آثار السنن کا رد
آثار السنن کے منظر عام پر آنے کے بعد اہلِ حدیث حلقہ کی طرف سے اس کا جواب بھی لکھا گیا، چنانچہ جب انہوں نے اپنی چند تحقیقات تبیان التحقیق کے نام سے شائع کی تو اس کے جواب میں مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری نے اعلام اہل الزمن لکھی۔ پھر جب آثار السنن مکمل شائع ہو گئی تو علمائے اہل حدیث کی طرف سے اس کا جواب لکھنے کی طرف توجہ کی گئی۔ اس وقت اس حلقہ میں علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی شخصیت سب معروف تھی، وہ علامہ نیموی کے ہم رشتہ بھی تھے اور قریب الوطن بھی، اس لئے اکثر علمائے اہل حدیث نے انہیں کو خط لکھ کر اس کا جواب لکھنے کی طرف توجہ دلائی لیکن، القول الحسن میں مولانا عبدالرشید فوقانی نے اس کا تفصیل سے ذکر کیا ہے،27 مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے لکھا ہے کہ اس کے لئے علامہ شمس الحق کے گھر پر علمائے اہل حدیث کی ایک مجلس بھی منعقد ہوئی تھی جس میں مشورہ ہوا کہ کس کو یہ کام سپرد کیا جائے، لیکن مولانا فوقانی نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے اس لئے اغلب یہ ہے کہ خطوط ہی آئے ہوں گے، اس وقت علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری علامہ شمس الحق ڈیانوی کے وطن میں تھے، اور شاید مولانا شمس الحق شرح ابوداود میں مشغول ہوں گے اور کچھ قرابت کا لحاظ بھی پیش نظر ہوگا اس لئے انہوں نے یہ کام مولانا مبارکپوری کو سونپ دیا۔ چنانچہ انہوں نے چند سال کی کوشش کے بعد ابکار المنن فی تنقید آثار السنن کے نام سے اس کا جواب لکھ کر شائع کیا۔ یہ جواب علامہ نیموی کی وفات کے بعد ۱۳۳۷ھ (تقریباً ۱۹۱۸ء) میں شائع ہوئی۔ اس میں ابتدائی تمہید کے بعد کتاب کا جواب شروع کر دیا گیا ہے، مزید کوئی مقدمہ نہیں ہے، بعد میں یہ کتاب عالم عربی میں بھی نئی تحقیق کے ساتھ شائع ہوئی۔
اس کے جواب میں حضرت نیموی کے فرزند گرامی مولانا فوقانی نے القول الحسن کی الرد علی ابکار المنن وتائید آثار السنن کے نام سے لکھا، یہ کتاب ان کی تصریح کے مطابق ۱۹۳۳ء (۱۳۵۲ھ) میں مکمل ہو گئی تھی لیکن شائع ہوئی ۱۹۶۳ء (۱۳۸۲ھ) میں۔ اس کا ناشر نامی پریس لکھنؤ ہے۔ مزید تفصیل آثار السنن پر کام کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
آثار السنن کا ایک اور جواب علمائے اہل حدیث کی طرف سے دیا گیا۔ معروف اہل حدیث عالم حافظ زبیر علی زئی نے انوارالسنن فی تحقیق آثار السنن کے نام سے اس کا جواب لکھا ہے جو شائع ہو چکا ہے۔
مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے مطابق حافظ محمد پنجابی، مولانا عبدالسمیع مبارک پوری اور مولانا چراغ گل نے حضرت نیموی کے تحقیقات کا جواب دینے کی کوشش کی، لیکن مولانا نے اس کی تفصیل نہیں لکھی ہے نہ مآخذ کا حوالہ دیا ہے۔28
آثارالسنن پر علمی کام، ترجمے اور تکملے
آثار السنن پر جو علمی کام ہوے ہیں ذیل میں اس کی تفصیل درج کی جا رہی ہے، اس سے اس کتاب کی مقبولیت اندازہ ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صوبہ بہار میں ان کی وطنی نسبت کے علاوہ اس پر کام اور شرح و توضیح کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ اس صوبہ کے سرکاری مدارس (مدرسہ ایجوکیشن بورڈ بہار) کے نصاب میں شامل تھی۔ اور یہی وجہ پاکستان میں اس پر خصوصی توجہ کی ہے۔
۱۔ مولانا محمد سعید سمستی پوری کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ اس کا ایک اہم ایڈیشن جو غالباً عالم عربی سے شائع ہونے والا اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ہے، دارالکتب العلمیہ بیروت سے شائع ہوا۔ اس کو چند سال ہوئے ہیں۔
۲۔ اس کا ایک عمدہ ایڈیشن دارالمعراج مکتبۃ المدینہ کراچی پاکستان سے شائع ہوا ہے جس پر ایک شامی عالم ابی امجد احمد رضا العطاری الشامی کا حاشیہ بھی ہے جو انوار السنن کے نام سے ہے۔
۳۔ ایک تحقیقی ایڈیشن مجلس الدعوۃ والتحقیق جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے شائع ہوا ہے۔
۴۔ المعتصر من آثار السنن واعلاء السنن۔
یہ مولانا عارف جمیل قاسمی مدیر مجلہ الداعی عربی دارالعلوم دیوبند کا کام ہے جو چند سال قبل مکتبہ علمیہ دیوبند سے شائع ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے ان دونوں کتابوں کا اختصار بھی کیا ہے اور روایات کی تخریج بھی کی ہے۔
۵۔ مولانا محمود اشرف کی تحقیق سے شائع شدہ ایڈیشن، شاید یہی طباعت تحقیق آثار السنن للفاضل الذکی محمد اشرف کے نام سے شائع ہوئی ہے۔
۶۔ حقائق السنن از مولانا عبدالحق حقانی۔
۷۔ ایک ایڈیشن مولانا ذوالفقار علی کی تحقیق سے مکتبۃ البشری کراچی سے ۲۰۱۳ء میں شائع ہوا ہے۔
۸۔ متن مع اردو ترجمہ از محمد اشرف فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجراں والہ، مکتبہ حسینیہ، گوجرانوالہ۔
۹۔ درس آثار السنن اردو شرح از مولانا مفتی فیضان الرحمٰن کمال استاد جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، مبشر پبلشرز، کراچی۔
۱۰۔ توضیح السنن شرح اردو آثار السنن از مولانا عبدالقیوم حقانی، دو جلدیں۔ نوشہرہ، پاکستان۔
۱۱۔ تسہیل الآثار فی حل آثار السنن از مولانا سیف الرحمٰن۔
۱۲۔ اشاعت مع حواشی از مولانا فیض احمد ملتانی۔ مکتبہ حقانیہ، ملتان۔
۱۳۔ انوارالسنن ترجمہ و شرح اردو مولانا عبد المصطفیٰ محمد مجاہد قادری، لاہور۔
۱۴۔ ترجمہ و تشریح از حافظ محمد افضال نقشبندی۔
۱۵۔ آثار السنن مع توجیہ المتن الی حل آثارالسنن از مولانا محمد اقبال قاسمی، مکتبہ طلحہ، بنگلور۔
۱۶۔ القول الاحسن فی شرح آثار السنن اردو ترجمہ از مولانا حفیظ الرحمٰن رمضان پوری پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ، متوفی ۱۴۲۰ھ۔ ناشر کتاب منزل سبزی باغ پٹنہ۔ یہ کتاب چھوٹے سائز کے دو جلدوں میں ہے، زیادہ ترجمہ اردو ترجمہ ہے، کہیں کہیں توضیح بھی ہے۔ طلبہ کی درسی ضرورت کے پیش نظر لکھی گئی تھی۔
۱۷۔ توضیح السنن شرح آثار السنن از مولانا سید رضا کریم استھانوی پرنسل مدرسہ محمدیہ استھاواں، بہارشریف، متوفی ۱۳۳۵ھ۔ یہ شرح چھپ نہیں سکی اور اب محفوظ بھی نہیں لیکن راقم کی نظر سے اس کا کچھ حصہ گذرا تھا، راقم نے اس کا نام سنا تھا تو خیال تھا کہ کوئی درسی انداز کی معمولی شرح ہوگی لیکن دیکھنے پر اندازہ ہوا کہ شارح نے محنت کی ہے اور شارحینِ حدیث کے اقوال بھی نقل کئے ہیں، اور اس کو مجموعی طور پر مولانا حفیظ الرحمٰن رمضان پوری کی شرح سے بہتر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس شرح کے سلسلہ میں خود شارح کا ایک چھوٹا سا مکتوب بھی نظر سے گذرا ہے، مکتوب الیہ کا نام معلوم نہیں ہو سکا، اس میں لکھا تھا کہ میں نے طلبہ کے لئے سہل انداز میں آثارالسنن کی شرح لکھی ہے، اس کی اشاعت کی ضرورت ہے۔ یہ کتاب شارح نے حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی خدمت میں نظر ثانی کے لئے پیش کی تھی اور ان کی تصویب بھی حاصل کی تھی۔ افسوس کہ یہ کتاب ضائع ہو گئی لیکن اس کا ایک حصہ باقی ہے۔
۱۸۔ آثار السنن کا ایک اردو ترجمہ مولانا نور الہدیٰ شمسی (م فروری ۲۰۰۰ استاد پٹنہ مسلم ہائی اسکول ساکن یکہتہ مدھوبنی) کے قلم سے ہے جس کی تفصیل معلوم نہیں۔29
۱۹۔ تفہیم السنن، یہ علمی شرح امارت شرعیہ پٹنہ کے نائب ناظم اور معروف اہل قلم مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی ہے، لیکن مکمل کتاب کی شرح نہیں ہے، اس کا پہلا ایڈیشن تقریباً دو دہائی قبل حاجی پور (بہار) سے شائع ہوا تھا، اب مولانا نے نظر ثانی کے بعد اس کا دوسرا ایڈیشن متعدد اہلِ علم کے مقدمہ کے ساتھ شائع کیا ہے، لیکن تکمیل کا موقع اب تک نہیں مل سکا ہے۔ مولانا کسی سے شاید اس کا عربی ترجمہ بھی کروا رہے ہیں۔
۲۰۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر جو جامع حواشی تحریر فرمائے تھے، اس کا ذکر اوپر آچکا ہے، گرچہ وہ شاید کوئی باضابطہ تصنیفی کام نہیں تھا، لیکن اس کی اہمیت آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے، اس کا عکس تو بہت پہلے شائع ہوگیا تھا اور الاتحاف لمذھب الاحناف کے نام سے اب انٹرنٹ پر اور پی ڈی ایف میں ہر جگہ دستیاب ہے لیکن اس کی ترتیب و تدوین اب تک نہیں ہو سکی ہے، کئی اہلِ علم کے متعلق سنا کہ وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ علامہ عبد الفتاح ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ کے بقول یہ کام ان کے شاگردوں اور علمی وابستگان پر قرض ہے۔
۲۱۔ حضرت نیموی کے فرزند گرامی مولانا عبدالرشید فوقانی کی القول الاحسن فی الرد علی ابکار المنن وفی تائید آثار السنن کو بھی اس پر علمی کام کے ذیل میں ہی شمار کرنا چاہئے، گرچہ بہ باضابطہ اس کی شرح نہیں ہے۔ یہ کتاب مطبع نامی لکھنؤ سے ذی قعدہ ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۹۶۳ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں متن میں قال ابن النیموی کہہ کر معترض کے ہر قول کا جواب دیا گیا ہے، اور حاشیہ میں بعض جگہ ان سے متعلق جو مباحث تھے اس کی تائید میں حضرت نیموی کی اردو اور عربی عبارتیں درج کی گئی ہیں۔ اس کے اخیر میں عمدۃ العناقید اور اس سے پہلے مصنف کے قلم سے عربی میں دو صفحات میں حضرت نیموی کے حالات ہیں۔ اصل کتاب ۱۴۸ صفحات میں ہے۔ ان اعتراضات اور اس پر جوابات کی تفصیل اور اس کا محاکمہ اس مختصر مضمون میں مشکل ہے، نیز یہ ضروری بھی نہیں کسی ایک کے محاکمہ سے دوسرا مطمئن ہو جائے۔
فارسی ترجمے
ترجمہ و شرح آثار السنن، مترجم فیض محمد بلوچ، سنہ طباعت ۱۳۹۴ ہرات، افغانستان۔ خواجہ ابوعبداللہ انصاری فاؤنڈیشن۔
انوارالسنن ترجمہ وتوضیح آثار السنن، مترجم محمد امیر حسین بر۔ زاہدان، ایران۔
اس کتاب کا ایک تکملہ بنام ایثارالسنن مع حاشیہ افکار الحسن مولانا عتیق الرحمٰن صاحب قاسمی چندرسین پوری دربھنگوی نے کیا تھا جو شاید نامکمل ہی رہ گیا۔30
حواشی
- دیکھئے القول الحسن محولہ بالا
- تفہیم السنن، ص ۹۳
- یکہتہ واطراف، از مولانا منور سلطان ندوی، ۲۰۱۲ یکہتہ (دربھنگہ)
- حیاتِ قطب الہند مولانا احسن منوروی از مولانا اخترامام عادل قاسمی، ص ۸۲۴ سمستی پور
(مکمل)
