کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)

دیسی الحاد: اسباب، محرکات اور اصلاح کی راہیں

الحاد کے فروغ کو صرف مغربی فکری یلغار یا فرد کی ذاتی سوچ کا نتیجہ قرار دینا مسئلے کی گہرائی کو نظر انداز کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا بالخصوص پاکستان میں الحاد کا رجحان وہاں کے مخصوص سیاسی، سماجی، اور ریاستی حکمتِ عملی کے زمینی حقائق سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ یہ تحریر انہی عوامل کا تجزیہ کرتی ہے کہ کس طرح ریاست، مذہبی طبقات اور سیاسی نظام کی کمزوریوں نے نوجوانوں کو خدا اور مذہب کی تعلیمات سے دور کیا۔

1۔ دیسی الحاد کی اقسام اور اس کے بنیادی محرکات

دیسی ملحدین کے الحاد کی وجوہات کو علمی، نفسانی اور نفسیاتی بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس کی روشنی میں مسئلے کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ یہ تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ زیادہ تر "دیسی الحاد" فکری یا عقلی (Intellectual) نہیں، بلکہ نفسیاتی، اخلاقی، اور ردِعمل پر مبنی ہے۔

(1) علمی الحاد: نایاب اور فلسفیانہ بنیاد

علمی الحاد وہ نادر قسم ہے جس میں کسی شخص کو خالصتاً علمی بنیادوں پر وجودِ خدا کے بارے میں شکوک و شبہات لاحق ہوں۔ یہ رجحان دنیا میں فلاسفہ اور نظریاتی سائنس دانوں کی ایک قلیل جماعت تک محدود ہے۔

علمی الحاد کا سب سے بڑا سبب فلسفہ ہے، خواہ وہ فلسفہ برائے فلسفہ ہو یا فلاسفی آف سائنس۔ چونکہ قرآن مجید الحاد کو علم کے مقابلے میں ظن و تخمین سے زیادہ مقام نہیں دیتا (جیسا کہ سورۃ الجاثیہ کی آیت 24 میں بیان ہوا ہے: "وہ صرف ظن و تخمین سے کام لیتے ہیں")، اس لیے یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ فلسفہ اور منطق ہمیشہ سے مذہب کے مقابل ایک علمی چیلنج رہے ہیں۔ چونکہ یہ الحاد اصلاً ہماری تہذیب کا مسئلہ نہیں بلکہ مغربی تہذیب سے درآمد شدہ ہے، لہٰذا یہ ایک مستقل کام کی بجائے ایک عارضی اور وقتی ضرورت ہے جس کا رد کیا جائے۔ دیسی ملحدین پر مغرب کا فکری ٹھپہ لگا ہوتا ہے، خواہ یہ اثر فلاسفی آف سائنس، انگریزی ادب، ہالی وڈ فلموں، یا درسی کتابوں کے ذریعے منتقل ہوا ہو۔

(2) نفسانی (Sensual) الحاد: خواہش پرستی اور ضمیر کی ملامت سے فرار

نفسانی الحاد ہمارے معاشروں میں بڑے پیمانے پر موجود ہے اور اس کا تعلق علمی شک و شبہات سے نہیں، بلکہ خواہشِ نفس کی تکمیل سے ہے۔ خواہش پرست انسان جب یہ دیکھتا ہے کہ خدا، مذہب اور آخرت کے تصورات اس کی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں رکاوٹ بنتے ہیں، اور اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا رہتا ہے، تو وہ اس ملامت سے بچنے کے لیے خدا کا زبانی انکار کر دیتا ہے۔ وہ دراصل اپنی خواہش کو علم سمجھنے کا دھوکہ دے رہا ہوتا ہے تاکہ ضمیر کی خلش کو ختم کیا جا سکے۔ دیسی ملحدین کی ایک بڑی تعداد اسی قسم کے لوگوں پر مشتمل ہے۔

(3) نفسیاتی (Psychological) الحاد: ردعمل، صدمے اور غلط رویے

نفسیاتی الحاد وہ ہے جس کا سبب انسان کے نفسیاتی مسائل، ذہنی تناؤ، یا شدید ردعمل ہوتے ہیں۔

مذہبی لوگوں کا غلط رویہ

الحاد کی طرف مائل ہونے کا ایک بڑا سبب مذہبی لوگوں کے غلط رویے، تنگ نظری، یا عدم رواداری کا شدید ردعمل ہے۔ جب مذہبی حلیہ اختیار کرنے والے افراد ناروا حرکت کا ارتکاب کرتے ہیں تو نوجوان اسے مذہب کی خرابی سمجھ کر ردعمل میں مذہب سے انحراف اختیار کر لیتے ہیں۔

جسمانی یا جنسی تشدد

یہ ایک اہم اور حساس نکتہ ہے کہ مدرسوں یا مذہبی حلقوں میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہونے والے افراد بھی مذہبی بیزاری یا الحاد کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ مولانا اشرف علی تھانویؒ کا قول ہے کہ اگر داڑھی والوں نے چوریاں شروع کر دی ہیں تو یوں کہو کہ "چوروں نے داڑھی رکھ لی ہے"، اس لیے ان بدفطرت لوگوں کی نشاندہی مذہب کی خیرخواہی ہے۔

آزمائش اور شکوہ

کچھ لوگ کسی آزمائش کے دوران اللہ سے دعا قبول نہ ہونے کا شکوہ کرتے کرتے بالآخر خدا کا ہی انکار کر بیٹھتے ہیں۔ درحقیقت، وہ اس "خدا" کا انکار کر رہے ہوتے ہیں جسے انہوں نے خود اپنے ذہن کے تخیل سے پیدا کیا ہوتا ہے، جو ان کی اپنی شخصیت کا عکس ہوتا ہے، نہ کہ اس خدا کا جو کتاب و سنت میں بیان ہوا ہے۔ وہ خدا کو منصف اور عادل نہ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایلف شفق نے بھی اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

(4) تاریخی عبرت: علمی آزادی پر تشدد کا جبر

تاریخ اسلامی ایسے تلخ واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں علمی اختلافات کو ذاتی انا، تعصب اور حکومتی طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ واقعات بھی آج کے نوجوانوں کے سامنے ایک تاریک تصویر پیش کرتے ہیں کہ مذہبی حلقوں میں فکری اختلاف کا کیا حشر ہوتا رہا ہے۔

امام مالک بن انس کو ایک فتوے کی مخالفت پر عباسی خلیفہ کے دور میں کوڑے مارے گئے۔ امام احمد بن حنبل کو "خلقِ قرآن" کے عقیدے کو تسلیم نہ کرنے پر کئی سال تک قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ منصور حلاج کو "انا الحق" کہنے پر بغداد میں سولی دی گئی، جو فکری اور روحانی خیالات کو درست طور پر نہ سمجھنے کا سنگین نتیجہ تھا۔ امام ابن تیمیہ کو ان کے اجتہاد اور فتاویٰ میں اختلاف کرنے کی پاداش میں کئی بار قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ شہاب الدین سہروردی کو ان کے اشراقی فلسفے کی وجہ سے الحاد کا الزام لگا کر قتل کر دیا گیا۔

بدقسمتی سے مسلمانوں کی تاریخ عبقری شخصیات کو ملنے والی کربناک سزاؤں اور طعن و تشنیع بھری پڑی ہے: ابن جریر طبری کا تہ خانے سے نہ نکل پانا، حتیٰ کہ وہیں دفن ہونا تاکہ کوئی میت کو نکال کر بے حرمتی نہ کر بیٹھے۔ امام بخاری کا دربدر پھر کر تنگ آنا اور موت کی آرزو کرنا۔ بنو امیہ، بنو مروان، ابن زیاد و حجاج کا علماء اور ائمہ اہلِ بیت پر جبر و تشدد۔ ابن رشد کی کتابیں جلانا۔ امام ابوحنیفہ اور امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کو قید و بند کی صعوبتیں دینا۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی اور اُن کی فکر پر دیوبند کی بنیاد اٹھانے والے اہلِ علم کی تنقیص و تکفیر۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جب علمی بحثوں میں برداشت اور رواداری ختم ہو جائے تو جبر ایک ایسی فضا پیدا ہوتی ہے جہاں نوجوان کوئی سوال یا خیال پیش کرنے سے ڈرتے ہیں اور بالآخر دین سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔

2۔ ریاستی و سماجی محرکات اور الحاد کا فروغ

مذہبی، نفسانی اور نفسیاتی عوامل کے علاوہ پاکستان کے مخصوص سیاسی و سماجی ڈھانچے نے الحاد کے فروغ کے لیے زمین ہموار کی ہے۔

(1) سیاسی و ریاستی ناکامیاں

مسلم دنیا میں طویل عرصے سے جاری استبدادی حکمرانی اور سیاسی و سماجی انصاف کی عدم فراہمی نے شہریوں میں مذہب پر مبنی ریاست کے تصور سے مایوسی پیدا کی ہے۔ حکمرانوں کی ناکامیوں اور کرپشن کا بوجھ بالواسطہ طور پر مذہب پر پڑتا ہے، جس سے نوجوان طبقہ مذہب کی بنیاد پر قائم معاشرتی نظام کو ان ناکامیوں کا ذمہ دار سمجھنے لگتا ہے۔

(2) بنیادی دینی معلومات کا فقدان

جدید سائنسی اور کاسمولوجی کے سوالات کا روایتی دینی تعلیمات میں اطمینان بخش جواب نہ ملنا۔ جب ایک مخلص مؤمن طالب علم — جیسے "کوسموس" ٹی وی سیریز دیکھنے والا انجینئرنگ کا طالب علم — کو مذہب اور سائنس میں مطابقت پیدا کرنے کی خواہش ہوتی ہے لیکن اس کی اہلیت نہیں ہوتی، تو وہ خدا کے وجود پر شک نہیں کرتا بلکہ مذہب اور حاضر علم میں مطابقت نہ ہونے کی تشویش کا شکار ہو جاتا ہے۔

(3) سائنس اور مذہب میں فطری ربط کا فقدان

الحاد کے فروغ کا ایک اہم محرک جدید سائنس اور مذہبی تعلیمات کے درمیان فکری ربط قائم کرنے میں ریاستی اداروں کی ناکامی ہے۔

(4) نصاب میں ناکافی اور سطحی دینی تعلیمات

ریاستی تعلیمی حکمتِ عملی کا نقص یہ ہے کہ ایک طرف یونیورسل سائنسی حقائق (جیسے نظریہ ارتقاء) کو جدید تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے، اور دوسری طرف دینی تعلیمات انتہائی ناکافی اور سطحی ہوتی ہیں، مزید یہ کہ اُن کو محض رٹانے اور تقدیس کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس دوہرے نظام سے نوجوان ذہن میں ایک شدید تصادم پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ ریاست جدید سائنس اور اسلامی فلسفے کے درمیان کوئی فکری پل قائم نہیں کر سکی، لہٰذا نوجوانوں کو مذہب کی وہ عقلی اساس فراہم نہیں ہوتی جو انہیں جدید سائنسی چیلنجوں کا سامنا کرنے میں مدد دے سکے۔

(5) عصری اداروں اور دینی مدارس کا فکری خلا

پاکستان میں جدید تعلیمی ادارے اور دینی مدارس دو الگ دنیاؤں کی طرح ہیں۔ یہ فکری خلا ملحدین کے لیے ایک بہترین سازگار میدان فراہم کرتا ہے، جو سائنسی حقائق کی غلط تعبیر کر کے انہیں مذہب کے خلاف ایک آخری دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ نظریہ ارتقاء جیسے موضوعات کو نہ تو ٹھیک سے سمجھایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کا مدلل اسلامی جواب دیا جاتا ہے، جس سے مذہب بیزاری کا رجحان بڑھتا ہے۔

(6) فرقہ واریت کا رجحان اور مذہبی طبقات کی حکمتِ عملی

فرقہ واریت کا رجحان اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے اختلافات مذہبی طبقات کی حکمتِ عملی کی ایک سنگین ناکامی ہے۔ جب مذہبی پلیٹ فارم سے ایک فرقے کی دوسرے کے خلاف نفرت انگیز تقریریں یا فتوے جاری ہوتے ہیں، تو یہ مذہب کو محبت اور اتحاد کے بجائے تفرقہ اور تشدد کا ذریعہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں یہ فرقہ وارانہ بیانیہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ ایک نوجوان جو دین میں اتحاد اور رواداری کی تلاش میں ہے، جب اس نفرت انگیز مواد کا سامنا کرتا ہے، تو وہ گہری مایوسی کا شکار ہو کر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ مذہب صرف تفرقہ، نفرت اور گروہ بندی کا نام ہے۔

(7) علمی بحث کا مسخ ہونا

علمی اور صحت مندانہ بحث کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ حقیقت تک پہنچا جائے۔ لیکن جب یہ بحث ذاتی لڑائی میں بدل جاتی ہے، تو زور مخالف کو نیچا دکھانے اور توہین کرنے پر ہوتا ہے، تاکہ لوگ اس کی بات سننا چھوڑ دیں۔ دلیل کے بجائے چٹکلے، طنز، اور اشتعال انگیز باتیں استعمال کرنے کا مقصد عوامی حمایت حاصل کرنا اور اپنے مخالف کے نظریات کو مذاق کا نشانہ بنا کر ایک گروہ بندی کرنا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد علم کا فروغ نہیں بلکہ اپنی قیادت کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔

(8) نوجوان نسل کے سوالات اور مذہبی رہنماؤں کی کج بحثی

نوجوان نسل جو سوالات اور تجسس سے بھرپور ہوتی ہے، جب مذہبی رہنماؤں کو اس طرح کی اخلاقی طور پر گری ہوئی بحثوں میں الجھا ہوا دیکھتی ہے، تو ان کی نظر میں مذہب کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر دین کے داعی ہی اخلاقیات سے گرے ہوئے ہیں، تو اس دین کا کیا فائدہ؟ ملحدین اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر مذہب کے نام پر لڑنے والے افراد ہی اخلاق سے عاری ہیں، تو مذہب کیسے امن کا درس دے سکتا ہے؟ وہ ان جھگڑوں اور گالی گلوچ کو مذہب کا اصل چہرہ قرار دیتے ہیں، جو لوگوں کو جذباتی طور پر دین سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

3۔ مسلم معاشروں میں الحاد کے رد اور علاج کے لیے جامع اصلاحات

مسلم معاشروں میں الحاد کے فروغ کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع اور اندرونی اصلاحات درکار ہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ:

(1) علم و اخلاق اور آدابِ اختلاف کا فروغ

  1. تعلیمی نظام میں جدید سائنس اور اسلامی فلسفے کے درمیان ایک فکری ربط قائم کیا جائے، تاکہ نوجوانوں کو سائنسی چیلنجوں کا مدلل اسلامی جواب میسر آ سکے۔
  2. مذہبی رہنما فرقہ پرستی کی بنیاد پر اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ اقدار اور مذہبی ہم آہنگی پر زور دیں۔
  3. مذہبی بحثوں کو علمی، مدلل اور اخلاقی بنیادوں پر واپس لایا جائے، جہاں مخالف کی بات کا احترام کیا جائے اور ذاتی حملوں سے گریز کیا جائے۔

جب علم و اخلاق کو ترجیح دی جائے گی اور ادب الخلاف و الاختلاف کو یقینی بنایا جائے گا تو نوجوان نسل دین کو ایک مثبت اور روشن پیغام کے طور پر دیکھے گی، جو الحاد اور مذہب بیزاری کا خودبخود خاتمہ کر دے گا۔

الحاد کے رد اور اس کے علاج میں فرق ہے۔ الحاد کا رد صرف ملحدوں کا شر کم کرتا ہے، جبکہ الحاد کا علاج ملحدوں کو دین کی طرف راغب کرنا ہے۔ چونکہ خدا پر ایمان انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر موجود ہے، لہٰذا اس میں شک پیدا کرنا آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے مسلسل شیطانی اور ملحدانہ محنت درکار ہے۔

(2) فکری پرہیزگاری اور حقیقی دنیا میں واپسی

زیادہ تر الحاد علمی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسانی ہوتا ہے۔ ملحدین سادہ لوح مسلمانوں کو مسلسل مطالعے یا ٹی وی سیریز — جیسے کارل ساگان کی "کوسموس" — کے ذریعے ایک خیالاتی اور تصوراتی دنیا (Imaginary World) میں داخل کر دیتے ہیں، جو بظاہر خوبصورت مگر جھوٹی ہوتی ہے۔ الحاد کا مسلسل مطالعہ یا ویڈیو سیریز دیکھنا ترک کر دینے اور دہریت کا مطالعہ بند کر دینے سے چند دنوں میں ہی اس "جھوٹی دنیا" کا سحر ٹوٹ جاتا ہے جو صرف خیالات میں موجود ہوتی ہے۔

(3) قلبی و اخلاقی طریقہ کار (طریقۂ انبیاء)

الحاد کا اصل علاج قلبی اور اخلاقی ہے، جو نبیوں اور رسولوں کا طریق کار تھا۔ دل پہلے اپنے رب کی طرف جھکتا ہے، ذہن بعد میں اس سے اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اگر محض عقل و منطق سے خدا سمجھ میں آتا تو فلسفہ کی تاریخ میں دو چار سے زیادہ فلسفی مسلمان ہوتے۔ اس لیے الحاد کا مؤثر ترین علاج خدا کا کلام ہے۔ کسی تشویش کی صورت میں مکی سورتوں کا لفظی ترجمہ پڑھنا اور پھر اس کی خوبصورت آواز میں تلاوت سننا ایک مؤثر، وجودی اور شعوری دلیل بنتا ہے۔ سورۃ المائدہ کی آیت 83 میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے: "جب وہ اسے سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا تو تم دیکھتے ہو کہ حق کو پہچاننے کی وجہ سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے چھلک پڑتی ہیں"۔

جو لوگ مذہبی عناصر کے غلط رویوں کے ردعمل میں ملحد بنے ہیں، ان کا علاج صرف اعلیٰ اخلاق، دوستی، دلاسہ اور ہمدردی سے ممکن ہے۔ خانقاہی نظام کا ادارہ اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ کوئی خانقاہ تصوف کی اصل بنیادوں پر قائم ہوں تو متاثرہ انسانیت کی خدمت کا سہرا اُس کے سر ہوگا۔

خواجہ أبو الحسن خرقانیؒ نے اپنی خانقاہ کے لیے یہ أصول مقرر فرمایا تھا: ہر کہ در این سرا درآید، نانش دہید و از ایمانش مپرسید (جو بھی اس خانقاہ میں داخل ہو، اسے روٹی دو اور اس کا مذہب مت پوچھو)۔ چہ آنکس کہ بہ درگاہ باری تعالیٰ بہ جان ارزد، البتہ بر خوان بوالحسن بہ نان ارزد (جو شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی جان کے سبب قابلِ عزت ہے، تو یقیناً وہ ابوالحسن کے دسترخوان پر روٹی کے سبب بھی قابلِ عزت ہے)۔

آزمائش کے سبب الحاد کی طرف مائل ہونے والوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ خدا کے انکار سے آزمائش ختم نہیں ہوگی، اور ضرورت پڑنے پر ان کی دنیاوی مدد بھی کرنی چاہیے تاکہ خدا سے ان کا شکوہ شکایت جاتی رہے۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ الحاد کے فروغ کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف فکری دلائل کافی نہیں، بلکہ مذہبی طبقے کو شفقت و محبت سے بھرپور رویہ اپنانا ہوگا، مالی سماجی انصاف فراہم کرنا ہوگا، اور فرد کو عقلی دلائل کے بجائے قلبی، فطری اور رفاہی طریقوں سے اللہ کے قریب لانا ہوگا۔

اسلام اور عصر حاضر

اقساط

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات