خدا کے وجود پر یقین انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن کے مطابق اِسی فطرت پر تمام انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے اور اس دنیا میں بھیجے جانے سے قبل اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا جسے 'میثاق الست' کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وجودِ باری تعالیٰ پر یقین انسان کی فطری زندگی کے لئے ضروری ہے، یہ یقین تحتِ شعور میں راسخ ہے اور فطرت مسخ نہ ہو تو معمولی تامل یا یادداشت سے رہنمائی دیتی ہے۔ یہ فطری ایمان ہی عقیدہ بنتا ہے، اور اس پر اعتقاد ایمان کہلاتا ہے۔ انسان کی یہ جبلت اُس وقت کھل کر ظاہر ہوتی ہے جب سخت مصیبت میں ہر انسان، خواہ وہ کافر ہو یا مومن، کائنات سے ماورا ایک قوت کی پناہ چاہتا ہے۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ خدا کے موجود ہونے کی دلیل ہمارے اندر (نفس میں) موجود ہے۔
کائنات اور فطرت میں پایا جانے والا غیر معمولی نظم و ضبط، نفاست اور جچا تلا ڈیزائن (کائناتی سطح پر کہکشاؤں سے لے کر کوانٹم سطح پر ایٹموں تک) ایک عظیم ذہین خالق/ڈیزائنر کی موجودگی کا لازمی ثبوت ہے۔ اس کے لازمی نتائج یہ بھی ہیں کہ؛
- بگ بینگ کا واقعہ ایک منصوبہ کے تحت وقوع پذیر ہوا، نہ کہ محض ایک بے قابو دھماکہ، کیونکہ اس کے نتیجے میں گچھے بنے نہ کہ ٹکڑے، اور قوانینِ طبیعیات حیرت انگیز توازن کے ساتھ وجود میں آئے۔
- کائنات کے پھیلنے کی رفتار اور طبیعی قوانین کے پیمانے اس قدر نپے تلے ہیں کہ ذرہ برابر فرق بھی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ ایک منصوبہ بندی کی طرف اشارہ ہے۔
- قرآن انسان کے اپنے وجود (نفس) میں خدا کی نشانیاں تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے، جو اس کی سب سے بڑی دلیل ہے: (الذاريات: 21)
- کائنات کا نظم و ضبط اور مخلوقات کا تنوع (Design and Variety) ایک عظیم خالق کی موجودگی کا ثبوت ہے۔
- کائنات کی تخلیق میں غیر معمولی توازن اور نفاست (جیسے کائنات کی رفتار اور قوانینِ طبیعیات کے پیمانے) ایک ذہین ڈیزائنر کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جیسے کوانٹم تجربات میں ذرات کا مشاہدہ کیے جانے پر رویہ بدلنا کسی باخبر (Omniscient) طاقت کی موجودگی کا ثبوت ہے۔
- قرآن آسمان و زمین کے ایک اکائی سے جدا ہونے کو غور و فکر کا موضوع بناتا ہے: (الانبیاء: 30)
- ہر چیز میں جوڑے (ازواج) اور رنگوں کا اختلاف تخلیقی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ کوانٹم الجھاؤ (Quantum Entanglement) وہ مظہر ہے کہ دو الیکٹران جوڑے میں پیدا ہوں تو وہ ہمیشہ کے لیے آپس میں الجھ جاتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کے درمیان کتنا بھی فاصلہ ہو۔ ایک میں تبدیلی فوری طور پر دوسرے میں تبدیلی کا سبب بنتی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ انفارمیشن روشنی کی رفتار سے بھی تیز سفر کر رہی ہے۔
- بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات میں ایک غیر مرئی طاقت موجود ہے جو مادہ پر فوری طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی طرح 'ڈبل سلٹ' تجربات میں ذرات جب اپنا مشاہدہ کیے جانے کا 'احساس' کرتے ہیں تو اپنا رویہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہ ایک طاقت میں علم اور ذہانت کی موجودگی کا ثبوت ہے جو تمام آزاد الیکٹران کو مربوط کرتی ہے۔
- کوانٹم طبیعیات کو ایک 'کائناتی کوڈ' سمجھا جاتا ہے جو ہر چیز کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ کوانٹم لیول پر یہ کائناتی رابطہ (جو زمان و مکان سے ماورا ہے) دعا کے ذریعے خدا سے روحانی رابطہ قائم ہونے کی حقیقت کی تصدیق کرتا ہے، کیونکہ خدا ہر جگہ اور ہر چیز سے رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔ کائنات اور اس کے قوانین کی تخلیق اور اس میں نفوذ پزیر ایک شعور واحد کا تصور یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کے اس عقیدہ کی تائید کرتا ہے کہ خدا ہر وقت موجود ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
وہ فلاسفہ، جو سائنسی بنیاد پر خدا کا انکار نہیں کر سکتے، بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ محسوس ظواہر کے پس پردہ کوئی نامعلوم اور ناممکن العلم قوت (شہود کے پردہ میں غیب) ضرور پنہاں ہے۔ عدم ایک خیالِ خام (Absence is a Mere Idea) ہے: روشنی موجود ہے، جبکہ تاریکی صرف روشنی کی غیر موجودگی کا نام ہے، ایک خیال ہے۔ حرارت (ہیٹ) موجود ہے، جبکہ سردی حرارت کی غیر موجودگی ہے، ایک خیال ہے۔ آواز موجود ہے، جبکہ خاموشی صرف آواز کی غیر موجودگی ہے۔ نتیجہ: اگر خدا کا وجود ایک حقیقت ہے، تو خدا کا انکار یا عدم وجود صرف ایک خام خیال ہے۔ یہ ایسا ہے کہ کوئی بھیگا ہوا شخص یہ کہے کہ اس نے کبھی پانی نہیں دیکھا۔ جو لوگ خدا پر یقین نہیں رکھتے، وہ دراصل دنیا داری کی مصروفیت میں اپنی ذات پر غور و فکر نہیں کرتے۔
انسان کی کمزوری، ناتوانی اور عارضی وجود ہی خدا کے کمال، ابدیت اور قدرتِ مطلق کی منطقی دلیل ہیں۔ ہر مخلوق کا وجود کاملیت میں درجات رکھتا ہے، اور اس کاملیت کے پیمانے کی ایک انتہائی حد کا ہونا لازم ہے، جو اپنی تعریف کے لحاظ سے خدا ہے۔ یہ دلیل یہ بھی واضح کرتی ہے کہ عارضی دنیا کے نقائص (کمزوری، محکومیت، ناتوانی) ہی خدا کے کمالات (قدرت، حاکمیت، خالقیت) کی گواہی دیتے ہیں۔
مذہب کی جڑ دل میں ہے اور مذہب کی بنیاد اعتقادات اور جذبات پر ہے (امید و بیم، محبت و نفرت، حیرت و تعظیم)، جب تک یہ جذبات انسانی خمیر میں شامل ہیں، مذہب انسانی وجود کا جزو ہے۔ پروفیسر ٹنڈل کا دعویٰ ہے کہ کوئی ملحدانہ استدلال انسان کے دل سے مذہب کو خارج نہیں کر سکتا، کیونکہ مذہب وجدان اور ذاتی تجربہ کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کی جگہ فطرتِ انسانی کی گہرائی میں ہے۔
انسانوں میں پایا جانے والا فطری اخلاقی شعور اور ضمیر ایک بالاتر اخلاقی قانون ساز (خدا) کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔ کانٹ کے مطابق انسان میں فطری اخلاقی میلانات ہیں، اور اخلاقیات صرف اخلاقی اچھائی کے ایک اعلیٰ تر منبع سے آ سکتی ہے۔ لہٰذا، خدا موجود ہے۔ دنیا میں ظالم اور مظلوم دونوں ہیں؛ ایک منصف خدا سے یہ توقع جائز ہے کہ مکمل انصاف صرف آخرت میں ہی ممکن ہے۔ اس طرح آخرت کی زندگی پر ایمان ذاتِ باری تعالیٰ پر ایمان کا منطقی نتیجہ ہے۔
جب موجودہ مادی دنیا میں بے بسی اور ناانصافی غالب آتی ہے، تو انسان تسکین اور ڈھارس کے لیے ایک عالمِ غیب پر یقین کرتا ہے جہاں مکمل انصاف اور حقیقی جزا و سزا ہو گی۔ یہ ایمان بالغیب ہی مذہب کی اصل جان ہے اور بنی اسرائیل کی معزولی کی جو تاریخ قرآن نے ذکر کی ہے، اُس میں نمایاں وجہ یہی تھی کہ انہوں نے بار بار حس اور مشاہدہ میں آنے والے خدا کا مطالبہ کیا، جو غیب پر یقین کے منافی تھا ۔ اس کے برعکس قرآن سے ہدایت لینے والے متقین کی پہلی صفت ایمان بالغیب قرار پائی۔
خدا کے وجود کی سب سے طاقتور دلیل نہ صرف عقلی استدلال میں پنہاں ہے، بلکہ انسانی زندگی کے عملی اور وجدانی تجربے میں بھی راسخ ہے۔ روزمرہ مشاہدات، جیسے کہ نیکوکار کی ناکامی اور بدکار کی خوشحالی، یہ ثابت کرتے ہیں کہ دنیا کا نظام صرف مادی اور عقلی قوانین کے تحت کارفرما نہیں ہے۔ یہی تضادات اور علم و تدبیر کی بے بسی انسان کو ایک غیبی قوت کا اقرار کرنے پر مجبور کرتی ہے، جس پر ہر تدبیر غالب ہے، جیسا کہ قرآنی بیان (سورۃ الفتح: 10) میں ظاہر ہوتا ہے۔
عصرِ حاضر کے مغربی فلسفہ میں خدا کے وجود کا ایک ثبوت مذہبی تجربہ ہے، جسے حواس کے ذریعے حاصل ہونے والے عام دنیاوی تجربات کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔ یہ تجربہ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے، جیسے:
- مقدس ہستی کا شعور، جس میں خوف اور احترام شامل ہو۔
- مخلوق ہونے کے ناطے مطلق انحصار کا احساس۔
- الٰہی (Divine) ذات و صفات کے ساتھ تعلق کا احساس۔
- خدا کا براہ راست احساس یا ایک ایسی حقیقت کا سامنا جو "مکمل طور پر دوسری" (Wholly Other) ہے۔
- اس حاضری (ادراک) سے تبدیل ہونے کی طاقت کا احساس۔
امام غزالیؒ شریعت، طریقت، حقیقت اور بالآخر معرفت کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہر فرد جو ہدایت کا مخصوص راستہ (زہد، عبادت، سچائی، تنہائی، دعا) اختیار کرتا ہے، وہ بالآخر خدا کے وجود پر اسی یقین کی منزل (وحدانیت اور اسلام) پر پہنچتا ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب دعائیں قبول کرنے والا ایک ہی مخاطب (خدا) موجود ہو۔ حضرت محمد ﷺ کا معراج کا سفر ایک منفرد روحانی تجربہ ہے، جسے قرآن (17:1) میں "قدرت کی نشانیاں دکھانے" کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
جدید الحاد کا مطالعہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ عہدِ نبوی میں فکری گمراہی کی غالب نوعیت کا تجزیہ نہ کیا جائے۔ یہ تقابلی جائزہ واضح کرتا ہے کہ ماضی اور حال کے "الحاد" کی نوعیت میں کیا بنیادی فرق ہے اور قرآنی دعوت کا اصل مرکز کیا رہا۔ عہدِ نبوی میں "الحاد" (خدا کے وجود کا مکمل انکار) ایک عام رجحان نہیں تھا۔ قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ کی دعوت کا مرکز ایسے لوگ تھے جو اللہ کے وجود کے قائل تھے مگر اس کی ذات میں شریک ٹھہراتے تھے، نہ کہ وہ جو خدا کا مکمل انکار کرتے تھے۔ فکری گمراہی کا مرکز دراصل شرک اور کفر تھا۔ اس وقت کے انسانوں کی فطرت میں کسی نہ کسی مافوق الفطرت ہستی پر ایمان کا رجحان موجود تھا۔ قدیم تہذیبوں کا یہ ماننا تھا کہ کائنات کو کسی قوت نے بنایا ہے، لیکن وہ اس قوت کو ایک خدا کی بجائے کئی دیوی دیوتاؤں یا بتوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اس وقت کے غیر مسلموں کا غالب عقیدہ شرک اور کفر کا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کو تو تسلیم کرتے تھے (بطورِ خالقِ کائنات)، لیکن اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے ان بتوں اور دیوتاؤں کو وسیلہ (شفاعت) سمجھتے تھے تاکہ وہ اللہ تک ان کی رسائی ممکن بنا سکیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ان کے اس عقیدے کو بیان کیا گیا ہے:
"اور وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع دے سکتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔" (یونس: 18)
قرآن مجید میں اس طرزِ عمل کی عکاسی متعدد مقامات پر ہوتی ہے، جہاں مشرکین کو توحید کی طرف لانے کے لیے دعوتِ فکر دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کو بیدار کرنے کے لیے کائنات میں موجود نشانیوں (آیات) کو بنیاد بنا کر فرمایا ہے:
"بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں ان عقل والوں کے لیے یقیناً نشانیاں ہیں جو کھڑے، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں…" (آل عمران: 190-191)۔
"اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، اور تمہاری اپنی ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟" (الذاریات: 20-21)۔
ان تمام آیات کا مقصد یہ ہے کہ انسان کائنات کی نشانیوں (آیات) پر غور کر کے فطرت کی شہادت کے مطابق ایک خدا کے وجود اور اس کی وحدانیت کو پہچان لے۔ البتہ قرآن مجید میں ایک مقام پر ایسے لوگوں کا بھی ذکر ملتا ہے جن کا نظریہ موجودہ الحاد سے کچھ مشابہت رکھتا تھا:
"اور انہوں نے کہا کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہی ہے، ہم زندہ ہوتے ہیں اور مرتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ ہی مارتا ہے، حالانکہ انہیں اس بارے کچھ علم نہیں ہے، وہ صرف ظن و تخمین سے کام لیتے ہیں۔" (الجاثیہ: 24)
قرآن نے ان کا بھی براہِ راست جواب دیا اور انہیں ظن و تخمین کی بجائے اللہ کی نشانیوں پر فکر و تدبر سے حاصل ہونے والے علم کی طرف دعوت دی۔
