حرمین شریفین میں وِتر کی نماز امام کی اقتداء میں پڑھنے کا حکم

حرمین شریفین میں وتر کی نماز ائمہ حرمین کی اقتداء میں پڑھنے کا مسئلہ معرکۃ الآراء مسائل میں سے ہے، کیونکہ احناف کے یہاں تین وتر ایک سلام کے ساتھ ہے، جبکہ اِس وقت ائمہ حرمین شریفین حنبلی مذہب کے موافق دو سلاموں کے ساتھ تین وتر پڑھاتے ہیں۔ اصولی طور پر اس مسئلہ کا تعلق مخالف فی الفروع امام (یعنی شافعی، حنبلی اور مالکی) کی اقتداء میں وتر پڑھنے سے ہے۔ 

مخالف فی الفروع امام کی اقتداء کے متعلق دو اقوال

اس سلسلے میں فقہائے احناف کے بنیادی طور پر دو قول مشہور ہیں:

پہلا قول: اقتداء کی مشروط اجازت

پہلا قول یہ ہے کہ مخالف فی الفروع امام کی اقتداء میں حنفی کا وتر پڑھنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ امام دو رکعت کے بعد سلام نہ پھیرے۔ فقہائے احناف میں سے بہت سے حضرات نے اس قول کو راجح قرار دیا ہے، ماضی قریب کے بعض سلف صالحین نے اسی قول کے مطابق فتویٰ بھی دیا ہے۔ 

چنانچہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحبؒ نے امداد الاحکام میں اسی قول کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، جلد ۱، ص ۵۹)

مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ نے بھی فتاویٰ رحیمیہ میں اسی کے موافق فتویٰ دیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: صحیح قول یہ ہے کہ اگر شافعی امام وتر دو سلام سے ادا کرے تو حنفی مقتدی اس کی اقتداء نہ کرے، اسی میں احتیاط ہے۔ (۶، ۴۱۵)

جامعہ دار العلوم کراچی سے بھی حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے زمانے میں انہی کی تصدیق سے اس قول کے مطابق فتویٰ جاری ہوا۔

دوسرا قول: اقتداء کی مطلقاً‌ اجازت

دوسرا قول یہ ہے کہ مخالف فی الفروع امام کی اقتداء میں وتر کی نماز پڑھنا مطلقاً‌ جائز ہے اگرچہ امام دو رکعت پر سلام پھیر دے۔ یہ قول علامہ ابوبکر جصاص رازیؒ کا ہے۔ فقہائے حنفیہ میں ابوبکر جصاص رازیؒ بڑے پایہ کے فقیہ ہیں، امام کرخی کے شاگرد ہیں اور دو واسطوں سے امام محمؒد کے تلامذہ میں سے ہیں۔ اسی قول کو علامہ ابن الہمامؒ کے استاد علامہ سراج الدینؒ نے بھی اختیار فرمایا ہے اور خود علامہ محقق ابن الہمامؒ بھی اس قول کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ نیز علمائے احناف کی ایک معتد بہ جماعت کی رائے بھی یہی ہے۔ مثلاً‌ فقیہ ابوجعفر الہند وانیؒ اور علامہ ابن دہبانؒ کی یہی رائے ہے۔

علامہ عبد الحی لکھنویؒ نے اس قول پر فتویٰ دیتے ہوئے فرمایا: محققین نے مخالف فی الفروع امام کی اقتداء میں حنفی کی نماز مطلقاً‌ جائز ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ (مجموعۃ الفتاویٰ، ۱، ۳۲۸، کتاب الصلوٰۃ، ط: ایم ایچ سعید)

حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن عثمانی صاحبؒ نے بھی مخالف فی الفروع امام کی اقتداء کو مطلقاً‌ جائز قرار دیا ہے اور فرمایا کہ: محققین کے نزدیک حنفی کا شافعی المذہب کی اقتداء یا شافعی کا حنفی امام کی اقتداء جائز ہے۔ (عزیز الفتاویٰ، ۱ ،۲۳۹، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، ۳، ۱۴۳)

مندرجہ ذیل وجوہات اور دلائل کی بنیاد پر اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں پیچھے عرض کر چکا ہوں کہ اصولی طور پر اس مسئلہ کا تعلق مخالف فی الفروع امام کی اقتداء سے ہے۔

امام کے مذہب کا لحاظ یا مقتدی کے؟

اب اس سلسلے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ مقتدی کے مذہب کی رعایت کا خیال رکھنا ضروری ہے یا امام کے مذہب کی رعایت کا اعتبار ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک صحتِ نماز کے لئے مقتدی کے مذہب کا اعتبار کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا مخالف فی الفروع کی صورت میں

  • اگر نماز میں امام صاحب کسی ایسے عمل کا ارتکاب کریں جو مقتدی کے مذہب کے مطابق مفسدِ صلوٰۃ ہو، تو ایسے امام کے پیچھے اس مقتدی کی نماز اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
  • تاہم بعض محقق علماء کے نزدیک مقتدی کے بجائے امام کے مسلک کا اعتبار ہے کہ امام کی نماز اصل کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا اگر امام کی نماز اس کے مسلک کے مطابق صحیح ہو جائے تو مقتدی کی نماز بھی امام کے تابع ہو کر درست ہو جائے گی۔ فقیہ ابوجعفر الہندوانیؒ، محقق العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت شیخ الہندؒ وغیرہ حضرات اسی کے قائل ہیں کہ اگر امام کے اپنے مذہب کے مطابق اس کی نماز صحیح ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔

چنانچہ علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:

قلت: وہذا بناء علی ان العبرۃ لرای المقتدی وہو الاصح، وقیل لرای الامام وعلیہ جماعۃ۔ (کتاب الصلوٰۃ، باب الامامۃ، قبیل مطلب: الاقتداء بشافعی، ص: ۲۶۱، ج: ۲، ط: رشیدیہ)
[میں کہتا ہوں: اس (پچھلے مسئلے) کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اعتبار مقتدی کی رائے کا ہوگا اور یہی قول سب سے زیادہ صحیح ہے، جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ اعتبار امام کی رائے کا ہوگا اور فقہاء کی ایک جماعت اسی طرف گئی ہے۔]

اس مسئلے کی مکمل تفصیل علامہ شامیؒ نے باب الوتر والنوافل میں بیان فرمائی ہے۔ بقدر ضرورت اختصار کے ساتھ علامہ شامیؒ کی عبارت نقل کی جاتی ہے:

ثم قال: ظاہر الہدایۃ ان الاعتبار لاعتقاد المقتدی ولا اعتبار لاعتقاد الامام، حتی لو اقتدی بشافعی رآہ مس امراۃ ولم یتوضا فالاکثر علی الجواز وہو الاصح کما فی الفتح وغیرہ، وقال الہندوانی وجماعۃ: لا یجوز … ومقتضاہ ان المعتبر رای الامام فقط۔ (کتاب الصلوٰۃ، باب الوتر والنوافل، قبیل مطلب: الاقتداء بشافعی، ص: ۲۶۱، ج: ۲، ط: رشیدیہ)
[پھر انہوں نے کہا: کتاب "الہدایہ" کا ظاہری موقف یہ ہے کہ اعتبار مقتدی کے عقیدے (اور مسلک) کا ہوگا، امام کے عقیدے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے ایسے شافعی امام کے پیچھے نماز پڑھی جس کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ اس نے عورت کو چھوا ہے اور وضو نہیں کیا، تو اکثر علماء کے نزدیک یہ اقتدا جائز ہے اور یہی قول سب سے زیادہ صحیح ہے جیسا کہ "فتح القدیر" وغیرہ میں مذکور ہے۔ جبکہ امام ہندوانی اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے، اور ان کے قول کا تقاضا یہ ہے کہ صرف امام کی رائے کا اعتبار کیا جائے۔]

علامہ ابن الہمامؒ کے مطابق:

وفی فتح القدیر: قلنا المقتدی یری جوازہا والمعتبر فی حقہ رای نفسہ لا وغیرہ، وقول ابی بکر الرازی ان اقتداء الحنفی بمن یسلم علی راس الرکعتین فی الوتر یجوز ویصلی معہ بقیتہ لان امامہ لم یخرجہ بسلامہ عندہ لانہ مجتہد فیہ، کما لو اقتدی بامام قد رعف یقتضی صحۃ الاقتداء وان علم منہ ما یزعم بہ فساد صلاتہ بعد کون الفصل مجتہدا فیہ۔ وقیل اذا سلم الامام علی راس الرکعتین قام المقتدی فاتم منفردا، وکان شیخنا سراج الدین یعتقد قول الرازی، وانکر مرۃ ان یکون فساد الصلاۃ بذلک مرویا عن المتقدمین حتی ذکرتہ بمسالۃ الجامع فی الذین تحروا فی اللیلۃ المظلمۃ وصلی کل الی جہۃ مقتدین باحدہم، فان جواب المسالۃ ان من علم منہم بحال امامہ فسدت لاعتقاد امامہ علی الخطا وما ذکر فی الارشاد لا یجوز الاقتداء فی الوتر باجماع اصحابنا لانہ اقتداء المفترض بالمتنفل (باب صلوٰۃ الوتر، ج: ۱، ص: ۴۳۷)۔ وکذا فی حاشیۃ ابن عابدین، باب الوتر والنوافل، ج: ۲، ص: ۸)۔
[فتح القدیر میں ہے کہ: ہم کہتے ہیں کہ مقتدی (اس صورت کو) جائز سمجھتا ہے، اور مقتدی کے حق میں خود اس کی اپنی رائے کا اعتبار ہوگا نہ کہ کسی دوسرے کی رائے کا۔ امام ابوبکر رازی کا قول ہے کہ: اگر کوئی حنفی ایسے امام کے پیچھے وتر پڑھے جو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیتا ہو، تو یہ جائز ہے؛ وہ مقتدی امام کے ساتھ باقی نماز بھی پڑھے کیونکہ مقتدی کے نزدیک امام کا یہ سلام اسے نماز سے نکالنے والا نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔ (یہ بالکل ایسا ہی ہے) جیسے کسی ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جس کی نکسیر پھوٹ گئی ہو، یہ اقتدا کے صحیح ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اگرچہ مقتدی کو امام کی ایسی حالت کا علم ہو جسے وہ نماز فاسد کرنے والی سمجھتا ہو، بشرطیکہ وہ اختلاف اجتہاد والا مسئلہ ہو۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ: جب امام دو رکعتوں پر سلام پھیر دے تو مقتدی کھڑا ہو کر اپنی بقیہ نماز اکیلے پوری کرے۔ ہمارے استاد سراج الدین امام رازی کے قول کے قائل تھے، انہوں نے ایک دفعہ اس بات کا انکار کیا کہ اس صورت میں نماز کا فاسد ہونا متقدمین (پرانے فقہاء) سے مروی ہے۔ چنانچہ میں نے انہیں "الجامع" کا وہ مسئلہ یاد دلایا کہ جن لوگوں نے اندھیری رات میں قبلہ رخ کا اندازہ لگایا اور ہر ایک نے الگ سمت رخ کر کے ایک امام کی اقتدا کر لی، تو اس مسئلے کا جواب یہ ہے کہ جس مقتدی کو اپنے امام کے حال کا علم ہو گیا (کہ امام کی سمت غلط ہے) اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، کیونکہ اس کا یہ ماننا ہے کہ اس کا امام غلطی پر ہے۔ جبکہ "الارشاد" میں یہ ذکر ہے کہ: ہمارے (حنفی) اصحاب کے اتفاق کے مطابق وتر میں (ایسی) اقتدا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک فرض پڑھنے والے کی نفل پڑھنے والے کے پیچھے اقتدا کرنا ہے۔]

حضرت مولانا محقق علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اس موقف کی تائید میں حضرات صحابہ کرامؓ کا معمول نقل فرمایا ہے:

قلت: ہذہ المسالۃ مجتہد فیہا، والاقتداء فی جنس ہذہ المسائل یجوز من واحد لآخر کما فی الرد المختار، عند تعدید الواجبات، فصرح فی ضمنہ: ان المتابعۃ تصح عندنا فی الاجتہادات کلہا، واوضحہ الشافعی رحمہ اللہ تعالی، ونقلہ الحافظ ابن تیمیۃ عن الائمۃ الاربعۃ۔ فان قلت: کیف الاقتداء مع قلت: فہذا باب عندنا وسیع، فیتبع الامام فی رفع الیدین والتامین ایضا لو اتفق الاقتداء بشافعی، وقد قدمنا الکلام فیہ مبسوطا، ویدل علیہ ان الخلیفۃ ہارون الرشید افتصد مرۃ فقام الی الصلوۃ ولم یتوضا، فاقتدی بہ ابویوسفؒ وما ذلک الا لکون الاقتداء جائزا۔ (فیض الباری علی صحیح البخاری، باب کما اقام النبیﷺ، ۲، ۵۳۲)
[میں (شاہ صاحب) کہتا ہوں: یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، اور اس قسم کے تمام مسائل میں ایک مسلک والے کی دوسرے کے پیچھے اقتدا جائز ہے جیسا کہ "رد المحتار" (فتاویٰ شامی) میں واجبات کی فہرست کے بیان میں صراحت کی گئی ہے۔ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ: ہمارے نزدیک تمام اجتہادی مسائل میں (دوسرے امام کی) پیروی صحیح ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اس کی وضاحت کی ہے اور حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسے چاروں ائمہ سے نقل کیا ہے۔ اگر تم یہ سوال کرو کہ (اختلافِ رائے کے باوجود) اقتدا کیسے درست ہے؟ تو میں کہوں گا: ہمارے ہاں یہ معاملہ بہت وسیع ہے، چنانچہ اگر کسی شافعی امام کے پیچھے اقتدا کی صورت پیش آ جائے تو مقتدی رفع یدین اور (اونچی) آمین کہنے میں بھی امام کی پیروی کرے گا۔ ہم اس پر تفصیلی کلام پہلے کر چکے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے ایک بار پچھنے لگوائے (حجامہ کرایا) اور پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ان کے پیچھے اقتدا کی؛ اور یہ عمل اسی لیے تھا کیونکہ اقتدا جائز تھی۔]

فیض الباری میں ہی ایک اور مقام پر علامہ ابن تیمیہؒ کے حوالے سے اس مسئلے میں اجماع نقل کرتے ہوئے درمختار میں ذکر موقف پر رد بھی کیا گیا ہے:

واعلم ان ابن مسعود کان یصلی خلف عثمان اربعا، لصحۃ الاقتداء فی المسائل المجتہد فیہا، کما مر مبحثہ فی الطہارۃ۔ ونقل الحافظ ابن تیمیۃ الاجماع علی صحۃ اقتداء حنفی بشافعی، وکذلک کل صاحب مذہب بصاحب مذہب آخر، وصرح ان ہذا ہو مذہب الامام ابی حنیفۃ۔ ومع ذلک نجد فی «الدر المختار» خلافہ، فذہب الی انہ لا یصح۔ قلت: کیف مع ان الدین واحد، والنبی واحد، والقبلۃ واحدۃ، فبعید کل البعد ان لا یصح اقتداء حنفی بشافعی فی امر الصلاۃ التی ہی من اہم مہمات الدین۔ (فیض الباری علی صحیح البخاری، باب التلبیۃ والتکبیر، ج ۳، ص ۲۴۲)
[اور جان لیجیے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (سفر میں) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے چار رکعات پڑھا کرتے تھے، کیونکہ اجتہادی مسائل میں اقتدا صحیح ہوتی ہے، جیسا کہ اس کا تذکرہ طہارت کے باب میں گزر چکا ہے۔ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ حنفی کی اقتدا شافعی کے پیچھے صحیح ہے، اور اسی طرح ہر مسلک والے کی اقتدا دوسرے مسلک والے کے پیچھے درست ہے، اور انہوں نے صراحت کی ہے کہ یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اپنا مذہب ہے۔ اس سب کے باوجود ہمیں "الدر المختار" میں اس کے خلاف بات ملتی ہے، جس میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ ایسی اقتدا صحیح نہیں۔ میں (شاہ صاحب) کہتا ہوں: یہ کیسے ممکن ہے؟ جبکہ دین ایک ہے، نبی ایک ہیں اور قبلہ بھی ایک ہے، تو یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے کہ نماز جیسے اہم ترین دینی معاملے میں ایک حنفی کی اقتدا شافعی کے پیچھے صحیح نہ ہو۔]

اسی طرح ایک اور مقام پر مذکورہ صورت میں اقتداء کے جواز کو محقق قرار دیتے ہوئے سلف صالحین کے عمل کا حوالہ بھی دیا ہے، نیز شیخ الہند محمود الحسنؒ کے حوالے سے بھی یہی رائے نقل فرمائی ہے کہ مخالف فی الفروع امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز ہے:

قلت: والذی تحقق عندی انہ صحیح مطلقا سواء کان الامام محتاطا ام لا، وسواء شاہد منہ تلک الامور ام لا، فانی لا اجد من السلف احدا اذا دخل فی المسجد انہ تفقد احوال الامام او تساءل عنہ بید انہم کانوا یقتدون وینصرفون الی بیوتہم بلا سؤال ولا جواب۔ وفی «فتاوی الحافظ ابن تیمیۃ»: ان ہارون الرشید افتصد مرۃ ثم قام لیصلی، وکان ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی موجودا ہناک، فاقتدی بہ مع علم الناقض عندہ۔ فان قلت: کیف الاقتداء مع تیقن الامام علی عدم الطہارۃ عندہ؟ قلت: انما یتوجہ السؤال اذا کان الامام علی امر باطل قطعا، وہذہ المسالۃ مجتہد فیہا، امکن فیہا ان یکون الحق الی الامام، وامکن ان یکون فی جانب آخر، ولذا لا یسعک ان تحکم علی صلاۃ الآخرین انہا باطلۃ عند اللہ تعالی، ولکن یبذل الجہد ویتحری الصواب لینال الثواب بقدر الاجتہاد …… قلت: الفرق ظاہر ونظیر الشیخ ابن الہمام رحمہ اللہ تعالی، وکذا سکوت شیخہ فی غیر محلہ، فان معاملۃ القبلۃ قطعیۃ یمکن فصلہا بالرجوع الی الحس بخلاف النواقض، فانہ لا سبیل فیہا الی الفصل بعد اختلاف السلف فیہا اختلافا کثیرا، فلو علم المقتدی امامہ علی خطا فی مسالۃ التحری ینبغی ان لا تصح صلاتہ، بخلاف الاجتہادیات التی لا تزال الانظار تدور فیہا الی الابد، ووجہ الفساد فی المسالۃ المذکورۃ لیس ما فہمہ الشیخ من مخالفۃ اعتقادہ لامامہ، بل ہو ترک المتابعۃ لہ، وہی من الواجبات۔ وکان مولانا شیخ الہند رحمہ اللہ تعالی یذہب الی مذہب الجصاص ویستعین بمسالۃ قضاء القاضی فی العقود والفسوخ، فانہ ینفذ ظاہرا او باطنا مع شرائطہا المذکورۃ فی الفقہ۔ (فیض الباری علی صحیح البخاری، باب مسح الید بالتراب، ج: ۱، ص: ۴۵۷)
[میں (علامہ انور شاہ کشمیری) کہتا ہوں: میرے نزدیک جو بات تحقیق سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ (اختلافی مسائل میں دوسرے مسلک کے امام کے پیچھے) اقتدا مطلقاً صحیح ہے، خواہ امام (مقتدی کے مسلک کی) احتیاط کر رہا ہو یا نہ ہو، اور خواہ مقتدی نے امام سے ان امور (نواقضِ وضو وغیرہ) کا مشاہدہ کیا ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ مجھے سلف صالحین میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملا کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوئے ہوں تو انہوں نے امام کے حالات کی تفتیش کی ہو یا اس کے بارے میں سوالات کیے ہوں، بلکہ وہ بلا سوال و جواب اقتدا کرتے تھے اور نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔ فتاویٰ حافظ ابن تیمیہ میں ہے کہ: ہارون الرشید نے ایک بار پچھنے لگوائے (حجامہ کروایا) اور پھر (وضو کیے بغیر) نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے۔ وہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ موجود تھے، تو انہوں نے ہارون الرشید کے پیچھے اقتدا کر لی، باوجود یہ کہ امام ابو یوسف کے نزدیک (خون نکلنے سے) وضو ٹوٹ چکا تھا۔ اگر تم یہ کہو کہ: جب مقتدی کو یقین ہو کہ اس کے نظریے کے مطابق امام باوضو نہیں ہے، تو اقتدا کیسے درست ہو سکتی ہے؟ تو میں کہوں گا: یہ سوال تب پیدا ہوتا جب امام کا فعل یقینی طور پر باطل ہوتا، جبکہ یہ مسئلہ تو "مجتہد فیہ" (اجتہادی) ہے، جس میں یہ امکان ہے کہ حق امام کی جانب ہو اور یہ بھی امکان ہے کہ دوسری جانب ہو۔ اسی لیے آپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ آپ دوسروں کی نماز کے بارے میں یہ حکم لگائیں کہ وہ اللہ کے ہاں باطل ہے، بلکہ (ایسے مسائل میں) کوشش یہی ہونی چاہیے کہ درستی کو تلاش کیا جائے تاکہ اجتہاد کے مطابق ثواب مل سکے۔ میں کہتا ہوں کہ: (قبلہ اور وضو کے مسئلے میں) فرق واضح ہے، اور شیخ ابن الہمام رحمہ اللہ نے جو مثال دی ہے اور ان کے شیخ کا اس پر خاموش رہنا، وہ درست نہیں۔ کیونکہ قبلہ کا معاملہ قطعی (حسی) ہے جسے دیکھ کر حل کیا جا سکتا ہے، برخلاف نواقضِ وضو کے، کیونکہ ان میں سلف کے درمیان بہت زیادہ اختلاف رہا ہے اور اسے حتمی طور پر طے کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ پس اگر مقتدی کو قبلہ کے لیے اندازہ لگانے (تحری) کے مسئلے میں امام کی غلطی کا یقین ہو جائے تو اس کی نماز صحیح نہیں ہونی چاہیے، لیکن ان اجتہادی مسائل کا معاملہ الگ ہے جن میں آراء کا اختلاف ہمیشہ رہے گا۔ مذکورہ مسئلے میں نماز کے فاسد ہونے کی وجہ وہ نہیں جو شیخ (ابن الہمام) نے سمجھی کہ مقتدی کا عقیدہ امام کے خلاف ہے، بلکہ اصل وجہ امام کی "متابعت" (پیروی) کا ترک کرنا ہے، جو کہ واجبات میں سے ہے۔ ہمارے استاد مولانا شیخ الہند رحمہ اللہ (امام ابوبکر) جصاص کے مذہب کی طرف میلان رکھتے تھے اور اس سلسلے میں قاضی کے اس فیصلے سے دلیل لیتے تھے جو وہ نکاح اور طلاق (عقود و فسوخ) کے معاملات میں کرتا ہے، کیونکہ قاضی کا فیصلہ ظاہری اور باطنی طور پر نافذ ہو جاتا ہے (اگر اس کی فقہی شرائط پوری ہوں)۔]

بہرحال یہ قول اگرچہ غیر مشہور ہے اور اکثر فقہائے کرام نے اس کو نہیں لیا ہے، مگر ضرورت کے وقت غیر مشہور قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، اس لئے کہ اتنے بڑے مجمع میں حنفی شخص کیلئے الگ سے وتر پڑھنا مشکل ہے۔ اور شریک نہ ہو کر بیٹھے رہنا یہ بڑے مجمع کی مخالفت اور حرمین کی جماعت سے علیحدگی ہے، اور درمیان صف سے نکلنا جماعت مسلمین میں اختلاف کی ایک ظاہری کی شکل کا پیدا ہونا ہے جو کہ درست نہیں۔ اسی طرح وتر کی جماعت کے دوران صف میں کھڑا ہو کر الگ سے اپنی وتر پڑھنا اور زیادہ برا ہے۔ لہٰذا حرمین شریفین میں جماعت کی فضیلت حاصل کرنے اور مجمع کی مخالفت سے بچنے کے لئے، نیز عدمِ اقتداء کی صورت میں بعض دیگر محظورات سے بچنے کے لئے اس دوسرے قول پر عمل کرتے ہوئے ائمہ حرمین کی اقتداء میں وتر پڑھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، یعنی نمازِ وتر ادا ہو جائے گی، دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ حرمین شریفین کی جماعت کو چھوڑ کر تنہا وتر کی نماز ادا کرنا یا حرم سے باہر وتر کی جماعت کرانا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔

اجتہادی مسائل کی حیثیت

یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے، اور اجتہادی مسائل میں جانبِ مخالف کو باطلِ محض نہیں کہا جا سکتا۔ یعنی اجتہادی مسائل میں کوئی بھی دوسرے کو قطعی طور پر غلط اور غیر صحیح نہیں کہہ سکتا۔ مسائلِ اجتہادیہ کے اختلافات حق و باطل کے سطح کے نہیں ہوتے، بلکہ صواب و احتمالِ خطا کے دائرے کے ہوتے ہیں، یعنی جو موقف ہم نے اختیار کیا ہے وہ صواب ہے، جبکہ جانبِ مخالف کا موقف خطا پر مبنی ہے مگر اُس میں صواب کا احتمال بھی موجود ہے۔ ضرورت کے موقع پر ایسے مسائل میں توسع اختیار کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، لہٰذا اس پہلو کی رو سے بھی ائمہ حرمین کی اقتداء میں فصل کے ساتھ وتر پڑھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، خاص کر جب اس کی بنیاد بھی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی صحیح حدیث ہے اور اس پر بہت سارے اہلِ علم صحابہؓ و تابعینؒ کا عمل رہا ہے۔

نیز مذکورہ مسئلے کے متعلق اس حدیث سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ امام کی نماز اصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ”الامام ضامن“ یعنی جب امام کی نماز اس کے مسلک کے مطابق صحیح ہو جائے تو مقتدی کی نماز بھی درست ہو جائے گی۔ حنفیہ نے اس اصول کو اقتداء کے سارے مسائل میں لیا ہے۔ لہٰذا اس مسئلے میں بھی اس اصول کو لیا جا سکتا ہے۔

فضائل و مسائل

(الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مارچ ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۳

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۹)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۳)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۳)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

وجودِ باری تعالیٰ: سائنسی تناظر، الحادی فلسفہ اور قرآنی تعلیمات
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

قرآن اور سائنسی حقائق
ڈاکٹر عرفان شہزاد

نمازِ تہجد — تشکر و عبودِیت کی مظہر
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

روزہ کی اہمیت اور فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں
مفتی نصیر احمد

زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور حساب کا طریقہ
مولانا محمد الیاس گھمن

حرمین شریفین میں وِتر کی نماز امام کی اقتداء میں پڑھنے کا حکم
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۲)
پروفیسر خورشید احمد

ہمارا تعلیمی نظام اور استعماری دور کے اثرات
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر شرعی ہے
ڈاکٹر محمد امین
ملی مجلس شرعی

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

ذاتی دفاع اور اس کے نتائج
عرفان احمد خان

ٹرمپ کی غزہ مجلسِ امن — کیا عالمی نظام بکھر رہا ہے؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Islam`s Teachings for Peaceful Coexistence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جسٹس خلیل الرحمٰن کا انتقال
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

آہ! سید سلمان گیلانی
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تمام مکاتبِ فکر کے اتحاد اور مشترکہ اعلامیہ پر تہنیت اور تجاویز
اظہر بختیار خلجی
تنظیمِ اسلامی

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

الشریعہ اکادمی اور معارفِ اسلامیہ اکادمی میں دورہ تفسیر القرآن الکریم
مولانا محمد اسامہ قاسم
مولانا حافظ واجد معاویہ
مولانا محمد رجب علی عثمانی

مطبوعات

شماریات

Flag Counter