس مال پر ہے، زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟ سونا یا چاندی، نقدی پیسے، مالِ تجارت۔ یہ بنیاد ہے اِس دور میں جو عام طور پر لوگوں کے سامنے چیزیں پیش آ رہی ہیں۔ سونا ساڑھے سات تولہ ہونا چاہیے، جس کی مقدار 87.5 گرام ہے۔ چاندی ساڑھے باون تولہ، 612.36 گرام ہے۔ یا تو اتنا سونا یا چاندی ہو۔ یا ان میں سے کسی ایک کے برابر پیسے ہوں۔ یا ان میں سے کسی ایک کے برابر مالِ تجارت ہو۔ یا کچھ چاندی ہے، کچھ سونا ہے، کچھ پیسے ہیں، کچھ مالِ تجارت ہے۔ یا کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، کچھ نقدی مال ہے۔ یا کچھ نقدی مال ہے، کچھ مالِ تجارت ہے۔ یعنی سب کا تھوڑا تھوڑا ہے، تین کا تھوڑا تھوڑا ہے، دو کا تھوڑا تھوڑا ہے، یا صرف ایک ہے۔ وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے پیسوں کے برابر ہو جائے تو یہ زکوٰۃ کا نصاب ہے۔

نمبر دو، اس مال پر پورا سال گزرے۔ پورا سال گزرے کا معنی؟ یعنی اتنا مال پورا سال آپ کی ملکیت میں رہے؟ اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اگر ہمارے پاس دس لاکھ ہے، تو پورا دس لاکھ ہمارے پاس رہے۔ یہ معنی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے، جس دن اتنے پیسے آپ کے پاس آ گئے، جن کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے پیسوں کے برابر ہے، وہ تاریخ نوٹ کر لیں چاند کے حساب سے۔ محرم، صفر وغیرہ۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین فرما لیں، چاند کے حساب سے وہ تاریخ رکھ لیں۔ آئندہ سال پھر جو وہی تاریخ ہے، اس دن دیکھیں کہ آپ کے پاس کتنے پیسے ہیں۔

مثلاً‌ ایک بندے کے پاس دو رمضان کو آئے ہیں ایک لاکھ۔ اب آئندہ سال کا دو رمضان، اب دیکھے کہ اس کے پاس پیسے کتنے ہیں؟ تین لاکھ ہے، تو زکوٰۃ تین لاکھ پر ہو گی۔ اِس وقت پچاس ہزار ہے، زکوٰۃ پچاس ہزار پر ہو گی۔ درمیان میں کتنے زیادہ ہوئے، کتنے کم ہوئے، اِس کا اعتبار نہیں ہو گا۔

اپنی آسانی کے لیے کوئی ایک تاریخ متعین کر لیں۔ بسا اوقات بندے کو یاد نہیں ہوتا کس تاریخ کو میرے پاس اتنے پیسے آئے ہیں۔ تو چاند کے حساب سے کوئی ایک تاریخ ذہن میں رکھ لیں۔ عام طور پر لوگ رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کہ اس میں اجر زیادہ ملتا ہے۔ کوئی حرج نہیں، رمضان کی تاریخ متعین کر لیں۔ لیکن یہ بھی ذہن نشین فرما لیں، بسا اوقات ہم نے رمضان کی تاریخ رکھی ہے، اور کوئی ایمرجنسی مستحق ایسا آگیا ہے، جو رمضان سے پہلے ہے یا بعد میں ہے، تو اس کو ادا کریں۔ اِس کی انتظار نہ کریں کہ رمضان آئے گا تو اجر زیادہ ملے گا۔ ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا، یہ رمضان کے اجر سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا ذرا خیال فرما لیں۔

بہرحال، (۱) نصاب پورا ہو۔ (۲) سال گزرے۔ (۳) جس پر زکوٰۃ فرض ہے، مسلمان ہو، کافر پر زکوٰۃ نہیں۔ (۴) عقل مند ہو، بے وقوف پر نہیں ہے۔ (۵) بالغ ہو، نابالغ کے مال پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ باقی میں نے بتا دیا کہ صاحبِ نصاب بھی ہو اور مال بھی ہو۔ تو یہ پانچ شرطیں موجود ہوں تو بندے پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔

سونا اور چاندی کے لیے ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں۔ سونا اور چاندی کسی بھی شکل میں ہو: ڈلی ہے، سکہ ہے، عورت کے استعمال کا زیور ہے، بیٹی کو نکاح کے لیے دینے کے لیے گھر میں رکھا ہوا ہے، ماں اپنی بیٹی کو زیور دے کر بھیجتی ہے، وہ ہے۔ کسی بھی شکل میں سونا اور چاندی موجود ہو تو اس پر زکوٰۃ ہوتی ہے۔ یہ ذہن سے بالکل نکال دیں کہ زکوٰۃ تو اس پر نہیں ہے جو استعمال کا ہے۔ نا، استعمال کے سونے پر بھی ہے۔ جو عورت نے کنگن پہنے ہیں، عورت نے انگوٹھی پہنی ہے، عورت نے گلے میں کوئی ہار یا کچھ بھی چیز ڈالی ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہماری ماؤں اور بہنوں اور بیٹیوں کو بطور خاص یہ بات سمجھنا ضروری ہے، اگر اس میں سے زکوٰۃ ادا نہ کی، یہ جہنم کا ایندھن ہے۔ ہماری کئی بہنیں کہتی ہیں، میں کیسے ادا کروں، میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔ تو زیور بیچ دو، مت رکھو اپنے پاس۔ جب آپ نے پہنا ہے تو زکوٰۃ دینی ہے۔ آخرت کا معاملہ سخت ہے، دنیا کا معاملہ بہت نرم ہے۔ زیور نہ پہنا تو کیا ہو گا؟ سونا نہ پہنا تو کیا ہو گا؟ کچھ نکال دیا تو کیا ہو گا؟ بہرحال زیور پہننے کا شوق پورا کرنا ہے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ میں تو ایک بات ویسے اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو سمجھانے کے لیے کہتا ہوں، دیکھیں، دنیا میں لوگ حرام شوق پورے کریں تو پیسے لگتے ہیں، حلال شوق پورے کریں تب بھی پیسے لگتے ہیں، تو جب تم نے زیور کا شوق پورا کرنا ہے تو اس پر خرچ کرنے میں کیا حرج ہے؟ کوئی حرج نہیں ہے، اپنا شوق بھی پورا کرو، جو حق ہے شریعت کا اس کو ادا بھی کرو۔ بہرحال زکوٰۃ کی ادائیگی کا بہت زیادہ اہتمام فرمائیں۔

https://youtu.be/cMsy1llTLXI

زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟

زکوٰۃ اس شخص پر فرض ہے:

1.     مسلمان ہو

جو مسلمان ہو۔ کافر پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ مسلمان پر فرض ہے، اس لیے کہ اس نے کلمہ پڑھ کے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ میں تمام احکامِ شریعت پر عمل کروں گا۔

2.     بالغ ہو

یہ شخص بالغ ہو۔ نابالغ احکام کا مکلف نہیں ہے۔

3.     عاقل ہو

یہ شخص عاقل ہو۔ یعنی اس کے اندر عقل ہو، بے وقوف نہ ہو، پاگل نہ ہو۔ بے وقوف اور پاگل پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔

4.     صاحبِ نصاب ہو

یہ شخص صاحبِ نصاب ہو۔ نصاب سے مراد کیا ہے؟ نصاب کہتے ہیں: 

  • ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام چاندی ہو، 
  • یا ساڑھے سات تولہ یعنی 87.5 گرام اِس کے پاس سونا ہو۔ 
  • یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر اس کے پاس پیسے ہوں۔ 
  • اور اگر کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو تو دیکھا جائے گا کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہے تو پھر بھی اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ 
  • اگر کسی کے پاس کچھ پیسے ہیں، کچھ چاندی ہے، قیمت ملائی جائے۔ 
  • کچھ پیسے نقد ہیں، کچھ سونا ہے، تب بھی ملایا جائے۔ 
  • کچھ پیسے ہیں، کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، تینوں کو ملایا جائے۔ 

تو دیکھا جائے کہ ساڑھے باون تولہ چاندی یعنی 612.36 گرام کے برابر اگر اس کے پاس پیسے موجود ہیں تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔

5.     پورا سال گزرے

پھر اس کے اوپر سال بھی گزرے۔ یعنی زکوٰۃ فرض تب ہو گی جب یہ پیسے پورا سال اس کے پاس رہیں۔ یہ نہیں کہ اتنے پیسے آئے تو زکوٰۃ فوراً‌ فرض ہو گئی۔ نہیں، سال گزرے۔ جس دن اتنے پیسوں کا مالک ہوا، آئندہ سال اِسی روز، قمری مہینوں کے حساب سے، اسی تاریخ کو اس کے اوپر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہو گی۔

بسا اوقات بندے کو یاد نہیں رہتا کس تاریخ کو میرے پاس اتنے پیسے آئے، تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ قمری یعنی چاند کے حساب سے محرم، صفر، ربیع الاول، یہ جو مہینے ہیں، اس حساب سے کوئی ایک تاریخ متعین کر لے کہ اس تاریخ کو میں زکوٰۃ ادا کیا کروں گا۔ آئندہ سال جب وہ تاریخ آ جائے تو زکوٰۃ اس دن جتنے پیسے اس کی مِلک میں موجود ہیں، اس کے اوپر زکوٰۃ فرض ہو گی، زکوٰۃ ادا کرے گا۔ درمیان میں اگر کچھ پیسے کم ہو جائیں، یا زیادہ ہو جائیں، اس کا اعتبار نہیں ہے۔ حتیٰ کہ سال کے درمیان اگر نصاب سے بھی کچھ کم ہو جائیں، اور جو تاریخ اس نے متعین کی ہے یہ تاریخ، اور آئندہ سال اس تاریخ کو پیسے مکمل ہیں، تو زکوٰۃ ادا کرنی اس کے ذمے فرض ہے۔

تو یہ نصاب ہے ساڑھے باون تولہ چاندی یعنی 612.36 گرام، یا ساڑھے سات تولہ سونا یعنی 87.5 گرام، یا اس کے برابر پیسے۔ جس کے پاس اتنی مقدار پیسوں کی موجود ہو، اس شخص کو صاحبِ نصاب کہتے ہیں۔ جب زکوٰۃ اس شخص پر فرض ہو گی: (۱) مسلمان ہو، (۲) بالغ ہو، (۳) عاقل ہو، (۴) صاحبِ نصاب ہو، (۵) اس کے پیسے پر سال گزرا ہو۔

6.     قابلِ زکوٰۃ مال ہو

اور یہ مال: سونا، چاندی، یا نقدی ہوں۔ یا یہ مال سامانِ تجارت ہو۔ اگر تجارت کا سامان نہیں ہے، ذاتی مکان ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں۔ ذاتی گاڑی ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں۔ باقی چیزوں کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آجائے گی۔ تو یہ بنیادی چیزیں ہیں جس کو سمجھنا ضروری ہے، اگر یہ شرائط پائی جائیں تو زکوٰۃ فرض ہو گی، اور اگر ان میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی گئی تو زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔

https://youtu.be/Y37LOLvZx7Q

زکوٰۃ کے مستحقین کون ہیں؟

تیسری بات یہ سمجھیں کہ زکوٰۃ کا مصرف کون ہیں، مستحقِ زکوٰۃ کون ہیں؟ زکوٰۃ کس کو آپ نے ادا کرنی ہے؟ یہ جو مستحقینِ زکوٰۃ اور مصارفِ زکوٰۃ ہیں، قرآن کریم میں آٹھ بیان کیے گئے ہیں:

1.   فقیر

اس سے مراد وہ شخص ہے کہ جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ 

2.  مسکین

یہ وہ شخص ہے کہ جس کے پاس کچھ ہو لیکن ضرورت سے کم ہو۔ 

3.   عامل، عاملین

عامل سے مراد وہ شخص ہے کہ جس کو اسلامی حکومت نے زکوٰۃ وصول کرنے پر متعین اور مقرر کیا ہو۔ 

4.   مؤلفۃ القلوب

نو مسلم، جن کی دلجوئی کی خاطر زکوٰۃ کا مال دیا جاتا ہو۔ یہ مصرف اب ختم ہو چکا ہے۔ اِس لیے یہ اُس وقت کی بات ہے جب اسلام کا ابتدائی زمانہ ہے، ابھی اسلام دنیا پہ غالب نہیں ہوا، لوگ اسلام میں آ رہے ہیں، اُن کی دلجوئی کی خاطر حکم تھا۔ اب مؤلفۃ القلوب والا حکم نہیں، یعنی کسی نومسلم کو، جو صاحبِ استطاعت ہو، صاحبِ حیثیت ہو، صاحبِ نصاب ہو، اس کی دلجوئی اور تالیفِ قلب کے لیے اب زکوٰۃ دینا چاہیں تو زکوٰۃ ادا نہیں کر سکتے۔ 

5.  غارمین

غارمین سے مراد وہ مقروض کہ جس کے سارے اثاثہ جات جمع کیے جائیں تو اس کا قرض ادا نہ ہو۔ یا ان کے اثاثہ جات جمع کر کے قرض ادا کر دیا جائے تو باقی اتنا مال بچے کہ جو نصاب کے برابر نہ ہو، نصاب سے کم ہو۔ 

6.  فک رقبۃ

جسے قرآن کہتا ہے فی الرقاب۔ یعنی غلام کو آزاد کرانے کے لیے اس کی مالی مدد زکوٰۃ سے کرنا، تاکہ وہ پیسے دے کر آزاد ہو جائے۔ 

7.  فی سبیل اللہ

وہ شخص جو اللہ کے راستے میں ہو۔ فی سبیل اللہ کا بہترین اور اول اور پہلا مصداق تو مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ لیکن وہ لوگ جو دین حاصل کرنے کے لیے اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں، دین کی اشاعت اور تبلیغ کے لیے اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں، کوئی دینی خدمات سرانجام دینے کے لیے نکلتے ہیں، ان کو بھی فی سبیل اللہ کی بنیاد پر زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔ 

8.   وابن السبیل

مسافر، یعنی ایسا شخص کہ جس کے پاس اپنے گھر، اپنے وطن میں اتنے پیسے موجود ہیں کہ جو نصاب کے برابر ہیں۔ یعنی اپنے وطن میں صاحبِ نصاب ہے، لیکن دورانِ سفر اس کے پاس اب پیسے نہیں، نصاب سے کم پیسے ہیں، اور اس کو ضرورت ہے۔ تو ایسے شخص کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں کہ اپنے سفر میں ضرورت پوری کرے۔ 

یہ مصارفِ زکوٰۃ سمجھنا بہت اہم ہے۔ ہم بسا اوقات زکوٰۃ ایسے شخص کو دیتے ہیں جو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوتا، تو ہماری زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ مثلاً‌ کسی عورت کے پاس ایک انگوٹھی موجود ہے جو فروخت کی جائے تو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر اس کے پیسے بن جاتے ہیں، تو اُس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ اگر کسی شخص کے گھر میں اتنا قیمتی ٹی وی، یا کوئی اور ایسی خرافات والی چیز موجود ہے، جس کی مالیت دیگر پیسے ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر بن جائے، اس کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ کسی عورت نے یا کسی آدمی نے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا ہے، اس کو رخصت کرنے کے لیے اس نے اتنا مال جمع کیا ہوا ہے کہ جس کی مجموعی مقدار ساڑھے باون تولہ چاندی پیسوں کے برابر ہے، آپ اس کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ اس لیے اس کا خیال کرنا بے حد ضروری ہے کہ زکوٰۃ ہم نے کس کو دینی ہے۔ زکوٰۃ کا مصرف ہو، زکوٰۃ کا مستحق ہو، وگرنہ زکوٰۃ ادا کی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ تو مصارفِ زکوٰۃ ذہن نشین فرما لیں۔

https://youtu.be/IabOYXUfUPQ

زیورات پر زکوٰۃ

چوتھی بات یہ سمجھیں کہ زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح مالِ تجارت پر ضروری ہے، زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح سونا اور چاندی مرد کے پاس ہو اُس پر ضروری ہے، خاتون کے پاس ہو اُس پر ضروری ہے، اسی طرح اگر کسی خاتون کے پاس زیور ہو اور وہ: ساڑھے باون تولہ چاندی ہو۔ یا ساڑھے سات تولے سونا ہو۔ یا کچھ سونا ہے اور کچھ چاندی کے زیور ہیں، دونوں کی قیمت کو ملائیں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو۔ یا کسی کے پاس سونا ہے اور کچھ پیسے ہیں، اب سونے کو بیچیں، وہ پیسے، اور جو پیسے موجود ہیں، ان دونوں کو جمع کریں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، تو ایسی عورت پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔ 

