کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)

"فلسفے کی آمیزش نے علمِ کلام کو قرآنی استدلال کے فطری منہج سے دور کر دیا ہے" یہ حقیقت کے بالکل برعکس تبصرہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ علم الکلام قرآن کے عقلی و استدلالی منہج کو منظم کر کے، مخالفین کو انہی کے میدان میں شکست دینے کا ایک دفاعی عمل ہے۔ ملاحدہ و معتزلہ کے مفروضات کی تردید کے لیے امام غزالی نے جو عمومی طرزِ استدلال اختیار کیا اسے "داخلی تنقید" (Internal Criticism) کا منہج کہا جاتا ہے۔ اس کے مدمقابل نقد کا دوسرا عمومی طریقہ ”خارجی تنقید" (External Criticism) کہلاتا ہے۔

  • خارجی تنقید کا مطلب ایک نظرئیے کو کسی دوسرے نظریاتی فریم ورک کے معیارات سے جانچ کر رد کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً‌ اگر ہم مغربی تصورات کو قرآن و سنت پر پرکھ کر رد کریں تو یہ خارجی نقد کہلائے گا۔
  • داخلی نقد کا مطلب کسی نظرئیے کو خود اس کے اپنے طے کردہ پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ہوتا ہے۔ اس طریقے کے تحت چند طرح سے تنقید کی جاتی ہے:

    1. فریقِ مخالف کے مفروضات یا دعووں میں تضاد ثابت کرنا،
    2. یہ ثابت کرنا کہ ان کے طے شدہ مقدمات سے لازماً‌ ان کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔
    3. مفروضات کی لَغویت ثابت کرنا وغیرہ۔

چنانچہ امام نے تہافت الفلاسفہ (Incoherence of Philosophers) میں ردِ اعتزال و فلسفہ کیلئے داخلی نقد کا منہج بطور خاص ہتھیار استعمال کیا۔ امام سے پہلے اعتزال کے خلاف اسلامی دنیا میں اس طریقے کو اتنے منظم انداز سے کسی متکلم نے استعمال نہیں کیا تھا۔ امام اس بات کی بطور خاص تاکید کرتے ہیں کہ الحادی مفروضات کو مذہبی پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ مذہب اور الحاد کے علمی تناظر — مفروضات، مقاصد اور نتائج اخذ کرنے کے طریقہ کار — میں بنیادی نوعیت کا فرق ہوتا ہے، لہٰذا الحاد کو رد کرنے کا درست طریقہ اس پر داخلی تنقید کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ امام یہ خصوصی وضاحت فرماتے ہیں کہ جو لوگ مذہبی نصوص کو الحادی ڈسکورس رد کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف مذہب کا نہایت کمزور مقدمے کی بنا پر دفاع کرتے ہیں بلکہ الٹا اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علمِ کلام کے تمام عقائد قرآن و حدیث کے ذریعے ثابت نہیں کئے جاتے، بلکہ متکلمین کے ہاں علم الکلام کے مستمدات کا ایک نظام و ترتیب مقرر ہے۔ اللہ کی ذات و صفات کا اثبات بذریعہ عقل، نبوت کا اثبات بذریعہ معجزات، اور دیگر تمام عقائد کا اثبات بذریعہ نبوی سمعیات کیا جاتا ہے۔ یہ ترتیب "دور" (Circular Reasoning) کے فکری نقص سے محفوظ ہے۔ یہ تین محکم مراحل پر قائم ہے:

