بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یا ایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (البقرۃ)۔
عزیزانِ محترم، رمضان المبارک کے مہینے کے اندر جو سب سے بڑی عبادت ہے، رمضان کے مہینے کے ساتھ جس کا بہت گہرا تعلق ہے، وہ ہے روزہ۔ یعنی ظاہر سی بات ہے رمضان کے اندر جتنی بھی عبادات ایک مسلمان ادا کرتا ہے ان بڑی بڑی عبادات میں سے جو ایک بہت بڑی عبادت ہے، وہ ہے روزہ۔ عزیزانِ محترم، قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں ’’یا ایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم‘‘ اے ایمان والو! تمہارے اوپر رمضان کے روزے فرض کیے گئے جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ اسی طرح اس آیت سے اگلی آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں ’’فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ‘‘ کہ تم میں سے جو بھی بندہ یہ رمضان کا مہینہ پا لے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے۔
عزیزانِ محترم، ایک مشہور حدیث ہے، آپ حضرات نے سنی ہو گی کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اسلام کے جو ارکان ہیں، جن چیزوں پر اسلام کی بیس اور بنیاد ہے، وہ پانچ چیزیں ہیں۔ اس کے اندر سب سے پہلے کلمۂ توحید ہے، دوسرے نمبر پر نماز ہے، اور تیسرے نمبر پر زکوٰۃ ہے، اور چوتھے نمبر پر رمضان کے روزے، اور پانچویں نمبر پر حج بیت اللہ ہے۔ تو دیکھیں، یہ جو روزہ ہے، یہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے، یعنی بیس ہے۔ اسلام کی جو بنیاد ہے، جو ڈھانچہ ہے، وہ اس پہ کھڑا ہے۔ رمضان کے روزے اس کا ایک رکن ہے۔ اور چونکہ قرآن مجید سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے باقاعدہ اسے فرض قرار دیا ہے۔ اور رمضان کی جو عبادات ہیں، جو رمضان کی برکتیں ہیں، اور رمضان کے مہینے کا جو ایک مسلمان کی زندگی کے ساتھ تعلق ہے، تو اس کے اندر سب سے بنیادی چیز روزہ ہے۔ باقی عبادتیں بھی ہیں لیکن سب سے بنیادی عبادت جو ہے وہ روزہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں روزہ رکھتا ہے۔ جو مکلف ہو، جو عاقل ہو، صحت مند ہو، جو روزہ رکھ سکتا ہے، تو اس کے اوپر یہ فرض ہے کہ وہ اس مہینے کا روزہ رکھے۔
عزیزانِ محترم، جہاں ایک طرف تو روزہ فرض ہے، لیکن دوسری طرف اگر ہم دیکھیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں، اور احادیث کے اندر اگر ہم دیکھیں تو اس کی بہت بڑی فضیلتیں بھی ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے جہاں ایک روزہ فرض کیا گیا ہے وہاں پر اس روزے کے بدلے اس کے لیے بہت بڑے بڑے انعامات کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کی آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا ایک نقد فائدہ یہ ہے کہ ’’لعلکم تتقون‘‘۔ روزے کی وجہ سے انسان پرہیز گار بن جاتا ہے، وہ اپنے رب سے ڈرتا ہے، وہ گناہوں سے بچ جاتا ہے، اس کے دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔
نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی احادیثِ مبارکہ اگر ہم دیکھیں تو روزہ دار کے لیے بہت بڑے بڑے انعامات کا ذکر ہے۔ حدیثِ قدسی ہے، مسلم شریف کی حدیث ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابنِ آدم کا جو ہر نیک عمل ہے، کوئی بھی عمل انسان کرے، ابن آدم نماز پڑھے، زکوٰۃ دے، کوئی بھی نیک عمل کرے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا ثواب کئی گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، دس گنا، بلکہ سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ سوائے روزے کے۔ فرمایا، وہ صرف میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو روزہ ہے اتنا بڑا عمل ہے کہ اس کے ثواب کی لمٹ نہیں بتائی، فرمایا کہ اس کا ثواب اَن لمیٹڈ ہے، کوئی اس کی حد نہیں ہے، غیر محدود ثواب ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا بدلہ میں دوں گا۔ اب وہ کیا بدلہ ہے، وہ کس قسم کے انعامات ہیں، کس قسم کا روزہ دار کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا بدلہ رکھا ہے، تو اللہ فرماتے ہیں کہ وہ میں دوں گا۔ اور پھر اسی حدیث کے اندر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس بندے نے میری وجہ سے اپنی شہوت کو چھوڑ دیا، میری وجہ سے کھانے پینے کو چھوڑ دیا، فرمایا کہ اس کا بدلہ میں دوں گا۔
