کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۲)

علمِ کلام کی قدیم روایت مسلمانوں کے پاس ایک ایسا بیش بہا سرمایہ ہے، جو حرزِ ایمان ہونے کی بنا پر حرزِ جان سے زیادہ اہم ہے۔ قدیم و جدید فلسفے کے تباہ کن نظریات کی زد میں زیادہ تر وہ لوگ آئے ہیں، جن کا کلامی روایت میں رسوخ نہیں تھا۔ اس علم کا جنم دوسری صدی ہجری کے بعد اُس وقت ہوا جب یونانی فلسفے کے اثرات نے مسلم معاشروں میں فکری چیلنجز پیدا کرنا شروع کر دیے تھے۔ قدیم متکلمین نے ان چیلنجز کا جواب دینے کے لیے فلسفے کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا، جس میں ارسطو کے فلسفے کا ایک بڑا کردار تھا۔ یہ حقیقت بھی مسلَّم ہے کہ مسلمانوں میں سے بعض چوٹی کے اہلِ علم یونانی فلسفہ کی رو میں بہہ گئے اور فلسفہ کی تو خاصیت بھی یہ ہے کہ پہلے سے قائم فکر کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں تو سب کچھ بہا کر لے جاتی ہے۔ امام فارابی، ابن سینا [1] اور ابن رشد تاریخِ اسلامی کی غیر معمولی شخصیات گزری ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ارسطو کے فلسفے سے اپنا دامن نہ بچا سکا۔

اسلامی عقائد و نظریات کی حفاظتِ غیبی ہر دور کے متکلمین کے حصے میں آئی ہے۔ امام غزالی سے کم و بیش دو سو سال قبل امام ابوالحسن اشعری اور امام أبو منصور ماتریدی [2] اپنے عہد کے وہ کلامی مسائل جو معتزلہ سے متعلق تھے، مکمل کر چکے تھے۔ ابن رشد کے عہد کی باقی ماندہ ارسطوائی نظریات کا صفایا امام غزالی [3] نے تہافۃ الفلاسفہ میں ایسے کیا کہ ابن رُشد تہافۃ التہافۃ جیسی گرانقدر کاوشوں سے بھی دوبارہ اُٹھنے کے قابل نہیں ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ غزالی کے اُٹھائے گئے سوالات کو بلاواسطہ ایڈریس کرنے کا کسی کو حوصلہ نہیں ہوا۔ الغرض یہ الزام دینا قطعی طور پر بے انصافی ہو گی کہ متکلمین کسی بھی دور میں اسلام سے زیادہ فلسفہ کی خدمت کر بیٹھے ہیں۔ پہلی قسط میں ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ ہیوم و کانٹ گویا سوفسطائیہ کی نئی شکل (New version) ہیں، جو سائنسی مشاہدات و تجربات کی خارجی و نفس الامری حقیقت ماننے سے انکار کرتے ہیں، بلکہ اسے انسانی عادت یا ذہنی تشخص سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے۔ متکلمین نے مشاہدات و تجربات کی خارجی و نفس الامری حقائق مان کر سائنس کی تصویب و تحسین کی۔ افسوس کی انتہاء یہ ہے کہ کانٹ و ہیوم پر سائنس کو پیچھے دھکیلنے کا الزام نہیں، رازی و غزالی پر یہ الزام دھڑلے سے لگایا جاتا ہے۔ یونانیوں کے کئی بنیادی فلسفے اور اشیاء میں تاثیر ماننے کا وہ فلسفہ جو ارسطو نے پیش کیا تھا، اور ابن سینا، ابن رشد، معتزلہ اور کئی مسلم فلاسفہ کسی نہ کسی شکل میں اُس سے تاثر لیے ہوئے تھے، متکلمین نے دلائل کی قوت سے ایسے رد کیا کہ نہ فلسفہ آج تک اپنی پیروں پر کھڑا ہو سکا اور نہ ہی متکلمین کی دلیل میں کوئی رخنہ ڈال سکا۔