مجھے بتائیں ایسی کون سی خاتون دنیا میں ہو گی کہ جس کے پاس صرف زیور ہو، باقی ایک روپیہ بھی نہ ہو، ایک درہم نہ ہو، ایک دینار نہ ہو، ایک ڈالر نہ ہو، ایک پاؤنڈ نہ ہو، کوئی اس کے پاس اور کرنسی میں پیسے موجود نہ ہوں۔ کوئی ایسی عورت نہیں ملے گی۔ اس لیے خواتین اس مسئلے کو بطور خاص سمجھیں کہ زیور پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔ اللہ کا واسطہ دے کر میں عرض کرتا ہوں، اس مسئلے کو سمجھیں۔ زکوٰۃ ادا کر سکتی ہیں تو زیور رکھیں، زکوٰۃ نہیں ادا کر سکتیں تو زیور فروخت کر دیں، اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیں، کسی کام میں استعمال کے اندر لے آئیں، جہنم کا ایندھن نہ بنے۔ 

میں اس پر ایک حدیث پیش کرتا ہوں، دلائل تو اور بھی ہیں۔ میں ان مجالس میں مسائل کی وضاحت کر رہا ہوں، تفصیلی دلائل پیش نہیں کر رہا۔ سنن ابی داؤد، کتاب الزکوٰۃ، یہ روایت موجود ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، ایک صحابیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی، ’’ومعہا ابنۃ لہا‘‘۔ اور وہ بیٹی ’’وفی ید ابنتہا مسکتان غلیظتان من ذہب‘‘ اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو بھاری کنگن تھے۔ سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ’’اتعطین زکوٰۃ ہذا؟‘‘ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ اس نے کہا ’’لا‘‘، اللہ کے رسول! میں تو ادا نہیں کرتی۔ فرمایا، ’’ایسرک ان یسورک اللہ بہما یوم القیامۃ سوارین من نار؟‘‘ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ ان دو کنگنوں کے بدلے میں اس بیٹی کو جہنم کی آگ کے دو کنگن پہنا دیے جائیں۔ اس عورت نے فورً‌ا ان کو نکالا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ’’فخلعتہما الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ اور کہا، اللہ کے رسول! یہ اللہ کے راستے میں صدقہ ہے، قبول فرما لیجیے۔ 

تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنبیہ فرمائیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیور پر زکوٰۃ کی بات فرمائیں، ہم کون ہوتے ہیں گنجائش دینے والے؟ ہم کون ہوتے ہیں اپنی طرف سے گنجائش پیدا کرنے والے؟ 

ہاں، یہ بات بھی ذہن نشین فرما لیں، مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔ چاندی کی زیادہ سے زیادہ ساڑھے چار ماشہ تک اجازت ہے،  مستحب یا بہتر یہ بھی نہیں۔ اگر مرد کے پاس بھی سونے کی انگوٹھی یا کوئی اور سونے کا زیور موجود ہو۔ بعض مردوں کو بھی شوق ہوتا ہے، وہ کنگن پہنتے ہیں۔ بعض مردوں کو شوق ہوتا ہے، انگوٹھیاں پہنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ اس مرد پر بھی اس زیور پر زکوٰۃ فرض ہو گی۔ عورت تو پہنتی ہے، اس کو اچھا لگتا ہے، زیب و زینت اس کی شان کے لائق ہے، لیکن مرد اگر زیور پہننے کا جرم کرتا ہو، یہ ذہن نشین فرما لیں کہ اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔ تو میں جو بات سمجھانا چاہ رہا تھا وہ یہ کہ زیورات پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا لازم اور ضروری ہے، اس میں کوتاہی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔

https://youtu.be/o6NEIvxnd-U

پراپرٹی پر زکوٰۃ

پانچویں بات پراپرٹی کے متعلق ذرا سمجھ لیں کہ کس پراپرٹی پر زکوٰۃ دینی ہے، کس پراپرٹی پر زکوٰۃ نہیں دینی، کس پر زکوٰۃ فرض ہے، کس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ 

اگر کسی شخص نے زمین خریدی زراعت کے لیے، اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ کسی شخص نے زمین خریدی اپنا مکان بنانے کے لیے، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ کسی شخص نے مکان خریدا رہنے کے لیے، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ کسی شخص نے مکان خریدا کہ اس مکان کو میں آگے کرائے پر دوں گا، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ کسی شخص نے دکان خریدی کہ میں اس دکان میں سامان رکھ کر خود تجارت کروں گا، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ کسی شخص نے دکان خریدی اس نیت سے کہ میں اس دکان کو کرائے پر دوں گا، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ 

زکوٰۃ اس وقت آئے گی جب آدمی زمین خریدے بیچنے کی نیت سے اور پھر وہ نیت برقرار بھی رہے۔ مکان خریدے بیچنے کی نیت سے اور وہ نیت برقرار بھی رہے۔ دکان خریدی ہو بیچنے کی نیت سے، پھر وہ نیت برقرار بھی رہے۔ کیا مطلب؟ اگر زمین خریدی ہے بیچنے کی نیت سے، بعد میں نیت تبدیل ہو گئی اور یہ نیت کر لی کہ زمین پر ہم اپنا باغ لگائیں گے، زراعت کریں گے، ذاتی استعمال میں رکھیں گے۔ مکان خریدا تھا فروخت کرنے کے لیے، نیت بدل گئی کہ میں اس میں اپنے بیٹے کو رکھوں گا، اپنی بیٹی کو دوں گا، یا میں اس کو اپنے استعمال میں رکھوں گا، اب بھی زکوٰۃ نہیں ہو گی۔ اگر دکان خریدی ہے بیچنے کے لیے، نیت تبدیل ہو گئی کہ میں اس کو فروخت نہیں کروں گا، اس کو کرائے پر دوں گا، میں فروخت نہیں کروں گا بلکہ اس دکان پر سامان رکھ کر خود تجارت کروں گا، اب بھی اس کے پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ 

ہاں، یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں، اگر کسی شخص نے زمین خریدی، وہ زمین کرائے پہ دی۔ یعنی ایک شخص زمین لیتا ہے، کسی کو کرائے پہ دیتا ہے، وہ بندہ اس زمین میں کارخانہ لگا دیتا ہے اور زمین کا اِس کو کرایہ دیتا ہے۔ اسی طرح کسی شخص نے دکان خریدی اور دکان کرائے پہ دی، یا دکان بنائی اور کرائے پہ دے دی، مکان بنایا اور کرائے پر دے دیا۔ زمین کرائے پہ دی، مکان کرائے پہ دیا، دکان کرائے پہ دی، کسی کے پاس اپنی ذاتی بس ہے وہ کسی کو کرائے پہ دی، اپنی ذاتی کار ہے وہ کرائے پہ دی۔ یہ [پراپرٹی] مالِ تجارت نہیں، اس پر زکوٰۃ نہیں۔ 

ہاں، اس کا جو ماہانہ کرایہ وصول ہو گا، یا جو سالانہ کرایہ وصول ہو گا، یا جو بھی ترتیب ہو کرائے کی، تو وہ کرایہ اس کے پاس پیسہ ہو گا۔ وہ جو تاریخ اس نے اپنی متعین کی ہے زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے، اس وقت اگر یہ پیسہ موجود ہو گا تو دوسرے سرمایہ کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اور مجموعہ جو سرمایہ کا ہو گا اس پر زکوٰۃ آجائے گی۔ اور اگر پہلے خرچ ہو گیا اور سال کے آخر تک نہ بچا، تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ 

تو خلاصہ کیا ہے، کوئی اپنی رہائش کے لیے، استعمال کے لیے جائیداد خریدے، زکوٰۃ نہیں ہے۔ اگر جائیداد خریدے اور کرائے پر دے تو اس جائیداد پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ [البتہ] وہ کرایہ ایسے ہے جیسے اور پیسے آپ کے پاس ہیں، یہ بھی آپ کے پاس پیسہ ہے۔ اس پیسے کا حساب کریں اور باقی نصاب کے ساتھ جمع کر لیں۔ تو اس بات کو ذہن نشین فرما لیں، آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کس پراپرٹی پر زکوٰۃ فرض ہے اور کس پراپرٹی پر زکوٰۃ فرض نہیں، تو اس مسئلے کو اچھی طرح ذہن نشین فرما لیں۔

https://youtu.be/YwTnc6kjk4Q

زکوٰۃ کے حساب کا آسان طریقہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ 

زکوٰۃ کا نہایت آسان طریقے سے حساب کرنے کا طریقہ، یعنی ایک ایسا آسان سا طریقہ کہ جس سے آپ گھر بیٹھے زکوٰۃ کا حساب کر سکیں، بار بار آپ کو پوچھنا نہ پڑے، دائیں بائیں رابطہ نہ کرنا پڑے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے ایک فارم تیار کیا ہے جس کا نام ہے ’’زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مددگار فارم‘‘۔ اس فارم میں بنیادی طور پر آپ دو چیزیں سمجھ لیں:

  1. قابلِ زکوٰۃ اموال اور اثاثہ جات۔ یعنی وہ اموال، وہ پراپرٹی اور وہ چیزیں جن سے آپ نے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ 
  2. مالیاتی ذمہ داریاں۔ یعنی جو رقم قابلِ زکوٰۃ اموال میں سے کم کرنی ہیں، اور پھر بقیہ اموال سے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ 

نمبر ۱: قابلِ زکوٰۃ اشیاء اور اثاثہ جات

  1. سونا اور چاندی، کسی بھی شکل میں ہوں، کسی بھی مقصد کے لیے ہوں۔ کھوٹ اور نگینے نکال کر اِن کی جو مالیت بنے وہ نوٹ کر لیں۔
  2. گھر میں یا جیب میں موجود رقم۔
  3. بینک اکاؤنٹ یا لاکر میں موجود رقم۔
  4. غیر ملکی کرنسی کی موجودہ مالیت۔ 
  5. پرائز بانڈ۔
  6. مستقبل کے کسی منصوبے، حج، بچوں کی شادی وغیرہ کے لیے جمع شدہ رقم۔ 
  7. تکافل یا انشورنس پالیسی میں جمع شدہ رقم۔
  8. جو قرض دوسروں سے (واپس) لینا ہے۔ 
  9. کمیٹی یعنی BC کی جو رقم جمع کرا چکے ہیں اور ابھی کمیٹی نہیں نکلی۔ 
  10. کسی بھی چیز کے لیے ایڈوانس میں دی گئی رقم جب کہ وہ چیز ابھی نہ ملی ہو، ابھی تک موصول نہیں ہوئی، لیکن ایڈوانس میں مثلاً‌ کار کے پیسے آپ نے دے دیے، لیکن کار ابھی تک آپ کو ملی نہیں ہے۔ 
  11. سرمایہ کاری، مضاربت، شراکت میں لگی ہوئی رقم۔ 
  12. شیئرز، سیونگ سرٹیفکیٹس، این آئی ٹی یونٹس، این ڈی ایف سیونگ سرٹیفکیٹس، پراویڈنٹ فنڈ کی وصول شدہ، یا کسی اور ادارے میں مالک کے اختیار سے منتقل شدہ رقم۔ 
  13. مالِ تجارت، یعنی دوکان، گودام، یا فیکٹری میں جو سٹاک قابلِ فروخت موجود ہے اس کی موجودہ قیمت۔ 
  14. خام مال جو فیکٹری، دوکان یا گودام میں موجود ہے، اس کی موجودہ قیمت۔ 
  15. فروخت شدہ مال کے بدلے میں حاصل شدہ اشیاء کی مالیت، اور فروخت شدہ مال کی قابلِ وصول رقم۔
  16. فروخت کرنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ، گھر یا دوکان کی موجودہ قیمت۔ یعنی فروخت کی نیت سے پلاٹ خریدا ہو، یا گھر خریدا ہو، یا دوکان خریدی ہو، ان کی موجودہ مالیت۔ 

یہ جو تمام سولہ اشیاء ہم نے ذکر کی ہیں، آپ ان سولہ اشیاء کی کل مالیت کا حساب کر کے ٹوٹل کر لیں۔ اور اس کو A کا نام دے دیں۔ 

نمبر ۲: مالیاتی ذمہ داریاں

یعنی جو رقم قابلِ زکوٰۃ اموال سے کم کرنی ہیں، ذرا وہ بھی دیکھ لیں۔ 

  1. قرض جو ادا کرنا ہے، یعنی ادھار لی ہوئی رقم۔ 
  2. ادھار خریدی ہوئی چیزوں کی جو رقم ادا کرنی ہے۔
  3. بیوی کا حق مہر جو ابھی تک ادا نہیں کیا، اور ادا کرنا ہے۔ 
  4. پہلے سے نکلی ہوئی کمیٹی یعنی BC کی جو بقیہ قسطیں ادا کرنی ہیں۔ 
  5. آپ کے ملازمین کی تنخواہیں، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہیں۔
  6. ٹیکس، دوکان، مکان وغیرہ کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز وغیرہ، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہوں۔ اس تاریخ تک جو ادا کرنے ہوں، اس تاریخ کے بعد نہیں۔
  7. گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ جو ابھی ادا نہیں کی گئی۔ 

 اب ان تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب لگا کر اس کو بھی ٹوٹل کریں اور اسے B کا نام دے دیں۔ 

زکوٰۃ کے حساب کا طریقہ

اب یہ بات سمجھیں، آپ کے سامنے دو چیزیں آ گئیں۔ 

  1. وہ تمام اموال اور اثاثہ جات جو قابلِ زکوٰۃ ہیں۔ 
  2. وہ مالیاتی ذمہ داریاں جو آپ کے ذمے واجب الادا ہیں۔ 

تو پہلی تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب لگائیں، اسے A کا نام دیں۔ اور دوسری تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب لگا کر اسے B کا نام دیں۔ اب A میں سے B کو تفریق کر دیں۔ جو جواب آئے، اس کو پھر 40 پر تقسیم کریں۔ اب جو جواب آئے، وہ آپ کے ذمے واجب الادا زکوٰۃ کی کل رقم ہے۔

مثال کے طور پہ

  • A کی مقدار 20 لاکھ ہے۔ یعنی جو اثاثے آپ کے پاس موجود ہیں، سونا ہے، چاندی ہے، کچھ اور تجارت کا چھوٹا موٹا سامان ہے، کچھ نقدی مال بھی ہے۔ 
  • اور B کی مقدار 2 لاکھ ہے۔ مثلاً‌ 25 ہزار بیوی کا حق مہر دینا ہے۔ آپ نے 5 ہزار ٹیکس دینا ہے اِس تاریخ تک۔ 10 ہزار مکان کا کرایہ دینا ہے۔ اور ایسی چیزیں مثال کے طور پہ میں عرض کر رہا ہوں، اس کی مقدار 2 لاکھ ہے۔ 

20 لاکھ میں سے 2 لاکھ کو منفی کریں، مائنس کریں، تو جواب آئے گا 18 لاکھ۔ اس 18 لاکھ کو 40 پر تقسیم کریں، تو جواب آئے گا 45 ہزار۔ اب 45 ہزار روپے آپ کے ذمہ زکوٰۃ کی کل رقم واجب الادا ہے۔ یہ پینتالیس ہزار اکٹھی بھی دے سکتے ہیں، اور تھوڑی تھوڑی کر کے بھی دے سکتے ہیں۔ 

تو یہ زکوٰۃ کا حساب لگانے کا بہت آسان طریقہ ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ باقی یہ بات پھر ذہن نشین فرما لیں، خواتین کے ذاتی استعمال کے زیور پر زکوٰۃ ہے۔ اور استعمال کی گاڑیاں، گھر، دیگر سامان، اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اہتمام کے ساتھ زکوٰۃ کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اپنی بارگاہِ عالی میں اس کو قبول بھی فرمائے۔

https://youtu.be/_zfPe-exeTI

فضائل و مسائل

(الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۳

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۹)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۳)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۳)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

وجودِ باری تعالیٰ: سائنسی تناظر، الحادی فلسفہ اور قرآنی تعلیمات
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

قرآن اور سائنسی حقائق
ڈاکٹر عرفان شہزاد

نمازِ تہجد — تشکر و عبودِیت کی مظہر
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

روزہ کی اہمیت اور فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں
مفتی نصیر احمد

زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور حساب کا طریقہ
مولانا محمد الیاس گھمن

حرمین شریفین میں وِتر کی نماز امام کی اقتداء میں پڑھنے کا حکم
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۲)
پروفیسر خورشید احمد

ہمارا تعلیمی نظام اور استعماری دور کے اثرات
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر شرعی ہے
ڈاکٹر محمد امین
ملی مجلس شرعی

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

ذاتی دفاع اور اس کے نتائج
عرفان احمد خان

ٹرمپ کی غزہ مجلسِ امن — کیا عالمی نظام بکھر رہا ہے؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Islam`s Teachings for Peaceful Coexistence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جسٹس خلیل الرحمٰن کا انتقال
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

آہ! سید سلمان گیلانی
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تمام مکاتبِ فکر کے اتحاد اور مشترکہ اعلامیہ پر تہنیت اور تجاویز
اظہر بختیار خلجی
تنظیمِ اسلامی

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

الشریعہ اکادمی اور معارفِ اسلامیہ اکادمی میں دورہ تفسیر القرآن الکریم
مولانا محمد اسامہ قاسم
مولانا حافظ واجد معاویہ
مولانا محمد رجب علی عثمانی

مطبوعات

شماریات

Flag Counter