اسی طرح ایک اور حدیث ہے، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ روزے دار کے لیے دو خوشخبریاں ہیں۔ فرمایا کہ ایک خوشخبری تو جب وہ افطار کرتا ہے اس وقت اس کو ایک روحانی خوشی ملتی ہے، سکون ملتا ہے، ظاہر ہے روزہ رکھنے والا اس خوشی کو محسوس کرتا ہے۔ فرمایا کہ دوسری خوشی، جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا، جب وہ اپنے رب کے پاس جائے گا اور اپنے رب سے ملے گا، تو فرمایا کہ اس وقت اس کو ایک خوشی محسوس ہو گی، اور اس وقت روزہ دار خوش ہو جائے گا جب اللہ اس کو انعامات دے گا اور اس کا جو بدلہ ہے وہ دے گا۔
اسی طرح مشہور حدیث ہے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’من صام رمضان ايمانا واحتسابا‘‘ جو بھی مسلمان رمضان کے روزے رکھے ایمان کی حالت میں، اور فرمایا کہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے، یعنی یہ کسی ریاکاری کے لیے نہ رکھے، لوگوں کو دکھانے کے لیے نہ رکھے، بلکہ صرف اور صرف اس لیے رکھے کہ میرا اللہ خوش ہو جائے، اللہ کا حکم ہے، ثواب کی نیت سے، تو نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’غفر لہ ما تقدم من ذنبہ‘‘ جتنے بھی اس نے گناہ کیے پچھلے تو اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ صغیرہ گناہ ہیں۔ جو کبیرہ گناہ ہیں، ان کے لیے ظاہر سی بات ہے یہ ضروری ہے کہ انسان توبہ کرے۔
عزیزانِ محترم، اسی طرح نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک اور حدیث ہے، آپ اندازہ کیجیے کہ روزہ کتنی فضیلت والا عمل ہے، کتنا بابرکت عمل ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ روزے کی وجہ سے روزہ دار کے منہ سے جو ایک بو جاتی ہے، معدے کے خالی ہونے کی وجہ سے، فرمایا کہ اس کے منہ سے جانے والی یہ بو — عام لوگ آپ دیکھتے ہیں اس کو ناپسند کرتے ہیں کہ اگر کسی کے سامنے اس حالت میں آپ بیٹھیں — لیکن فرمایا کہ یہی بو اللہ تبارک و تعالیٰ کو مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ یعنی یہ اُس کو ایک پروٹوکول دیا جا رہا ہے، روزہ دار کو، کہ اس کا یہ جو عمل ہے، اللہ کے نزدیک یہ کتنا ثواب والا عمل اور کتنا پسندیدہ عمل ہے۔
اسی طرح روزہ دار کے لیے انعامات کا ذکر جہاں احادیث میں آتا ہے، اس میں ایک بہت بڑا اس کے لیے جو ایک انعام ہے وہ یہ ہے کہ جنت کے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو دروازے بنائے، تو ان میں سے ایک دروازہ خاص روزے داروں کے لیے ہے، جس کا نام بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’ریان‘‘ رکھا ہے۔ ریان اس دروازے کا نام ہے، اور قیامت کے دن صرف روزہ داروں کو پکارا جائے گا کہ جو روزہ دار ہے وہ آ جائے اور اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ روزہ دار کے علاوہ کوئی بھی بندہ اس دروازے سے نہیں داخل ہو سکے گا۔ اور جتنے بھی روزے دار ہیں جب وہ اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائیں گے، تو فرمایا کہ پھر یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا، اور کوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔
عزیزانِ محترم، آپ اندازہ کیجیے کہ یہ جو رمضان کے ماہِ مبارک کے اندر ایک عمل ہے، روزہ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل کو کتنا بابرکت بنایا، اور اس کے بدلے کس قدر ثواب کا وعدہ فرمایا روزہ دار کے لیے کہ انسان کا جو تصور ہے وہ اسے اپنے دائرے میں نہیں لا سکتا۔
لہٰذا بحیثیتِ مسلمان، ہر مسلمان جو مکلف ہو، مکلف کا مطلب یہ ہے کہ عاقل ہو، بالغ ہو، صحت مند ہو، روزہ رکھ سکتا ہو، اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس موقعے کو اپنے لیے اللہ کی طرف سے ایک انعام سمجھ لے، اور اگر اللہ نے اس کو یہ موقع زندگی میں عطا کیا ہے اور اس کی زندگی میں رمضان آ رہا ہے، صحت اور عافیت کے ساتھ، تو وہ اس کو اپنے لیے ایک موقع سمجھے، اپنے لیے غنیمت سمجھ کے اس ماہِ مبارک کے روزے رکھے۔ اور روزہ رکھتے وقت اس کی نیت خالص اور خالص ثواب کی ہونی چاہیے، ریاکاری وغیرہ کی نیت نہیں ہونی چاہیے، تو ان شاء اللہ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سے امید ہے، جو بندہ اس نیت کے ساتھ یہ روزے رکھے گا، جتنے بھی انعامات ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ ان انعامات میں سے اسے ضرور حصہ عطا فرمائے گا، دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