  1. پہلا مرحلہ اشیاء کی حقائق کے اثبات اور حدوثِ عالم (کائنات کے حادث ہونے) کے عقلی مقدمات سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ہر حادث کا ایک مُحدِث (خالق) ضروری ہے، اور یوں اللہ کی ذات، وجود اور صفات کا اثبات خالص عقل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
  2. دوسرا مرحلہ تب آتا ہے جب خدا کا وجود مسلّم ہو جائے۔ اب، کسی انسان کے صدقِ نبوت (رسالت کی سچائی) کا اثبات، اُس قادرِ مطلق کی طرف سے ظاہر ہونے والے معجزے کے ذریعے ہوتا ہے، جس سے نبوت کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
  3. تیسرا مرحلہ نبوت کے اثبات کے بعد آتا ہے، جہاں وہ تمام غیبی امور اور تفصیلی احکامات جو صرف وحی سے معلوم ہوئے ہیں، یعنی سمعیات (جیسے جنت، جہنم، قبر، میزان، اور امامت کے مسائل)، ایک صادق نبی کی خبر کی وجہ سے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ متکلمین یہ واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ سمعیات کا علم عقل سے نہیں ہو سکتا، لیکن عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ ان کا انکار عقلی طور پر محال نہیں ہے۔ یوں، علم الکلام عقل کو بنیاد بنا کر اس پر نقل (وحی) کی عمارت تعمیر کرتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ علمائے کلام کو یونانی فلسفہ اور اس کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والے اعتزال کو منطقی جواب دینے کے لیے مجبوراً فلسفیانہ منہج اپنانا پڑا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قرآن کا فکری منہج اور اندازِ استدلال علم الکلام کی بنیاد نہ بن سکا۔ بلکہ متکلمین نے اپنے دلائل کو قرآنی منہج پر ہی استوار کیا۔ امام فخر الدین الرازی رحمہ اللہ کی تفسیر مفاتیح الغیب اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ قرآن نے اپنے استدلال میں عقل و منطق کی جو گہرائی دکھائی ہے، متکلمین نے قرآنی اہداف و مقاصد حاصل کرنے کے لیے اُسی قرآنی طرزِ استدلال کی پیروی کی ہے۔ مثلاً:

1۔ دلیلِ حدوث (صفتِ تخلیق سے اثباتِ توحید)

Argument from Contingency (Proof of Divine Unity through Creation)

پہلی وحی (سورۃ العلق) میں رب کا تعارف صفتِ تخلیق سے کرانا، علم الکلام کی مرکزی دلیل، یعنی دلیلِ حدوث کی سب سے فطری اور قوی قرآنی اساس ہے۔ آیت میں انسان کو "علق" (جمے ہوئے خون) سے تخلیق کیے جانے کا ذکر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان خود عدم سے وجود میں آیا ہے، یعنی وہ حادث (Contingent) ہے اور مسلسل تغیر کا شکار ہے۔ چونکہ کوئی بھی حادث اور محتاج وجود خودبخود ظاہر نہیں ہو سکتا، اس لیے یہ عقلی طور پر لازمی ہے کہ اس حادث سلسلے کو شروع کرنے والا کوئی قدیم (Eternal)، قادرِ مطلق اور واجب الوجود (جس کا وجود ضروری ہو) خالق ہو، جو خود کسی کا محتاج نہ ہو۔ قرآن نے اسی غیر محتاج ہستی کو "رب" کہا۔ یوں، صفتِ تخلیق کے ذریعے انسان کو اس کے اپنے وجود کے مشاہدے سے توحیدِ باری تعالیٰ کی طرف رہنمائی ملی اور علم الکلام کی بنیادی دلیل کو سادہ ترین شکل میں پیش کیا گیا۔ "علق" کی تبدیلی اور عارضی حالت میں رہنے پر زور دیا گیا ہے، جو تغیُّر (Change) اور محدودیت (Finitude) کو واضح کرتی ہے۔ تغیُّر اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ چیز حادث ہے اور اسے کسی قدیم (جو تغیر سے پاک ہو) کی ضرورت ہے۔

2۔ دلیلِ ربوبیت اور نظمِ کائنات (توحیدِ عبادت کی عقلی بنیاد)

Argument from Divine Lordship and Cosmic Order (Rational Basis for Exclusive Worship)

سورۃ البقرہ کی آیت 21 میں کہا گیا ہے کہ: "اے لوگو! اُس رب کی بندگی کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو بنایا۔" یہ ایک مضبوط دلیل ہے جو یوں کام کرتی ہے:

  1. پہلے، یہ یاد دلایا گیا کہ ہم سب 'حادث' ہیں، یعنی ہم اچانک 'نہ ہونے' سے 'ہونے' میں آئے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ عبادت کا حق صرف اسی کو ہے جو ہمیشہ سے ہے اور کسی کا محتاج نہیں۔ یہ دلیلِ حدوث (Argument from Contingency) کی قرآنی بنیاد ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ چونکہ ہم "حادث" (وجود میں آنے والے) ہیں، لہٰذا عبادت کا حق صرف قدیم اور واجب الوجود خالق کا ہے۔
  2. دوسرے مرحلے پر، دلیل کو بڑا کرتے ہوئے آسمان، زمین، بارش اور پھلوں جیسی عظیم نعمتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ تمام چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ دنیا میں ایک مکمل نظام چل رہا ہے، جو کسی دانشمند اور مہربان ہستی کی کاریگری ہے۔ یہ دلیلِ نظم و عنایت (Argument from Design and Provision) ہے۔ یہ کائنات کے منظم، فائدہ مند اور حکیمانہ نظام کو خالق کی ربوبیت کا ثبوت بناتی ہے۔
  3. ان سب ثبوتوں کے بعد، قرآن نے ایک صاف نتیجہ نکال دیا: "جب تم یہ سب جانتے ہو، تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔" اس طرح، قرآن نے عبادت کو اندھے بھروسے کی بجائے صحیح عقل اور مشاہدے کی بنیاد پر ثابت کیا، اور یہی طریقہ علم الکلام کی اصل بنیاد ہے۔ یہ دلیلِ ربوبیت کا منطقی اور عقلی نتیجہ ہے، جس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جس ہستی نے یہ عظیم تخلیق کی، کوئی اور اس کا شریک نہیں ہو سکتا۔ علم الکلام کی یہ ترتیب، جس میں پہلے خالق کی ربوبیت (عقلی طور پر) ثابت کی جاتی ہے، اور پھر توحید و عبادت کا حکم دیا جاتا ہے، امام رازیؒ جیسے متکلمین کی تفاسیر (مفاتیح الغیب) میں نمایاں طور پر موجود ہے، جو قرآنی استدلال کو منظم کرتی ہے۔

3۔ دلیلِ ربوبیتِ عامہ (کائناتی نظم، اختیارِ مطلق، اور زمان و مکان کی وسعت)

Argument from Universal Lordship (Cosmic Governance, Absolute Authority, and Transcendence over Space and Time)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے سامنے اللہ کے رب ہونے کا تعارف یوں کرایا کہ میرا رب زندگی اور موت دیتا ہے۔ جواباً، نمرود نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ بھی یہ طاقت رکھتا ہے، یہ کہہ کر کہ وہ قیدیوں کو مار یا چھوڑ سکتا ہے۔ چونکہ نمرود نے یہ دعویٰ صرف اپنے محدود بادشاہی اختیارات کی بنیاد پر کیا تھا، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انسانی دائرہ اختیار سے باہر کی ایک آفاقی نشانی رب ہونے کی دلیل میں پیش کی: "یعنی سورج جیسی بڑی مخلوق کو ایک مخصوص نظم کا برسوں سے پابند رکھنا"۔ آپ نے نمرود کو چیلنج کیا: "میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔" یہ دلیل ثابت کرتی ہے کہ سورج ہر روز ایک ہی سمت (مشرق سے) نکلنے پر مجبور (اضطرار) ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ کسی طاقتور قانون کا پابند ہے۔ جب نمرود سورج کی سادہ سی حرکت بدلنے سے بھی عاجز ہو گیا، تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ کائنات کا مؤثرِ حقیقی کوئی اور ہے جو مکمل اختیار اور ارادہ رکھتا ہے، اور نمرود صرف ایک کمزور اور عاجز مخلوق ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا مکالمہ اللہ کے مالکیتِ مطلقہ (Absolute Ownership & Authority) اور ربوبیتِ عامہ (Universal Lordship) اور انسانوں کے محدود اختیار کے فرق کو ثابت کرنے کا ایک نہایت بلیغ اور عام فہم طریقہ ہے۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا مکالمہ بہت دلچسپ انداز میں سورۃ الشعراء کی آیات 23 تا 28 میں بیان ہوا ہے، جو ربوبیتِ عامہ (یعنی عالمگیر پروردگاری) کے تین نمونے پیش کرتا ہے:

(الف) زمانِ عام (ربُّ الاوّلین والآخرین)

فرعون نے کہا: "یہ ربُّ العالمین کیا ہے؟" موسٰیٰؑ نے فرمایا: "وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے آبا و اجداد کا رب ہے جو گزر چکے ہیں۔" یعنی ربوبیت کسی زمانے یا نسل تک محدود نہیں۔

(ب) مکانِ عام (ربُّ الارض والسماوات)

موسٰیٰؑ نے کہا: "وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔" یعنی ربوبیت ملکِ مصر تو کیا خطہ ارضی تک محدود نہیں بلکہ آسمانوں پر محیط ہے اور وہ سب سے وراء الوراء ہے۔

ایک ہی سوال کے دو ہوش ربا جواب سننے پر فرعون فرطِ غضب و حیرت سے اپنے حواشیین پر پھٹ پڑا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر دیوانگی کا الزام لگایا۔ فرعون کہنے لگا: "یقیناً یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، یہ تو دیوانہ ہے۔" اس نے اپنے اردگرد والوں سے کہا: "کیا تم سنتے نہیں ہو؟" فرعون کی حیرت کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو مصر کی بہتی نہروں کی محدود بادشاہت کی بنا پر سب سے بڑا رب ہونے کا دعویدار تھا اس لیے اپنے زعم و خیال سے بہت بلند بادشاہت کا سننا کب گوارا ہو سکتا تھا۔

(ج) جہاتِ عامہ (ربُّ المشارق والمغارب)

فرعون کی فرسٹریشن کو خاطر میں لائے بغیر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کی وسعتوں کے ذکر میں مشارق و مغارب کو برابر کر دیا۔ موسٰیٰؑ نے کہا: "اگر تم عقل رکھتے ہو تو مشرق اور مغرب کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔" یہ مکالمہ توحیدِ ربوبیت کی اساسی دلیل ہے جو بتاتا ہے کہ حقیقی رب وہ ہے جس کی بادشاہت کائنات کے ہر ذرے، ہر لمحے اور ہر سمت پر ہو۔

4۔ دلیلِ افول (نقص، تغیر اور وجوبِ وجود کا اثبات)

Argument from Decline (Proof from Imperfection, Change, and the Necessity of a Necessary Being)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا استدلال سورۃ الانعام کی آیات میں بیان ہوا ہے۔ آپ نے ایک ستارہ دیکھا، کہا: "کیا یہ میرا رب ہے؟" پھر جب وہ غائب ہو گیا، تو فرمایا: "میں غائب ہو جانے والوں کو پسند نہیں کرتا"۔ یہی عمل چاند اور سورج کے ساتھ دہرایا گیا، اور سب کے غروب ہونے پر آپؑ نے فرمایا: "اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں بھی گمراہوں میں سے ہو جاتا۔" دلیل کا محور یہ ہے کہ ظاہر ہونے کے بعد غائب ہونا (افول) اور طلوع ہونے کے بعد غروب ہونا خدائی کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رُشدِ ابراہیمی میں کیا بلاغت و حکمت رکھی، جس نے دقیق کلامی دلائل کو افول (زوال/غروب) کے ایک سادہ نکتے میں سمیٹ لیا۔ مثلاً:

(الف) دلیلِ نقص (Deficiency)

جو چیز کمال (Perfection) سے نقص (Deficiency) کی طرف جاتی ہو، یا ثبات (Permanence) سے زوال (Decay) کی طرف، وہ رب کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی، کیونکہ جو چیز خود زائل ہو جاتی ہے یا غروب ہو جاتی ہے، وہ دوسرے کو وجود و بقا کیسے دے سکتی ہے؟

(ب) دلیلِ حُدوث و تغیُر (Temporality and Change)

سیدنا ابراہیمؑ کا استدلال افول کے پیچھے کارفرما حرکت اور زمان و مکان کو ثابت کرتا ہے۔ افول: غروب ہونا ایک حرکت ہے۔ حرکت تغیر ہے: جو چیز حرکت کرے، وہ تغیر پذیر ہے۔ تغیر حدوث ہے: جو چیز تغیر پذیر ہو اور کسی حال سے دوسرے حال میں داخل ہو، وہ ازلی نہیں ہو سکتی، جبکہ خدائی سنبھالنے کے لئے ازلی ہونا لازم ہے۔ دلیلِ حدوث دو بدیہی (Self-Evident) مقدمات پر قائم ہے: پہلا یہ کہ کائنات حادث (پیدا کردہ) ہے، کیونکہ علتوں کا لامتناہی تسلسل عقل کے نزدیک محال ہے اور یہ تسلسل لازماً ایک نقطۂ آغاز پر رکنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ ہر حادث کے لیے مُحدِث (خالق) ضروری ہے، کیونکہ کوئی چیز عدم (Nothingness) سے خودبخود وجود میں نہیں آ سکتی، اور نہ ہی عدم کوئی فعل کر سکتا ہے۔ یہ دونوں مقدمات بالآخر ضدین کے جمع یا ارتفاع کے محال ہونے کے فطری قضیے کی بنیاد پر ایک ایسی ہستی کی ضرورت ثابت کرتے ہیں جو خود اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو، جسے واجب الوجود کہتے ہیں۔ یہ ذات اپنے وجود میں کسی اور کی معلول نہیں، بلکہ وہ تمام حادثات کی فاعلِ مختار اور علتِ تام ہے۔

(ج) دلیلِ وجوبِ وجود (Necessity of Existence)

حضرت ابراہیمؑ نے ثابت کیا کہ خدا صرف وہ ہو سکتا ہے جو سپیس اور ٹائم کی قید سے باہر ہو، زمان و مکان کی پیدائش سے پہلے موجود ہو، زمان و مکان کے قوانین اور ہر دم تغیر پذیر أحوال کا اُس کے وجود پر کوئی اثر نہ ہو۔ اِسی کو علم کلام میں واجب الوجود کہتے ہیں۔ اس نکتے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کچھ بے ہودہ قسم کے سوالات بہت شہرت پا چکے ہیں: جیسے "خدا زمین و آسمان سے پہلے کہاں تھا؟، خدا کو کس نے بنایا؟ وغیرہ وغیرہ"۔ خدا کو کسی مکان یا زمان میں دیکھنے کا یہ اصرار دراصل اُس کو سپیس اور ٹائم کی حدود میں قید کرنے کا مطالبہ ہے، جو واجب الوجود کو حادث بنا کر خدا بننے کے قابل نہ چھوڑے گا۔ کیونکہ ایسا خدا خود اپنی تخلیق (زمان و مکان) میں محدود و مقیَّد بن کر رہ جائے گا۔ خدا کا مکان معلوم کرنے یا بنانے کا سوال دراصل یہ کہنا ہے کہ خدا نے خود کو مکان کیوں نہیں دیا اور تخلیق کیوں نہیں کیا؟ اگر ایسا کر سکتا ہے تو مقید و مخلوق ہے اور اگر نہیں کرسکتا تو عاجز و بے بس۔یہ سوال بعینہ اُس سوال کی طرح ہے کہ "کیا اللہ اپنی قدرت سے باہر کی چیز نہیں بنا سکتا؟" بھی بے ہودہ ہے، کیونکہ قدرت کا تعلق صرف ممکنات سے ہے، اور محال (جس کا کوئی وجود نہیں) کو وجود نہ دینا عجز نہیں، بلکہ کمالِ قدرت ہے۔ ایسے سوالات دراصل ایک فکری مغالطے سے جنم لیتے ہیں کہ حسی مشاہدے کے بعد ہی کسی چیز کے وجود کو مانا جا سکتا ہے، حالانکہ سائنسی طور پر بے شمار ناقابل مشاہدہ موجودات (جیسے غیر مرئی شعاعیں) دریافت ہو چکی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جو چیز نظر نہ آتی ہو، ضروری نہیں کہ وہ موجود بھی نہ ہو، البتہ نظر آنے کے لئے کسی بھی چیز کا موجود ہونا ضروری ہے۔

(جاری)

اسلام اور عصر حاضر

اقساط

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter