کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)

علمِ کلام پر یونانی فلسفے سے ماخوذ ہونے کا طعن: ایک فکری رد

اب کچھ تجزیہ علم الکلام پر سب سے بڑے اور مشہور طعن کا بھی ہونا چاہئیے کہ یہ اول تا آخر یونانی فلسفہ سے ماخوذ ہے۔ ہم یہاں چند نمایاں مثالیں پیش کرتے ہیں، جن میں متکلمین نے یونانی فلسفے کے بنیادی تصورات کو چیلنج کیا اور انہیں اسلامی عقائد کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ چند اہم مسائل جن میں انہوں نے یونانی فلاسفہ کی تردید کی، وہ درج ذیل ہیں:

1- عقول عشرہ (دس عقلیں) اور افلاک تسعہ (نو آسمان)

یونانی فلسفہ، خاص طور پر ارسطو اور افلاطین کے نظریات میں، کائنات کو ایک میکانکی نظام کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، خدا (علتِ اولیٰ) سے پہلی عقل کا صدور ہوا، اور پھر اس سے مزید عقلیں اور آسمان وجود میں آئے۔ اس نظریے میں دس عقلیں اور نو آسمان شامل تھے جو درجہ بدرجہ ایک دوسرے کو وجود بخشتے تھے۔

متکلمین نے اس تصور کو رد کیا اور کہا کہ یہ خدا کے فاعلِ مختار (با اختیار خالق) ہونے کے خلاف ہے۔ خدا کسی جبر یا قانون کے تحت کائنات کو وجود میں نہیں لایا، بلکہ اس نے اپنے ارادے اور اختیار سے ہر چیز کو پیدا کیا۔ یہ کائنات خود خدا کی تخلیق کردہ ہے، نہ کہ کسی جبری اور خودکار صدور کا نتیجہ۔

2- جزء لا یتجزیٰ (وہ ذرہ جو تقسیم نہ ہو سکے)

یونانی فلاسفہ کے درمیان مادے کی ماہیت پر اختلاف تھا۔ بعض فلاسفہ، جیسے ارسطو، کا ماننا تھا کہ مادہ لامحدود طور پر قابلِ تقسیم ہے، یعنی کوئی ایسا آخری ذرہ نہیں ہے جسے مزید تقسیم نہ کیا جا سکے۔ اس کے برعکس، بعض دیگر فلاسفہ اور بعد میں متکلمین نے "جزء لا یتجزیٰ" کا نظریہ پیش کیا۔

متکلمین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہر مادی چیز ایک ایسے چھوٹے ذرے سے بنی ہے جو مزید تقسیم نہیں ہو سکتا۔ یہ دلیل دراصل "حدوثِ عالم" کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کی گئی، کیونکہ اگر مادہ لامحدود طور پر قابلِ تقسیم ہوتا تو وقت اور جگہ کے لامحدود ہونے کا تصور ممکن ہو جاتا، اور اس طرح کائنات کا آغاز ثابت کرنا مشکل ہو جاتا۔

3- حدوثِ عالم (کائنات کا آغاز) بمقابلہ قِدَمِ عالم (کائنات کا ازلی ہونا)

یونانی فلاسفہ، خاص طور پر ارسطو، یہ نظریہ پیش کرتے تھے کہ کائنات قدیم اور ازلی ہے، یعنی اس کا کوئی آغاز نہیں ہے۔ اس کے برعکس، متکلمین نے اس نظریے کی سختی سے تردید کی اور عقلی و منطقی دلائل سے یہ ثابت کیا کہ کائنات حادث ہے اور اس کا ایک آغاز ہے۔ یہ بحث علمِ کلام کی سب سے بنیادی بحثوں میں سے ایک تھی۔ متکلمین نے "تسلسل کا باطل ہونا" (Impossibility of an Infinite Regress) جیسے دلائل سے یہ ثابت کیا کہ وقت کا ایک آغاز ہونا ضروری ہے۔ یہ دلیل آج بھی کلامی کائناتی دلیل (Kalam Cosmological Argument) کی بنیاد ہے۔

4- فاعلِ مختار (بااختیار خالق) بمقابلہ علتِ موجبہ (لازمی سبب)

یونانی فلاسفہ، جیسے افلاطون، خدا کو "علتِ موجبہ" (necessary cause) کے طور پر پیش کرتے تھے، جس کے مطابق خدا سے کائنات کا وجود ایک لازمی اور جبری عمل کے تحت ہوا، جیسے سورج کی حرارت سے روشنی کا نکلنا۔ اس کے برعکس، متکلمین نے خدا کو "فاعلِ مختار" (free agent) ثابت کیا، یعنی کائنات کی تخلیق اس کے مکمل ارادے اور اختیار کا نتیجہ ہے۔ اسلامی علمِ کلام کی سب سے بڑی انفرادیت "فاعلِ مختار" کا تصور ہے، جس کے تحت خدا کو مکمل اختیار اور ارادے کا مالک مانا جاتا ہے، جو اسے بعض دیگر الٰہیاتی روایات سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ نظریہ آج بھی جدید الحادی اعتراضات کا مؤثر جواب فراہم کرتا ہے جو ’خدا کے ہوتے ہوئے دنیا میں موجود برائی (evil)’ کے مسئلے پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ اختلاف اس لیے اہم تھا کہ اس سے خدا کی صفات جیسے قدرت, ارادہ، اور حکمت کا تصور واضح ہوا۔

5- وجودِ جزئیات (individual objects) کا مسئلہ

فلاسفہ کے نزدیک کلیات (universals) کی ایک مستقل اور حقیقی حیثیت ہوتی ہے، جبکہ جزئیات (خاص اشیاء) کا وجود ثانوی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، متکلمین نے جزئیات کے وجود کو زیادہ اہمیت دی اور انہیں ہی حقیقت کا بنیادی حصہ قرار دیا۔ یہ اختلاف اس لیے اہم تھا کہ یہ حقیقت کی نوعیت اور ہمارے علم کی بنیاد سے متعلق تھا۔

6- خدا کا علمِ جزئیات (خدا کا اشیاء کا علم)

یونانی فلسفے میں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ خدا کو صرف کلیات کا علم ہے، کیونکہ جزئیات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، جو خدا کی کامل ذات کے لیے مناسب نہیں۔

متکلمین نے اس نظریے کو رد کیا اور یہ ثابت کیا کہ خدا کو ہر چھوٹی بڑی جزئی کا علم ہے، کیونکہ اس کے بغیر اس کی صفتِ علم ناقص ہو جائے گی۔ یہ ایک اہم بحث تھی جس نے اسلامی عقائد کو فلسفے کے اثرات سے محفوظ رکھا۔

7- جعلِ بسیط (سادہ وجود میں لانا)

فلسفیانہ نظریہ کے مطابق، خدا (یا علتِ اولیٰ) صرف وجود کا مصدر ہے، یعنی وہ چیزوں کو "ہو جا" کہتا ہے اور وہ وجود میں آ جاتی ہیں۔ اس میں صفات کا پیدا کرنا یا تغیر شامل نہیں ہوتا۔ گویا خدا صرف "وجود بخشنے" کا کام کرتا ہے۔

متکلمین نے اس نظریے کو رد کیا۔ ان کے نزدیک، خدا نہ صرف اشیاء کو وجود بخشتا ہے بلکہ ان میں صفات (خواص) بھی پیدا کرتا ہے۔ خدا کا ہر فعل، چاہے وہ وجود بخشنا ہو یا کسی صفت کو پیدا کرنا، اس کے اختیار اور ارادے کا مظہر ہے۔ یہ نظریہ خدا کی قدرت اور فعلیت کو زیادہ وسعت دیتا ہے۔

8- قیاس الشاہد علی الغائب (جانی ہوئی چیزوں پر انجانی کا قیاس کرنا)

یونانی فلاسفہ نے انسانی دنیا اور اس کے قوانین (جیسے علت و معلول، نظام) کو بنیاد بنا کر خدا اور ماورائی حقائق کے بارے میں تصورات قائم کیے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح دنیا میں کام چلتا ہے، اسی طرح خدا کے معاملات بھی ہوں گے۔

متکلمین نے اس قیاس کو محدود کیا۔ ان کے نزدیک، خدا کی ذات اور صفات انسانی ادراک اور تجربے سے ماورا ہیں۔ "لیس کمثلہ شیء" (قرآن) کے تحت، ہم خدا کو اپنی مخلوق پر قیاس نہیں کر سکتے۔ خدا کا علم، اس کی حکمت، اور اس کے افعال کو سمجھنے کے لیے وحی (قرآن و سنت) کی رہنمائی ضروری ہے۔

9- صفاتِ ذاتیہ و فعلیہ میں فرق نہ کرنا اور صفات نہ ماننا

بعض فلاسفہ اور خصوصاً معتزلہ نے خدا کی صفات کو اس کی ذات کا عین (identical) قرار دیا یا پھر صفات کا مکمل انکار کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر خدا کی صفات اس کی ذات سے الگ مانی جائیں تو یہ خدا کی وحدانیت (unity) کے خلاف ہے، یعنی خدا ایک سے زیادہ چیزوں کا مرکب بن جائے گا۔

دوسرے مکتبِ فکر، جیسے اشاعرہ اور ماتریدیہ، نے صفاتِ ذاتیہ (جو اس کی ذات کا حصہ ہیں، جیسے حیات، علم، قدرت، ارادہ) اور صفاتِ فعلیہ (جو اس کے افعال سے متعلق ہیں، جیسے خالق ہونا، رازق ہونا) میں فرق کیا۔ انہوں نے صفات کو خدا کی ذات کے عین ماننے کے بجائے، اس کی ذات سے ثابت اور حقیقی قرار دیا جو اس کی وحدانیت کو مجروح نہیں کرتیں۔ ان کے نزدیک، صفات کا انکار خدا کی کامل ذات کا انکار ہے۔

10- صفاتِ ذاتیہ و فعلیہ میں فرق اور صفات کا انکار

یونانی فلسفہ میں خدا کو محض ذات کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور اس کی صفات (جیسے علم، قدرت، ارادہ) کو اسی کی ذات کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔

اس کے برعکس، اسلامی متکلمین کے درمیان صفات کے حوالے سے کئی آراء پیدا ہوئیں:

معتزلہ نے خدا کی صفات کا انکار کیا اور کہا کہ اگر صفات کو مانا جائے تو یہ خدا کی توحید کے خلاف ہو گا، کیونکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس کی ذات کے ساتھ کوئی اور چیز بھی موجود ہے۔ ان کے نزدیک خدا کی صفات دراصل اس کی ذات کا عین (exact) ہیں۔

اشاعرہ و ماتریدیہ کا موقف تھا کہ خدا کی صفات حقیقی ہیں جو نہ تو اس کی ذات سے الگ ہیں اور نہ ہی اس کا عین ہیں۔ انہوں نے صفاتِ ذاتیہ (جو ہمیشہ سے ہیں، جیسے علم اور قدرت) اور صفاتِ فعلیہ (جو اس کے افعال سے ظاہر ہوتی ہیں، جیسے پیدا کرنا اور رزق دینا) میں فرق کیا۔ یہ نظریہ خدا کی توحید کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی صفات کو بھی تسلیم کرتا تھا۔

11- واحد سے واحد کا صدور اور کثرت پر حدوث کا مدار

فلاسفہ کا یہ نظریہ تھا کہ ایک واحد علت (خدا) سے صرف ایک ہی چیز وجود میں آ سکتی ہے (واحد سے واحد کا صدور)۔ اس لیے انہوں نے کائنات کی کثرت کی وضاحت کے لیے ایک پیچیدہ نظام (جیسے عقول عشرہ) پیش کیا۔ ان کے نزدیک کائنات کی کثرت (diversity) ہی اس کے حادث ہونے کا ثبوت ہے۔

متکلمین نے اس نظریے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ خدا اپنے ارادے اور اختیار سے ایک ہی وقت میں بے شمار چیزوں کو پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی پیچیدہ درمیانی نظام کی ضرورت نہیں۔ یہ نظریہ فلاسفہ کے جبری اور لازمی نظام کے خلاف ایک بنیادی اختلاف تھا۔

12- کثرت پر حدوث و امکان کا مدار رکھنا (فلاسفہ کا نظریہ)

بعض یونانی فلاسفہ، خصوصاً ارسطو کے پیروکار، یہ سمجھتے تھے کہ کائنات کا وجود (existence) اور اس میں کثرت (diversity) کا پایا جانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات حادث (نئی پیدا شدہ) اور ممکن (possible) ہے۔ ان کے نزدیک، اگر کائنات قدیم اور واجب ہوتی تو اس میں یہ کثرت اور تغیر ممکن نہ ہوتا۔

متکلمین نے اس بات سے اختلاف کیا کہ کثرت بذاتِ خود حدوث کا سبب ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ حدوث کا ثبوت کائنات کے ازل سے نہ ہونے (یعنی اس کا آغاز ہونے) سے ہے۔ کثرت تو اس حادث کائنات کی ایک خصوصیت ہو سکتی ہے، مگر خود حدوث کا اصل ثبوت "حدوثِ عالم" کے دلائل سے ہے۔

اسلامی روایت اور جدید مباحث

اقساط

(الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۸

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

کیا خدا کو ڈھونڈنا آج زیادہ مشکل ہے؟
مولانا سیف الرحمٰن ادیب

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۵)
محمد سراج اسرار

امام طحاوی رحمہ اللہ کے مختصر حالات
مولانا مفتی رضاء الحق
مولانا محمد عثمان بستوی

عورت کا حقِ مہر و ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات
مفتی سید انور شاہ

فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار
مولانا غالب شمس قاسمی

زکوٰۃ سے متعلق دو اہم استفسار
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

A Proven Path to Conquering Physical Limitations
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر
مولانا فضل الرحمٰن

اسلام کے سیاسی نظام پر کتب
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مذہب، قانون اور جذبات
خورشید احمد ندیم

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حفاظت کا اعزاز
مولانا مفتی عبد الرحیم
مفتی عبد المنعم فائز
مولانا عبد الودود

وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان
مفتی سید عدنان کاکاخیل

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۲)
حافظ مجددی

تلاش

شماریات