بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اظہر بختیار خلجی کی جانب سے
محترم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
مجلس اتحادِ امت پاکستان کی خدمت میں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دعا گو ہوں کہ آپ کو میرا خط ایمان و یقین کی بہترین کیفیت اور اہل و عیال کی خیر و عافیت کے ساتھ ملے!
سب سے پہلے تو ہم آپ تمام اکابرینِ امت و منتظمینِ اجلاس کو مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کرنے اور بروقت ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر تہنیت و مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اجلاس میں تنظیمِ اسلامی کو شرکت کی دعوت اور امیرِ تنظیم کو اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنے پر آپ کے شکرگزار ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اس قسم کی کاوشوں کا تسلسل جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ
مذکورہ بالا اجلاس میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظہ اللہ کی جانب سے درج ذیل ایجنڈہ:
- 18 سال سے کم عمر نکاح (Child Marriage) پر پابندی کا قانون
- ٹرانسجینڈر ایکٹ
- اعلیٰ عہدیداران کے لئے عدالتی کارروائی سے استثناء
- دستور کی معینہ مدت میں سود کے خاتمے کے راستے میں رکاوٹیں
ان پر چند تجاویز بطور نکات ریکارڈ و اعادہ کے لئے ذیل میں تحریر کی جا رہی ہیں۔ ایجنڈہ نکات کی اہمیت اور ان کے حوالے سے عملی اقدامات کی ضرورت پر دو رائے نہیں ہیں اور اس ضمن میں ہماری مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔ اس حوالے سے ہمارا تعاون ہر موقع و تقاضہ پر دستیاب رہے گا۔ ان شاء اللہ
- مجلس اتحادِ امت کے تحت ایک مستقل مشاورتی مجلس قائم کی جائے اور اس میں موجودہ یا مستقبل میں قومی سطح پر غیر اسلامی اقدامات کے حوالے سے مشترکہ قانونی اقدامات پر غور اور فیصلے کئے جا سکیں۔
- مجلس اتحادِ امت میں شریک تمام دینی شخصیات و ادارے/جماعتیں باہمی مشاورت سے مشترکہ مؤقف قائم کریں، البتہ الگ الگ تشخص و حیثیت کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کریں تاکہ ایک سے زائد / متعدد فریق / تعدادِ فریقین اور ان کی دینی و مذہبی حیثیت اثر انداز ہو سکے۔
- سوشل میڈیا پر شعائرِ اسلام، ناموسِ رسالت و قرآن وغیرہ کی گستاخی کی روک تھام کے حوالے سے ایک مشترکہ اصولی مؤقف اختیار کرنے اور آواز بلند کرنے کے ساتھ قانونی اقدامات اور ان کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔
- اس کے علاوہ ان امور کو اپنے اپنے حلقہ اثر میں عوامی/سوشل میڈیا مہمات کی شکل دی جائے تاکہ عوامی دباؤ بھی قائم کیا جا سکے۔
علاوہ ازیں ایک اہم معاملہ جس کی جانب ہم آپ اکابرین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں، وہ یہ کہ دورانِ اجلاس باجماعت نمازِ عشاء کا نہ تو وقفہ ہوا اور نہ ہی کوئی باضابطہ اعلان و اہتمام ہو سکا، جو کہ ایک مسلّمہ دینی شعار اور یکجہتی و اتحادِ امت کی علامت اور باہمی یگانگت کا مظہر ہوتی ہے اور خصوصاً ایسے مواقع پر اس اجتماعی عمل سے عوام الناس میں ایک مثبت تاثر بھی جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین
والسلام مع الاکرام ، اخوکم فی الدین
ناظم رابطہ، قانونی و انتظامی امور
22 جنوری 2026ء
