قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۲)
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تقریب

اس پس منظر میں آئیے، جو سوالات آپ نے اٹھائے ہیں، ان پر تھوڑا سا غور و فکر کریں۔ بلاشبہ آج یہ ایک اتفاق ہے کہ میری یومِ پیدائش بھی یہی ہے۔ لیکن اصل چیز یہ ہے کہ مارچ کی اہمیت ہماری تاریخ میں کم از کم تین پہلوؤں سے ہے۔

  • پہلی، تئیس اور چوبیس مارچ ۱۹۴۰ء جب قراردادِ پاکستان پیش ہوئی، سیر حاصل بحث ہوئی، اور اسے قبول کیا گیا۔ اور قراردادیں تو پیش بھی ہوتی ہیں، قبول بھی ہوتی ہیں، لیکن وہ قراردادیں جو تاریخ کے رخ کو موڑ دیں، وہ بہت کم ہوتی ہیں۔ تو اس پہلو سے مارچ، اور یہ تئیس مارچ، اور قراردادِ پاکستان کا منظور ہونا، اور اس کی روشنی میں ہمیشہ اس کو منایا جانا، اور تاریخ کی جو تبدیلی ہوئی، یہ بہت بڑی چیز ہے اور اس کو ہم آج سیلیبریٹ کر رہے ہیں۔
  • دوسری چیز پھر، الحمد للہ، یہ بھی ہے کہ قراردادِ پاکستان جس قسم کا پاکستان بنانا چاہتی تھی، اس کا واضح ترین اظہار قراردادِ مقاصد میں، جو ۹ مارچ ۱۹۴۹ء کو پیش ہوئی اور ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو منظور ہوئی، پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں، اس اسمبلی میں جو پاکستان بنانے کی جدوجہد میں سب سے آگے تھی، اور جسے پوری تحریک نے یہ کام سونپا تھا کہ ملک کا مستقبل، اس کا آئندہ کا نظام، اس کا دستور، اس کی منزل متعین کرے گی، اس نے پاس کی۔
  • اور پھر تیسری چیز یہ ہے کہ اس کی روشنی میں ۱۹۵۶ء کا جو دستور بنا، اس دستور کا نفاذ بھی ۲۳ مارچ ۱۹۵۶ء کو ہوا۔ یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے کہ ایوب خان نے اکتوبر ۱۹۵۸ء میں اس دستور کو منسوخ کر دیا۔ لیکن ۱۹۵۶ء کا دستور آج بھی pacesetter ہے۔ اور بعد کے جتنے دساتیر بھی بنے ہیں، وہ اس سے ہٹ نہیں سکے، ہٹائے جانے کی ہر کوشش کے باوجود۔ 

اس کی میں ذرا سی وضاحت کر دوں اگر تاریخ آپ کے سامنے نہیں ہے تو۔ ایوب نے جب دستور کو منسوخ کیا تو ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اب پاکستان ایک سیکولر ریاست ہو گا، اسلامی ریاست نہیں ہو گی۔ بلکہ سکندر مرزا نے تو یہاں تک کہا تھا کہ وہ سب لوگ جو اسلامی دستور کی بات کرتے ہیں ان کو کشتیوں میں بٹھا کر بحیرۂ عرب میں ڈال دو۔ یہ اس کے الفاظ تھے۔ لیکن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ تو یہیں رہے، لیکن سکندر مرزا کو ایک ماہ کے اندر ہی اسی ملک سے جانا پڑ گیا۔

پھر ایوب نے ۱۹۶۲ء میں جو I, Muhammad Ayub Khan, Field Martial Ayub Khan کے نام سے یہ دستور دیا تھا، آپ کو معلوم ہے کہ اس کا نام ’’اسلامک ری پبلک آف پاکستان‘‘ کی بجائے ’’ری پبلک آف پاکستان‘‘ تھا۔ اور اس میں سے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے جو دینی پہلو تھے وہ نکال دیے گئے تھے۔ اور ۱۹۵۶ء کے دستور میں جو یہ فقرہ تھا کہ کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو گی، یہ نکال دیا گیا تھا۔ ۱۹۶۲ء میں اس نے یہ دستور نافذ کیا ہے۔ اس کے تین مہینے میں نئی اسمبلی بنی ہے۔ اور اس اسمبلی کے اندر جو پہلی ڈیبیٹ ہوئی ہے بڑی، وہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ پہ ہوئی ہے۔ اور اس پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں اس اسمبلی نے لڑ کر کے یہ شق قانون کا حصہ بنائی کہ پاکستان کی ہر پولیٹیکل پارٹی کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اسلامک آئیڈیالوجی سے مطابقت رکھے اور اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرے۔ بڑی اس پر بحث ہوئی۔ سیکولر طبقے نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔

اور واضح رہے کہ اس وقت جسٹس منیر لاء منسٹر تھے۔ اور یہ پائیلٹ کر رہے تھے اس لاء کو۔ اور شرمناک بات ہے، ہمارے جوڈیشری کا اتنا اونچا …، اس شخص نے اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں لکھا ہے کہ اسلامک آئیڈیالوجی اور پاکستان آئیڈیالوجی کا لفظ جو ہے یہ جنرل ضیاء الحق نے انٹروڈیوس کیا۔ اور اس کے بعد سے جو لبرل لیفٹسٹ لابی ہے، یہ بکواس کرتی ہے۔ آپ ۱۹۶۲ء کی اسمبلی کی کارروائی نکال کے پڑھ لیں، میں نے اسے کوٹ کیا ہے اپنی حالیہ تقاریر کے اندر، کہ اس شخص نے پہلے اَپوز کیا اسلامک آئیڈیالوجی کے لفظ کو وہاں پر۔ وہ اس قانون کا حصہ ہے۔ اور پھر جب اسمبلی نے اصرار کیا کہ نہیں، ہم یہ رکھیں گے۔ تو اس نے یہ کہا کہ میں بہت دکھی ہوں لیکن بہرحال میں نے غور کیا ہے اور آپ اگر اصرار کرتے ہیں تو ہم اس کو شامل کر لیتے ہیں۔ یہ اس کے الفاظ تھے۔ یہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔

پھر اس کے بعد جب ۱۹۶۲ء کے دستور پر ایمنڈمنٹ آئی ہے تو پہلی ایمنڈمنٹ یہ تھی کہ پاکستان کا نام ’’اسلامک ری پبلک آف پاکستان‘‘ بحال کریں۔ قراردادِ مقاصد کو، ان الفاظ کے ساتھ جس میں وہ پاس ہوئی تھی، بحال کیا گیا۔ اور دستور کی یہ شق کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہو گی، یہ بحال کی گئی۔ یہ تینوں چیزیں ۱۹۶۴ء میں، جبکہ ہم جیل میں تھے، اس وقت اسمبلی نے منظور کیں۔ تو فرار کی پوری پوری کوششیں ہوئیں۔ ۱۹۵۶ء کا کانسٹیٹیوشن آج بھی ……

پھر یہی چیز آپ کو ۱۹۷۳ء کے کانسٹیٹیوشن میں ملے گی۔ اس کا پہلا ڈرافٹ جو آیا ہے، اس میں اس کو سوشلسٹ ری پبلک آف پاکستان قرار دیا گیا۔ اس کا آرٹیکل ۳ یہ تھا کہ state would be a socialist state۔ پیپلز پارٹی میجارٹی میں تھی، لیکن اس زمانے کی اسمبلی کے لوگوں نے جس ہمت سے، اور عوام نے جو تائید اُن کی کی، اس پوری جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ دستور ان تمام شقوں کو لایا جو ۱۹۵۶ء کے دستور میں تھیں، اس سے بہتر شکل میں لایا، اور consensus کی شکل میں لایا۔ اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ۱۹۷۳ء کا دستور بنیادی طور پر ایک اسلامی دستور ہے، ایک جمہوری دستور ہے، ایک فلاحی دستور ہے، اور ایک فیڈرل دستور ہے۔ یہ چاروں خوبیاں ہیں اس کے اندر۔

تو مارچ کی یہ اہمیت ہے۔ اس پہلو سے ہم آج اس کو منا رہے ہیں۔ لیکن میں ایک دو نکتے اور بھی آپ سے اس ضمن میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ مارچ ۱۹۴۰ء کی جو قرارداد ہے، اس کی حقیقت کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔ اور بدقسمتی سے اس کی حقیقت کو مِس ریپریزنٹ کیا جاتا ہے۔

دیکھیے، بنیادی بات یہ ہے کہ مسلمان پہلے دن سے ایک نظریاتی امت تھے۔ ہماری امت کی بنیاد رنگ پر نہیں ہے، نسل پر نہیں ہے، زبان پر نہیں ہے، زمین پر نہیں ہے، مفادات پر نہیں ہے، حتیٰ کہ مشترک تاریخ پر نہیں ہے۔ اس کی بنیاد عقیدے کے اوپر ہے۔ اس کی بنیاد ہے ایمان پر۔ اس کی بنیاد نظریے کے اوپر ہے۔ اس کی بنیاد قرآن و سنت سے ہماری وفاداری کے اوپر ہے۔ تو یہ ہماری شناخت ہے۔ پہلے دن سے آج تک۔ عملاً‌ deviations ہوئے ہیں، کمزوریاں دکھائی ہیں ہم نے، ups and downs ہوئے ہیں، اس سے انکار نہیں ہے۔ اور حقائق کے بارے میں کبھی بھی ہمیں صَرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے، انہیں  تسلیم کرنا چاہیے۔ لیکن حقائق کی تعبیر، ان کی تفہیم، اور ان کی روشنی میں آئندہ کی تشکیل اور تعمیر، یہ الگ چیز ہے۔ لیکن حقائق، حقائق ہیں۔

جب برصغیر میں پہلا مسلمان آیا ہے، اور وہ محمد بن قاسم نہیں تھے۔ وہ دورِ رسالت مآبؐ میں صحابہ کرامؓ تشریف لائے تھے۔ سندھ میں بھی آئے ہیں، مالابار میں بھی آئے ہیں۔ اس کے بعد پھر محمد بن قاسم، اس سے ایک اسلامی دور قائم ہوا، اسلامی حکمرانی قائم ہوئی، بلاشبہ ایک بڑا اہم ڈویلپمنٹ تھا۔ پھر نارتھ (افغانستان) سے مسلمان آئے اور اس کے بعد پھر مسلمانوں کا دورِ اقتدار شروع ہوا۔ آپ یہ دیکھیے، اس پورے دور میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مسلمانوں نے اسلام دوسروں پر تھوپا ہو۔ زبردستی کنورژن کا کوئی واقعہ ہمیں نہیں ملتا۔ اورنگزیب کے بارے میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ صریح تاریخی جھوٹ ہے، جن کی تردید خود انڈیا کے محققین نے کی اور کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے تشخص، اپنی اجتماعی زندگی، اپنے انسٹیٹیوشنز قائم کیے، اور غیر مسلموں کو بھی پورا پورا موقع دیا کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق، اپنی روایات کے مطابق کام کریں۔ حتیٰ کہ ان کے کاسٹ سسٹم کو بھی زبردستی نہیں ختم کیا۔ دعوت و تبلیغ سے اس میں دراڑیں پڑیں اور لوگ اس سے نکل کر کے آئے ہیں۔ لیکن کوئی واقعہ جبر کا اور ظلم کا اور قوت کے استعمال کا نہیں ملتا۔

جہاں تک میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے، مسلمانوں کے پورے دور میں ہندو مسلم فسادات کا کوئی تصور اور کوئی مثال ہمیں نہیں ملتی۔ ٹھیک ہے، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہوئی ہے۔ اور مسلمانوں کی فوج میں ہندو جرنیل اور ہندو سپاہی بھی رہے ہیں۔ ایڈمنسٹریشن میں بھی دونوں نے شرکت کی ہے، کبھی کم کبھی زیادہ۔ لیکن عوامی سطح پر ہندو مسلم فسادات کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ یہ پہلی مرتبہ نائنٹینتھ سنچری کے آخری کوارٹر میں ہوا ہے۔ اس وقت سے یہ فتنہ، برطانیہ کے دور میں، آپس میں لڑانے کے لیے یہ کیا گیا۔ پھر اس کی مثالیں آپ کو بعد میں ملتی ہیں۔ تو یہ جبر ہم نے کبھی نہیں کیا۔ لیکن اپنا جو جداگانہ تشخص ہے، اور اس سلسلے کی جو اہم ترین اویڈنس ہے، وہ میرے خیال میں البیرونی کا سفرنامہ ہے۔ جس میں ساری دنیا کا اُس نے سفر کیا ہے، جب وہ ہندوستان آیا ہے، ہندوستان کے بارے میں اس نے بتایا ہے کہ یہاں کا کلچر کیا ہے، ہندو کیسے ہیں، بدھ کیسے ہیں، مسلمان کیسے ہیں، اور کس طرح یہ کمیونیٹیز coexist کرتی ہیں لیکن بحیثیت self contained autonomus communities کے۔ تو یہ ہماری تاریخ ہے۔

اور اس کے اندر پھر اقتدار میں جو لوگ رہے ہیں، ان میں اچھے بادشاہ بھی رہے ہیں، برے بھی رہے ہیں۔ وہ بھی رہے ہیں جنہوں نے اسلام کا احترام کیا ہے، اسلامی قوانین کو ترویج دی ہے۔ اور وہ بھی رہے ہیں جنہوں نے اسلام سے انحراف کیا ہے اور بدلنے کی کوشش کی ہے، حتیٰ کہ ’’دینِ الٰہی‘‘ بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ پوری تاریخ ہے۔ لیکن وہ جداگانہ تشخص ایک رئیلٹی ہے۔ تو مسلمانوں کا ایک نظریاتی قوم ہونا، یہ کوئی ڈِسکوَر نہیں ہوا ۱۹۴۰ء میں۔ صرف یہ اُس حقیقت کا اِدراک، اور اس ادراک کی روشنی میں سیاسی نقشہ کیا ہو، یہ ہے ایشو۔ وہ بھی کیوں ہوا؟ تاریخ یہ بتاتی ہے ہم کو کہ بیرونی کسی قوت نے آکر کے جب بھی کسی ملک پر قبضہ کیا ہے، جب وہ وہاں سے گیا ہے، تو اُس سے ماقبل جو حکمران تھا، وہ ریسٹور ہو گئے۔ یہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ یہ حال میں بھی ہوا۔ یعنی جب لیبیا پر اٹلی کا راج ختم ہوا ہے، تو جو اس سے پہلے شاہ سنوسی تھا، اس کو وہاں پر لا کر کے سربراہ بنایا گیا۔ سپین میں ابھی بیسویں صدی کے دوسرے بلکہ تیسرے کوارٹر میں جب فرانکو کا دور ختم ہوا ہے تو جو سپین کا بادشاہ تھا فرانکو کے آنے سے پہلے، اسے دوبارہ اقتدار دیا گیا۔ یہ تاریخ کی ایک روایت رہی ہے۔

تو مسلمان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ انگریز جب جائے گا، تو ہم سے اقتدار چھینا گیا ہے، ہم اقتدار میں آئیں گے۔ اور لبریشن کی جنگ میں مسلمان پیش پیش تھے، خواہ وہ ۱۹۵۷ء کا واقعہ ہو، اس سے پہلے مجاہدین کی جدوجہد ہو، اس کے بعد کے واقعات ہوں، لیکن پھر آہستہ آہستہ مسلمانوں پر یہ حقیقت روشن ہو گئی کہ اب جو جمہوریت کا دور ہے، یہ گنتی کا معاملہ ہے۔ اور اس میں جس کی تعداد زیادہ ہو گی وہ ڈومینیٹ کریں گے۔ آپ کو معلوم ہے کہ میونسپل ریفارم کی جو تحریک ہے ہندوستان میں، وہ 1890sء میں شروع ہو گئی تھی۔ سرسید پہلے لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس کا شعور کیا اور انہوں نے یہ کہا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سیاسی مستقبل کی جو تشکیل ہے وہ ازسرِنو کرنی پڑے گی۔ ورنہ مسلمان اس خیال میں تھے کہ ہم غالب آجائیں گے۔

پھر خوش قسمتی یا بدقسمتی سے جب تحریکِ خلافت، جو میری نگاہ میں پہلی عوامی تحریک ہے — اس سے پہلے جو ریزسٹنس تھی، وہ محدود تھی، علمی تھی، یا تلوار کی بنیاد پر تھی، لیکن یہ کہ وہ محدود تھی — یہ عوامی تھی، جس میں کئی لاکھ افراد جیلوں میں گئے ہیں، جس میں ہزاروں افراد ہجرت کر کے افغانستان اور روس گئے ہیں۔ یہ عوامی تحریک تھی۔ اور اس میں ان کا خیال یہ تھا، کہ لیڈ مسلمان کر رہے تھے اس کو۔ تو ہندوؤں نے محسوس کیا کہ اگر یہ عوامی تحریک کوئی آزادی کی تحریک بن جاتی ہے، اور مسلمان لیڈ کرتے ہیں، تو سیاسی نقشہ بالکل مختلف ہو گا۔ یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے کانگریس نے ایک ایگریسِو ہندو نیشنلسٹ اپروچ اختیار کی۔ اور مسلمان اس خیال میں تھے کہ ہمیں اقتدار ملے گا۔ جب انہیں اندازہ ہوا کہ نہیں ملے گا تو پھر ان کی سٹریٹیجی بدلی۔ بدلی سٹریٹیجی جو ہے ،اس کا سب سے بڑا علمبردار مسلم لیگ تھی۔

مسلم لیگ ڈھاکہ میں ۱۹۰۶ء میں قائم ہوئی ہے۔ اور بنیادی مقصد اس کا یہ تھا کہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ۔ مسلمانوں کو ان کی ثقافت، ان کے دین، ان کی تعلیم، ان کی معاشرت، ان کی روایات، ان کے حقوق سیاسی، انہیں بچانے کی کوشش۔ ۱۹۰۶ء سے لے کر کے ۱۹۲۸ء، ۱۹۲۹ء تک، بائی اینڈ لارج، مسلم لیگ محض مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی کوشش کرتی رہی۔ اور اس میں جو ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے اہم، وہ ہے ۱۹۱۴ء، لکھنؤ کا پیکٹ، جس میں چودہ نکات قائد اعظم کے آئے، جس میں ایک کلیئر پکچر ہے کہ مسلمان اپنے وجود کے لیے کیا چاہ رہے ہیں۔

اس کی پہلی بنیاد تھی سیپریٹ الیکٹوریٹ، کہ مسلمان ہی اپنے نمائندے منتخب کریں، ورنہ مسلمانوں کی سائزیبل پوزیشن کے باوجود، ہندو ڈومیننس کی وجہ سے، مسلمان سیاسی اعتبار سے ریپریزنٹیٹوز نہیں لا سکیں گے اپنے۔ تو سیپریٹ الیکٹوریٹ مسلمانوں کے جداگانہ وجود کے تحفظ کے لیے سیاسی زینے کے طور پر اختیار کیا گیا۔ پھر انہوں نے weightage مانگا۔ یعنی اگر ہم آبادی کا بیس یا پچیس فیصد ہیں، لیکن ہمیں ویٹ تھوڑا زیادہ چاہیے تاکہ ہم اپنی بات کو زیادہ مؤثر بنا سکیں۔ اس کی انہوں نے ایک قیمت بھی ادا کی کہ ہندوؤں کو ویٹیج دیا اُن علاقوں میں جہاں مسلمان میجارٹی میں تھے۔ لیکن مسلم سیاسی وزن کو بڑھانے کے لیے یہ چیز کی گئی۔ پھر ہیومن رائٹس مسلمانوں کے، پھر ان کی سیاسی ایکٹیویٹی، پھر تعلیم، پھر روایات، ان کے معاشرتی معاملات۔ تو یہ مختلف رائٹس ہیں جن کے لیے اس پورے زمانے میں کوششیں ہوتی رہیں۔ اور اگر ہندو تعصب اور جو اُن کے عزائم تھے … وہ راستہ اختیار نہ کرتے تو لازماً‌ مسلمان coexistence کا ہی راستہ اختیار کرتے۔ لیکن یہ سکیم فیل ہو گئی۔

سائمن کمیشن کی رپورٹ جو ہے ۱۹۲۸ء کی، اور اس کو جس طریقے سے نہرو نے استعمال کیا، اور جس طرح یہ کلیئر ہو گیا کہ اب ہندو ڈومینیشن سیاسی اعتبار سے، یہ مستقبل ہو گا ہندوستان کا۔ تو یہ وہ موقع ہے جب کہ مسلمان ہل گئے اور انہوں نے پھر ایک نئی حکمتِ عملی وضع کی۔ انفرادی طور پر یہ بات کہ مسلمان جہاں میجارٹی میں ہیں ان کو وہاں اقتدار ملے، اور جہاں ہندو میجارٹی میں ہیں وہاں ان کو اقتدار ملے، یہ سب سے پہلے عبد الحلیم شرر نے ۱۸۸۸ء، ۱۸۸۹ء کے وقت لکھا ہے اس کو۔ ریکارڈ موجود ہے۔ عبد الحلیم شرر سے لے کر کے ڈاکٹر لطیف تک تقریباً‌ ایک سو ستر افراد ہیں جنہوں نے کھل کر کے، یا اشارتاً‌، یا سیاسی زبان میں، یا علمی زبان میں، یا طنز و مزاح کی زبان میں، تقسیم کی بات کی۔ لیکن ان میں فیصلہ کن چیز ہے ۱۹۳۰ء کا علامہ اقبال کا لیکچر۔ اور اس میں علامہ اقبال نے اپنی سوچ کو بڑے ہی، بڑی قوت کے ساتھ، دلیل کے ساتھ، دردمندی کے ساتھ، اور سیاسی سائیٹڈنیس کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جو میری نگاہ میں، خود قراردادِ پاکستان ۱۹۴۰ء کو سمجھنے کے لیے key جو ہے، وہ ۱۹۳۰ء کا اقبال کا خطبہ ہے۔ اسے اگر آپ کریٹیکلی پڑھیں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ اقبال نے آغاز کیا ہے اس کا ایک بڑے لطیف انداز میں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آپ نے اپنی صدارت کے لیے ایک ایسے شخص کو مدعو کر لیا ہے کہ جو اسلام کو محض ایک ماضی کا قصہ نہیں سمجھتا، بلکہ اسلام کو مستقبل کی امید اور مستقبل کا نظام سمجھتا ہے۔ اور جو خدا میں believe کرتا ہے، اور جو سمجھتا ہے خدا نے جو ہدایت دی ہے اسی میں ہماری destiny ہے۔ بلکہ یہاں تک اس نے اس میں کہا ہے کہ

If I have learned any lesson from history, it is, it is not the Muslims wo have saved Islam, it is islam who has saved the Muslims throught their history.

پھر اس کے بعد وہ یہ کہتا ہے کہ اسلام ہے کیا۔ اور اس نے کہا ہے کہ اسلام محض ایک مورل پرنسپل نہیں ہے، بلاشبہ مورل بیسز ہے، سپرچوئل ہے، لیکن اسلام کا اصل کنٹریبیوشن یہ ہے کہ اس نے مورل سسٹم کو، مورل ویلیوز کو، مورل پرنسپلز کو، سوشل لائف اور سوشل فریم ورک کے لیے بنیاد بنایا ہے۔ اور اگر آپ یہ سوشل اور یہ پولیٹیکل اور یہ اکنامک اس سے نکال دیں تو پھر اسلام میں اور باقی مذاہب میں کچھ فرق باقی نہیں رہتا۔ یہ کلیئرلی اس نے اس خطبے کے اندر …… بلڈ کیا ہے۔ پھر کہا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام ہماری اجتماعی زندگی کی بنیاد ہو، اور اسلام ہمارے پولیٹیکل مستقبل کو متاثر کرے، اس کی تشکیل کرے، اس کی صورت گری کرے۔ اس دعوے کے بعد وہ یہ کہتا ہے کہ موجودہ حالات کے اندر یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب، جہاں مسلمان میجارٹی میں ہیں وہاں انہیں اقتدار حاصل ہو، اور جہاں غیر مسلم میجارٹی میں ہیں وہاں انہیں اقتدار حاصل ہو۔ یہی وہ راستہ ہے۔

تو اس نے کلیئر لی یہ تین باتیں اس خطبے کے اندر کہی ہیں۔ آپ دیکھیے کہ پھر قائد اعظم نے آہستہ آہستہ اسی کو قبول کیا۔ قائد اعظم پہلے ہندو مسلم یونٹی کے نقیب تھے۔ لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ نہیں مسلمانوں کا مفاد اس میں نہیں ہے، ان کا بھی ٹرانزیشن جو ہے وہ ۱۹۲۹ء سے شروع ہوتا ہے ۱۹۳۶ء تک۔ ۱۹۳۶ء میں وہ مطمئن ہو گئے ہیں کہ ہاں مسلمانوں کے لیے سیپریٹ سٹیٹ ہونا ضروری ہے …… پھر ۱۹۳۷ء کے انتخابات ہیں اور اس کے بعد کانگریس کی گورنمنٹس ہیں، ان کی زیادتیاں ہیں، جس نے مہرِ تصدیق ثبت کر دی اس کے اوپر۔ تو یہ وہ پس منظر ہے کہ جس میں جو قرارداد ہے وہ قرارداد صرف دو باتیں کہہ رہی ہے، تین باتیں کہہ رہی ہے:

پہلی بات یہ کہ مسلمان ایک قوم ہیں، ان کا اپنا نظام ہے، اور اس حیثیت سے ان کے لیے سیاسی مستقبل بھارت یا ہندوؤں کے ساتھ مل کر چلنے میں نہیں ہے، اپنا راستہ الگ نکالنے میں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جن جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، ان پر مبنی ایسی سٹیٹس بنا دی جائیں، اور یہاں لفظ پلورل استعمال ہوا ہے states — سٹیٹ نہیں،سٹیٹس — سٹیٹس بنا دی جائیں۔ اور گمان غالب یہ ہے کہ یہ تقریباً‌ پانچ ڈرافٹس تھے جن میں سے اس کو آخری شکل دی گئی ہے۔ بعد میں یہ کہا گیا کہ اصل مقصد ایک ہی سٹیٹ تھا، لیکن شروع میں کنفیوژن تھا، یا کم از کم کلیریٹی نہیں تھی کہ آیا دو گروپ ہوں گے یا ایک ہی گروپ ہو گا۔ لیکن دونوں امکانات اس کے اندر موجود تھے۔

اور تیسری بات یہ کہ جہاں مسلمانوں کو اقتدار ہو گا، وہاں پر جو غیر مسلم ہوں گے، ان کے حقوق کا تحفظ ہو گا۔

یہ تین باتیں اس کے اندر آئی ہیں۔ اور ایک اور نکتے کی طرف آپ کو متوجہ کروں جس کی طرف لوگ بالعموم غور نہیں کرتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ اجلاس شروع ہوا ہے ۲۲ کو، ۲۳ کو قرارداد پیش ہوئی ہے، ۲۴ کو منظور ہوئی ہے۔ لیکن مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے چند ہی ہفتے کے بعد باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ — قراردادِ لاہور کہتے تھے پہلے اس کو، قراردادِ پاکستان نہیں کہا گیا اُس وقت — یہ ۲۳ مارچ کی شمار کی جائے، چوبیس نہیں۔ اور آج تک وہی چل رہا ہے۔ تو کیوں؟ 

جہاں تک میں نے غور کیا ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ اصل چیز قرارداد کے الفاظ اور اس کی منظوری نہیں، بلکہ اصل چیز وہ جوہری ٹرننگ پوائنٹ ہے جو اس قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ اب تک ہم اپنے حقوق کے تحفظ کے فریم ورک میں ایک ہندوستان میں رہنے کو تیار تھے۔ اب ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ ایک فیڈریشن نہیں چلے گی، دو ممالک ہونے چاہئیں۔ تو یہ قرارداد پیش ہوئی ہے ۲۳ کو، چاہے منظور ۲۴ کو ہوئی، لیکن چونکہ مسئلہ قرارداد کے الفاظ کا نہیں ہے، بلکہ اس تاریخی تبدیلی کا ہے جس کی یہ نشانی ہے، اس لیے ۲۳ مارچ سے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے الفاظ کو بعد میں ریوائز کیا گیا۔ قائد اعظم نے چند مہینے کے اندر اندر وضاحت کی کہ نہیں، ایک ہی سٹیٹ ہمارے سامنے … اور پھر سب سے اہم ڈاکومنٹ جو ہے؛ 

  1. پہلا ڈاکومنٹ ۱۹۳۰ء کا خطبہ اقبال کا۔ 
  2. دوسرا یہ قرارداد اور اس قرارداد کی تائید میں کی جانے والی تقریریں۔ اور یہاں آپ کو یاد دلاؤں کہ سب سے اہم تقریر قائد اعظم کی ہے، لیکن اس کے علاوہ فضل الحق، خلیق الزمان، قاضی عیسیٰ، بیگم محمد علی، اور ایک یا دو افراد اور ہیں، ان کی تقاریر بھی ہیں۔ اور سب نے یہی نکتے کہے جو میں آپ کو بتا کر لایا ہوں۔
  3. اس کے بعد پھر تیسری اہم قرارداد، سنگِ میل جسے میں کہتا ہوں، وہ ہے اپریل ۱۹۴۶ء کی وہ قرارداد جو مسلم لیگ کے الیکٹڈ ممبرز آف دی پارلیمنٹ، جس میں مرکزی اور صوبائی دونوں اسمبلیاں شامل تھیں، ان کی کانفرنس ہوئی ہے، اور اس میں انہوں نے پھر ایک ریاست، اس کا ریشنیل، اس کا کانسیپٹ، یہ واضح کیا۔ یہ قرارداد سہروردی نے پیش کی تھی۔ پہلے والی قرارداد فضل حق نے پیش کی تھی۔ متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔ میں اس میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک تھا، اس لیے کہ ہمارے سکول کے اندر ہی، بلڈنگ میں، یہ جلسہ ہوا تھا۔ اور اس میں کچھ لوگوں نے اپنے خون سے دستخط کیے تھے۔ اور اس قرارداد سے پہلے ایک حلف نامہ، جس کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے کہ ’’ان صلاتی و نسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمین‘‘ (الانعام ۱۶۲) اور اس پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اس قرارداد اور پاکستان کے قیام کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے اور اس کے وفادار رہیں گے۔ ہر لجسلیٹر نے اس پہ سائن کیے۔ تو یہ تیسرا سنگِ میل ہے۔
  4. اور پھر چوتھا سنگِ میل ہے قرارددِ مقاصد۔ اور اس کا بھی آپ تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی، اور فیڈرل، ان چار بنیادوں کے اوپر ریاست کی تصویر دی گئی ہے۔

معاف کیجیے، بات ایسی تھی کہ میں بہت تفصیل میں چلا گیا۔ یہاں میں ایک بات اور کی وضاحت کر دوں۔ اور وہ یہ کہ دو قومی نظریے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز ہے۔ میں نے وضاحت کر دی کہ نہیں، یہ پہلے دن سے ہے۔ اور میری نگاہ میں دو قومی نظریے کی بنیاد جو ہے وہ اسلام کا یہ تصور ہے کہ زندگی گزارنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک ہے اللہ کو الٰہ مان کر اس کی عبادت کا راستہ۔ اور دوسرا ہے اِس سے ہٹ کر کے کوئی راستہ، خواہ وہ مذہبی اعلان پر ہو، یا سیکولر کے نام پر ہو، یا الحاد کے نام پر ہو، یا اشتراکیت کے نام پر، یا کسی بھی نام پر ہو۔ اور اس کی تلقین ہمیں سورہ فاتحہ میں دن میں پانچ بار کرائی جاتی ہے کہ ’’اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیہم، غیر المغضوب علیہم ولا الضالین‘‘۔ یہ دو سٹریمز ہیں تاریخ کی، اب ہر ایک سٹریم کے اندر پھر بہت … ہیں، لیکن یہ دو میجر سٹریمز ہیں۔

دوسری بات جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دو قومی نظریہ ضمانت ہے اس بات کی کہ اسلام سے ہٹ کر کے بھی جو نظام ہو گا اسے بھی باقی رہنے کا حق ہے۔ یہ دنیا دارالامتحان ہے، اللہ نے انسان کو یہاں پیدا کیا ہے ایک مقصد سے، وہ مقصد اس کی آزمائش ہے۔ آزمائش یہ ہے کہ اسے عقل دی گئی ہے، تقویٰ دیا گیا ہے، اور ساتھ ساتھ اسے اختیار اور فجور بھی دیا گیا ہے۔ ’’الھمھا فجورھا وتقواھا‘‘۔(الشمس ۸) یہ صلاحیت دے دی گئی ہے اس کو، عقل دے دی گئی ہے۔ اب اسے چوز کرنا ہے، خیر اور شر، اسلام اور غیر اسلام، حلال اور حرام، اللہ کی عبادت اور طاغوت کی عبادت کے درمیان۔ لیکن جو چوائس بھی وہ کر لے، اس پر اسے حق ہے قائم رہنے کا۔ اور کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں ہے کہ زبردستی اس کے اوپر اپنی بات تھوپے۔ ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کا یہ معنیٰ ہے۔ اور ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کا جو کانٹیکسٹ ہے سورہ بقرہ میں، وہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ پہلے آیۃ الکرسی، جس میں اللہ کا، دین کا تصور آگیا، اس کی کرسی، اس کا اقتدار۔ اس کے بعد کہا گیا کہ ’’لا اکراہ فی الدین‘‘۔ لیکن ساتھ ہی کہا گیا ’’قد تبین الرشد من الغی، فمن یکفر بالطاغوت و یؤمن با اللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقیٰ، لا انفصام لھا‘‘ (البقرۃ ۲۵۶) تو دلیل کیا ہے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کی؟ دلیل یہ ہے کہ حقیقت، اور کیا غلط ہے، واضح کر دیا گیا ہے۔ خیر اور شر ایک دوسرے سے واضح کر دیا گیا ہے۔ حق اور باطل کو نمایاں کر دیا گیا ہے۔ اب یہ چوائس تمہاری ہے۔ اب قوت کے ذریعے سے نہیں۔ لیکن جو اللہ کا راستہ اختیار کرے گا وہ ظلمات سے نور میں آئے گا۔ اور جو طاغوت کی بندگی کرے گا وہ نور سے ظلمات کی طرف جائے گا۔ لیکن یہ دونوں موجود رہیں گے۔

تو دو قومی نظریے کا معنی صرف یہی نہیں ہے کہ ہماری بنیاد ایک خاص اصول پر ہے، بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ اس بنیاد سے ہٹ کر کے جو قومیں بنیں گی، انہیں بھی وجود کا، انہیں بھی اپنی ترقی کا، اپنے نظریے کے مطابق رہنے کا حق ہے۔ تو یہ گارنٹی ہے pluralism کے لیے۔ اور اسی سے پھر میں یہ نکالتا ہوں کہ یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ دو قومی نظریہ اگر پاکستان کی بنیاد آپ بناتے ہیں تو پھر کیا اور مسلمان ملکوں کی نہیں ہے؟ بلاشبہ ہے۔ لیکن یہ ان کی چوائس ہے۔ وہ اسے قبول کر لیں، سر آنکھوں پر ہے۔ خود مسلمان بھی اگر اس پر عمل نہ کریں تو اس سے دو قومی نظریے پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم قوت سے مسلط نہیں کریں گے ان کے اوپر۔ لیکن مسلمانوں کی حقیقی urge یہی ہے۔ اور آج بھی جو Pew اور Gallup کے سرویز آئے ہیں، ان میں آپ دیکھیں گے کہ مسلمان ممالک میں تو ستر سے اٹھانوے بلکہ ننانوے فیصد تک یہ کہتے ہیں کہ شریعت کو ہماری اجتماعی زندگی کی بنیاد ہونا چاہیے۔ نائنٹی نائن پرسنٹ تک۔ اور باقی ممالک میں بھی جہاں جہاں مسلمان ہیں، وہاں بھی ان کی ایک (معقول تعداد) بیس پرسنٹ سے لے کر چالیس بتالیس تک یہ کہتی ہے کہ شریعت کو بنیاد ہونا چاہیے۔ تو محض یہ کہنا کہ فلانا ملک نہیں کر رہا ہے، اس سے دو قومی نظریے پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اور میں یہ بھی کہہ دوں کہ دو قومی نظریے کی جو سٹریٹیجی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمان جہاں اکثریت میں ہیں، جہاں وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنے مستقبل کو خود طے کر سکتے ہیں، وہاں ان کے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ وہ اسلام کے مطابق اپنی زندگی قائم کریں اور نظامِ حکومت اس کا بنائیں۔ جہاں وہ مینارٹی میں ہیں، وہاں ان کے لیے صحیح آپشن یہ ہے کہ وہاں پیس فُلی رہیں، وہاں کے قانون کا بھی احترام کریں۔ لیکن اپنے نظریے ، اپنی کمیونٹی، اپنی معاشرت، اپنی روایات کو جس حد تک، اپنی شناخت کی جس حد تک حفاظت کر سکتے ہیں، حفاظت کریں، اسے تحلیل نہ ہونے دیں، اس کے لیے جدوجہد کریں۔ اور دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیں تاکہ آج کی اقلیت کل کی اکثریت بن سکے، لیکن دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے۔ اور جہاں مسلمان کسی ایسے نظام میں ہیں کہ جو ظالمانہ جابرانہ نظام ہے، وہاں بھی آپ ریزسٹ کر سکتے ہیں، لیکن ان اخلاقی حدود کے اندر جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے فراہم کی ہیں۔ اسی لیے اسلامی تاریخ کے اندر، اسلامی قانون کے اندر just war اور justice in war ان دونوں کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جہاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ اور جہاد اُن آداب، اُن قیود، اُن اصولوں، اُن ضابطوں کے مطابق ہو، جو اللہ اور رسول نے طے کیے ہیں۔ اس سے ہٹ کر کے قوت کا استعمال جائز نہیں ہے، وہ دہشت گردی ہے۔

تو دو قومی نظریہ ایک ابدی اصول ہے، اور اس کے یہ ڈفرنٹ ماڈلز ہیں۔ تو جب مسلمانوں نے یہ محسوس کیا کہ ہمیں اقتدار حاصل ہے، وہاں انہوں نے اسلام قائم کیا، دوسروں پر جبر کیے بغیر۔ اور جہاں یہ ممکن نہیں تھا، وہاں انہوں نے کوشش کی کہ جہاں ہمیں اکثریت حاصل ہے، کم از کم وہاں ہم اپنے نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ اور جہاں ہمیں اکثریت حاصل نہیں ہے، وہاں ہم وہاں کے حالات کے مطابق اپنے تشخص کی حفاظت کی کوشش کریں، اپنے حقوق کی حفاظت کی کوشش کریں، اور ان مشترکات میں، جس میں کہ دوسرے بھی شریک ہیں، ہم مل کر کے آگے بڑھیں۔ ’’تعالوا الیٰ کلمۃ سوآء بیننا و بینکم‘‘ (اٰل عمران ۶۴) ۔ تو یہ ہے وہ فریم ورک۔

آج کا جو پہلا سوال تھا آپ کا، صرف میں اس کو ٹچ کر سکا ہوں، آگے میں نہیں بڑھ سکا ہوں۔ لیکن  محض، یعنی مراد یہ ہے کہ، امیر خسرو کی طرح بات کو نمٹانے کے لیے کہہ دوں کہ جہاں تک اسلامی دنیا کا تعلق ہے، میرا خیال یہ ہے کہ ہم اس وقت بلاشبہ ایک بڑی آزمائش اور بڑے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ اور اللہ کے انعامات ہمارے اوپر بیسویں صدی میں بے پناہ ہوئے ہیں، لیکن ہم نے ان کا حق ادا نہیں کیا۔ بیسویں صدی کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ صرف چار مسلمان نیم آزاد ملک تھے۔ باقی ساری اسلامی دنیا مغربی اقوام کی غلامی میں تھی۔ اور تقریباً‌ یہ دو سو سال کا تاریک دور تھا۔ لیکن اس صدی میں ہم اس سے نکلے، آج مسلمانوں کی ستاون آزاد ریاستیں ہیں۔

https://youtu.be/edQgfHeyTp8

(جاری)

مشاہدات و تاثرات

اقساط

(الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۳

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۹)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۳)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۳)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

وجودِ باری تعالیٰ: سائنسی تناظر، الحادی فلسفہ اور قرآنی تعلیمات
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

قرآن اور سائنسی حقائق
ڈاکٹر عرفان شہزاد

نمازِ تہجد — تشکر و عبودِیت کی مظہر
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

روزہ کی اہمیت اور فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں
مفتی نصیر احمد

زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور حساب کا طریقہ
مولانا محمد الیاس گھمن

حرمین شریفین میں وِتر کی نماز امام کی اقتداء میں پڑھنے کا حکم
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۲)
پروفیسر خورشید احمد

ہمارا تعلیمی نظام اور استعماری دور کے اثرات
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر شرعی ہے
ڈاکٹر محمد امین
ملی مجلس شرعی

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

ذاتی دفاع اور اس کے نتائج
عرفان احمد خان

ٹرمپ کی غزہ مجلسِ امن — کیا عالمی نظام بکھر رہا ہے؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Islam`s Teachings for Peaceful Coexistence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جسٹس خلیل الرحمٰن کا انتقال
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

آہ! سید سلمان گیلانی
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تمام مکاتبِ فکر کے اتحاد اور مشترکہ اعلامیہ پر تہنیت اور تجاویز
اظہر بختیار خلجی
تنظیمِ اسلامی

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

الشریعہ اکادمی اور معارفِ اسلامیہ اکادمی میں دورہ تفسیر القرآن الکریم
مولانا محمد اسامہ قاسم
مولانا حافظ واجد معاویہ
مولانا محمد رجب علی عثمانی

مطبوعات

شماریات

Flag Counter