مساجد کا مؤثر نظام
تحریر: احسان احمد حسینی
25 جنوری اسلام آباد میں منعقدہ ینگ علماء لیڈر شپ پروگرام میں استاذ المکرم مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم کی گفتگو نے اس حقیقت کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں واضح کیا کہ: "مغرب کے ہاں سماج کی بنیاد فرد پر ہے، جبکہ ہمارے ہاں اجتماعیت اور فیملی سسٹم پر ہے "۔ یہی فرق ہماری مسجد کو بھی متعین کرتا ہے۔ مسجد ہمارے معاشرے میں صرف عبادت گاہ نہیں، بلکہ اجتماعی زندگی کا مرکز ہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وہ تاریخی لمحہ، جب آپ ﷺ پر پہلی وحی کے بعد گھبراہٹ طاری ہوئی، اور انہوں نے حضور ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے۔ ان اوصافِ حمیدہ میں حضور ﷺ کو سماجی ورکر ثابت کیا گیا ہے: "رشتہ جوڑنے والے، کمزور کا سہارا بنے والے، مظلوم کی مدد کرنے والے"۔ یعنی دین کا آغاز ہی سماج سے جڑا ہوا ہے، صرف محراب و منبر تک محدود نہیں۔
علامہ صاحب نے نہایت درد کے ساتھ یہ نکتہ اٹھایا کہ مسجد کے تین کام تھے: (1) عبادت گاہ (2) خدمت گاہ یعنی رفاہی اور سماجی خدمت (3) تربیت گاہ یعنی لوگوں کے چھوٹے موٹے جھگڑوں کے فیصلے۔ آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پہلا کام تو ہو رہا ہے، لیکن دوسرے اور تیسرے کام مسجد سے تقریباً نکل چکے ہیں، حالانکہ حضور ﷺ کے زمانے میں یہی مسجد ان سب کاموں کا مرکز تھی۔
اور پھر علامہ زاہد الراشدی صاحب نے ایک نہایت دور رس بات فرمائی: “اگر مسجد میں ایک اور کام بھی دوبارہ زندہ ہو جائے تو ہم نئی نسل میں دین کو باقی رکھ سکتے ہیں”۔ اور وہ ہے: پرائمری تک کی تعلیم مسجد میں دینا۔ یہ کوئی نئی تجویز نہیں بلکہ مسجد کے اصل کردار کی بحالی ہے۔ جب بچہ مسجد میں سیکھے گا، مسجد سے مانوس ہو گا، تو دین اس کے لیے اجنبی نہیں رہے گا بلکہ اس کی فطرت کا حصہ بن جائے گا۔
یہی ہے موثر نظام مساجد: عبادت بھی، خدمت بھی، عدل بھی، اور تعلیم بھی۔ اگر مسجد یہ چاروں کردار ادا کرنے لگے، تو مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں رہے گی بلکہ امت کی تربیت گاہ بن جائے گی۔
علامہ زاہد الراشدی صاحب کی یہ گفتگو دراصل علماء، خطباء اور منتظمین مساجد کے لیے ایک خاموش سوال ہے: کیا ہم مسجد کو پھر سے رسول اللہ ﷺ کے زمانے والی مسجد بنانے کے لیے تیار ہیں؟
استاذ مکرم کی اسی فکر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم نے موثر نظام مساجد کے تحت ایک ماڈل مسجد بنانے کا آغاز کیا ہے جس میں انسانوں کی بہتری کے لیے 30 شعبہ جات قائم کرنے کا ہدف ہے۔ فی الوقت 3 شعبہ جات کا آغاز کیا گیا ہے۔ آپ اس ماڈل کا مطالعہ کرنا چاہیں تو ہمارے شعبہ جات کی تفصیلی گائیڈ کے حصول کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ — 03274036003
پنجاب یونیورسٹی لاہور میں حلال و حرام آگہی کے حوالے سے تقریب
منجانب: حافظ شاہد الرحمان میر — شریک سفر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں حلال و حرام آگہی کے حوالے سے 4 فروری 2026ء کو منعقدہ ایک تقریب سے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی کے خطاب کا خلاصہ۔
اسلامی احکام و قوانین میں عقائد و عبادات اور فرائض و واجبات کے ساتھ حلال و حرام کے مسائل کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے اور قرآن و سنت میں انہیں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس سے آگاہ ہونا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ ان پر صحیح طریقے سے عمل کر کے نافرمانی اور گناہ سے بچ سکے، مگر ہمارے ہاں عام طور پر اس کا معمول و ماحول نہیں ہے اور ہم سب کو بالخصوص دینی حلقوں اور علماء کرام کو اس کی طرف سنجیدہ توجہ دینی چاہئے۔ حلال آگاہی کونسل پاکستان اس عظیم مقصد کے لئے محترم محمد آفاق شمسی کی سربراہی میں ملک بھر میں مصروف عمل ہے اور مشاورت کے دائرے میں مجھے بھی ان کے کام میں شرکت کی سعادت حاصل ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں اس کے بارے میں مناسب ماحول اور کام دیکھ کر خوشی ہوئی ہے اور اسی خوشی کے اظہار کے لئے آج کی اس نشست میں حاضر ہوا ہوں۔ ملک بھر کے دینی مدارس و مراکز سے گذارش ہے کہ اس اہم اور ضروری کام میں دلچسپی لیں اور شرکت تعاون کے ساتھ اس کے دائرے کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کی کوشش کریں اللہ پاک ہم سب کو اس کار خیر میں اپنا اپنا کردار صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