متکلمین کی دلیلِ حدوث جدید فلسفے کے عَلم برداروں کے لیے آج بھی ویسا ہی چیلنج ہے، جیسا یونان کے فلاسفہ کے لیے چیلنج تھا۔ کیونکہ یونانی کائنات کو قدیم (وقت سے ماوراء) مانتے تھے۔ دلیلِ حدوث کو آج کی زبان میں "کلامی کائناتی دلیل" (Kalam Cosmological Argument) اور مختصراً KCA دلیلِ کونی یا دلیلِ حدوث کہتے ہیں۔ دلیل کا لُب لباب یہ ہے کہ یہ کائنات اپنی ماہیت میں حادث (یعنی مخلوق، نوپیدا، عدم سے وجود میں آنے والی، Temporarily originated) ہے، لیکن اس کو وجود میں لانے والا (مُوجِد، مُحدِث، خالق، فاعلِ مختار، علّتِ تام) "واجب الوجود" (Necessary Being) اور "قدیم" (Space & Time, Cause & Effect سے باہر و ماوراء) ہے۔ یہ دلیل استنتاجی و استخراجی (deductive) منطق پر مبنی ہے جس میں دو بنیادی مقدمات (premises) اور ایک لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔

1. پہلا مقدمہ: کائنات حادث (نوپیدا) ہے یعنی عدم سے وجود میں آئی ہے [4]۔

2. دوسرا مقدمہ: ہر نوپیدا چیز کا ایک پیدا کرنے والا ضرور ہے (Cause & Effect، علت کے لئے معلول ہونے کا قانون)۔

نتیجہ: کائنات کا ایک پیدا کرنے والا ضرور ہے۔

پہلا مقدِّمہ یعنی حدوثِ عالم "کائنات کا عدم سے وجود میں آنا" (the universe is contingent and began to exist) کو ثابت کرنا ہی متکلمین کا اولین فریضہ ہے؛ کیونکہ یونان کے فلاسفہ، خاص طور پر ارسطو، یہ دعویٰ کرتے تھے [5] کہ کائنات ہمیشہ سے ہے، یعنی عالم قدیم ہے، اس کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ اختتام۔ اس یونانی تصور کو رد کرنے کے لیے متکلمین نے ایسی قوی و فطری دلیل (Self-Evedentry) دی ہے، جو مزید اجنبی یا نظری دلائل پر مشتمل نہیں، بلکہ حِس و مشاہدہ پر مبنی ہے؛ مثلاً متکلمین ابتداء یہاں سے کرتے ہیں کہ کسی چیز کا ہونا اور نہ ہونا دونوں بیک وقت نہیں ہو سکتا۔ اب اگر کوئی چیز موجود ہے تو دو حال سے خالی نہیں ہوگی یا تو حادث (Time Bound & Space) ہوگی اور یا قدیم (Time Beyond & Space) ہوگی۔ کائنات کی جو چیزیں ہمارے حِس و مشاہدہ میں آتی ہیں، وہ ہمیشہ سے نہیں ہو سکتیں، کیونکہ ہم تک اُن کا پہنچنا لازم کرتا ہے کہ ایک مبداء ضرور ہے جہاں سے آغاز کیا ہے۔ اُس مبداء کے دُور اور نزدیک ہونے پر جلد یا بدیر پہنچنے کا مدار ہوتا ہے۔ وقت اِسی حرکت و رفتار کو ناپنے کا آلہ ہے۔ اور جو بھی چیز وقت کے اندر ہوگی وہ ناپی جائے گی۔ یوں اُس کا آغاز متعین ہوگا۔ آغاز اُس چیز کا ہوتا ہے جو پہلے نہ ہو اور پھر وجود میں آئی ہو۔ اِسی کو حادِث (نو پیدا) کہتے ہیں ۔ اِس پہلے مقدِّمے کا ثبوت اشیاء کے لامتناہی سلسلے (Infinite Set) کا خارج میں موجود نہ ہو سکنے پر موقوف ہے۔ اِس کو ہم پہلے علمِ کلام کے روایتی اور پھر جدید سائنسی طریقے سے ثابت کرتے ہیں۔

1۔ تسلسل کا باطل ہونا (Actual Infinite Regress)

غیر متناہی أمور کا بالفعل بیک آن جمع ہونے کو اہلِ منطق کی اصطلاح میں تسلسل کہتے ہیں، اور اس کو باطل اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جس چیز کے أجزاء کا احاطہ و تحدید نہ ہو سکے اُن لامحدود أجزاء کا ہم اپنے تخیل میں یا خوابوں میں تصور کر سکتے ہیں، لیکن یہ صرف ذہنی تصور ہے۔ حقیقتِ واقعی کے طور پر اُن اجزاء کو اوّل تا آخر جمع کرنا ناممکن ہے، کیونکہ لامحدود أجزاء کا نہ اوّل ہوتا ہے، نہ آخر۔ قدیم یونانی فلسفے میں، خاص طور پر ارسطو کے پیروکاروں میں، کائنات کے قدیم ہونے کا تصور راسخ تھا۔ ان کے نزدیک کائنات کا نہ کوئی آغاز تھا اور نہ ہی کوئی اختتام، بلکہ وہ ہمیشہ سے موجود تھی۔ یہی یونانی فلسفہ کی بنیاد ہے، اُن کا فلسفہ ’’جزء لا یتجزی‘‘ کی نفی سے شروع ہوتا ہے، حالانکہ اب ایک ایک ایٹم کو چیر کر الیکٹران، پروٹان، نیوٹران وغیرہ کی تعداد اور لہروں تک انسان کی رسائی ہوئی ہے۔

متکلمین اِس تسلسل کو باطل کرنے کے لئے مختلف دلائل و براہین جیسے برہانِ سُلَّمی، بُرہانِ تضعیف وغیرہ کا سہارا لیتے ہیں۔ علامہ تفتا زانیؒ کو یہ دلائل واضح طور پر مُثمِر محسوس نہیں ہوئے ہیں، اِس لئے ہم نے اِن سے پہلو تہی کر کے دیگر دلائل کی طرف توجہ کی ہے۔

زمان کا تسلسل:

اگر ہم وقت کو پیچھے کی طرف لے جائیں اور یہ فرض کریں کہ وقت کبھی شروع نہیں ہوا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لامحدود ماضی موجود ہے۔ اب سوچیں کہ آج تک پہنچنے کے لیے ہمیں ان لامحدود لمحوں کو عبور کرنا پڑے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ لامحدود کو عبور کیا جا سکے؟ نہیں، کیونکہ لامحدود کے عبور کے لیے خود لامحدود وقت درکار ہوگا، جو ایک ایسا دائرہ بن جائے گا، جس سے نکلنا ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے، وقت کا ایک آغاز ہونا لازم ہے اور جو چیز وقت کے اندر ہو اُس کا بھی ایک آغاز ہونا لازم ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ کائنات کی ہر چیز پر زمانے نے احاطہ کیا ہوا ہے، اِس لئے یہ کہنا ناگزیر ہے کہ کائنات حادث ہے۔

مکان و حیز کا تسلسل:

اگر کائنات میں اشیاء یا ذرات کا سلسلہ بھی لامحدود ہو تو کوئی چیز نہ دوسرے سے آگے ہو سکے گی، نہ پیچھے۔ کائنات میں موجود اشیاء کو ہم دیکھتے ہیں کہ اُن کا شمار کیا جا سکتا ہے، اور لامحدود اشیاء، جن کا نہ اول ہو، نہ آخر ہو، اُن کا شمار ممکن نہیں رہتا، اِسی طرح کائنات کے واقعات کا سلسلہ لامحدود نہیں ہو سکتا، بلکہ اِس کا ایک آغاز ہے، اور اِسی کو حادث کہتے ہیں۔

2۔ کائنات کے آغاز کے سائنسی شواہد

مشہور ریاضی دان ہلبرڈ نے اِس کو سمجھانے کی بہت دلچسپ مثال دی ہے، کہ فرض کیا جائے کہ ایک ہوٹل میں لامتناہی کمرے ہیں اور لامتناہی لوگ آکر سب کمرے اپنے لئے بُک کر لیں۔ اب ایک نیا شخص آئے اور کمرہ مانگے تو اُس کو کمرہ ملنا ضروری ہے، کیونکہ ہم نے ہوٹل کو لامتناہی کمروں والا فرض کیا ہے۔ اِس لئے دنیا جہاں کے سب لوگ اگر اس ہوٹل میں کمرہ لینا چاہیں تو اُن کو کمرہ ملنا چاہئیے، حالانکہ حقیقت کی دُنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ قدیم علمِ کلام کی خالص فلسفیانہ بحثوں کے سینکڑوں سال بعد، جدید سائنس نے آزادانہ طور پر کائنات کے ایک آغاز کی شہادت فراہم کرنا شروع کی۔

بگ بینگ تھیوری اس سائنسی ماڈل کا نام ہے جو کائنات کی ابتدا اور ابتدائی ارتقاء کی وضاحت کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، آج سے تقریباً 13.8 ارب سال پہلے، کائنات ایک انتہائی گرم، گنجان، اور چھوٹے نقطے سے پھیلنا شروع ہوئی اور تب سے مسلسل پھیل رہی ہے۔ بگ بینگ کے اس ماڈل کو دو بڑے سائنسی شواہد سے تقویت ملی:

1۔ ہبل کا قانون (Hubble's Law):

1929ء میں ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے یہ دریافت کیا کہ دور دراز کی کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں، اور ان کے دور جانے کی رفتار ان کے فاصلے کے متناسب ہے۔ اگر کائنات پھیل رہی ہے، تو لازمی طور پر ماضی میں تمام مادے اور کہکشائیں ایک نقطے پر جمع رہی ہوں گی۔ یہ دریافت کائنات کے پھیلاؤ اور اس کے ایک آغاز کا پہلا مشاہداتی ثبوت ہے جو قدیم یونانی فلسفے کے کے تصورِ قِدَم کے خلاف ہے۔

2۔ کائناتی مائیکرو وَیو پس منظر تابکاری (Cosmic Microwave Background Radiation - CMBR):

بگ بینگ تھیوری نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر کائنات ایک انتہائی گرم نقطے سے شروع ہوئی ہے، تو اس کی بچی ہوئی حرارت کی تابکاری آج بھی خلا میں موجود ہونی چاہیے۔ 1964ء میں پنزیاس اور ولسن نے اتفاقاً وہ حرارت دریافت کر لی جو مائیکرو ویو لہروں کی صورت میں پوری کائنات میں موجود ہے۔ خلا کا موجودہ درجہ حرارت (2.725 کیلون) اس قدیم حرارت کا باقی ماندہ حصہ ہے جو کائنات کے پھیلنے سے ٹھنڈا ہو چکا ہے۔ چونکہ یہ تابکاری ہر سمت میں یکساں موجود ہے، یہ بگ بینگ کے نظریے کا قطعی ثبوت ہے کہ کائنات کا ایک مشترکہ آغاز (Point of Origin) تھا، نہ کہ یہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی۔

اس طرح یہ دونوں شواہد (کہکشاؤں کی دوری اور کائناتی تابکاری) سائنسی طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات "حادث" (بنی ہوئی) ہے، یعنی اس کا ایک متعین نقطۂ آغاز تھا اور یہ وقت کے ساتھ بدل رہی ہے۔ یہ شبہ کہ وقت ہمیشہ سے ہے اور وقت کا کوئی آغاز نہیں ہے، بالکل بے جا ہے، کیونکہ جدید فزکس کے مطابق، وقت خود کائنات کے ساتھ ہی وجود میں آیا۔ بگ بینگ سے پہلے نہ تو وقت تھا اور نہ ہی خلا۔ یہ وہم بھی قابلِ التفات نہیں کہ کانٹ کی تھیوری نے متکلمین کے اِن دلائل کو گزند پہنچائی ہوگی، کیونکہ کانٹ یہ نہیں کہتا کہ کائنات قدیم ہے، بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ ہماری عقل اس حقیقت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتی۔ یعنی کانٹ کا اعتراض دلائل کے مقدمات پر نہیں، بلکہ وہ تو قریب قریب عندیہ کی طرح اِدراکُ الادراک کا حقیقتِ واقعی (خارج و نفس الامر) کے مطابق ہونے کو ضروری نہیں سمجھتے؛ کانٹ کا یہ نظریہ زمینی اشیاء سے متعلق مان بھی لیا جائے تو دیگر سیارے، جن کا زمان و مکان زمین سے مختلف ہے، کے بارے میں عقل و سائنس متفق ہیں تو کیا دیگر سیاروں کے حدوث کے مشاہدے پر بھی کانٹ ذہنی تردد کا اظہار کرے گا؟ اِس جیسے کئی سوالات ہیں جو کانٹ کے فلسفے کی لغویت ظاہر کرتے ہیں۔

اب یہاں موقع ہے کہ، سائنسی اکتشافات جب متکلمین کی برسوں کی کاوشوں پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں تو، متکلمین کی باریک بینی کی داد دی جائے، لیکن اُمتِ مسلمہ کی تاریخ سے متعلق عجیب قسم کی إحساسِ کمتری کی نفسیاتی اُلجھن میں ہمارے کئی روایت بیزار اصحابِ دانش مبتلا ہیں، جن کا یہ دعویٰ ہے کہ بگ بینگ تھیوری کے بعد قدیم علمِ کلام غیر ضروری ہو چکا ہے۔ تعبیر تو یہ بھی ہو سکتی تھی کہ بگ بینگ کی تھیوری نے متکلمین کے مدعا کو بیِّن ثبوت فراہم کر دیا۔ مسلمان مفکرین اب محض اس تھیوری کا حوالہ دے کر زیادہ وثوق و آسانی سے کائنات کا حدوث و امکان ثابت کر سکتے ہیں۔ یوں متکلمین کی عظمت کا اعتراف کیا جاتا کہ جس وقت متکلمین کو یہ چیلنج درپیش تھا، کوئی بگ بینگ کا سائنسی تجربہ و مشاہدہ میسر نہ تھا جس سے مدد لے کر اپنا مدعا بصد آسانی ثابت کیا جاتا۔ اُس وقت مسلمان ماہرینِ کلام نے محنت کر کے فلسفہ میں اِس حد تک مہارت پیدا کر لی کہ فلاسفہ کے نہ صرف دین مخالف بنیادیں گرا دیں، بلکہ علم الکلام کے نام سے فلسفہ کا متوازی علم مدوَّن کیا۔ جس سے غرض یہ تھی کہ متکلمین کے جوابات الل ٹپ نہ ہوں، بلکہ کنسسٹنٹ اور یونیفارم اصولوں کے تحت ہوں۔ اور یہ ہر علم کی کم از کم اور بنیادی شرائط میں سے ہے۔ جس کے بغیر کوئی بھی علم، علم کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی۔ مثال کے طور پر کوئی اصولِ فقہ کے بغیر فقہی اجتہادات کرنے لگ جائے، خواہ علم و فقاہت کے دریا بہا دیں، لیکن اجتہادات کا وہ مجموعہ ایک قابلِ تعمیل و تدوین علم نہیں کہلا سکتا، یہی معاملہ اصولِ حدیث و تفسیر کا بھی ہے۔

علمِ کلام پر ایک سنجیدہ علمی تنقید محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی ہے، جو ایک سطحی تبصرہ نہیں، بلکہ ان کے وسیع تر فکری منہج کا تقاضا ہے۔ دین کو اس کی بالکل ابتدائی شکل میں پیش کرنے کے لئے لازم ہے کہ اُسے علمِ کلام، تصوف، قواعدِ فقہ اور اصولِ فقہ کی فکری یا علمی کاوشوں یا "آمیزشوں" سے پاک رکھ کر پیش کیا جائے۔ اُن کے نزدیک، علمِ کلام کا پورا فن اس لیے غیر ضروری ہے کہ وہ قرآن اور سنت کے براہ راست مطالعے کے بجائے فلسفیانہ بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اِس خاص تناظر میں دیکھا جائے تو غامدی صاحب کا موقف متکلمین کی بنسبت عہدِ اوّل کے محدِّثین اور حنابلہ کے قریب تر ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ غامدی صاحب آج کے کلامی مباحث کو جن قرآنی اصول پر ایڈریس کرتے ہیں؛ اُن اصول کے اوّلین مؤسس امام حمید الدین فراہی صاحب ہیں، جمع و ترتیب کی خدمت امامِ ثانی مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے فرمائی ہے، اور تدوین و تجدید کا سہرا محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے سر ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ اب تک مدوَّن ہونے والے اصول اپنا ارتقائی سفر مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر ارتقائی مرحلے پر پہلے سے زیادہ خوبی اور نکھار لیے ظاہر ہوتے ہیں؛ اب یہ امر قابلِ غور ہے کہ کیا فراہی فکر کے وہ کلامی اصول، جو قرآنی و فطری کہلائے جاتے ہیں، کیا علمِ کلام کی قدیم و مجرّب روایت کا نعم البدل ہو سکتے ہیں؟ کیا اِن اُصول میں اتنی وسعت و جامعیت ہے کہ جدید الحاد و فلسفہ کے متنوع سوالات کو الگ الگ کلامی اصولوں کے مطابق کلاسیفائی کر سکیں؟ اس طرح کے گوناگوں سوالات ہیں، جس پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنا نہ صرف أصحاب المورد کے ذمے ہے، بلکہ کلام کی قدیم روایت کو غیر ضروری جاننے والے سب علمی حلقوں کے ذمے ہے۔ دوسری طرف علم الکلام کی تدریس و تحقیق کا مشغلہ جاری رکھنے والے اہلِ علم کے ذمے یہ ثابت کرنا ہے کہ علمِ کلام جس طرح جدید افکار کو ایڈریس کرتا ہے، کوئی دوسرا علم اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔ یہ فقیر خود بھی یہ علمی مشغلہ کچھ اس لیے بھی جاری رکھے ہوئے ہے کہ نہ اِسے وقت کا غلط مصرف سمجھتا ہے اور نہ اِس علم کو آؤٹ آف ڈیٹ سمجھتا ہے، بلکہ خیال کرتا ہے کہ بگ بینگ جیسے سائنسی نظریات آنے کے بعد بھی علم الکلام کی ضرورت و افادیت میں کسی طرح کمی نہیں آئی ہے۔

کسی جگہ نہ رُکنے والی سائنسی اکتشافات کا تو یہ حال ہے کہ الیکٹران کی لہروں کی دریافت کے بعد اب مادہ کی ظاہری شکل اور اُس میں کارفرما قوانین سے اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ مادہ ہر آن اپنا وجود بدلتا رہتا ہے۔ اِسی طرح ہر آن کی اپنی نئی تصویر پیش کرتا ہے۔ کسی زمانے میں یونانی فلاسفہ تجدد الامثال کا نظریہ پیش کرتے تو لوگ عقل انگشت بدندان رہ جاتی۔ سائنسی تھیوریز کو مذہب کے حق میں استدلال کے لئے پیش کرنے میں علمی غیر ہم آہنگی کے علاوہ سائنسی غیر ہم آہنگی کی خرابی یوں لازم آتی ہے کہ مذہب کے حق میں کوئی بھی ایک سائنسی تھیوری لینے کے بعد کئی دوسری تھیوریز لا محالہ چھوڑنی پڑیں گی۔ یوں پِک اینڈ چوز کا ایک غیر علمی رویہ سامنے آئے گا۔ سائنسی نظریات میں پک اینڈ چوز اور انتخابی استعمال کی ایک واضح مثال، مسلمان مفکرین کا بگ بینگ نظریہ کی حمایت ہے کیونکہ یہ ان کے مذہبی عقائد کی تائید کرتی ہے، لیکن ارتقاء کے نظریے کو باطل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنسی شواہد (جیسے ڈی این اے اور فوسل ریکارڈز) اس کی تردید کرتے ہیں اور تخلیق کی تائید کرتے ہیں۔ یہ فکری طرز عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا مقصد ہر سائنسی دریافت کو قبول کرنا نہیں، بلکہ سائنس کو اپنے پہلے سے قائم فکری موقف کی تائید میں استعمال کرنا ہے۔

دوسری جانب بگ بینگ نے کائنات کے ایک آغاز و حُدوث کو تو ثابت کر دیا، لیکن اس نے کچھ نئے فلسفیانہ چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں جن کا جواب صرف فلسفے کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔ آج بھی کچھ ملحدین یہ دلیل دیتے ہیں کہ بگ بینگ کا لمحہ آغاز (t=0) کوئی "حقیقی" لمحہ نہیں تھا جس پر کائنات اچانک وجود میں آ گئی، بلکہ یہ ایک "اوپن انٹرول" ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اس نقطۂ آغاز سے پہلے بھی وقت کا ایک لامحدود سلسلہ موجود ہو سکتا ہے، جیسا کہ مثبت اعداد کا سلسلہ (اعشاریہ ایک، اعشاریہ صفر ایک …) جو صفر کے قریب ہوتا جاتا ہے لیکن کبھی صفر نہیں بنتا۔ اس طرح کا استدلال وقت کے ایک مطلق آغاز سے گریز کرتا ہے۔ یہ ایک خالص فلسفیانہ اور ریاضیاتی دلیل ہے، جس کا جواب صرف سائنسی مشاہدے سے ممکن نہیں۔ اس کا جواب دینے کے لیے قدیم علمِ کلام کے اصولوں، خاص طور پر "بالفعل لامحدودیت" کی ناممکنیت کو جدید سائنسی اور ریاضیاتی زبان میں بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز قدیم دلائل بھی کسی طرح "غیر ضروری" نہیں ہوئے، تاہم اُن دلائل کو فزکس و ریاضی کی نئی صورت میں پیش کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے اور روایت کا اشتغال رکھنے والے علماء کے لئے تو بقا و فنا کا فیصلہ کن موڑ ہے۔

(جاری ہے)

حواشی

[1] امام فارابی: پیدائش 872 عیسوی - وفات 950 عیسوی، ابن سینا : پیدائش 980 عیسوی - وفات 1037 عیسوی۔ یہ وہ دور تھا جب یونانی فلسفہ اسلامی دنیا میں متعارف ہو رہا تھا۔ فارابی نے دسویں صدی کے اوائل میں اور ابن سینا نے گیارہویں صدی کے اوائل میں اس پر کام کیا۔ ابن سینا، فارابی کے فلسفے سے گہرا متاثر تھے۔ فارابی کو "المعلم الثانی" کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے ارسطو کی منطق اور مابعدالطبیعات کو اسلامی سانچے میں ڈھالا۔ ابن سینا نے ان نظریات کو مزید وسعت دی اور ایک جامع فلسفیانہ نظام تشکیل دیا، جس کا سب سے اہم کام "الشفاء" ہے۔

[2] ابوالحسن اشعری: پیدائش 873 عیسوی - وفات 935 عیسوی، ابو منصور ماتریدی: وفات 944 عیسوی۔ یہ دسویں صدی عیسوی کا دور تھا، جب معتزلہ کا اثر کم ہو رہا تھا۔ ان دونوں نے اسلامی عقائد کو عقلی بنیادوں پر مضبوط کرنے کا کام کیا۔ دونوں کا مقصد اہلِ سنت کے عقائد کا دفاع کرنا اور معتزلہ کے فکری حملوں کا جواب دینا تھا۔ اشعری نے ابتدا میں معتزلی عقائد کا مطالعہ کیا لیکن بعد میں ان سے کنارہ کشی اختیار کی۔ ماتریدی نے حنفی فقہ کے اصولوں کی بنیاد پر عقائد کی تشریح کی۔ دونوں نے علمِ کلام کی بنیاد رکھی اور اسلامی عقائد کو ایک منظم شکل دی۔

[3] امام غزالی: (پیدائش 1058 عیسوی - وفات 1111 عیسوی) ابن رشد: (پیدائش 1126 عیسوی - وفات 1198 عیسوی۔ ان کے درمیان تقریباً ایک صدی کا فاصلہ ہے۔ غزالی گیارہویں صدی کے آخر میں تھے، جبکہ ابن رشد بارہویں صدی کے آخر میں تھے۔ یہ وہ دور تھا جب فلسفیوں کے نظریات کی وجہ سے اسلامی عقائد کو خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا۔ امام غزالی نے اپنی کتاب "تہافۃ الفلاسفہ" میں فلسفیوں (خاص طور پر ابن سینا اور فارابی) کے ان 20 مسائل پر تنقید کی جو اسلامی عقائد سے متصادم تھے۔ اس کے جواب میں، ابن رشد نے اپنی کتاب "تہافۃ التہافۃ" میں غزالی کی تنقید کا جواب دیا اور فلسفے کا دفاع کیا۔ اس تصادم نے اسلامی فکر میں ایک نیا موڑ پیدا کیا۔ غزالی کے کام نے اسلامی دنیا میں فلسفے کے اثر کو کم کیا، جبکہ ابن رشد کا کام بعد میں مغربی فلسفے پر اثر انداز ہوا۔

[4] اس پر یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ عدم کہاں تھا، حالانکہ بحث اُن لوگوں سے ہے جو ہر چیز قدیم مانتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ جو چیز ہمیشہ سے رہ سکتی ہے وہ عارضی طور پر بھی رہ سکتی ہے، نیز عدم کوئی وجودی صفت نہیں، جس کے لیے زمان و مکان اور حیز ضروری ہو۔

[5] ارسطو کا "مادہ ھیولی" اور "پوٹینشلٹی" کا جدید تصور۔ ارسطو کا فلسفہ یہ بیان کرتا ہے کہ ہر شے مادہ (خام مال) اور صورت (شکل) کے امتزاج سے بنتی ہے۔ ان دونوں کا تعلق پوٹینشلٹی (چھپی ہوئی صلاحیت) اور ایکچوایلیٹی (موجودہ حقیقت) کے نظریے سے ہے۔

  • ھیولی (مادہ): وہ خام مال ہے جو شکل اختیار کرتا ہے۔
  • پوٹینشلٹی: وہ صلاحیت یا امکان ہے جو کسی شے کو کچھ بننے کا موقع دیتی ہے۔

اس طرح، بیج میں درخت بننے کی پوٹینشلٹی ہوتی ہے اور جب وہ بڑا ہو کر درخت بنتا ہے تو وہ ایکچوایلیٹی میں آ جاتا ہے۔ جدید سائنس میں یہ تصور جینیات کے ڈی این اے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ڈی این اے میں موجود معلومات ایک جسم بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اسلام اور عصر حاضر

اقساط

(الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۱)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۱)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

A Prophetic Lesson on News, Responsibility, and Restraint
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مباحثے کا تجزیہ
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی

خدا کی زمان و مکان سے ماورائیت اور تصورِ ہمیشگی
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۲)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت کُعیبہ بنت سعد اسلمیہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

بیمار کی عیادت: ایک انسانی حق، ایک اخلاقی فریضہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اولڈ ایج ہاؤس کی شرعی حیثیت
مفتی سید انور شاہ

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

زنا بالجبر یا زنا بالرضا؟ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایک نظر
طاہر چودھری

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ اور حضرت پیر عبدالرحیم نقشبندیؒ کی وفات پر اظہار تعزیت
مولانا حافظ اسعد عبید

مجلس اتحاد امت پاکستان کا اعلامیہ اور مطالبات
الخیر میڈیا سیل
مدارس نیوز

مجلس اتحادِ امت پاکستان کے متفقہ اعلامیہ کی بھرپور تائید
پروفیسر حافظ منیر احمد
پاکستان شریعت کونسل

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام سالانہ ’’دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی‘‘
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter