آہ! سید سلمان گیلانی
مجھے ابھی یہ دکھ بھری خبر ملی کہ سید سلمان گیلانی صاحب اب ہم میں نہیں رہے اور ان کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ سید سلمان گیلانی صاحب سے میری بہت ہی گہری دوستی تھی، بہت اچھا تعلق تھا، بہت محبت کا تعلق تھا۔ ان کے ساتھ ہمارا تعلق بہت گہرا اُس وقت ہوا جب ہم نے پندرہ دن اکٹھے سفر کیا اور یوکے (برطانیہ) کے تقریباً تمام شہروں میں ہم ایک فنڈ ریزنگ مشن پہ گئے، جب پاکستان سیلاب آیا ہوا تھا اور ہم ’’الخدمت‘‘ کے ساتھ، جس میں بھائی عبد الشکور صاحب ہمارے ساتھ تھے، اور سلمان گیلانی صاحب تھے اور میں تھا۔ اور ہم لندن میں گئے، ہم بریڈفورڈ میں گئے، ہم اُدھر برمنگھم میں گئے، ہم مانچسٹر میں گئے، اولڈھم میں گئے، ہم گلاسگو میں گئے، ہم نیو کاسل اَپان ٹائن گئے۔ اور وہاں بہت سارے سیشن ہوئے جس میں سید گیلانی صاحب نے اپنی مزاحیہ شاعری اور اس کے علاوہ انہوں نے جو اپنی دوسری گفتگو ہے وہ کی۔
اچھا، لوگ تو ان کو ایک مزاحیہ شاعر کے طور پر جانتے ہیں صرف، لیکن میں چونکہ پندرہ دن ان کے ساتھ رہا، اکٹھے ہم [رہے]، تو میں نے ان کے اندر جو سب سے بڑا وَصف پایا، وہ بہت بہت گہرے عاشقِ رسولؐ تھے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر آتے ہی ان آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔ اور جو اُن کا نعتیہ کلام ہے؛ ان کا جو مزاحیہ شاعرانہ کلام ہے، ان کا نعتیہ کلام اُس سے بہت بلند ہے، معیار کے لحاظ سے، جذبات اور احساسات کے لحاظ سے، اور ان کے عقیدے کی پختگی کے لحاظ سے۔
اور ویسے وہ اپنی اس عمر میں بیماری کے باوجود بہت ہی خوش مزاج، بہت ہی tolerant طبیعت کے، اور بہت ہی بنیادی طور پر ایک مضبوط دیندار آدمی تھے۔ ابھی بہت سخت بیمار ہوئے تھے کچھ ماہ پہلے، میری اس وقت فون سے تفصیل سے بات ہوئی تھی، تو وہ بھی مزے لے لے کے اپنے آئی سی یو کے قصے سنا رہے تھے سارے۔ اور وہ وقت جو اُن کا آئی سی یو میں گزرا، وہ سب کچھ سنا رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں جلدی بالکل ٹھیک ہو کے آپ سے ملنے کے لیے آؤں گا۔ میرے گھر میں وہ متعدد بار تشریف لا چکے ہیں۔ اور ابھی مجھے خبر ملی کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔
اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے، بہت بڑے انسان تھے، بہت اچھے انسان تھے، اور اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ میں ان کو بہت miss کروں گا اور وہ ہمیشہ میری دعاؤں میں شامل رہیں گے۔ اور ان کی پوری فیملی جو ہے، ان کی ہمشیرہ یہاں بہاولپور میں رہتی ہیں، ان کی فیملی کو میری طرف سے تعزیت ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ صبر دے۔ ویسے ایک طرح کا ہمارا قومی نقصان ہے اُن کا اس دنیا سے جانا۔
https://www.facebook.com
الحاج سید سلمان گیلانی بھی رخصت ہو گئے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے والد محترم شاعرِ حریت و ختم نبوت الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ذوق و فن، مشن اور روایات کے امین تھے اور پوری عمر انہوں نے اسی ماحول میں بسر کی۔ وہ شعر و شاعری اور حق کے پرچار و خدمت کے ساتھ ساتھ مجلس آرائی کے ذوق و اسلوب سے بھی مالامال تھے اور بذلہ سنجی میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ دینی مجالس، ادبی محفلوں اور مشاعروں میں رونقِ محفل ہوا کرتے تھے اور ان صفات نے انہیں باذوق دینی حلقوں میں محبوبیت سے موصوف کر رکھا تھا۔
میری ان کے ساتھ زندگی بھر فکری، مسلکی اور تحریکی رفاقت رہی جس کی یادیں تادیر جذبات و احساسات کی تاروں کو حرکت دیتی رہیں گی۔ میرے دونوں بیٹوں ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر سلّمہ اور حافظ ناصر الدین خان عامر سلّمہ کا حفظِ قرآن مکمل ہونے کی تقریب میں وہ شریک ہوئے اور اپنے تازہ کلام سے دونوں محفلوں کو رونق بخشی۔
وہ کافی عرصہ سے علیل اور صاحبِ فراش تھے مگر ان کی محفلیں اِس دور میں بھی آباد رہیں اور دوستوں کو شادکام کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات و مساعی کو قبولیت سے نوازیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے بہرہ ور فرمائیں اور ان کے خاندان اور سب دیگر متعلقین کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