مرکز العرفان باہتر موڑ ٹیکسلا میں ایک پروقار علمی تقریب
رپورٹ: ملک محمد شاہد آف حسن ابدال — 10 فروری 2026ء
گزشتہ روز ملک کے معروف مذہبی سکالر اور شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللہ کی مرکز العرفان، خانقاہ نقشبندیہ باہتر موڑ میں تشریف آوری نہایت بابرکت اور یادگار رہی۔ اس بابرکت موقع پر پیرِ طریقت حضرت مولانا پیر احسان الحق الحسینی دامت برکاتہم کے بڑے صاحبزادے، مولانا محمد فضیل الحسینی کے درسِ نظامی کی تکمیل کے سلسلے میں ایک پُروقار، علمی اور روح پرور تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس عظیم الشان علمی و دینی مجلس میں علاقہ بھر سے اکابر علماء کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جمعیت علماء اسلام، بریلوی مکتبہ فکر، اہلِ حدیث اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے جید علماء اور رہنما بھی اس اجتماع میں شریک ہوئے، جس کی بدولت یہ مجلس بین المسالک ہم آہنگی، رواداری اور اتحادِ امت کی ایک خوبصورت مثال بن گئی۔ موجودہ حالات میں جب نفرت اور انتشار کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس طرح کی مجالس بلاشبہ اُمتِ مسلمہ کے لیے امید اور یکجہتی کا پیغام ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللہ نے علماء کے باہمی اتحاد، علمی تسلسل اور دینی ذمہ داریوں پر نہایت بصیرت افروز خیالات کا اظہار فرمایا۔ ان سے قبل ملک کے معروف عالم دین مولانا ابو محمد صاحب نے بھی اپنے خطاب میں علمِ دین کی اہمیت اور اسلاف کی علمی روایات کو اجاگر کیا۔ آخر میں پیرِ طریقت حضرت مولانا پیر احسان الحق الحسینی دامت برکاتہم نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا دلی شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کے لیے بہترین ناشتے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اسی بابرکت موقع پر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ہر ملاقات فکری، نظریاتی اور تاریخی اعتبار سے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ ان کی مجالس میں اکابر علماء کرام کا تذکرہ، دینی تحریکوں کی تاریخ اور ملت کے نشیب و فراز لازماً زیرِ بحث آتے ہیں۔ چونکہ وہ خود اکابرینِ امت کے ساتھ مختلف دینی، اصلاحی اور فکری تحریکوں میں عملی جدوجہد کا حصہ رہے ہیں، اس لیے ان کی گفتگو علم، تجربے اور بصیرت کا ایک قیمتی خزانہ ہوتی ہے۔
اس نشست میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ہم سبق حضرت مولانا غلام نبی صاحب بھی موجود تھے، جو پیرِ طریقت حضرت مولانا پیر احسان الحق الحسینی دامت برکاتہم کے چچا جان ہیں۔ اسی طرح ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والی بزرگ اور اکابرین کے رفیقِ کار شخصیت محترم صلاح الدین صاحب کی موجودگی نے اس مجلس کی وقار اور افادیت کو مزید بڑھا دیا۔ مزید برآں، واہ کینٹ سے تعلق رکھنے والے نوجوان عالم دین مولانا شعیب نسیم صاحب بھی اس نشست میں شریک تھے، جنہوں نے نوجوان نسل کی دینی و فکری تربیت کے لیے ’’شیخ الہند اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک قابلِ قدر علمی ادارہ قائم کر رکھا ہے، جہاں کالج اور یونیورسٹی کے تقریباً چالیس سے پچاس طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ایسے ادارے اور ایسی کاوشیں یقیناً مستقبل کے لیے نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ ان اکابر اور اہلِ علم حضرات کے ساتھ بیٹھ کر مجھ جیسے کم علم کو بھی بہت کچھ سیکھنے، سمجھنے اور اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کا موقع ملا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام اکابر علماء کرام کا سایہ ہمارے سروں پر دراز فرمائے اور ہمیں ان کے علم، اخلاص اور فیوض و برکات سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
رمضان المبارک میں امن و امان
رمضان المبارک کے دوران مساجد، مدارس اور مذہبی اجتماعات کی حفاظت کے لیے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا جائے: مولانا زاہدالراشدی
مساجد کے منتظمین کو سیکیورٹی کے لیے اسلحہ لائسنس کے اجراء میں سہولت فراہم کی جائے: مولانا پیر ریاض احمد چشتی، مولانا جواد محمود قاسمی
گوجرانوالہ (سٹاف رپورٹر — 12 فروری 2026ء) مولانا امجد محمود معاویہ سیکرٹری اطلاعات کے مطابق جمعیت اہلسنت والجماعت حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کا اہم مشاورتی اجلاس مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مجلس عاملہ کے اراکین اور برادر جماعتوں کے ذمہ داران احباب نے شرکت کی، اجلاس میں ترلائی اسلام آباد کے تخریبی دہشت گردانہ کاروائی پہ بھرپور مذمت کی گئی، ملک میں امن و امان کو برقرار رکھنے کی ضرورت پہ زور دیا گیا، رمضان المبارک میں مساجد ومدارس کی سیکیورٹی اور نمازیوں کی حفاظت کیلئے سلامتی کے اداروں کو بھر پور لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیئے تاکہ کسی بھی شرپسند عناصر کو اپنے ناپاک عزائم کو مکمل کرنے کی جرأت نہ ہو، اجلاس میں سندھ اسمبلی میں شراب کی اجازت سے متعلق امور پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی گئی، رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر مساجد و مدارس کی سیکورٹی پر خصوصی توجہ دیں، اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس و دیگر ادارے سے مطالبہ کیا گیا کہ رمضان المبارک کے دوران مساجد، مدارس اور مذہبی اجتماعات کی حفاظت کے لیے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا جائے اور مساجد کے منتظمین کو سیکیورٹی کے لیے اسلحہ لائسنس کے اجراء میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے طور پر بھی حفاظتی انتظامات کر سکیں اور نمازیوں کو پرامن ماحول میسر آ سکے۔ اجلاس میں جمعیت اہلِسنت والجماعت حنفی دیوبندی کی مجلس عاملہ اور مجلس شوری کے اراکین نے شرکت کی، جن میں مولانا گلزار احمد آزاد، مولانا پیر ریاض احمد چشتی، مولانا عبد الواحد رسولنگری، مولانا جواد محمود قاسمی، قاضی مراد اللہ، مولانا مفتی محمد اسلم طارق، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا قاری ریاض احمد، مولانا عبید اللہ حیدری، مولانا مجاہد حنیف، مولانا نعمان بابر، مولانا معظم، مولانا طارق بلالی، مولانا ظہور احمد فاروقی، سید حفیظ الرحمٰن شاہ، مفتی محمد شاکر، قاری محمد طاہر، مولانا محمد یحیٰی، قاری محمد لئیق عاصم، صحافی حافظ عبد الجبار، عبد القادر عثمان، حافظ شاہد میر، مولانا فضل اللہ راشدی اور دیگر سرکردہ علماء و ذمہ داران شامل تھے۔ اجلاس کے اختتام پر ملک کی سلامتی، اتحادِ امت اور امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جمعیت اہلسنت والجماعت حنفی دیوبندی دینی اقدار کے تحفظ اور قومی یکجہتی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی،
کیپشن فوٹو: گوجرانوالہ:جمعیت اہلسنت والجماعت حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کا اہم مشاورتی اجلاس سے مولانا زاہدالراشدی، مولانا گلزار احمد آزاد، مولانا پیر ریاض احمد چشتی ، مولانا عبدالواحد رسولنگری، مولانا جواد محمود قاسمی، قاضی مراد اللہ، مولانا مفتی محمد اسلم طارق، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا قاری ریاض احمد، مولانا عبید اللہ حیدری ،مولانا مجاہد حنیف،مولانا نعمان بابر، مولانا معظم، مولانا طارق بلالی ،مولانا ظہور احمد فاروقی ،سیدحفیظ الرحمن شاہ،مفتی محمد شاکر،قاری محمد طاہر،مولانا محمد یحیی ،قاری محمد لئیق عاصم ،صحافی حافظ عبدالجبار،عبدالقادر عثمان حافظ شاہد میر،مولانا فضل اللہ راشدی اور دیگرسرکردہ علما ء و ذمہ داران نے خطاب کیا۔
حماس كو غير مسلح کرنے کی بات مظلوم قوموں سے آزادی کی جنگ کا حق چھیننے کے مترادف ہے
جاری کردہ: حافظ نصر الدین خان عمر
میڈیا سیل پاکستان شریعت کونسل (ہفتہ 21 فروری 2026ء) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات مظلوم قوموں سے آزادی کی جنگ کا حق چھیننے کے مترادف ہے اور اس سے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ مکمل ہو گا جو اقوام متحدہ کے فلسطین کے بارے میں دو ریاستی حل کی بھی نفی ہے۔ تاریخ کی اس سب سے بڑی نا انصافی میں مسلم حکومتوں کو فلسطینیوں کے خلاف فریق نہیں بننا چاہیے۔
آج ایک مجلس میں انہوں نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند پر فرنگی استعمار کے قبضہ کے بعد آزادی کی جو مسلح جنگیں لڑی گئیں ان میں نواب سراج الدولہؒ، سلطان ٹیپو شہیدؒ، شہدائے بالاکوٹؒ، بنگال کے حاجی شریعت اللہؒ، تیتو میر شہیدؒ، سندھ کے پیر پگاڑا شہیدؒ، پنجاب کے سردار احمد خان کھرلؒ، سرحد کے حاجی صاحب ترنگ زئیؒ، فقیر ایپی شہیدؒ اور 1857ء کی جنگ آزادی ہماری قومی اور ملی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اور انہی مجاہدوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمرہ ہے کہ فرنگی استعمار کو جنوبی ایشیا سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور ہونا پڑا اور پاکستان کے نام سے اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حماس بھی اسی نہج پر چل رہی ہے اور اسرائیلی تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہمیں اس عظیم جدوجہد کی نفی کرنے اور حماس کو غیر مسلح کر کے اسرائیلی قبضہ کو مزید مستحکم کرنے کی کسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جائز اور قانونی حکومتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا بلاشبہ دہشت گردی ہے مگر ناجائز اور قابض حکومتوں سے جنگ لڑنا مظلوم قوموں کا حق ہے جسے دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور سراج الدولہؒ، سلطان ٹیپو شہیدؒ، شہدائے بالاکوٹؒ، پیر پگاڑا شہیدؒ، رائے احمد خان کھرلؒ، اور فقیر ایپی شہیدؒ کے نام لیواؤں کو اس کا حصہ بن کر خود اپنے ان محسنین کی قربانیوں کا مذاق اڑانے سے گریز کرنا چاہیے۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ امریکی صدر ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی تبدیلیاں لانے کا پروگرام رکھتے ہیں جس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔
پاک افغان جنگ اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
منجانب: حافظ شاہد الرحمٰن میر — 27 فروری 2026ء
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے آج مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کے دوران افغانستان کے ساتھ جنگ کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں کا تحفظ اور بیرونی مداخلت کی روک تھام مسلح افواج کی ذمہ داری ہے اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ بیرونی مداخلت بھارت کی طرف سے ہو، افغانستان کی طرف سے ہو، یا ایران کی طرف سے ہو، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ملکی سرحدات کے تحفظ کے لیے اپنی افواج کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا حکم ہے کہ دو مسلمان گروہوں میں جنگ ہو رہی ہو تو باقی مسلمانوں کو خاموش تماشائی نہیں بن جانا چاہیے بلکہ درمیان میں آ کر جنگ بند کرانی چاہیے اور دونوں میں صلح کرانی چاہیے۔ اس لیے مسلم حکمرانوں اور خاص طور پر او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھ کر یہ جنگ رکوائیں اور دونوں کی باہمی شکایات اور تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
جبکہ اس سلسلہ میں تیسری بات وہ اپنے حکمرانوں سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کا حصہ نہ بنیں اور ملک و قوم کو اس میں الجھانے کی بجائے اپنا ایجنڈا قومی بنیادوں پر خود طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب تک قومی خودمختاری کے حوالہ سے اپنے فیصلے خود نہیں کریں گے اور عالمی سازشوں سے ملک و قوم کو بچانے کا راستہ اختیار نہیں کریں گے، اس قسم کے بحرانوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔
