کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)

علمِ کلام قصۂ پارینہ نہیں، بلکہ عصری الحاد نے اِس کی ضرورت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ فلسفۂ یونان تو اب از کارِ رفتہ ہو چکا، لیکن سائنسی تھیوریز اور نئے فلسفوں نے مابعد الطبیعیات (Metaphysics) جیسے خالص مذہبی حدود میں مداخلت شروع کی ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اب تک جسے پرائیویٹ معاملہ کہا جاتا تھا، ایمان کا وہی ذاتی نہاں خانہ ابھی الحاد و تشکیک کے حملوں کی زد میں ہے۔ لاادریت (اگناسٹس ازم) تشکیک پر اکتفا کرتی ہے اور خدا کے وجود یا عدمِ وجود کے سوال کو کھلا چھوڑ دیتی ہے۔ یہ لوگ اشیاء کے تمام حقائق میں قدیم سوفسطائی لاادریہ نہ سہی، خدا کے وجود یا عدمِ وجود سے متعلق ہوبہو لاادریہ کا موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ جبکہ مُلحدین اِس مادِّی کائنات (یعنی زمان و مکان کے دائرے) سے باہر کسی بھی چیز بشمول خدا کے وجود کے منکر ہیں، شعور سے عاری نیچرل پراسس کو ہر چیز کا خالق ہونے کا رُتبہ عطا کرتے ہیں، جس سے قدیم کلام ہرگز غیر متعلق نہیں، بلکہ یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہے کہ یہ سارا نیچرل پراسس تمہارے نزدیک مادہ کے لئے علت ہوا، اور یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ وہی ارسطو کا اشیاء میں علت و معلول کا نظریہ ہے۔

اِس لئے ہم بالکل اُسی طرح سب سے پہلی علت (First Cause) کے بارے میں دریافت کرنا چاہیں گے کہ سب سے پہلے ہونے والا نیچرل پراسس کیسے ہوا تھا؟ "قدرتی قوانین" خود کیسے اور کیوں موجود ہیں؟ کیا وہ بذاتِ خود وجود رکھتے ہیں؟ یہ ایسے سوال ہیں جو سائنس کی حدود سے باہر ہیں اور ان کا تعلق فلسفہ اور مذہب سے ہیں۔ سائنس صرف "کیسے" (how) کا جواب دیتی ہے، "کیوں" (why) کا نہیں، لیکن اس کے باوجود نہ صرف یہ کہ سائنس کچھ کہہ نہیں پاتی، زمان و مکان سے باہر کسی بھی چیز بشمول خدا کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ یہ عجیب سائنس ہے کہ خود بھی زمان و مکان سے باہر کوئی چیز معلوم نہیں کر سکتی، اور کسی دوسرے معتبر ذریعہ (وحی) سے کچھ معلومات حاصل ہوں، تو زمان و مکان میں موجودگی کے لئے جو شرائط (Tools and Principles) ہیں، زمان و مکان سے ماوراء چیزوں میں وہ نہ ہونے کی وجہ سے انکار کیا جائے۔ ایسی بھونڈی دلیل کو قدیم کلام میں قیاس الشاہد علی الغائب کہتے ہیں۔

زمان و مکان سے باہر رہتے ہوئے زمان و مکان میں مؤثر رہنے کو کوانٹم فزکس، سائنس اور کامن سینس کی کئی مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔

  1. ایک ڈرون اپنی حرکت اور زمان و مکان کے لحاظ سے مکمل طور پر اِس مادّی کائنات کا حصہ ہے اور فزکس کے معلوم قوانین کا پابند ہے، لیکن اس ڈرون کا حاکم ایک آپریٹر ہوتا ہے جو خود ڈرون کے زمان و مکان کے دائرے سے باہر (یعنی زمین پر یا کسی دوسرے مقام پر) موجود ہوتا ہے۔ آپریٹر ڈرون کے لیے ایک مابعد الطبیعیاتی (Metaphysical) ہستی کی طرح ہے، کیونکہ وہ ڈرون کے چلنے کے لیے ضروری مادی شرائط (Tools & Principles) کا پابند نہیں ہے۔ آپریٹر کا ذہن، شعور اور ارادہ ڈرون کو ہدایات دیتا ہے، لیکن آپریٹر خود ڈرون کے گرنے، تباہ ہونے یا اس کے کسی بھی مادّی انجام سے براہ راست متاثر نہیں ہوتا۔
  2. آئن سٹائن کی نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کے مطابق مادّی دنیا میں زمان و مکان (Space-time) کوئی مطلق شے نہیں ہیں، بلکہ یہ مشاہدہ کرنے والے فریم آف ریفرنس کے لحاظ سے اضافی ہیں اور مختلف فریمز میں ان کا وجود مختلف ہے، تو عقلی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمام اضافی فریمز اور ان کے زمان و مکان کے نظاموں کے لیے کوئی غیر اضافی، مطلق اور ان سب سے ماوراء ہستی موجود نہیں ہو سکتی؟ اگر ایک فریم آف ریفرنس میں وقت سست ہو جاتا ہے اور دوسرے میں تیزی سے گزرتا ہے، تو ان تمام فریموں کو وجود دینے والی ہستی مطلق وقت (Absolute Time) اور مطلق مکان (Absolute Space) سے ماوراء کیوں نہیں ہو سکتی، جو تمام زمان و مکان کے نظاموں سے باہر ہو۔
  3. انسان کا "اندرونی نفس" (روح/شعور) مادّی دنیا (زمان و مکان) میں ایک الگ سے قابلِ مشاہدہ وجود نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود، انسان اس مادّی جسم کے اندر غصہ، محبت، بھوک، پیاس، درد اور خوشی جیسی غیر مادّی کیفیات کو محسوس کرتا ہے۔ یہ کیفیات مادّی جسم کے افعال پر اثر انداز ہوتی ہیں، لیکن خود مادّی طور پر ناپنے یا قید کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

خلاصہ یہ کہ مادّی وجود (جسم) کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی شعور اور جذبات حقیقت رکھتی ہیں اور مادّی دائرے کے اندر فعال ہو سکتی ہیں۔ اگر انسان کی مادّی کائنات کے اندر ہی غیر مادّی حقیقت کا وجود ممکن ہے، تو پھر تمام کائنات سے باہر غیر مادّی، مطلق اور لازمی وجود (واجب الوجود) کا تصور کسی طرح بھی عقلی طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اِس سارے قضیے سے واضح ہے کہ سائنس کی دوڑ قوانینِ فطرت (Natural Process) تک ہے۔ اور کوئی ذی شعور کبھی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ قوانین (Laws of Nature) آپ سے آپ وجود میں آئے ہیں، اس لئے ایک اوّلین سبب ضرور ہے جس نے انہیں بنایا اور باقاعدہ انداز میں چلایا ہے۔ علمِ کلام کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اگر ہر چیز کا ایک سبب ہے اور اس سبب کا بھی ایک سبب ہے، تو اس طرح کا لامتناہی سلسلہ (Infinite Regress) چلانا منطقی طور پر ناممکن ہے۔ اس لیے ایک ایسے غیر مسبب سبب (Uncaused Cause) کا ہونا ضروری ہے جو خود سے موجود ہو اور تمام کائنات کا سبب بنے۔ اس غیر مسبب سبب کو خدا کہتے ہیں۔ یہ دلیل کسی خلا کو نہیں بھرتی، بلکہ کائنات کے وجود کے بنیادی سوال کا جواب دیتی ہے۔ ارسطو، ابنِ سینا، الكندی اور ایکویناس (Aquinas) نے اس ہستی کی موجودگی کے بارے میں خیالات پیش کیے۔ ارسطو نے منطقی توجیہات سے دلائل پیش کر کے اُسے "اٹل قوت یا محرک اعظم" (Supreme First Cause) کہا۔ تھامس ایکویناس، ابن سینا اور الکندی ارسطو کی اس بات سے متفق ہیں کہ کسی چیز کو لازماً کائنات کی موجودگی کی وضاحت کرنا ہے۔ ارسطو بنیادی طور پر یہ ثابت کرتا تھا کہ ہر موجود چیز کے لئے ایک علت یا سبب کا ہونا لازم ہے۔ آئن سٹائن کا یہ قول مشہور ہے کہ "جب میں ٹوسٹ کا ایک ٹکڑا دیکھتا ہوں تو جانتاہ وں کہ کہیں ایک ٹوسٹر بھی ہے۔" اِس کا لازمی نتیجہ ہے کہ تمام موجودات کا ایک موجِد (Creator) ہے۔ اسی غیر مسبب سبب (Uncaused Cause) کو ہم "خدا" کہتے ہیں۔ دلیلِ حدوث (Cosmological Argument) ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں، جس کی رو سے ہر چیز کے وقوع (یعنی اثر effect) کے لیے ایک عِلَّت (وجہ؛ cause) کا ہونا ضروری ہے-

ملحدین ایک اعتراض یہ کرتے ہیں کہ اگر ہر چیز کا سبب ہوتا ہے، تو خدا کا سبب کون ہے؟ یہ اعتراض دراصل اس دلیل کی بنیادی منطق کو نظر انداز کرنے اور دلیل کو غلط سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ دلیل یہ نہیں کہتی کہ ہر چیز کا سبب ہوتا ہے، بلکہ یہ کہتی ہے کہ "ہر وہ چیز جو وجود میں آئی ہے" اس کا سبب ہوتا ہے۔ خدا ایک ایسی ہستی ہے جو کبھی وجود میں نہیں آئی بلکہ ازل سے موجود اور خود سے قائم ہے۔ اس طرح، اس پر سبب کی شرط لاگو ہی نہیں ہوتی۔

آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کے مطابق، وقت اور جگہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور کائنات کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی وجود میں آئے۔ اسی لیے، سائنسدان یہ سمجھتے ہیں کہ وقت اور جگہ بگ بینگ کے ساتھ ہی شروع ہوئے۔ اس نظریے کے مطابق وقت اور جگہ سے پہلے کوئی وقت یا جگہ موجود ہی نہیں تھی۔ اِسی کو علمِ کلام میں عدم کہتے ہیں اور یہ کائنات "عدم" سے وجود میں آئی ہے، اور یہ "عدم" کوئی خالی جگہ، وقت یا کسی اور جہان کا نام نہیں ہے۔ سائنس صرف ان چیزوں کا مطالعہ کرتی ہے جو موجود ہیں۔ بگ بینگ کے نظریے کے مطابق، کائنات ایک بہت ہی گرم، کثیف اور چھوٹی حالت سے شروع ہوئی۔ اس نظریے کے مطابق، کائنات کا آغاز ایک ایسے لمحے سے ہوا جسے ہم "سنگولیریٹی" (Singularity) کہتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں وقت، جگہ اور مادہ کی موجودہ فزکس کے قوانین کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

اس سنگولیریٹی سے پہلے کیا تھا؟ سائنس اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی۔ کیونکہ وقت اور جگہ بذاتِ خود اس سنگولیریٹی کے ساتھ ہی وجود میں آئے۔ لہٰذا، "پہلے" کا لفظ ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ اگر وقت نہیں تھا تو "پہلے" کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اس لیے سائنس بگ بینگ سے پہلے کے بارے میں خاموش ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ پوچھیں کہ شمالی قطب سے ایک کلومیٹر شمال میں کیا ہے؟ اس کا کوئی جواب نہیں، کیونکہ "شمالی قطب" کی تعریف ہی یہ ہے کہ یہ زمین کا سب سے شمالی نقطہ ہے۔ اسی طرح، بگ بینگ سے پہلے وقت کا وجود سائنسی طور پر ناممکن ہے، کیونکہ بگ بینگ ہی وقت کا آغاز تھا۔

تھوڑی دیر کے لئے یہ جائزہ بھی لیا جائے کہ علمِ کلام میں جس عدم سے کائنات کا آغاز ثابت کیا جاتا ہے، اُس "عدم" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی خالی جگہ تھی جس میں کچھ نہیں تھا۔ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کے مطابق زمان و مکان؛ مادہ اور توانائی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اگر مادہ اور توانائی نہیں تھے، تو زمان و مکان کا وجود بھی نہیں تھا۔ اس لیے، یہ کہنا کہ کائنات ایک حقیقی معنوں میں "کچھ نہیں" سے وجود میں آئی، سائنسی طور پر اس لیے درست ہے کہ اس سے پہلے مادہ، توانائی، وقت یا جگہ کسی کا بھی کوئی وجود نہیں تھا۔

جب ہم "عدم" کی بات کرتے ہیں، تو یہ کوئی فزیکل جگہ یا چیز نہیں ہو سکتی۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں کوئی بھی چیز موجود نہیں ہے۔ کوئی خالی ڈبہ نہیں، کوئی خالی خلا نہیں، کوئی وقت نہیں، اور کوئی دوسرا جہان بھی نہیں۔ یہ تمام تصورات وجود کے دائرے میں آتے ہیں۔ اگر ہم کوئی بھی خالی جگہ یا وقت تصور کرتے ہیں تو ہم دراصل کسی نہ کسی وجود کا تصور کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ انسانی عقل ہر شے کو زمان کے پیرائے میں تصور کرنے کی عادی ہے، لیکن جو معیارات اور تکنیکی ڈھانچہ (Framework) خدا کے علاوہ چیزوں کے لئے ہیں، سبحان اللہ کا یہی مطلب ہے کہ خدا کی ذات اُن سے پاک اور وراء الوریٰ ہے ۔ لہٰذا متکلمین زمان سے پہلے وجود کو غیر زمانی وجود کے طور پر منطقی طور پر (Logically) قابلِ تصور قرار دیتے ہیں۔ حاصل یہ کہ زمان اور مکان صرف مخلوقات کے لیے وجود میں آئے ہیں۔ ابن تیمیہ اور دیگر متکلمین نے واضح کیا کہ زمان بذاتِ خود کوئی حقیقت نہیں، بلکہ مخلوقات کے تغیر، وقوع اور حرکت کی پیمائش ہے۔ اس نقطہ نظر سے قبل از بگ بینگ (Pre-Big Bang) یا زمان سے پہلے کے وجود کو انسانی عقل میں تصور کرنے کے لیے ہمیں زمان کے محدود تکنیکی ڈھانچے (Framework) سے آزاد ہونا پڑتا ہے۔

متکلمین کا مؤقف یہ ہے کہ اگر ہم خدا کی وجودی حقیقت کو صرف مادی یا زمانی معیار سے دیکھیں گے تو خدا کی شان کی ناقدری ہوگی۔ تاہم قبل از بگ بینگ (Pre-Big Bang) یعنی بگ بینگ سے پہلے کی حالت کو زمان کے پیرائے میں بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ "پہلے" اور "بعد" جیسے الفاظ بذاتِ خود ایک زمانی ترتیب کے متقاضی ہیں اور جب زمان موجود نہیں تو یہ ترتیب لاگو نہیں ہوتی، اس لیے اس حالت کو براہِ راست زمانی زبان (Direct Temporal Language) میں بیان کرنا غیر منطقی ہے۔ جدید فلسفہ یہاں یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ وجود بذاتِ خود زمان سے مشروط نہیں، بلکہ ایک منطقی اور وجودی (Ontological) حقیقت ہے، اور زمان محض ایک وضاحتی ڈھانچہ (Descriptive Framework) ہے جو انسان کے شعور کو شے کے وقوع اور تبدیلی کو سمجھنے کے لیے مدد دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وجودِ قبل از بگ بینگ (Pre-Big Bang Existence) کو بھی منطقی طور پر (Logically) تصور کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے انسانی شعور یا عام فہم (Common Sense) کے معمول کے زمانی وجدان (Temporal Intuition) کے مطابق نہیں سمجھا جا سکتا؛ یعنی ہم اسے "کب" یا "کتنی دیر" تک موجود تھا کے سوالات سے نہیں دیکھ سکتے بلکہ اسے ایک مستقل، غیر زمانی (Non-temporal) وجود کے طور پر ذہنی سطح پر ادراک (Grasp) کرتے ہیں۔

اس تناظر میں وجود کی یہ حالت ایسی ہے جو وقت کی کسی قسم کی ترتیب یا تبدیلی کے بغیر اپنی حقیقت رکھتی ہے، اور انسانی زبان و تصور کی حدود کی وجہ سے ہم اسے براہِ راست تجربے (Direct Experience) یا تصور میں مکمل نہیں لے سکتے، مگر منطقی اور فلسفیانہ سطح پر یہ مربوط (Coherent) اور جائز تصور ہے، اور جدید فلسفہ (Modern Philosophy) میں یہی دلیل دی جاتی ہے کہ زمان کے بغیر بھی وجود (Existence) کا تصور مکمل طور پر ممکن ہے، کیونکہ وجود کو زمان میں باندھنا انسانی ادراکی ساخت (Cognitive Structure) کی عادت ہے، حقیقت کی شرط نہیں۔

لیکن عقل اور منطق ہمیں یہ سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہے کہ وجود کا اصل معیار وجود بذات خود ہے، نہ کہ زمان میں وقوع۔ اس لیے خدا کی ازلیت، سرمدیت اور غیر زمانی وجود (Non-temporal Existence) کو عقلی طور پر جائز اور مربوط (Coherent) سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ زمان سے ماوراء وجود کو ہمارے عام زمانی زمروں (Ordinary Temporal Categories) میں نہیں پرکھا جا سکتا۔ یہ ایک نوعی فرق (Category Distinction) ہے۔ انسانی شعور جو زمانی تسلسل (Temporal Sequence) میں سوچتا ہے، اسے خدا کی غیر زمانی حقیقت کو سمجھنے (Grasp) کے لیے مجرد استدلال (Abstract Reasoning) اور عقلی استخراج (Deduction) کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

لا ادری (Agnostic) مفکرین اس مقام پر یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ ممکن ہے موجودہ طبیعیات (Physics) کے قوانین حتمی اور مکمل نہ ہوں۔ بعید نہیں کہ مستقبل میں کوئی ایسا نظریۂ طبیعیات (Theory of Everything) سامنے آئے جو بگ بینگ سے ماقبل کسی حالتِ کائنات (Pre-Big Bang State) کی وضاحت کر سکے۔ چنانچہ وہ اس بنیاد پر وجودِ باری تعالیٰ پر استدلال کو عارضی سائنسی علم پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ بظاہر یہ اعتراض علمی انکساری (Epistemic Modesty) کا مظہر ہے، لیکن تحقیق کی کسوٹی پر یہ موقف خود داخلی تضاد/خود تردیدی (Self-defeating) کا شکار ہو جاتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سائنسی طور پر، بگ بینگ ہی زمان و مکان کا مبدا ہے۔ اس سے پہلے کوئی وجود نہیں تھا۔ فلسفیانہ طور پر، اس مطلق عدم (Absolute Nothingness) سے کسی چیز کا وجود میں آنا ایک منطقی تناقض ہے، جب تک کہ کوئی ایسا وجود نہ ہو جو خود سے موجود ہو اور اس کے لیے کسی سبب کی ضرورت نہ ہو۔ وہ منفرد ذریعہ علم وحی ہی ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ "کچھ نہیں سے کچھ کیوں موجود ہے؟"۔ ملحدین اگر پھر بھی مُصِر ہوں کہ عدم یا قوانینِ فطرت شعور سے خالی ہو کر بھی شعور و حیات کے خالق ہیں، تو اِس سفسطے کو دیوانے کا بھڑ ہی کہا جا سکتا ہے۔

لا ادری (Agnostics) یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے ہماری طبیعیات (Physics) کے قوانین نامکمل ہوں اور کوئی ایسا نظریہ ہو جو بگ بینگ سے پہلے کے وقت کی وضاحت کرے۔ اس کے کچھ نظریاتی ماڈل موجود ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی سائنسی شواہد سے ثابت نہیں ہے۔ مثلاً:

  • دوری کائنات (Cyclic Universe): اس نظریے کے مطابق کائنات بگ بینگ اور بگ کرنچ (Big Crunch) کے درمیان چکر لگاتی رہتی ہے، جس میں ایک کائنات کا بگ کرنچ (Big Crunch) دوسری کائنات کے بگ بینگ کو جنم دیتا ہے۔
  • کثیر کائنات (Multiverse): اس نظریے میں ہماری کائنات بہت سی کائناتوں میں سے ایک ہے اور بگ بینگ کسی بڑی، پہلے سے موجود "ماں کائنات" میں ہوا تھا۔

ان نظریات کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف مفروضے (Hypotheses) ہیں اور ان کو ثابت کرنے کے لیے کوئی تجرباتی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اس کے برعکس، بگ بینگ کے نظریے کی حمایت میں ٹھوس سائنسی شواہد موجود ہیں، جیسے کہ:

  1. کائناتی مائیکرو ویو پس منظر (Cosmic Microwave Background): کائنات کے ابتدائی لمحوں کی ایک 'بازگشت' جو آج بھی مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔
  2. ہبل کا قانون (Hubble's Law): یہ مشاہدہ کہ تمام کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں، جو کہ ایک ابتدائی پھیلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
  3. عناصر کا تناسب: کائنات میں ہائیڈروجن اور ہیلیم کا تناسب بھی بگ بینگ کے ماڈل سے مطابقت رکھتا ہے۔

لہٰذا، جب تک یہ متبادل نظریات سائنسی طور پر ثابت نہیں ہوتے، بگ بینگ ہی سب سے قابل قبول سائنسی وضاحت ہے۔ خلاصہ یہ کہ سائنسی نقطہ نظر سے، بگ بینگ سے پہلے وقت یعنی زمان و مکان (Space & Time) کا سوال ہی غلط ہے، کیونکہ وقت بذاتِ خود بگ بینگ کے ساتھ ہی وجود میں آیا۔ اس سے آگے کی کوئی بھی بات سائنس کی بجائے فلسفہ اور قیاس آرائی (Speculation) کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے)


اسلام اور عصر حاضر

اقساط

(الشریعہ — فروری ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — فروری ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۲

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

غلامی اور اسلام
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۱)
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کا مسئلہ
مولانا فضل الرحمٰن خلیل

The Demands of Our Geographical Defence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

افغانستان میں نیا فوجداری قانون: حقیقت اور افسانے کے بیچ!
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور کا مدارسِ دینیہ کنونشن اور تعزیتی دورہ
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

کہوٹہ لاء کالج میں علامہ زاہد الراشدی صاحب کے دو اہم خطبے
سید علی محی الدین شاہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter